بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 مئی 2019 ء

بینات

 
 

طہارت ونظافت: اسلام کا طرۂ امتیاز 


طہارت ونظافت: اسلام کا طرۂ امتیاز 


طہارت و نظافت ایک مہتم بالشان عمل ہے، آدمی کے لیے باعثِ زیب و زینت ہے، ایک سلیم الطبع انسان کے لیے سرمایۂ عز و افتخار ہے، متمدن اور مہذب لوگوں کا شعار ہے، ترقی یافتہ اور زندہ دل قوموں کی پہچان ہے، اسلام اور مسلمانوں کا طرئہ امتیاز ہے۔ 
نفاست و پاکیزگی دل کو آسودگی و فرحت عطا کرتی ہے، ذہن کو تازگی و بالیدگی بخشتی ہے، قلب ودماغ کو معطر کرتی ہے۔ صفائی و ستھرائی کا اہتمام کرنے سے انسان کو اُنس وسرور حاصل ہوتا ہے، دل جمعی و یکسوئی حاصل ہوتی ہے، ذہنی تشویش و پراگندگی دور ہوتی ہے، حفظانِ صحت میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اسلام کا آفتاب طلوع ہونے سے پہلے پوری دنیا تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہر سُو اندھیرے کی حکمرانی تھی، طہارت و نظافت سے بے اعتنائی ولاپرواہی تھی، بدن اور کپڑے کی صفائی کو معیوب خیال کیا جاتا  تھا، غسل کرنے کو جرم سمجھا جاتا تھا۔ بوسیدہ، بدبودار اور میلے گندے کپڑوں میں رہنے کو لازم اور ضروری قراردیا جاتا تھا، بغل اورناف کے بالوں کو تراشنا گنا ہ سمجھا جاتا تھا۔ زمانۂ جاہلیت میں بعض نصرانی راہب اپنے جسم پہ لباس زیب تن نہیں کرتے تھے، اورقابلِ ستر اعضاء کو جسم کے غیر معمولی طورپر بڑھے ہوئے بالوں کے ذریعہ چھپاتے تھے۔ اتھینس نامی راہب کابیان ہے کہ اس نے زندگی بھر اپنے پیر نہیں دھوئے۔ ابراہام نامی راہب کہتاہے کہ: میں نے پچاس سال تک اپنے چہرے اور پیر کو پانی سے ترنہیں کیا۔ اسکندریہ کے ایک راہب نے جب عیسائیوں کو غسل کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھاتو کافی افسوس اوررنج وغم کا اظہارکیا، اورکہا کہ: کچھ عرصہ پہلے ہم چہرے پر پانی ڈالنا حرام خیال کرتے تھے۔ افسوس! آ ج ہم لوگ پورے جسم پر پانی بہارہے ہیں۔ (ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین ،ج:۱،ص:۱۵۱)  
مغرب کے لوگ اگرچہ اپنے کو مہذب اورمتمدن بتاتے ہیں، متانت وسنجیدگی اور تہذیب و شائستگی کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں؛ لیکن کچھ صدیوں پہلے ان کا حال بھی اس سے مختلف نہیں تھا۔ پاپائے روم نے جرمنی کے بادشاہ فریڈرک پر جب کفر کا فتویٰ لگایا تو اس پر ایک بڑاالزام یہ تھاکہ وہ روزانہ غسل کرتا ہے۔ پاپائے روم روزانہ غسل کرنے والے عیسائیوں کو کافر قرار دیتاتھا، ایسے کافروں کو سز ادینے کے لیے پاپائے روم نے ۱۴۷۸ء میں ایک مذہبی عدالت قائم کی، اورروزانہ غسل کرنے کی پاداش میں پہلے ہی سال دوہزار افراد کو زندہ جلادیا گیا، اورستر ہزار کو قید وبند کی سزائیں جھیلنی پڑیں۔ میلے کچیلے لباس پہننے کی وجہ سے جوئوں کی یہ کثرت تھی کہ جب برطانیہ کا پادری باہر نکلتاتو اس کی قباء پر سینکڑوں جوئیں پھرتی نظر آتی تھیں۔ جب اندلس میں اسلامی سلطنت کا آفتاب غروب ہوا، اور عیسائیوں نے زمامِ اقتدار سنبھال لی، تو فلب دو م نے تمام حمام بند کرنے کا فرمان جاری کیا، اوراس نے ا شیلبہ کے گورنر کو محض اس لیے معزول کردیا کہ وہ روزانہ ہاتھ منہ دھوتا ہے۔
 یہی کچھ حال ہندو ازم کا بھی ہے۔ ہندو مذہب کے پیروکاروں کے یہاں طہارت وصفائی کا کوئی تصور نہیں ہے، ان کی مذہبی کتابوں میں نفاست وپاکیزگی کے طورطریقے بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ ہندو دھرم کے اندر انسان اپنے مزاج ومذاق کے مطابق حیوانوں کی سی زندگی گزارسکتا ہے۔چند سال قبل ہندوستان کے سابق وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کایہ بیان ملک کے مشہورومعروف جرائد اوربڑے بڑے اخبارات میں شائع ہواتھاکہ میں روزانہ صبح اپنا پیشاب پیتا ہوں۔
 سکھوں کے یہاں سر، مونڈھے، زیر ناف کے بال تراشنے سے انسان مذہب سے خار ج ہوجاتا ہے، ختنہ کرنا ان کے یہاں بڑاجرم سمجھا جاتا ہے۔
 غرض یہ کہ اسلام کے علاوہ تمام مذاہب طہارت وصفائی کی تعلیمات سے یکسر خالی ہیں؛ بلکہ ان مذاہب میں طہارت وصفائی کا اہتمام کرنے والاانسان قابلِ سزا سمجھا جاتاہے۔ یہ مذہبِ اسلام کا ہی طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے نظافت وطہارت پر غیر معمولی توجہ دی ہے۔ گم گشتہ راہِ انسانیت کو اس سلسلہ میں اعلیٰ درس دیا ہے، بڑی شرح وبسط کے ساتھ اس کے آ داب اورطور طریقے بیان کیے ہیں، جن کو اختیار کرنے سے ایک سلیم الطبع انسا ن کو آسودگی اور اطمینان نصیب ہوتا ہے، غیرمعمولی فرحت وشادمانی حاصل ہوتی ہے، چہرے پر تازگی اور نورانیت محسوس ہوتی ہے۔
اسلام نے طہارت وصفائی کی بڑی تاکید کی ہے۔ آپ a پر جب دوسری مرتبہ وحی نازل ہوئی تو نبوت کی بھار ی ذمہ داریا ں پوری کرنے کے لیے جہاں دیگر ہدایتیں دی گئیں، وہیں ایک ہدایت یہ بھی دی گئی کہ ’’آپ اپنے کپڑے کو پاک وصاف رکھیے۔‘‘ (القرآن، المدثر:۴) طہارت وپاکیزگی اللہ عزوجل کی محبوب اورپسندیدہ چیزوں میں سے ہے۔ (القرآن، البقرۃ :۲۲۲) 
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین استنجاء کے بعد ڈھیلا اورپانی دونوں استعمال کرتے تھے، اللہ تبار ک وتعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی، اورقرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی:
’’فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّالْمُطَّہِّرِیْنَ۔‘‘ (القرآن، التوبہ:۱۰۸)
 ’’اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو دوست رکھتے ہیں، اوراللہ پاک رہنے والوں کو دوست رکھتاہے۔‘‘ 
آپ a نے پاکی کو آدھاایمان قرار دیاہے، ایک حدیث میںآ پ a نے ارشاد فرمایا:
’’ اللہ تبارک وتعالیٰ صاف ستھرے ہیں، اورصفائی ستھرائی کوپسند فرماتے ہیں۔ 
ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : 
’’تنظفوا بکل ما استطعتم، فإن اللّٰہ تعالٰی بنی الإسلام علی النظافۃ ، ولن یدخل الجنۃ إلا کلُ نظیف۔‘‘ 
’’اپنی وسعت وحیثیت کے بقدر پاک و صاف رہنے کا اہتمام کرو، کیوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسلام کی بنیاد ہی نظافت پر رکھی ہے، اور جنت میں داخل ہی وہ شخص ہوگا جو پاک وصاف رہنے کا اہتمام کرتا ہو۔‘‘
نماز اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے، اس کی ادائیگی کے لیے بھی جسم، کپڑے اورجگہ کی طہارت کو شرط قرار دیا گیا ہے، پھر وضو پر وضو کی ترغیب، ریح خارج ہو تو وضو کا حکم، جسم کے کسی حصہ سے خون نکلے تو وضو کا حکم، ہر عضو کو تین مرتبہ دھونے کا حکم، وضو کے وقت مسواک کی ترغیب، کلی کرتے وقت غرغرہ کی ترغیب، ناک کی آلائش کو صاف کرنے کا حکم، جنابت لاحق ہونے کے بعد غسل کرنے کی تاکید، غسل میں ممکنہ حد تک پورے جسم پرپانی بہانے کا حکم، زائد مونچھوں کو تراشنے کا حکم، مونڈھے کے بالوں کو اُکھاڑنے کا حکم، زیرِناف بالوں کی صفائی کا حکم، ہرہفتہ ناخن کاٹنے کا حکم، استنجاء میں ڈھیلے اورپانی دونوں کو جمع کرنے کی ترغیب، بیت الخلاء میںجوتے پہن کر داخل ہونے کا حکم، پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے بیٹھ کر پیشاب کرنے کا حکم، قضائے حاجت کے بعد ہاتھ کو مٹی سے رگڑکر دھونے کا حکم، نیند سے بیدار ہونے کے بعد پانی استعمال کرنے سے پہلے ہاتھ دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔
 پانی اگر موجود نہ ہو یا پانی کے استعمال سے ضررِ شدید لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم کا حکم دیا گیا ہے، جس میں اگرچہ چہرہ اور ہاتھ گرد وغبارسے کچھ نہ کچھ آلودہ ہوجاتے ہیں، تاہم نفسیاتی طور پر صفائی وستھرائی کا احساس باقی رہتا ہے، اور ذہنی طور پر انسان اپنے کو پاک وصاف سمجھتا ہے۔
 یہ تمام باتیں ایک انسان کو طہارت وصفائی کے حوالہ سے حساس بناتے ہیں، اور انسان کو نفاست پسند، پاک باز، خوش منظر اور خوش جمال بناتے ہیں۔
احادیثِ شریفہ میں طہارت وصفائی کے بڑے فوائد بیان کیے گئے ہیں، ایک روایت میں ہے کہ:
’’ جو شخص پاکی کی حالت میں سوتا ہے‘ فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعاء کرتے ہیں۔‘‘      (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر: ۱۱۴۴) 
ایک روایت میں ہے کہ:
’’ جو شخص اپنے گھر، آنگن اوراستعمال کی چیزوں کی صفائی ستھرائی کا اہتمام کر تا ہے تو اس سے فقر وتنگ دستی دورہوتی ہے، اورغنا ومال داری نصیب ہوتی ہے۔‘‘   (کنز العمال، حدیث نمبر: ۲۵۹۹۹) 
ایک روایت میں آتاہے کہ: 
’’جوشخص اچھی طرح وضو کرکے مسجد میں جانے کا اہتمام کرے تووہ نماز کی حالت میں شما رکیا جاتاہے، جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔‘‘
 ایک حدیث میں آتا ہے کہ:
 ’’قیامت کے دن وضو کی وجہ سے اُمتِ محمدیہ کے اعضاء خوب چمکدار اورروشن ہوں گے اوراسی سے آپa اپنی اُمت کو پہچانیں گے۔‘‘               (بخاری شریف، حدیث نمبر:۱۳۶) 
طہارت ونظافت کا اہتمام نہ کرنے پر احادیث شریفہ میں بڑی وعیدیں آئی ہیں۔ ایک حدیث شریف میں آپ a نے فرمایا کہ: 
’’عام طور پر عذابِ قبر پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتاہے۔‘‘      (ابن ماجہ، حدیث نمبر :۳۴۸) 
ایک روایت میں آتاہے کہ: 
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم  دوقبروںکے پاس سے گزرے، اور فرمایا کہ: ان دونوں قبروالوں کو عذاب ہورہا ہے؛ کیوں کہ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا، اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔‘‘      (بخاری، حدیث نمبر :۲۱۶) 
ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ: 
’’جس گھر میں جنبی ناپاک شخص ہو، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘             (ابوداود، حدیث نمبر:۲۲۷) 
اس کے علاوہ طہارت ونظافت کا اہتمام کرنے سے انسان کو طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، صفائی ستھرائی حفظانِ صحت میں معین ومددگار ثابت ہوتی ہے۔ نفاست وپاکیزگی کا اگر کوئی انسان التزام کرلے تو بہت سی بیماریوں سے حفاظت ہوسکتی ہے۔ شرعی اورطبی نقطۂ نظر سے جہاںایک انسان کے لیے نفاست وپاکیزگی کا اہتمام ضروری اورناگزیرہے، وہیںعقلِ انسانی بھی نفاست وپاکیزگی کی متقاضی ہے۔ 
جو انسان طہارت وصفائی کا اہتمام کرتا ہے لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، خوش اخلاقی اورملنساری سے پیش آتے ہیں، مجلس میں آگے جگہ ملتی ہے، اس کے برعکس جو انسان گندہ رہتا ہے، میلے کچیلے لباس پہنتاہے، اپنی وضع اور ہیئت کو خوش منظر نہیں بناتا ہے تو لو گ اس سے نفرت کرتے ہیں، اس کو دیکھ کر لوگوں کو انقباض اورتکدر ہوتا ہے، مجلس میں پیچھے جگہ ملتی ہے، معاشرہ کے اندر ایسے انسان کو عزت اور عظمت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ 
موجودہ دور میں مسلمانوں میں دین بیزاری اور احکامِ شریعت سے غفلت ولاپرواہی عام ہے، اسلام کی ساری تعلیمات وہدایات کو وہ فراموش کربیٹھے ہیں۔ اسلامی معاشرہ میںانگریزی تہذیب وکلچر کی جڑیں گہری ہوچکی ہیں۔ مسلم معاشرہ سے اسلامی اطواروعادات ناپید اورعنقاء ہوگئے ہیں۔ 
طہارت ونظافت جو کبھی مسلمانوں کا طرۂ امتیاز تھا، سرمایۂ عزو افتخار تھا، افسوس! آج مسلمان اس سے بیگانہ ہوگئے ہیں۔ ہمارے بہت سے مسلمان بھائی طہارت ونظافت کے احکام سے ناآشنا اور نابلد ہیں، وضو اورغسل کے فرائض تک کا ان کوپتہ نہیں۔ نجاست وناپاکی کے ازالہ کا طریقہ کیا ہے، کن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتاہے، استنجاء کے آداب کیاہیں، جنابت کے احکام کیا ہیں، حیض ونفاس کے احکام کیا ہیں، اس جیسے روز مرہ پیش آنے والے عام مسائل کی نئی نسل کو خبر نہیں۔ یہ صورت حال کافی افسوسناک اورغم انگیز ہے۔ 
موجودہ زمانہ میں ضرورت ہے اس بات کی کہ نئی نسل کے سامنے طہارت وصفائی کی اہمیت اورعظمت کو اُجاگرکیا جائے۔ طہارت کے بنیادی احکام سے انہیں روشناس کرایا جائے۔ اسلامی تہذیب وثقافت سے محبت کا نقش ان کے دلوں میں بٹھایا جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اُمتِ مسلمہ کو حق بات سمجھنے اور اس پر عمل پیراہونے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے