بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

بینات

 
 

عاش سعیداً ومات شہیداً (مفتی عبدالمجید دینپوری شہید رحمۃ اللہ علیہ)

عاش سعیداً ومات شہیداً

دنیا عالم اضدادہے اوراضدادکے مابین منافرت ہوتی ہے، اس لئے ان کا اجتماع واتحاد نہیں ہوسکتا۔دھوپ اور چھائو ںجمع نہیں ہوسکتے ،سیاہی اور سفیدی اکٹھی نہیں ہوسکتی، زمین اور آسمان کے فاصلے ختم نہیں کئے جاسکتے اورمشرق اور مغرب کی دوریاں مٹائی نہیں جاسکتیں۔اگر اضداد قریب آئیںتو وہ ایک دوسرے پر غلبہ پانے اور ایک دوسرے کا وجود مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ہوامٹی کو اُڑادیتی ہے یا مٹی ہو اکودبادیتی ہے،پانی آگ کو بجھادیتا ہے یا آگ پانی کوبھاپ میں بدل دیتی ہے۔ اسی نفرت اور عناد کا نتیجہ ہے کہ عنصر عنصر سے،نوع نوع سے اور جنس جنس سے متزاحم ومتصادم ہے اور ان میں باہمی کش مکش جاری ہے۔یہ تصادم اس حد تک ہے کہ ایک ہی نوع کے افراد ایک دوسرے کو مرنے مارنے اورمٹنے مٹانے پر تلے ہوئے ہیں،انسان انسان کو اور حیوان حیوان کو فنا کے گھاٹ اتار رہاہے، بھائی بھائی کا گلہ کاٹ رہاہے اور قومیںمقابلے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں اورخونخوار درندوں کی طرح ایک دوسرے پر چڑھ رہی ہیں۔ ’’اضداد کا تصادم‘‘ بظاہر کچھ غیر حکیمانہ معلوم ہوتا ہے ،مگر ترقی اور نمو اسی تصادم کے نتیجے میں ہوتی ہے، بلکہ ترقی نام ہی تصادم کا ہے۔اسی سے مخفی جوہر کھلتے ہیں،پوشیدہ قوتیں آشکارا ہوتی ہیںاور نئی نئی اشیاء ظہورپذیر ہوتی ہیں۔ حقیقت میںیہ قانون خداکی ربوبیتِ عامہ اور رحمتِ تامہ کامظہرہے اورخلق خدا کے لئے حددرجہ نافع اورمفید ہے۔جوچیزمتحارب ومتصادم قوتوں سے نبردآزمانہیں ہوتی اورجوچیزناموافق حالات اورمخالف قوتوں سے برسرپیکارنہیں ہوتی، وہ رُک جاتی ہے اورآگے ترقی نہیں کرسکتی ۔دریاکی راہ میں اگرپتھریلی چٹانیں حائل نہ ہوںتواس کی تیزی اورروانی سکون اورجمودمیں تبدیل ہوجائے،چقماق کی شعلہ فشانی پتھرکی رگڑکے بغیرممکن نہیں،پانی کے اندرمخفی قوتیںٹکرائو کے بغیرظہورپذیرنہیں ہوتیںاورتاروں کوچھوئے بغیرآلے کے اندرخوابیدہ نغمے بیدار نہیں ہوتے ۔باہمی رقابت اور چشمک جس طرح مادی اشیاء میںہوتی ہے، اسی طرح معنوی اشیاء میں بھی جاری رہتی ہے۔معنویات کی باہمی کش مکش بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی مادیات کی ہے،وہ بھی ایک دوسرے سے برسرپیکاراور نبرد آزما رہتی ہیں۔ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ ابلیس کی نمود بھی ہوگئی تھی اور اسی روزسے حق اور باطل کی کش مکش اورخیروشرکاتصادم جاری ہے اورتاصبح قیامت جاری رہے گا۔مٹی اگرپانی کی لطافت کو اور پانی مٹی کی کثافت کو ختم کرنا چاہتا ہے تو نیکی بھی بدی کا اور بدی بھی نیکی کا وجود مٹانے کی کوشش کرتی ہے ۔صاف خون اگرفاسدغذاکوقبول نہیں کرتا،صالح معاشرہ کو اگر برائی سے گھن آتی ہے اور نیک وپارسا لوگ اگر سرکشوں اور بدکاروں کو برداشت نہیں کرتے ہیں تو سرکشوں اور بدکاروں کے لئے بھی نیکوکاروں کا وجود ناقابل قبول ہوتاہے۔روشنی سے انسان راہ یاب ہوتاہے ، ٹھوکروں سے بچتاہے اور سانپ اور رسی میں فرق کرلیتا ہے، مگر یہی روشنی چوروں اور لٹیروں کے لئے باعث تکلیف ہوتی ہے اور ان کے مقاصد میں رکاوٹ بنتی ہے، اس لئے وہ روشنی کے چراغ گل کرتے ہیں۔ انسان جب اس حد تک گراوٹ اور پستی کا شکار ہوجاتا ہے توپھر اُسے نیکی سے گھٹن ہوتی ہے اوراچھے لوگوں کاوجوداُسے زہرمعلوم ہوتاہے ۔یہی وہ مقام ہے جہاںپہنچ کرقلب کا رخ اورسوچ کازاویہ بدل جاتاہے اورانسان معروف کومنکراورمنکرکومعروف سمجھنے لگتاہے۔حدیث میں تواس کاصاف تذکرہ ہے ہی، قرآن کریم میں بھی اس مضمون کی بے شمارآیتیں موجودہیں ۔ مادی اشیا ء کے باہم ٹکرائو میں جو چیز قوی اور طاقتور ہوتی ہے وہ برتر اور غالب رہتی ہے اور جو کمزور ہو اُسے شکست و ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے،مگر حق وباطل کے نزاع اورخیروشرکے تصادم میںفتح اور کامرانی حق کی ہوتی ہے ۔ خالق کائنات صرف خیراورحق کوباقی رکھتاہے۔ اس نے یہاں’’بقائے انفع‘‘کاقانون نافذ کر رکھاہے۔جوبھی چیز،فردیاجماعت نافع اور مفید ہوگی، وہ باقی رہے گی اورفتح و کامرانی اسی کامقدرہوگی۔ ’’فَـأَمَّاالزَّبَدُفَیَذْھَبُ جُفَآئً وَأَمَّامَایَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِیْ الْأَرْضِ،کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْأَمْثَالَ‘‘۔                                                                          (الرعد:۱۷) فتنہ تاتار سے زیادہ سخت اور کڑاوقت مسلمانوں پر کبھی نہیںآیا،انہوں نے مسلمانوں کو شکست دی،ان کی تلواروں کو کند،شہروں کو تبا ہ ،بستیوں کو ملیا میٹ اور اموال کو برباد کیا اور ایسی تباہی مچائی کہ اسلام کے مستقبل سے ہی مایوسی ہوگئی تھی۔ مسلمان مؤ رخ جب اس کا ذکرکرتے ہیں تو ان کا قلم رو پڑتا ہے،مگر تاتاری جلد ہی مغلوب ہوگئے، حالانکہ فاتح اور غالب بن کر داخل ہوئے تھے۔وجہ اس کی یہی تھی کہ وہ کوئی مفید اور نافع پیغام نہیں رکھتے تھے۔علماء کی جماعت سے زیادہ نافع ، مفید اور کارآمد اور کیا چیز ہوسکتی ہے؟دنیا کی بقا اور آخرت کی کامیابی ان ہی کی بدولت ہے۔دنیاکی تخلیق خداکی بندگی کے لئے ہے اوربندگی کے لئے علم کی ضرورت ہے اور علم کے لئے علماء کی ضرورت ہے۔نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ دنیا کو علماء کی ضرورت ہے۔اس تناظر میں عالم کی شہادت گویا دنیا کی طنابیں کھینچنے کی کوشش ہے اور اس کی بنیاد پر کاری ضرب ہے۔ ۳۱؍جنوری۲۰۱۳ء کی دوپہرعالم اسلام کی ممتازدینی درسگاہ،خیرکے منبع،رحمت کے مہبط اورروحانی علوم کے سرچشمہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دوجید،تجربہ کاراورپختہ مفتیانِ کرام، دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن کے مسئول حضرت مولانامفتی عبدالمجیددین پوری اوراستادمحترم مفتی صالح محمدکاروڑی اوران کولانے لے جانے کی خدمت پرمامورطالبعلم حسان علی شاہ کوبرسرعام لہومیں نہلادیاگیا۔إناللّٰہ وإناإلیہ راجعون۔ جامعہ کے ساتھ اپنی نوعیت کایہ پہلاواقعہ نہیں ہے، شہادتوں کااِک تسلسل اورخونِ شہداء کاایک سیل رواں ہے جوجامعہ کے وجود سے بلاانقطاع جاری ہے۔جامعہ کے علاوہ پورے ملک کوبالعموم اورکراچی کوبالخصوص دہشت گردی نے اپنی لپیٹ میںلیاہواہے، جس میں کمی کی بجائے زیادتی اورتخفیف کے بجائے دن بدن اضافہ ہورہاہے۔عرب کے وحشی اپنی جنگجویانہ فطرت اورلڑاکوطبیعت کے باعث بجا طور پربدنام ہیں۔وہ خون ریزی،قتل وقتال اورجنگ وجدال میں ایک پیشے اورمشغلے کے طورپرمصروف رہتے تھے، مگرایساصرف سال کے دوتہائی حصے میں ہوتاتھا،ایک تہائی یعنی چارمہینے ان کی تلواریں نیام میں رہتی تھیں اورقتل وغارتگری کابازارٹھنڈارہتاتھا۔یہ آج کے تہذیب یافتہ لوگوںکاکمال ہے کہ سال کے کسی مہینے،مہینے کے کسی ہفتے،ہفتے کے کسی دن اوردن کے کسی گھنٹے درندگی اورسفاکی سے بازنہیں آتے۔ نہ کوئی موسم دیکھتے ہیں، نہ کوئی مقدس دن،نہ کوئی قومی یا مذہبی تہوار۔خوف اوردہشت کا،ظلم اور بربریت کابازار گرم ہے۔بوری بندلاشیں،چھلنی سینے ،اعضاء کٹے جسم ،ہوامیں بارودکی بواورفضامیں دھویں کے بادل چھائے رہتے ہیں۔خون گرتا ہے اور بہہ جاتا ہے ،سر کٹتا ہے اور فرش کے برابر ہوجاتا ہے، لاشوں کے ڈھیر لگتے ہیں اور زمین میں دفن ہوجاتے ہیں،مگر کوئی ان ظالموں کے ہاتھ روکنے ، دستانے اتارنے اورچہروں سے نقاب ہٹانے والا نہیں ہے۔جنگل میں درندے امن سے ہیں، مگرآبادی میں انسان بدامنی کا شکار ہیں۔ امن منہ چھپائے پھررہاہے،نیکی نوحہ کناں ہے ،خیرکی کسمپرسی قابل دید ہے ۔خداکی وسیع سرزمین اس کے بندوں پرتنگ کردی گئی ہے اور انسان سے وہ اعزازواکرام چھین لیا گیا ہے جوخدائے تعالیٰ نے ’’وَلَقَدْکَرَّمْنَابَنِیْ آٰدَمَ‘‘کہہ کراُسے عطاکیاہے۔زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ خون کے قطرے اور لہو کے دھارے بھی ذمہ داروں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں،حالانکہ نہ مرض کی تشخیص کے لئے کسی افلاطونی ذہن کی ضرورت ہے،نہ اسباب و وجوہات کا پتہ چلانا ان کے لئے کوئی مشکل ہے اور نہ ہی نسخے کی تجویز ان کی طاقت اورامکان سے باہر ہے۔موت اٹل حقیقت ہے اورکسی ذی نفس کواس سے مفرنہیں ۔اس لحاظ سے وہ کوئی زیادہ قابل افسوس چیزنہیں ہے، لیکن اگراس کاشکارایسافردہوجوبے پناہ خوبیوں کامالک ہو،قحط الرجال  کے دورمیں لاکھوں کروڑوں میںسے ایک ہوتواس کاجانایقینًاقیامت ہے ۔افسوس اس وجہ سے بھی ہے کہ علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اورجوکام انبیاء کاہے وہی علماء کاہے ۔تاریخ میں ایسے شقی القلب گزرے ہیں،جنہوں نے انبیاء کواہل خانہ سمیت دربدرکیاہے۔مگرانبیاء علیہم السلام کوقتل کرنایہ تو’’یہودکی خصلت‘‘ رہی ہے ،قرآن نے ان پرانبیاء کے قتلِ ناحق کی دفعہ لگائی ہے’’وَیَقْتُلُوْنَ الْأَنْبِیَائَ بِغَیْرِحَقٍّ‘‘۔اللہ نہ کرے کہ کسی مسلمان کے ہاتھ سے یہ فعلِ بدانجام پایاہو،اگر ایسا ہے توپستی کی جس حد تک ہم پہنچ چکے ہیں،اس پر خون کے آنسوبھی کم ہیں۔ حضرت الاستاذحضرت مفتی عبدالمجیددین پوری شہیدؒکی ولادت۱۵؍جون ۱۹۵۱ء کوخان پورکے قریب دین پورنامی بستی میں ہوئی،یہ وہی قصبہ ہے جوتحریکِ آزادی کے حوالے سے بہت مشہوررہاہے،جس وقت کہ یہ قصبہ’’ تحریک ریشمی رومال ‘‘کامرکزتھااورمولاناعبیداللہ سندھیؒاس کاخاص اورمرکزی کردارتھے۔ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ دَدھیال کی طرف سے آرائیںذات کے تھے، جومحمدبن قاسم کے ساتھ حجازسے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے اوریہیں مستقل سکونت اختیارکرلی تھی۔ آپ کے والدماجدمولانامحمدعظیمؒ دیوبندکے فاضل اورحضرت مدنیؒ کے شاگردتھے اور نہایت متقی، پرہیزگاراور شب بیدار عالم تھے ۔ننھیال کی طرف سے حضرت مفتی صاحب شہیدؒخلیفہ غلام محمددین پوریؒ کے پڑنواسے تھے ۔حضرت خلیفہؒ اصلًاضلع جھنگ کے رہنے والے تھے، مگراپنے مرشدحضرت حافظ محمدصدیق ؒکے حکم پرایک صحرا(دین پور)میں قیام پذیرہوئے اور جلدہی خلق خداکادیوانہ واررجوع ہونے لگا۔موجودہ دین پورآپ ہی کاآبادکیاہواہے اوراس نسبت سے بانیٔ دین پوربھی کہلاتے ہیں۔ حضرت شیخ الہندؒ کاریشمی خط آپ کے پاس بھی آیاتھااورتحریک کے دوران بڑی مقدارمیں آلاتِ حرب وضرب یہاں جمع کئے گئے تھے۔ مولاناعبیداللہ سندھیؒ اورشیخ التفسیرمولانااحمدعلی لاہوریؒجیسے اکابرنے آپؒ سے کسب فیض کیا۔جلیل القدر اور عالی مرتبت اشخاص نے آپؒ کے حق میں بہت بلند تعریفی کلمات کہے ہیں، جن سے آپؒ کے مقام رفیع کا اندازہ ہوتا ہے: ’’حضرت دین پوری کی صحبت اورنشست وبرخاست میں طالب کو جو کچھ ملتاہے، وہ دوسرے بزرگوں کے ہاں ورد‘ اور‘ اَورادسے بھی نہیں ملتا‘‘۔ (حضرت شیخ الہندؒ) ’’حضرت دین پوری کی ولایت مسلم ہے‘‘۔(حکیم الامت حضرت تھانویؒ) ’’حضرت دین پوری کے چہرے پر صرف نظر ڈالنے سے کئی مقامات طے ہوجاتے ہیں‘‘۔ (حضرت کشمیریؒ) ۔ حضرت خلیفہ غلام محمددین پوریؒنے اپنی صاحبزادی کانکاح اپنے پیربھائی مولانا عبدالقادر سے کیا،جس سے ایک فرزندمولاناعبدالمنانؒ تولدہوئے، جوکہ حضرت شہید ِراہِ حق کے ناناتھے اور مفتی صاحب شہیدؒکی تعلیم وتربیت ان ہی کے زیر سایہ ہوئی تھی۔ مولاناعبدالمنانؒ کے تین صاحبزادے اورتین صاحبزادیاں تھیں اورآپ اپنے خاندان کے ولی اورسرپرست تھے اورجملہ امورآپ کوتفویض تھے۔اس خاندانی سربراہی کی بدولت آپ نے اپنے نواسے یعنی حضرت مفتی صاحب شہیدؒکااپنی پوتی کے ساتھ نکاح کردیا۔نکاح کی محفل اس لحاظ سے دلچسپ تھی کہ اصلاً حضرت مفتی صاحب کے نکاح کے لئے منعقد ہی نہیں کی گئی تھی ،کسی اور صاحب کی مجلس نکاح تھی ۔حضرت مفتی صاحب بھی حاضر مجلس تھے ۔ان صاحب کے نکاح کے بعد نانا جان مولانا عبدالمنان کی نگاہ اپنے نواسے حضرت مفتی صاحب پر پڑی اور نکاح خواںسے فرمایا کہ ان کانکاح بھی پڑھادو۔ حضرت مفتی صاحبؒکے دیگرآٹھ بھائی تھے (جن میں سے ایک کاحضرت سے پہلے انتقال ہوگیاتھا) اوردوبہنیں حیات ہیں۔خود حضرت مفتی صاحب نے ایک بیوہ اور چار بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ حضرت مفتی صاحب ؒکی رسم بسم اللہ حکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمدطیب صاحبؒنے کروائی تھی اوراس موقع پرآپ کے نانانے موتی چورکے لڈوتقسیم کئے تھے۔(حضرت شہیدؒموتی چورکی وضاحت بھی کراکرتے تھے)۔ابتدائی تعلیم آپ نے دین پورکے قرب ونواح میں مولاناعبیداللہ درخواستیؒ سے حاصل کی ، مولاناعبیداللہؒپہلے لیاقت پور،پھرسہجااورپھرتاج گڑھ تشریف لے گئے اور حضرت شہیدؒبھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔سادسہ کے لئے آپ جامعۃ العلوم الاسلامیہ تشریف لائے اور یہاں کی قدآورعلمی شخصیات محدث العصرحضرت مولاناسیدمحمدیوسف بنوریؒ،حضرت مفتی ولی حسن ٹونکیؒ اور مولانامحمدادریس میرٹھی ؒسے شرفِ تلمذحاصل کیا۔۱۹۷۱ھ میں امتیازی درجات کے ساتھ سندفراغت حاصل کی۔ جامعہ کے ریکارڈکے مطابق آپؒ کارول نمبر۱۳۲،رجسٹریشن نمبر۶۸۷ہے۔ ۲۸محرم۱۳۹۳ھ کو آپؒ کو سندفراغت کی حوالگی ہوئی۔فراغت کے بعدجامعہ میںحضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒکے زیر نگرانی تخصص فی الفقہ کیااورساتھ ہی کراچی یونیورسٹی سے بی اے بھی مکمل کیا۔حضرت شہیدؒخود بیان کیا کرتے تھے کہ مفتی ولی حسن ٹونکی ؒکی طرف سے مجھے اُن کے درس ہدایہ میں بیٹھنے کی تلقین تھی۔حضرت مفتی صاحب شہیدؒکے حکم پر احقر بھی ان کے درس ہدایہ میں بیٹھا کرتا تھا۔یہ ایک ظاہری سی مشابہت ہے،کیا بعید کہ حق تعالیٰ شانہ ان دونوں بزرگوں کے طفیل حقیقت بھی نصیب فرمادیں۔ وما ذلک علی اللّٰہ بعزیز۔اس کے بعددارالعلوم حسینیہ شہدادپورمیں بحیثیت مدرس تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ قاری عبدالرشیداورمفتی عبدالمنان صاحب آپ کے معروف شاگردہیں، جنہوں نے آپ سے حماسہ پڑھی ہے۔والدصاحب کے وصال کے بعدآپ خان پورتشریف لے گئے اورمدنی مسجدچوک رازی خان پورمیں امامت وخطابت کی خدمت انجام دینے لگے۔یہ وہی مسجد ہے جس کی بنیاد آپ کے والد ماجد مولانا محمدعظیمؒنے رکھی تھی۔ساتھ ہی پرانے تبلیغی مرکزمیں تدریس شروع کی اور مسجد کے متصل رفاہِ عام کے نام سے مطب قائم کیا۔ علمِ طب کی بدولت آپ امراض،اُن کے طریقۂ علاج،ادویہ اور ان کے خواص واثرات سے آگاہی رکھتے تھے اور اس موضوع کے متعلق سوالات کا بصیرت کے ساتھ جواب دیتے تھے۔ابھی کچھ ماہ پہلے کی بات ہے کہ ایک شئے کی ترکیب کے متعلق ہمارے ہاں ایک تحریری سوال جمع ہوا ۔سوال ایک ادارے کی طرف سے تھا اور مہارت سے تیار کیاگیا تھا اور اس پر ایک کیمیا داں کے تصدیقی دستخط بھی ثبت تھے۔احقر نے سوال کی بنیاد پر جواب لکھا، مگر حضرت نے سوال اور جواب دونوںمسترد کردیئے، جب مزید تحقیق کی گئی تو حضرت کا اعتراض درست تھااور سائل اور مجیب دونوں سے چوک ہوئی تھی۔علم طب کے علاوہ آپ ایک اور فن اس حد تک جانتے تھے کہ اُسے باقاعدہ ذریعہ معاش بناسکتے تھے،مگر اللہ تعالی نے آپ کو ’’الذین أحصروا فی سبیل اللّٰہ ‘‘کی فضیلت بھی نوازنا تھا، اس لئے آپ ان دونوں فنون سے مجتنب رہے۔ تبلیغی مرکزکے بعدآپ دین پورشریف میں تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے ، بعد ازاں ۱۹۸۸ء سے ۹۵ء تک جامعہ اشرفیہ سکھرسے وابستہ رہے ۔اور وہاں ہدایہ ثالث ،اورترمذی وغیرہ آپ کے زیرتدریس رہیں ،ایک سال بخاری ثانی بھی پڑھائی اور ختم بخاری شریف کیا ۔تین سال وہاں ایک قریبی مسجد میں امام وخطیب بھی رہے تھے۔ سکھر کے قیام کے دوران جب آپ کسی نجی غرض اور ذاتی حاجت کے سلسلے میں کراچی تشریف لائے تو حضرت شہید ؓکے بہ قول یہاں ایک مدرسے میں آپ کو بڑے درجات کی کتب اور معقول مشاہرے کی پیش کش ہوئی،اگر چہ آپ کی طبیعت اب کراچی کو مستقل جائے قیام بنانے کی تھی ،مگر صاحب نظر اوربصیرت قلبی کے حامل بزرگ،فقیہ اعظم حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی ؒسے مشاورت کے بعد انکار فرما دیا اور واپس تشریف لے گئے۔حضرت مولاناڈاکٹر حبیب اللہ مختارشہید ؒ جن کو گوہر نایاب کی پہچان اور اُنہیں لڑی میں پرونے کاملکہ اور سلیقہ تھا،وہ حسنِ تدبیراور حسنِ انتظام سے آپ کو جامعہ لے آئے اور۱۹۹۶ء میں بحیثیت مدرسِ کتب اور نائب رئیس دارالافتاء آپ کی تقرری عمل میںآئی ۔ دارالافتاء کے رئیس حضرت مولانا مفتی عبدالسلام صاحب چاٹگامی مدظلہ ٗ نے بھی اس سلسلے میںبھرپور معاونت کی تھی۔(حضرت مفتی صاحب شہید ؒ اس پوری روئیداد کو اپنی تمام جزئی تفصیلات سمیت سنایا کرتے تھے ) طریق عشق میں گو کارواں پہ کارواں بدلا نہ ہم نے راستہ بدلا نہ میر کارواں بدلا عنایاتِ الٰہی عام طور پر اسباب سے متعلق ہوکر ظاہر ہوتی ہیں ۔حضرت الاستاذ کا معاملہ بھی کچھ اس قسم کا تھا ۔ اچھے شہسوار کو سبک رفتار سواری اور مضبوط بازوکو تیز دھار تلوارمیسر آجائے تو پھر رفتار اور کاٹ دوچند سہ چند ہوجاتی ہے۔جامعہ میںنہ صرف مفتی صاحب کے مخفی جوہر کھلے، بلکہ انہوں نے ایسا جوش مار ا کہ ایک عالم کو سیراب کردیا ۔جامعہ میں تدریس اور افتاء کے ساتھ آپ الحمراء مسجد جمشید روڈ میں پنجگانہ نمازوں کے امام اور جامعہ درویشیہ سندھی مسلم سوسائٹی میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز تھے۔ شہادت کے روزآپ اپنے رفقاء سمیت جامعہ درویشیہ ہی تشریف لے جارہے تھے ۔مدرسہ معھد الخلیل بہادر آبادمیںمغرب کے بعد تشریف لے جاتے اور آمدہ سوالات کی تصحیح فرمایا کرتے تھے۔ حضرت مفتی نظام الدین شامزیٔ ؒ کی شہادت کے بعد ترمذی ثانی اور تخصص میں مقدمہ شامی وغیرہ کا درس آپ کے سپرد تھا، اس سے قبل آپ ہدایہ ثالث پڑھایاکرتے تھے۔آپ کا درس نہایت سنجیدہ اور متین ہوا کرتا تھا۔درس کے لئے تشریف لے جانے سے قبل صاحبِ کتاب کے لئے دعا اور ایصال ثواب کرتے اوردرس میںشستہ،شگفتہ اور شائستہ زبان استعمال فرمایا کرتے تھے۔پانی کے بہاؤ کی طرح زبان سے الفاظ نکلا کرتے تھے اور کبھی اس میں خطابت کا آہنگ اور تقریر کا جلال پیدا ہوجایا کرتا تھا۔آوازبلند ،بیان تسلسل سے مزین اور لغزش ولکنت سے پاک ہوا کرتا تھا۔ عام فہم اور سادہ الفاظ میںپہلے عبارت کا مطلب بیان کرنے کے بعدجب اس کاترجمہ اور حل طلب نکات کی تشریح کرتے تو معمولی استعداد کے طلبا بھی سمجھ جایا کرتے تھے۔علمی لطائف اور سلف صالحین کے واقعات موقع ومحل کی مناسبت سے بیان فرمایا کرتے تھے۔تجزیہ وتحلیل اورتجربہ وتمثیل سے درس کی رونق اور بڑھ جایا کرتی تھی۔وہ خصوصیت جس کی وجہ سے آپ کا درس ایک امتیازی شان رکھتا تھاوہ قدیم اجتہادات کی روشنی میں جدید عصری مسائل کا حل پیش کرنا ہے۔درس میں جب کوئی ایسا مقام آتا جس کا کسی نوپید مسئلے سے تعلق ہوتا تو وہاں بسط وتفصیل سے کام لیتے۔کسی عبارت کے تحت کن مسائل پر گفتگو کرنی ہے اور کس قدر کرنی ہے؟ کہنہ مشقی کی بدولت یہ فیصلہ آپ کے لئے مشکل نہیں تھا۔کوئی عبارت جس سے موجودہ علماء کسی مسئلے کے جواز یا عدم جواز پر استدلال کرتے ہوں ،اس کی وضاحت فرماتے ۔تفہیم کے لئے بجائے قدیم تمثیلات کے جدیدتمثیلات پیش فرمایا کرتے تھے۔ تقریر اور خطابت کے معاملے میں برملا کسر نفسی اور عجز وانکساری کااظہار فرمایا کرتے تھے، مگر جب منبر کورونق بخشتے تو الفاظ کانوں کے راستے دل پر دستک دیتے تھے۔تقریر اگر اپنے جذبات،  احساسات اور خیالات کا عمدہ اور احسن اظہار ہے اور سامعین کو کسی مقصد پر آمادہ کرنا اور یہ کوشش کرنا کہ وہ بھی وہی محسوس کرنے لگیں جو مقرر محسوس کرانا چاہتا ہے توحضرت کی تقریر مذکورہ اوصاف کی حامل اوران خصوصیات سے مزین ہوا کرتی تھی۔طوفانی لہجہ ، طغیانی اسلوب ،گن گرج ،جھنکار وللکار،الفاظ کی بھر مار اور فقروں کی یلغار نہ تقریر کا حصہ ہیں اور نہ ہی حضرت اُسے پسند فرمایا کرتے تھے۔ البتہ جب شکار نشانے پر آجائے ، لوہا گرم ہوجائے اور کھیتی پک جائے تو پھر تاخیرکا مطلب محنت کا ضیاع ہوتا ہے ۔سمجھ دار اور عوام کی نفسیات سے واقف مقرر ایسے موقع پر الفاظ کے زیر وبم اور لہجے کے اتار چڑھائوسے لوگوں کے جذبات وصول کرلینا چاہتاہے۔ حضرت شہیدؒکا لہجہ بھی ایسے مواقع پر بلندہوجایا کرتاتھا،گویا گرم لوہے پر پے در پے ضربیں لگارہے ہیں ۔ اصلاحی تعلق اسی مشہور ومعروف، روحانی ،علمی ،تاریخی اور انقلابی خانقاہ دین شریف سے تھا۔ہالیجی شریف سے بھی ربط وتعلق رکھتے تھے اور گاہے گاہے وہاں حاضر ہوا کرتے تھے۔سفر وحضر میںوضو پر مواظبت فرمایا کرتے تھے۔دوران سفر راستے میں کبھی ایسا ہوتاکہ وضو کے لئے مناسب جگہ دستیاب نہیں ہوتی تھی، مگر حضرت گھٹنوں کی تکلیف کی شدت کے باوجود معمول پورا فرمالیا کرتے تھے۔’’الأجر بقدر التعب والمشقۃ ‘‘ کے قاعدے سے یقینا یہ وضوزیادہ اجروثواب اور فضیلت رکھتا تھا۔ایسا بھی ہواکہ دن بھر کے تھکادینے والے سفر کے بعد نصف شب کے قریب آرام کا موقع ملا،مگر جب صبح فجر کے لئے آنکھ کھلی تو حضرت شہیدؒ کو مراقب پایا، جس کا مطلب تھا کہ حضرت تہجد ،ذکر اور دعا وظائف سے فارغ ہوچکے ہیں۔سفر میں فجر سے گھنٹہ بھر قبل بیدار ہوجایا کرتے تھے۔ آپ کااصل میدان فقہ اور فتاویٰ کا میدان تھا۔بلا مبالغہ آپ ملک کے صف اوّل کے مفتیان کرام میںسے تھے۔احقر کے خیال میں آپ کی خاص خصوصیت محض مطالعہ کی کثرت اورجزئیات پر دسترس وغیرہ نہیں، بلکہ فقہی ملکہ اور خداداد ذہانت تھی۔اس کے ساتھ آپ پختہ استعداد کے مالک ،نہایت زیرک ،سخن فہم اور گہری نگاہ کے مالک تھے۔کئی مواقع پر ایسا ہو ا کہ کسی چیز کو محض اپنے ذوق سے آپ نے مسترد کیا اور بعد میں تلاش بسیار کے بعد اسی کے موافق نص مل گئی۔دنیوی گورگھ دھندوں سے آپ منقطع تھے اور’’الذین أحصرو فی سبیل اللّٰہ‘‘کے کامل مصداق اور اتم نمونہ تھے، مگر اس کے باوجود سیاسی قوانین،معاشی نظریات ،رسم ورواج ، عرف وعادات اورملکی حالات سے کما حقہ ٗواقفیت رکھتے تھے۔مسجد اور مدرسہ میں زندگی بسر کرنے کے باوجود لوگوںکی عادات اوران کے محاورات پر آپ کی گرفت مضبوط تھی،طلاق اور اَیمان کے مسائل میں اس کاخوب اندازہ ہواکرتاتھا۔کام کا جتنا دبائو دارالافتاء بنوری ٹائون میں ہے، شاید ہی کسی اور جگہ ہو،مگر افرادی قلت کے باوجود اُسے بہ سہولت پورا فرمالیا کرتے تھے۔۱۹۹۸ ء سے اب تک فتاویٰ کی آخری تصحیح آپ فرمایا کرتے تھے۔ہر سال تقریباً دس ہزار فتاویٰ دارالافتاء سے جاری ہوتے ہیں، اس لحاظ سے آپ کے فتاویٰ کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ بنتی ہے۔جو فتاوی اس سے قبل کے زمانے کے ہیں اور جو دیگر مدارس سے جاری کئے اور جن کی تصدیق فرمائی ،ان کی تعداد اس کے علاوہ ہے ،مگر ان میں شاید وباید ہی کوئی ایسا فتویٰ ہوگا جو اکابر کے مزاج کے خلاف اور جمہور کے مسلک سے کٹ کرہو۔رحمہ اللّٰہ وارضاہ۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک خاص قسم کا تغیر طبیعت میں پیدا ہوگیا تھا۔اللہ جانتا ہے کہ جب یہ کیفیت طاری ہوتی یاتنہائی میں اس کی طرف دھیان جاتا تھا تو ذہن سورۂ نصر کی طرف چلاجایا کرتاتھااورطبیعت فراق کے خیال سے پریشان ہوجایا کرتی تھی۔اب حضرت شہیدؒ ایک ایک لمحے کو ذکر الٰہی سے آباد کرنے لگے تھے ،یہاں تک کہ سوال وجواب پڑھتے وقت تو ہونٹ ساکت رہتے تھے، مگر جونہی دستخط فرمانے لگتے، لب حرکت کرنے لگ جاتے،ہونٹوں کوجنبش شروع ہوجاتی، حالانکہ سوالات کی کثرت کی وجہ سے نام کی مہر بنوانی پڑگئی تھی، جس کے ثبت کرنے میں ایک دو سیکنڈ لگتے تھے، مگر حضرت اس کوبھی مزید پرنور بناتے تھے۔اس کے ساتھ ایک تبدیلی یہ آئی تھی کہ فوری طور پررقت قلبی طاری ہوجایاکرتی تھی ۔ محسن انسانیت ،سیدالکونین ،سرکار دو عالم ا کے نام نامی اور اسم گرامی پر آبدیدہ ہوجایا کرتے تھے ۔حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے اور ان کے تذکرے پر طبیعت میں ایک جوش سا پیدا ہوجایا کرتا تھااور موضوع سخن چھوڑ کر ان کا کوئی واقعہ یا منقبت یا ان کی بلند پایہ شخصیت کے متعلق کوئی جملہ ارشاد فرمالیا کرتے تھے۔  جو عالم دین کوئی دینی مشغلہ رکھتا ہومثلاًدرس وتدریس ،تصنیف وتالیف یا وعظ ونصیحت کرتا ہواور اسی حالت میں وفات پاجائے تو اس کی موت حکمی شہادت کی موت ہے اور جوناحق آلۂ جارحہ سے مارا جائے اور وہ کوئی دنیوی آسائش بھی نہ اٹھائے تو اس کی موت حقیقی شہادت کی موت ہے ۔حضرت الاستاذ،مشفی ومربی کو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں معنوں کے لحاظ سے شہادت نصیب فرمائی ہے۔شہادت کے بعد یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گہری نیند میںہیں اور اپنے مقام بلند کودیکھ کر تبسم فرمارہے ہیں۔ جامعہ کے مہتمم حضرت مولاناڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب حفظہ اللہ ورعاہ نے شہداء کا جنازہ پڑھایا ،لگتا تھا کہ تکبیرات کے ساتھ جگر کے ٹکڑے نکل کر باہر نہ آجائیں،مگر خدا تعالیٰ جب کوئی ذمہ داری ڈالتاہے تو اس کے لئے درکار صفات سے بھی نواز دیتا ہے ۔حضرت ڈاکٹرصاحب استقامت نہ دکھاتے تو کس کادل گردہ تھاکہ وہ صبرکرجاتا۔جنازے سے قبل حضرت ڈاکٹر صاحب نے جو کلمات ارشاد فرمائے، وہ مختصر مگر جامع ،سادہ مگر مدلل،صدمات سے چُورروح کے ترجمان اور روحِ شریعت میںڈوبے ہوئے تھے۔اس وقت یہ حقیقت کھلی کہ ’’الاستقامۃ فوق الکرامۃ‘‘۔جنازے میں بہت قلیل وقت میں بہت بڑا مجمع جمع ہوگیا تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے موقع پرچند آدمیوں نے مل کر ملکوں کے ملک راکھ اور خاک کردیئے،ایک غیر محتاط جملے سے یہ لوگ کچھ کرنے اور دکھانے ، مرنے اور مارنے پر آمادہ ہوسکتے تھے،مگر ایمان اور دینی تربیت نے اُنہیں روک دیا۔جامعہ کے اکابر نے نہ صرف خود صبر کیا، بلکہ صبر کی فضا بنادی،جس یہ تمام مجمع انتہائی پرامن طور منتشر ہوگیا۔نہ کوئی نعرہ لگا،نہ کوئی شیشہ ٹوٹااور نہ کسی کوبے جا تکلیف ہوئی،ورنہ دینی تربیت سے عاری لوگ ایسے مواقع پر کیا کچھ نہیں کر گزرتے۔جنازے کے بعد حضرت مفتی صاحب شہیدؒ کوان کے آبائی شہر خان پور لے جایاگیا اورمدینۃ الاولیاء ،مقبرۃ المشایخ دین پور میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔یہ وہی مقبرہ ہے جس میں حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری ؒ،مولانا عبیداللہ سندھی ؒ،مولانا عبداللہ درخواستیؒ جیسے بڑے بڑے اولیاء اور مشایخ مدفون ہیں۔ مرقد میں رکھنے کے بعد جب چہرے سے ذراکفن سِرکا توچہرہ گلاب کی طرح کھلا ہوا اورماہتاب کی مانند پُرنورتھا۔أللّٰھم لاتحرمنا أجرہ ولاتفتنا بعدہ۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے