بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1440ھ- 20 اگست 2019 ء

بینات

 
 

عصری اسلامی اسکولوں میں ہم بچوں کو کیا پڑھارہے ہیں؟ (تیسسری اور آخری قسط)

 

عصری اسلامی اسکولوں میںہم بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں؟

(ہر کتاب کو اسی زاویے سے دیکھئے)   (تیسری اور آخری قسط)

جدید اسکول کا نظام تعلیم عقلیت، آزادی، لذت پرستی، افادہ پرستی، نتائجیت پرستی، حسیت پرستی، تجربیت اور حقوق طلبی(Rationalism/ Freedom/ Hedonism/ utalitarianism/ Pregmatism/ Emprialism/ Demand of Rights) کے عقائد کی تعلیم دیتا ہے اور اسی کے مطابق نسل نو کی تعلیم و تربیت کرتا ہے، لہٰذا ان اداروں سے نکلنے والا وجود صرف ایک مادی وجود ہوتاہے، وہ نورانی،روحانی ، ایمانی اور اخلاقی وجود نہیں ہوتا، اسی لیے جدیدیت کے منہاج میں انسانی نفس ایک آزاد، خود مختار، فاعل مطلق، حق خود ارادیت کا حامل ہے، جس کے تزکیۂ نفس کا کوئی نظام کسی نظریے (لبرل ازم، نیشنل ازم، سوشلزم، ہیومن ازم، فاشزم، فیمن ازم، انارکزم) میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔  امرأ القیس کے بارے میں رسالت مآب a نے فرمایا تھا کہ:’’ وہ شاعر تو بہت اچھا ہے، مگر قیامت کے دن جہنمیوں کا سردار ہوگا۔‘‘ رسالت مآب a کا فرمان یہ بتاتا ہے کہ: ’’آرٹ‘‘ خواہ کس قدر قابل قدر ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ اخلاقی اقدار سے آزاد ہے تو اس کی اقدار تہذیب کے لیے تباہ کن ہوں گی، کیونکہ اخلاقیات سے آزاد ہونے کے بعد صالح زندگی تو درکنار انسانی زندگی بھی خطرے میں پڑجاتی ہے۔ امرأ القیس کی شاعری کی طرح جدید سیکولر تعلیمی نظام بھی بہت اچھا ہے، مگر اس نظام سے نکلنے والوں کی منزل جنت نہیں، یہ نظام جنت کی طرف رہنمائی کرنے سے قاصر ہے، کم از کم یہ بات تو ہمیں تسلیم کرلینی چاہیے۔ سیکولر نظام تعلیم میں اسلامیات کا ایک پیریڈ پڑھانے، تجوید، ترجمے اور دعائیں یاد کرانے سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آسکتی، کیونکہ جو ذہنی سانچہ اور فکری ڈھانچہ یہ نظام تعلیم تخلیق کرتا ہے، اُسے اسلام کی جزوی تعلیم سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ برطانیہ کے تمام تعلیمی اداروں میں انجیل کی تعلیم لازمی ہے، مگر وہاں کے اسکولوں اور معاشرے کی مجموعی اخلاقی صورت حال کیا ہے؟ یہ سب کے علم میں ہے۔ کچھ یہی حال عالم اسلام کے اسکولوں کا ہے۔  آزادی، مساوات اور ترقی کے عقیدے کے نتیجے میں تزکیۂ نفس، اخلاقیات، انسان کے باطن کی تعمیر، اس کی اصلاح‘ جدید لبرل سیکولر جمہوری غیر جمہوری ریاست کے اہداف میں شامل نہیں رہی۔ اس کا نتیجہ امریکہ اور یورپ میںکیا نکلا؟ تمام نسلیں مجرم، بد کردار اور گناہوں میں گرفتار ہیں۔ اخلاقی طور پر ان کا جو حال ہے وہ وہائٹ ہاؤس سے صدر اوبامہ کی ہدایت پرجاری ہونے والی رپورٹ Rape & Sexual Assualt: A Reviewed Call to Action , Jan 2014 میں پڑھیے۔ یہ رپورٹ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت، سب سے زیادہ آزاد، تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ قوم امریکہ کی بدترین حالت سے آگاہ کرتی ہے جو ہر پاکستانی کا آئیڈیل ملک ہے۔ یہ رپورٹ وہائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۲ ملین امریکی عورتوں اور دو ملین لڑکوں سے جبری زناکیا جاتا ہے۔ رضا مندی سے ہونے والے کروڑوں زنا اس فہرست میں شامل نہیں۔ اسکول، یونیورسٹی اور کالج میں جبری زنا کی وارداتیں سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ جبری زنا کرنے والے تمام مرد لڑکیوں کے جگری دوست، عشاق، ہم  مشرب وہم مسلک، قریبی رشتہ دار، اعتماد کے لوگ اور خونی رشتوں والے ہوتے ہیں۔ ان اداروں میں صرف عورت ہی نہیں، مرد بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کی عزتیں بھی لوٹی جاتی ہیں۔ امریکی فوج میں عورتیں اور مرد بھی بڑے پیمانے پرجنسی درندگی کا شکا رہیں۔ رپورٹ میں سرحدوں کے ان محافظوں کی عزت کی حفاظت کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔ جو ملک اپنی فوج کی عورتوں کی عزت کی حفاظت نہیں کرسکتا، وہ دنیا بھر کو آزادی کا سبق سنانے کے لیے نکلا ہوا ہے۔ ‘‘Nearly 22 Million have been raped in their life time, 1.6 million men have been raped during their lives.’’ [p.1] رپورٹ بتاتی ہے کہ اسکول، کالج، یونیورسٹی میں نشانہ بننے والے صرف ۱۲ فی صد مظلوم جنسی دہشت گردی کی رپورٹ درج کراتے ہیں : ‘‘On average only 12% of students victims report the assault to law enforcement.’’ [p.14] ا س کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہر دوسری لڑکی جنسی درندگی کا شکار ہے۔ ترقی اور تعلیم کے لیے مغرب کی عورت کو یہ ظلم گوارا ہے۔ یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ امریکی ثقافت جبری زنا کاری کی اجازت دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ثقافت میں ابھی تک مرد یہ سمجھتے ہیں کہ عورت خود مرد سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہتی ہے، یعنی عورت کو اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے: ‘‘Sexual assault is perrasive because our culture still allows it to persist’’ .[p. 33] .... ‘‘women want to be raped and ask for it.’’ [p. 27] تعلیم کے ذریعے ترقی کرنا ہے تو یہ تکالیف برداشت کرنا ہوں گی۔ آزادی کا حصول ان  آلام، آزمائشوں ، تکالیف کے بغیر ممکن نہیں۔ یورپی یونین کا حال اس سے زیادہ بد تر ہے۔ FRA  کی ویب سائٹ پر یورپی یونین میں عورتوں کے ساتھ جنسی دہشت گردی  کے ہولناک اعداد و شمار دیے گئے ہیں۔ ۵۳% عورتوں کو شکایت ہے کہ مرد انھیں گھر سے باہر، بازار میں، اسکول ، کالج، یونیورسٹی، دفاتر میں غلیظ نگاہوں سے گھورتے رہتے ہیں۔ ۳۸% عورتوں کے ساتھ کئی مرتبہ جبری زنا کاری کی گئی ہے۔ ۱۳ سال کی لڑکی سے لے کر ۷۳ سال تک کی عورت کو ای میل کے ذریعے فحش اور گندے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ ’’FRA‘‘ یورپین ایجنسی فار فنڈامینٹل رائٹس نے یورپی یونین کے ۲۸ ممالک میں عورتوں کی بے حرمتی، عزت، عصمت، عفت اور حرمت کی پامالی کی جو حیرت ناک، شرم  ناک اور افسوس ناک کہانی[Violence against women: an Eu -wide survey. Main results] تحقیق کی روشنی میں بیان کی ہے، رپورٹ کے مطابق ایک سال میں ایک کروڑ بیس لاکھ عورتوں کو جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ تشدد صرف جوان لڑکیوں پر نہیں، پچھتر سال کی بوڑھی عورتوں پر بھی ہوا، یہ کیسی انسانیت ہے کہ بوڑھے لوگ بھی اس ظلم سے محفوظ نہیں۔ یورپی یونین کے ۲۸ ممالک کی چار کروڑ عورتوں یعنی اٹھارہ فی صدعورتوں نے شکایت کی ہے کہ مرد انھیں گھورتے ، تاکتے ، اور جھانکتے ہیں۔ ان کے گھر ، دفتر اورتعلیم گاہوں کے باہر راستے میں یہ مرد ان کو حریصانہ اور مریضانہ نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ‘‘An estimated 13 million women in the EU have experienced physical violence in the course of the 12 months before the survey interviews. This corresponds to 7% of women aged 18-74 years in the EU. An estimated 3.7 million women in the EU have experienced sexual violence in the course of the 12 months. This corresponds to 2% of women aged 18-74 years in he EU. One in 20 women (5%) has been raped since the age of 15. This figure is based on responses to the survey question Since you were 15 years old until now how often has somone force you into sexual intercourse by holding you down or hurting you in some way?In the EU-28 , 18% of women have experienced stalking since the age of 15 and 5% of women have experienced stalking. This corresponds to about 9 million women in the EU 28 experiencing stalking. To obtain this finding, women were asked in the survey interview whet her they had been in a situation where the same person had been repeatedly offensive of threatening towards them with respect to a list of different actions for example whether the same person has repeatedly Loitered or waited for you outside your home workplace or school without a legitmate reason? or Made offensive threatening or silent phone calls to you?Forms of sexual cyberharassment since the age of 15 and in the 12 months before the survey, including unwanted sexually explicit emails or sms messgaes that were offensiv. Some 12% of women indicate that they have experienced some form of sexual abuse or incident by an adult before the age of 15 which corresponds to about 21 million women in the EU. The results show that 30% of women who have experienced sexual victimisation by a former or current partner also experienced sexual violence in childhood. Of those women who have not experienced sexual victimisation in their current or former relationship 10 % indicate experiences of sexual violence in their childhood. Half of all women in the EU (53%) avoid certain situations or places at least sometimes for fear of being physically or sexually assaulted in comparison existing surveys on crime victimisation and fear of crime show that far fewer men restrict their movement.  امریکہ اور یورپ میں سب سے زیادہ جبری زنا تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ رضا مندی سے ہونے والا زنا جرم نہیں، لہٰذا اس کے اعداد و شمار جمع نہیں کیے جاتے۔ تعلیم کا مقصد آزادی اور سرمایہ ہے جس کے ذریعے ترقی کا حصول ممکن ہے، لہٰذا ہر ایک ترقی کے لیے یہ  مظالم برداشت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ ویورپ میں پولیس صرف تین منٹ میں موقع واردات پر پہنچتی ہے، تب بھی زنا کاری کا یہ حال ہے۔ ان ملکوں میں جنسی درندگی کا یہ حال سو فی صد تعلیم عام ہونے کے بعد ہوا ہے۔ تعلیم سے تہذیب ، اخلاق، ادب، شرافت پھیلتی ہے، یہی عام خیال ہے، لیکن عملاً کیا ہو رہا ہے؟  لا محدود ترقی ایک خواب ہے، مگر ہر ایک یہ خواب دیکھ رہا ہے۔ اس خواب کے لیے عورت مرد اپنی عزت تعلیم گاہوں میں قربان کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اس محدود ’’finite‘‘ دنیا میں کیا لامحدود ’’infinite‘‘  ترقی ممکن بھی ہے؟ ایک محدود انسان جو کل مر جائے گا اتنی لا محدود ترقی کیوں چاہتا ہے؟ اور ترقی بھی اپنی عصمت، عزت اور حرمت کی قیمت پر!  Kenneth Bouding کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس محدود دنیا میں لا محدود ترقی حاصل کرنا چاہتا ہے تو یا تو وہ پاگل ہے یا ماہر معاشیات:  "Any one who believes growth can be infinite in a world is either a mad man or an economist" لیکن دنیا میں ایسے پاگلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور تعلیمی نظام ہی ان کی پیداوار کا اصل مرکز ہے۔ جدید صنعتی غذائیں جو کیمیائی مادوں سے تیار کی جاتی ہیں اس کے استعمال کا نتیجہ مغرب میں یہ نکلا ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں کی بلوغت کی عمر سات سال کم ہوگئی ہے۔ پہلے جو لڑکی سترہ سال میں بالغ ہوتی تھی، اب دس سال میں بالغ ہورہی ہے۔ ظاہر ہے اس سے مارکیٹ کو فائدہ ہے، صارفین یعنی خریداروں ’’Consumers‘‘کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس سے پیداوار ’’Production ‘‘بڑھ رہی ہے اور کارپوریشن کا منافع ’’Profit‘‘ بھی اندھا دھند بڑ ھ رہا ہے۔ بلوغت کی عمر اسی رفتار سے کم ہوتی رہی تو ہر پیدا ہونے والا بچہ بالغ پیدا ہوگا۔ یہ کیسا  خطر ناک جنسی بحران ہوگا؟ یہ بحران ترقی کی قیمت ہے؟ مغرب میں بلوغت کی عمر کم ہونے پر کسی کو تشویش نہیں۔ "Today most doctors accept that the age of onset of puberty is dropping steadily. Consider the statistics provided by German researchers. They found that in 1860, the average age of the onset of puberty in girls was 16.6 years. In 1920, it was 14.6; in  1950, 13.1; 1980, 12.5; and in 2010, it had dropped to 10.5. Similar sets of figures have been reported for boys, albeit with a delay of around a year."  [The Observer, Sunday 21 October 2012] آزادی، اعلیٰ تعلیم، زبردست سائنسی معاشی ترقی کرنے والے امریکہ میں روزانہ ۸۵ لوگ خود کشی کرتے ہیں۔ ہر سترہ منٹ کے بعد ایک امریکی خود کشی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمارنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ NIMH امریکہ کے ہیں اور نصابی کتاب Abnormal Psychology میں شامل ہیں۔ "About 31000 people kill themselves each year in USA which averages to nearly 85 poeple per day or one pereson every 17 minutes." [Susan Nolen Hoeksema , Abnormal Psychology, McG Raw - Hill USA 2004, p.332] امریکہ میں پچاس فی صد نوجوان اپنے ارد گرد خود کشی کی کوشش کے کسی نہ کسی واقعے سے واقف ہوتے ہیں، یعنی خود کشی امریکہ میں زندگی کے معمولات کا حصہ ہے۔ امریکہ میں ہر چار میں سے ایک نوجوان خود کشی کی کوشش کرتا ہے۔ پندرہ سال سے ۲۴ سال کے امریکیوں میں موت کا تیسرا بڑا سبب خود کُشی ہے۔ امریکہ کے تین فی صد لوگ زندگی میں کبھی نہ کبھی خود کشی کی کوشش کرتے ہیں اور امریکہ کی پانچ سے لے کر سولہ فی صد آبادی زندگی میں کبھی نہ کبھی خود کشی کے بارے میں سوچتی ہے۔ مسئلہ صرف امریکہ کا نہیں، جدیدیت، مغربیت، سیکولر تعلیم، آزادی، مساوات، ترقی کا عقیدہ جن ملکوں میں جڑ پکڑ چکا ہے وہاں خود کشی کی رفتار یہی ہے۔ اس ترقی یافتہ،جدید، حسین، آرام دہ دنیا میں سالانہ دس لاکھ لوگ خود کشی کے ذریعے مرجاتے ہیں۔ بیس لاکھ لوگ خودکشی کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ انسانی کی تیئس تہذیبوں میں کبھی ایسی صورت حال پیدا نہ ہوئی۔ ایسی ترقی، ایسی سائنس، ایسی ٹیکنالوجی، ایسی آزادی، مساوات اور جمہوریت کو لے کر کیا کریں جو لوگوں سے زندگی کی امنگ، لگن اور ترنگ تک چھین رہی ہے۔ امریکہ سمیت تمام ترقی یافتہ ملکوں میں آزادی، مساوات، ترقی حاصل کرنے والی جدید عورت جو خود کو تاریخ انسانی کی سب سے زیادہ آزاد اور خوش نصیب عورت سمجھتی ہے سب سے زیادہ خود کشی کرتی ہے۔ مذہبی، تنگ نظر، اندھے بہرے گونگے الہامی، دینی، روایتی، اَن پڑھ، جاہل معاشروں میں کبھی عورت نے خود کشی نہیں کی تو کیوں؟ آزاد، تعلیم یافتہ، خوش حا ل عورت خودکشی کیوں کررہی ہے؟ گزشتہ ساٹھ سال میںخود کشی میں اضافے کی شرح عام لوگوں میں بہت کم رفتار سے بڑھی ہے، لیکن بچوں اور نابالغوں میں خودکشی کی شرح میں تین سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نوبالغوں میں بچوں اور بالغوں سے زیادہ خود کشی کا رجحان ہے۔ کالج میں پڑھنے والے طلبہ میں خود کشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ و ہ داخلہ لیتے ہی خود کشی کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ تعلیم ترقی کا زینہ ہے، مگر موت کا کنواں بھی ہے، اسی لئے امریکہ میں کالجوں میں داخلہ لینے والے نو فی صد طلباء خودکشی کو ترقی اور تعلیم پر ترجیح دیتے ہیں۔سنہرے مستقبل کی امید مگر امتحان میں ناکامی‘ ان کے خواب بکھیر دیتی ہے۔ زندگی کا مقصد ترقی ہے، ناکامی کے بعد ترقی کیسے حاصل ہوگی؟ کالجوں کے ایک فی صد طلبہ خود کشی کی کوشش کرتے ہیں۔ ۴۴ فی صد بوڑھے لوگوں کی خود کشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خاندان سے دور اولڈ ہوم میں تنہا زندگی پسند نہیں کرتے، وہ تنہائی کی زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ "Nearly half of all teenagers in the USA say that they know someone who has tried to commit sucide." [p. 330, ibid] "One in four teenagers admits to attempting or seriously contemplating suicide." [p. 330, ibid] "suicide the third leading cause among people 15 to 24 years of Age." [p. 330, ibid] "3 Percent of the population contemplate sucide at sometime in their lives, & between 5 & 16 percent Report having had suicidal thoughts at sometime." [p. 332, ibid] "1 million people die by suicide and 2 million other people make suicide attempts each years." [p. 332, ibid] "Rates of suicide in women would be much higher than in man. Indeed three times more women than men attempt to suicide." [p. 333, ibid] "The over all rate of suicide in the general population has slightly increased over the past 60 years but the rate among children & adolescents has sky rocketed by nearly 300 percent." [p. 334, ibid] "Young adults are more likely than adults of any other age to think about commiting suicide." [ p. 334, ibid] "Students in colleges 9 percent said thay had thought about committing suicide since entering college and 1 percent said they had attempted suicide while at college." [p. 336,ibid] "44 percent older people who committed suicide had said they could not bear being placed in a nursing home and would rather be dead." [p. 336,ibid] مغرب میں جنسی دہشت گردی اور خود کشی کی بد ترین صورت حال جدید تعلیم اور ترقی کے ایجنڈے کا لازمی نتیجہ ہے۔ پاکستان کے شہروں میں بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے۔ جدید اسکولوں اور معاشرے میں یہ سب کچھ ہورہاہے، مگر ہم نے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ مغرب کی پیروی کا یہی انجام ہے۔عبدالستار ایدھی کے جھولے میں حرامی بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کس خطرے کی علامت ہے؟ ایک جانب بچے پھینکے جارہے ہیں، دوسری جانب اخبارات میں بچہ پیدا کرنے والے ہسپتالوں کے اشتہار چھپ رہے ہیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میں بے اولاد امیر جوڑوں کو بچے بانٹے جارہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ یہ سب کیا تماشہ ہے؟ ایک جانب شادی والوں کے بچے پیدا نہیں ہورہے، دوسری جانب شادی کے بغیر بچے پیدا ہورہے ہیں۔ یہ سب ماس میڈیا اور ماس ایجوکیشن ’’Mass Education‘‘ کا نتیجہ ہے۔ دنیا بھر میںابلاغ عامہ ’’Mass Media‘‘ سے پروپیگنڈے کے ذریعے دیہی زندگی حقیر بنا دی گئی۔ اس حقیر، ذلیل زندگی سے چھٹکارے کا راستہ تعلیم ہے۔ تعلیم عام ہونے کے نتیجے میں دیہات سے شہروں تک بڑے پیمانے پر نقل مکانی ’’Mass Migration ‘‘ہورہی ہے۔ ۲۰۱۵ء تک دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی شہروں میں ہوگی۔ دیہاتوں کی زمینوں اور کاروبار پر ملٹی نیشنل کارپوریشن کا قبضہ ہوگا۔ تعلیم عام ’’Mass education‘‘ ہونے کے بعد چھوٹے کاروبار ، ذاتی تجارت، خاندانی ہنر، نسل در نسل چلے آنے والے آبائی فنون، دستکاری، گھریلو صنعتیں، خاندانی زراعت وغیرہ سب ختم ہوجائیں گے، کیونکہ لوگ ان پیشوں، صنعتوں، کاموں کو حقیر ذلیل سمجھنے لگتے ہیں۔ آج کل دیہاتوں میں ریوڑ چرانے والے دستیاب نہیں ہیں، یہ کام بچے کرتے تھے، ان کو چائلڈ لیبر کہا گیا اور ترقی کے لیے تعلیم کے سپرد کردیا گیا۔ کھیتوں میں کام کرنے والے کم ہوگئے ہیں، سب شہر جا کر ترقی کرنا چاہتے ہیں، انہیں میڈیا اور تعلیم کے ذریعے یقین دلادیا گیا ہے کہ وہ غیر ترقی یافتہ ہیں۔ ترقی کی اصطلاح دنیا کی کسی تہذیب میں موجود نہ تھی۔ مغربی استعمار کی اس اصطلاح کا اصل مطلب کیا ہے؟ اس کے لیے Development Dictionary کا مطالعہ کیجیے، ترقی کے نتیجے میں لوگ اپنے آبائی علاقوں، تاریخ، تہذیب، آبائی پیشوں، خاندان سے کٹ کر لوگ اداروں کے غلام بن رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کو سستے مزدور مل رہے ہیں۔ جب عورتیں بھی تعلیم پا کر مردوں کے شانہ بشانہ ہوں گی تو کارپوریشن کو مزید سستے مزدور ملیں گے۔ شہروں کے اندر روایتی اجتماعیتیں بڑے پیمانے پر منتقلی ’’Mass Mobilization ‘‘ کے باعث تتر بتر ہورہی ہیں۔ اجتماعیت ’’Collectivity‘‘ کی جگہ ہجوم ’’Mass‘‘ نے لے لی ہے۔ انسان شہروں کی بھیڑ میں تنہا رہ گیا ہے، اپنی جڑ سے کٹنے کے بعد وہ دیہاتوں کی طرف واپس جانے کے قابل نہیں رہا۔ اپنے ہی وطن میں اجنبی اس مسافر کا ماضی، حال اور مستقبل اس مریض ہجر کی طرح ہے جو امید ِ سحر سے محروم ہے۔ شہروں میں غیر فطری بے پناہ آبادی نے اُفقی عمارتوں کا ایک بے ہنگم جنگل کھڑا کردیا ہے۔ معاشرتی ثقافتی روایتی تعلیمات ختم ہوگئی ہیں۔ کوئی کسی کو نہیں جانتا، لہٰذا تمام جدید بڑے شہر جرائم کے سب سے بڑے مراکز ہیں۔ جرائم اور مجرموں کے انسائیکلو پیڈیا چھپ رہے ہیں۔  بلاشبہ دنیا میں سب سے زیادہ بہترین تعلیم‘ ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں ہے۔ سو فی صد لوگ تعلیم یافتہ بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ نفسیاتی مریض، سب سے زیادہ پاگل، سب سے زیادہ جنونی، وحشی سب سے زیادہ بیمار، سب سے زیادہ طلاقیں، ٹوٹے ہوئے گھر، آوارہ نسلیں، سب سے زیادہ جنسی درندے، سب سے زیادہ مجرم، سب سے کم بچے، سب سے کم شادیاں، سب سے زیادہ زنا کاری، سب سے زیادہ حرام رشتوں سے جنسی تعلقات ’’Incest Relation‘‘ سب سے زیادہ تنہائی، بے سکونی اور خودکشیاں، گھروں سے محروم سب سے زیادہ بوڑھے، بچے، عورتیں، انہی ترقی یافتہ ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ یورپ، امریکہ، روس، چین، لاطینی امریکہ، اسکینڈے، نیومن ممالک یعنی دنیا کی تیس فی صد آبادی میں دنیا کے اسی فی صد جرائم ہوتے ہیں۔ ستر فی صد غیر ترقی یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ ممالک بہت کم مجرم پیدا کرتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر برطانیہ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور CIA کی ویب سائٹ پر اعداد و شمار دیکھے جاسکتے ہیں۔ بیسویں صدی کے اختتام پر امریکا میں نوے فی صد لوگ کسی نہ کسی ادارے میں نوکری کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ پہلے آزاد تھے یا اب آزاد ہیں؟     "Under capitalism it is the unintended but nonetheless unavoidable outcomes, witness the fact that   in that home of 'free enterprise' the USA, ninety percent of the employed now work in organization of one kind or another, whereas at the beginning  of the century ninety percent were self employedv." [GAI EATON; King of The Castle: Choice & Responsibility In Modern World, Suhail Academy, Lahore  1981, P-24] پاکستان میں ابھی تک چھیاسی فیصد لوگ ۲۰۱۴ء میںاپنا کاروبار کرتے ہیں، وہ اداروں میں ملازمت نہیں کرتے۔ صرف بارہ فی صد لوگ بینکو ںمیں کھاتے رکھتے ہیں۔ اٹھاسی فی صد لوگوں کا جدید معاشی بینکاری نظام سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کی معیشت دنیا کی مضبوط ترین معیشت ہے۔ آزاد معیشت ہے ، نہ بر آمدات کی محتاج ہے، نہ در آمدات کی ، مگر اس کو تباہ کرکے امریکہ اور مغرب کی طرح تمام لوگوں کوعالمی سرمایہ دارانہ اداروں کا غلام بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ پاکستان میں’’ Macro‘‘ اور ’’Metro‘‘ اس کا ثبوت ہیں۔ پھل والے، مچھلی، مرغی، سبزی والے اپنے کاروبار چھوڑ کر ان اداروں میں وہی کام کررہے ہیں اور نوکری کا تحفظ نہیں ہے۔ امریکا میں ایسا ہی ہوا اورجدید مغربی دنیا میں یہ سب ہوچکا ہے۔ گائی ایٹن لکھتا ہے کہ:’’ بیسویں صدی کے آغاز میں امریکا میں نوے فی صد لوگ اپنا کام اور کاروبار کرتے تھے، وہ کسی کے محتاج نہ تھے،جدید تعلیمی نظام اس تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کررہاہے۔‘‘ Gilbert Rist بتاتا ہے کہ اٹھارہویں صدی کے فرانسیسی شہروں میں سال بھر میں ۱۵۰ دن کام نہیں ہوتا تھا، یعنی لوگ شہروں میں سال میںزیادہ سے زیادہ ۲۱۵ دن کام کرتے تھے ۔ کام کے اوقات بھی مقرر نہیں ہوتے تھے، کام کے لیے میلوں دور بھی جانا نہیں پڑتا تھا، اب تو اوقات کا جبر بھی موجود ہے اور طویل مسافت بھی، مگر اسے آزادی سمجھا جاتا ہے:  "French cities in the eighteenth century had between 130 & 150 days off a year." [G. Rist, Delusion of Economics. p. 81] ۲۰۱۰ء میں فرانس میں سرکوزی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کی عمردوسال بڑھانے پر بوڑھوں کی جانب سے زبردست احتجاج کا سبب اب واضح ہوگیا ہے۔ ماضی کے اچھے دنوں کی یاد ہی اس غصے کا اصل سبب ہے، جب لوگ کم کام کرتے تھے، اب مسلسل کام کرتے ہیں ،ایک لمحہ آرام نہیں کرسکتے۔ اس لیے مغربی دنیا میں لوگوں کے لیے سب سے بہترین اور خوشی کا دن جمعہ کا ہوتا ہے، جب وہ دو دن کی چھٹی پر جاتے ہیں او ر سب سے خراب دن پیر ہوتا ہے جب انہیں مجبوراً کام پر واپس آنا پڑتا ہے۔ لہٰذا کوئی مغربی ساٹھ سال کے بعد کام کرنے پر تیار نہیں۔ لیکن اگر پاکستان میں سرکاری ملازمین کی عمر دو سال نہیں دس سال بڑھا دی جائے تو وہ خوشی سے پاگل ہوجائیں گے۔ مگر مغرب ماضی کو قرونِ مظلمہ Dark Ages کہتا ہے۔ پاکستان ابھی تک انیسویں صدی کے امریکہ اور اٹھارہویں صدی کے فرانس کی طرح مضبوط معیشت کا ملک ہے، لوگ آزادانہ کاروبار کررہے ہیں۔ آبادی کی اکثریت ملازمت وروز گار کے لیے کمپنیوں، کارپوریشن، حکومت کی محتاج نہیں، سب اپنا کام کرتے ہیں۔ مگر پاکستانی خود کو کیا سمجھتے ہیں اور کیا بننا چاہتے ہیں، یہ سب کو معلوم ہے۔ اسکولوں کے بہت سے منتظمین اور مالکان اور سرپرست یہ سوال کرسکتے ہیں کہ نصابِ تعلیم، نظام تعلیم، طریقۂ تدریس و تربیت پر لکھے گئے مضمون میں سرمایہ داری، جمہوریت، لذت پرستی کا نظام، مذہب دشمنی، عقیدوں کی بحث، سیاست وغیرہ کہاں سے آگئے؟ اس کا تعلیم و تربیت سے کیا تعلق؟ ظاہر ہے وہ افراد جنہوں نے معلمی، تعلیم و تربیت کے پیشے، کاروبار اور شعبے کو نہایت نیک نیتی، اخلاص، اور قربانی کے جذبے کے تحت اختیار کیا، ان کے لیے یہ سوالات اہم ہیں۔ مگر اس کے لیے ہمیں مغرب کے نظام تعلیم سے متعلق تین اہم تعلیمی فلسفوں کو دیکھنا ہوگاجو جدید تعلیم کی ما بعد الطبیعیاتی اساسات فراہم کرتے ہیں: ٭The Platonic Philosophy of Education. ٭The Individualism Philosophy of 18th Century Enlightenment. ٭The Institutional Idealistic Philosophies of Nineteenth Century.  جرمنی دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے ابتدائی تعلیم سے لے کر یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم تک قومی آفاقی لازمی تعلیمی نظام تشکیل دیا تھا، لہٰذا جرمنی کے نظام تعلیم کا مطالعہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چند اہم مغربی مفکرین کا مطالعہ بھی ضروری ہے، تاکہ ان مباحث کی بنیادوں سے ہم واقف ہوسکیں۔ Kant کے خطباتTreatise on Pedagogies  Rousseau کی کتاب   Emile Emile Durkheim کی کتاب  Education & Sociology  Max Weber کا مضمون  The Rationalization of Education & Training  John Dewey کا مقالہ The Democratic  Conception in Education فوکالٹ کی کتاب’’ Dicipline & Punishment: The birth of the prison‘‘ میں فوکالٹ کی تحریر جدید تعلیمی اداروں کی عمارتوں اور ان قید خانوں، عقوبت خانوں کے تربیتی نظامِ امتحانات پر ہے اور نہایت اہمیت کی حامل ہے۔  Basil B. Bernstein کا معرکہ آراء مقالہ Thoughts on the Trivium and Quadrivium: The Divorce of Knowledge from the Knower  اس مقالے کا ایک اقتباس ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے اور جدید تعلیمی نظام کی حقیقت بھی واضح کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ جدید سیکولر تعلیمی نظام میں فرد کے باطن کی اصلاح، تزکیۂ نفس، تعمیر شخصیت کا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ مذہب کو بے دخل کردیا گیا ہے اور سوشل سائنس کے ذریعے فرد کی اصلاح کی جارہی ہے۔ I have tried to show that in the medieval period we had two differently specialised discourses, one for the construction of the inner, one for the construction of the outer_the material world. The construction of the inner was the guarantee for the construction of the outer. In this we can find the origin of the professions. Over the next five hundred yers there was a progressive replacement of the religious foundation of official knowledge by a humanising secular principle. I want to argue that we have, for the first time, a dehumanising principle, for the organisation and orientation of official knowledge. What we are seeing is the growing development of the specialised disciplines of the Quadrivium, and the diciplines of the Trivium have become the disciplines of symbolic control_the social sciences. We know, however, how this special status in turn limited and distorted the knowledge, but this is not the point here. Today the market principle creates a new dislocation. Now we have two independent markets, one of knowledge and one of potential creators and users of knowledge.

 

 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے