بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1440ھ- 21 اگست 2019 ء

بینات

 
 

’’شرائع من قبلنا‘‘ ا ور اُن کا حکم (دوسری قسط)

’’شَرَائِعُ مَنْ قَبْلَنَا‘‘ا ور اُن کا حکم

                          (دوسری قسط)

ان تمہیدی اُمور کی وضاحت کے بعد اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں: تمام آسمانی شرائع کی حقانیت تمام آسمانی شرائع کی حقانیت، منزل من اللہ ہونا، اپنے اپنے زمانے میں قابلِ عمل اور واجب الاتباع ہونا مسلماتِ دینیہ اور حقائق شرعیہ میں سے ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اس بات کا ماننا صرف ایک تاریخی اور علمی حقیقت کے اعتراف کے طور پر نہیں، بلکہ اس کے ایمان کے معتبر ہونے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ ایمانیات میں سے عقیدۂ رسالت کے عموم میں یہ شامل ہے کہ جس طرح ایک مومن کے ایمانی وجود کے لیے اپنے نبی کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، اسی طرح گزشتہ تمام انبیائo کی نبوت ورسالت اور ان کی شریعتوں کی حقانیت کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ امام طحاوی  رحمۃ اللہ علیہ   ’’العقیدۃ الطحاویۃ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ونؤمن باللّٰہ والملائکۃ والنبیین والکتب المنزلۃ علی المرسلین ونشہد أنہم کا نوا علی الحق المبین ۔‘‘(۱) ’’اور ہم فرشتوں، انبیاء کرام اور رُسلِ عظام پر اُتاری گئیں کتابوںپر ایمان لاتے ہیں، اور گواہی دیتے ہیں کہ سب واضح حق پر تھے۔‘‘ اس مضمون پرمشتمل چندآیاتِ کریمہ ملاحظہ ہوں: ۱:…’’وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ۔‘‘                                                               (البقرۃ:۴) ’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں ۔‘‘ اس آیتِ کریمہ میں قرآن مجید ،جو خاتم الانبیاء ؑپر نازل کیا گیا ہے‘ پر ایمان لانے کے ساتھ گزشتہ کتبِ سماویہ، جو سابقہ تمام انبیاء کرام ؑپر اُتاری گئیں ہیں، پر ایمان لانے کا حکم بصورتِ خبر ہے۔ ۲:…’’آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِہٖ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیْرُ۔‘‘                                                  (البقرۃ:۲۸۵) ’’مان لیا رسول نے جو کچھ اُترا اُس پر اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے بھی، سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو۔ کہتے ہیں کہ: ہم جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے اور کہہ اُٹھے کہ ہم نے سنا اور قبول کیا، تیری بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ ۳:…’’لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا ۔‘‘                         (المائدۃ:۴۸) ’’ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ۔‘‘ ۴:… ’’شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی أَنْ أَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ کَبُرَ عَلٰی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْہُمْ إِلَیْہِ اَللّٰہُ یَجْتَبِیْ إِلَیْہِ مَنْ یَّشَائُ وَیَہْدِیْ إِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ۔‘‘      (الشوریٰ:۱۳) ’’راہ ڈال دی تمہارے لیے دین میں وہی جس کا حکم کیا تھا نوح کو اور جس کا حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور جس کا حکم کیا ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو، یہ کہ قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں، بھاری ہے شرک کرنے والوں کو وہ چیز جس کی طرف تو اُن کو بلاتا ہے ،اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف سے جس کو چاہے اور راہ دیتا ہے اپنی طرف اُس کو جو رجوع لائے ۔‘‘ توراۃ وانجیل، زبور کے بارے میں بطورِ خاص ارشادات ربانی ملاحظہ ہوں: ۵:… ’’وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوْسَی الْہُدَی وَأَوْرَثْنَا بَنِیْ إِسْرَائِیلَ الْکِتَابَ۔‘‘(المؤمن:۵۳) ’’اور ہم نے دی موسیٰ کو راہ کی سوجھ اور وارث کیا بنی اسرائیل کو کتاب کا۔‘‘ ۶:… ’’إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ۔‘‘    (المائدۃ:۴۴) ’’ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے۔‘‘ ۷…’’وَآتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا ۔‘‘                  (النساء :۱۶۳) ’’اور ہم نے دی داؤد کو زبور۔‘‘ حدیثِ نبوی ہے: ’’عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ فِیْ الْأُوْلَی وَالْآخِرَۃِ‘‘ قَالُوْا: کَیْفَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ:’’الْأَنْبِیَائُ ُإِخْوَۃٌ مِنْ عَلَّاتٍ، وَأُمَّہَاتُہُمْ شَتَّی، وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ، فَلَیْسَ بَیْنَنَا نَبِیٌّ۔‘‘(۲) ’’حضرت ابوہریرہ q سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:دنیا وآخرت میں عیسیٰ بن مریم کے سب زیادہ قریب میں ہوں۔ صحابہؓ نے دریافت فرمایا: کس طرح؟ یا رسول اللہ!آپ نے فرمایا: انبیائo باب شریک بھائیوں(جیسے)ہیں،ان کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہے، ہمارے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔‘‘ محشی امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ   کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : ’’وقال البغوی:یرید أن أصل دین الأنبیاء واحد، وإن کانت شرائعہم مختلفۃ کما أن أولاد العلات أبوہم واحد، وإن کانت أمہاتہم شتی ۔‘‘(۳) ’’حدیث شریف کا معنی یہ ہے کہ انبیاء کرامB کے دین کا اصل یہ ہے، اگرچہ ان کی شریعتیں مختلف ہیں، جیسے علاتی بھائیوں کے والد ایک ہوتے ہیں، اگرچہ مائیں مختلف ہوتی ہیں۔‘‘ ان تمام نصوص کا حاصل یہ ہے کہ تمام انبیاء کرامo برحق تھے ،ان پرنازل ہونے والی آسمانی کتابیں اللہ کی کتابیں تھیں اوربرحق تھیں،تمام انبیاء کرام o کادین (عقائد)ایک تھا،تاہم شریعتیں مختلف تھیں۔ ہرایک نبی کوایک شریعت ملی ہوئی تھی ،جس پرعمل کرنااس نبی کی امت کے لیے ضروری تھا، اور یہ کہ ان تمام باتوں پرایمان لانا ایمان کے معتبرہونے کے لیے بنیادی شرط ہے، جب تک ایک مسلمان ان باتوں کونہ مانے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ آسمانی شریعتوں میں اختلاف واتفاق کا امکان آسمانی شریعتیں باہم متفق بھی ہوسکتی ہیں اور مختلف بھی، اس لیے کہ شریعتوں میں بندوں کے مصالح کو مدِنظر رکھا جاتا ہے اور بندوں کی مصلحتوں میں اختلاف اور تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں، ایک کام ایک زمانے میں مصلحت سمجھا جاتا ہے اور دوسرے زمانے میں مصلحت نہیں رہتا، یا ایک زمانے میں مصلحت نہیں ہوتا اور اگلے زمانے میں وہ مصلحت بن جاتا ہے، اسی لیے شریعتوں کے درمیان اختلاف کے امکان سے انکار کی کوئی وجہ نہیں۔ اور جب شرائع مختلف ہوسکتی ہیں،تو یہ بات بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نبی اور پیغمبر کو پچھلی شریعت کی پیروی کا حکم دے یا پھر کسی نبی کو پچھلے نبی کی شریعت کی پیروی سے منع کردے۔ صاحبِ ’’کشف الاسرار‘‘ رقم طراز ہیں: ’’جان لو کہ یہ بات جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو پچھلے انبیاء o کی شریعت پر عمل کرنے کا پابند بنائے، اور اس کی پیروی کا حکم دے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ پچھلی شریعت کی پیروی سے منع فرمادے۔ دین میں اس حوالے سے کوئی صورت‘ محال اور ناقابل فہم نہیں۔ بندوں کے مصالح کبھی یکساں ہوتے ہیں،اور کبھی مختلف۔ پس ممکن ہے کہ کوئی چیز پہلے نبی کے زمانہ (نبوت)میں مصلحت ہو، دوسرے نبی کے زمانہ (نبوت) میں نہ ہو، اور اس کے برعکس صورت بھی ممکن ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں نبیوں کے زمانہ(نبوت)میں مصلحت ہو۔ پس شرائع کا یکساں ہونا اور مختلف ہونا دونوں صورتیں ممکن ہیں۔‘‘(۴) اشکال:…توافق کی صورت میں نئے نبی کی ضرورت ؟ اس مقدمے پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ اگر نئے مبعوث ہونے والے نبی اور رسول کی شریعت گزشتہ نبی اور رسول کی شریعت کے بالکل موافق ہو، تو نئے نبی بھیجنے، ان کے ہاتھ پر معجزات ظاہرکرنے اور نئی شریعت نازل کرنے میں کیا فائدہ ہے؟ جواب: …نئے نبی کی ضرورت ،متعدد وجوہات سے پہلی وجہ ضروری نہیں کہ نئی شریعت من کل الوجوہ پچھلی شریعت کے موافق ہو، بلکہ ممکن ہے کہ اتفاق کے باوجود چند احکام میں اختلاف ہو، اگرچہ اختلافی احکام اتفاقی احکام کے مقابلے میں کم ہوں۔ دوسری وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک نبی کی شریعت ایک قوم کے لیے ہو، اور دوسرے نبی کی شریعت دوسری قوم کے لیے ہو۔  تیسری وجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پچھلے نبی کی شریعت کے احکام مٹ چکے ہوں اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوچکے ہوں اور نئے آنے والے نبی ہی کے ذریعے سے ان تک رسائی ممکن ہو۔  چوتھی وجہ سابقہ شریعت کی تعلیمات میں بدعتیں درآئی ہوں جس کی وجہ سے اس شریعت کی تعلیمات تک بطریقۂ اکمل رسائی ممکن نہ ہو، ان بدعتوں کو مٹانے اور شریعت کے احکام کو اپنی درست شکل میں زندہ کرنے کے لیے نبی کی ضرورت ہو۔ ان وجوہات کے بنا پر ماننا پڑتا ہے کہ شرائع کے باہمی اتفاق کے باوجود نئے نبی کے آنے کی ضرورت برقرار رہتی ہے اور ان کی بعثت بامقصد وبامعنی رہتی ہے۔ ـ (۵) کیا دوآسمانی شریعتوں کا باہمی اتفاق واقع بھی ہوا ہے؟ آسمانی شرائع کے باہمی اتفاق واختلاف کے ممکن وجائز ہونے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایسا واقع بھی ہوا ہے کہ دوشریعتیں آپس میں بالکل متفق ہوں اور آنے والے نبی کو پہلے نبی کی شریعت کی مکمل پابندی کا حکم دیاگیا ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل میں توایسا واقع ہواہے،چنانچہ حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں: ’’بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کرامo موسیٰ m کی شریعت کے تحت داخل ہیں، اور موسیٰm کی نبوت کے احکام کے مخاطب ہیں، یہاں تک کہ عیسیٰ m بھی۔ قرآن مجید میں اس کے دلائل کثرت سے موجود ہیں۔‘‘  (۶) عبد المحسن بن حمدؒ رقم طراز ہیں: ’’وَقَالَ:إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاۃَ فِیْہَا ہُدًی وَّنُوْرٌ یَّحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِینَ أَسْلَمُوْا لِلَّذِینَ ہَادُوْا وَالرَّبَّانِیُّوْنَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُہَدَائَ۔ (المآئدۃ:۴۴) فَہٰذِہٖ الْآیۃُ تَدُلُّ عَلٰی أَنَّ أَنْبِیَائَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی یَحْکُمُوْنَ بِالتَّوْرَاۃِ وَیَدْعُوْنَ إِلَیْہَا ۔‘‘  (۷) ’’فرمایا:’’إِنَّا أَنْزَلْنَا‘‘ (ہم نے نازل کی تورات کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے (اللہ کے) یہود کو اور حکم کرتے تھے درویش اور عالم، اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے)یہ آیتِ کریمہ اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ موسیٰ m کے بعد بنی اسرائیل کے تمام انبیائo تورات کے احکام پر عامل تھے اورتورات ہی کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔‘‘ حاصلِ بحث یہ ہوا کہ آسمانی شرائع میں باہم اختلاف بھی ممکن ہے اور اتفاق بھی، اتفاق کی صورت میں نئے نبی کی بعثت کے جواز کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ نیزگزشتہ شرائع میں ایسا ہوا ہے کہ ایک نبی کو پچھلے نبی کی شریعت کی پیروی کا حکم دیاگیا ہو، جیسا کہ انبیاء بنی اسرائیل کو تورات کے احکام پر عمل کرنے کا حکم تھا۔ تاہم یہ ساری تفصیل شریعتِ محمدیہl سے قبل کی شرائع میں ہے، آخری پیغمبر کی شریعت کا سابقہ شرائع کے ساتھ کس طرح کا تعلق تھا؟ توافق کا؟ یا اختلاف کا؟ آئندہ سطور میں اس کی تفصیل بیان کی جائے گی۔ حواشی ۱:…العقیدۃ الطحاویۃ للامام ابی جعفراحمد بن محمدالطحاوی، متوفیٰ:۳۲۱ھ،ص:۱۳، مکتبۃ البشریٰ، کراچی۔ ۲:…مسند الامام احمد بن حنبل، لابی عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل، متوفیٰ:۲۴۱ھـ، رقم الحدیث:۸۲۴۸، ج:۱۳،ص:۵۴۵۔ ۳:…المرجع السابق ۴:…کشف الاسرار شرح اُصولِ بزدوی، لعبد العزیز بن احمد البخاری الحنفی، متوفیٰ:۷۳۰ھ، ـ ج:۲،ص:۲۱۲۔ ۵:…تفصیل کے لیے دیکھئے: کشف الاسرارشرح اُصولِ بزدوی، ج:۳،ص:۲۱۲۔ ۶:…فتح الباری شرح صحیح البخاری، لاحمدبن علی بن حجرالعسقلانی، ج:۱،ص:۲۲۱۔ ۷:…شرح حدیث جبریل فی تعلیم الدین، لعبدالمحسن بن حمدبن عبدالمحسن، ج:۱،ص:۳۶۔            (جاری ہے) ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے