بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

بینات

 
 

شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیجئے!

شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیجئے!

ملکِ شام کے مسلمانوں پر جو قیامت گزری وہ ایک المناک اور درد ناک داستان ہے، جس کے نتیجہ میں بے شمار مسلمان شہید ہوگئے۔ ان کی عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے اور کتنے لوگ زخمی ہوگئے اور اُن کے گھر تباہ ہوگئے اور ایک کروڑ سے زیادہ مسلمان بے گھر ہوگئے۔ کتنے لوگ ہیں جو کل تک مالدار تھے آج فقیر ہوگئے اور ترکی وغیرہ میں خیموں اور کیمپوںمیں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس صورت حال میں ہرمسلمان کو ان کی تکلیف کا احساس ہونا چاہیے اور عالَم کے مسلمانوں کو حسبِ استطاعت ان کی مدد کرنی چاہیے، کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی قرار دیا ہے، جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ۔‘‘ (الحجرات:۱۰)’’مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘اور حدیث شریف میں نبی کریم a کا ارشاد ہے:  ’’عن النعمان بن بشیرؓ قال: قال رسول اللّٰہ a: مثل المؤمنین فی توادہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد إذا اشتکی منہ عضوٌ تداعٰی لہٗ سائرُ الجسد بالسہر والحُمّٰی۔‘‘                                                                    (صحیح مسلم) ترجمہ:’’ باہمی محبت اور رحم وشفقت میں تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔‘‘ تشریح:۔۔۔۔۔۔  حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں اورایک جسم کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ جسم کے ایک حصے میں اگر درد ہو تو سارا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے اور اس درد کودور کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جو کچھ اختیار میں ہوتا ہے وہ کرتا ہے، یہی حالت ہماری اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں ہونی چاہیے، کیونکہ ساری دنیا کے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ دنیا کے کسی حصے میں، کسی کونے میں مسلمانوں پر کوئی تکلیف آئے تو یوں سمجھیں کہ گویا ہم پر تکلیف آگئی ہے۔ ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں ان کی تکلیف کا احساس ہونا چاہیے، ایسے موقع پر مسلمانوں کی تکلیف کا احساس ہونا اور اُن کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا یہ ہمارے ایمان کے زندہ ہونے کی علامت ہے، لہٰذا موجودہ وقت میں ملکِ شام کے مسلمان جس تکلیف اور مصیبت سے گزر رہے ہیں، اس میں ہمیں دو کام خاص طور پر کرنے چاہئیں: پہلا کام:۔۔۔۔۔ مظلوم مسلمانوں کے حق میں دعا ہر مسلمان کو شامی مظلوم مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے اور انہیں اس مصیبت سے نجات عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہیں، جو کچھ ہو رہا ہے ان کی مرضی اور حکم سے ہورہا ہے، وہ حالات بدلنے پر قادر ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ عمل بہت ہی مفید ہے، کیونکہ دعا کسی بھی صورت میں ضائع نہیں ہوتی، بشرطیکہ آداب اور شرائط کی رعایت کے ساتھ کی جائے اور یہ عمل بہت آسان بھی ہے، ہرعام وخاص، امیر وغریب کرسکتا ہے اور آسان ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی اونچا عمل ہے اور حدیث شریف میں دعا کو مومن کا ہتھیار اور ہرمصیبت اور ہرمشکل سے نجات دینے والی عبادت فرمایا گیا ہے، چنانچہ نبی کریم a کا ارشاد ہے: دعا کی اہمیت کے بارے میں احادیثِ مبارکہ ۱:۔۔۔۔۔’’ ألا أدُلُّکم علٰی ما یُنجیکم من عدوکم ویدرلکم أرزاقکم؟ تدعون اللّٰہ فی لیلکم ونہارکم فإن الدعاء سلاح المؤمن۔‘‘        (مسند ابی یعلی،ج:۳،ص:۳۴۶) ’’سنو! کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جو تمہارے دشمنوں سے تمہارا بچاؤ کرے اور تمہیں بھر پور روزی دلائے، وہ عمل یہ ہے کہ اپنے اللہ سے دن رات دعا کیا کرو، کیونکہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے۔‘‘ ۲:۔۔۔۔۔’’وعن ابن عمرq قال: قال رسول اللّٰہ a: إن الدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل فعلیکم عبادَ اللّٰہ! بالدعائ۔‘‘               (مشکاۃ المصابیح، ج:۲، ص:۳) ’’دعا ان حوادث ومصائب میں بھی کار آمد اور نفع مند ہوتی ہے جو نازل ہوچکے ہیں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے، لہٰذا اے اللہ کے بندو! دعا کا اہتمام کیا کرو۔‘‘ اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی سنتِ مبارکہ ہے کہ وہ مسلمان کی دعا قبول کرتا ہے چاہے وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہو یا نہ ہو، اور حدیث شریف کی رو سے ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے غائبانہ دعا خاص طور پر جلدی قبول ہوتی ہے،اس لیے ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے خوب دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کے شر سے اور ہر قسم کے فتنہ سے اُن کی اور ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ دوسرا کام:۔۔۔۔۔ اپنی مالی حیثیت کے مطابق مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا دوسرا کام جو ہمیں کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہرایک کو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال سے اپنی حیثیت کے مطابق ان متأثرین کی مدد کرنی چاہیے، اس وقت وہ بیچارے بے کسی کے عالم میں ہیں اور محتاج ہیں، انہیں مدد کی ضرورت ہے اور کسی ضرورت مند مسلمان کی مدد کرنا بہت بڑے ثواب کا کام ہے اور اگر اس میں کوئی اجر وثواب نہ ہوتا تب بھی انسان اور مسلمان ہونے کے ناتے ان کا ہمارے اوپر حق ہے کہ ہم ان کی مدد کریں اور ان کے ساتھ ہمدردی کریں۔ لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے اس حق کی ادائیگی میں بھی ہمارے لیے بے شمار انعامات رکھے ہیں، احادیث طیبہ میں مسلمانوں کی مدد کرنے کے بڑے فضائل آئے ہیں اور بڑا اجر وثواب بیان ہوا ہے، چند احادیث ملاحظہ ہوں: مسلمان کی مدد کرنے کے فضائل سے متعلق احادیثِ طیبہ ۱:۔۔۔۔۔’’المسلم أخو المسلم لایظلمہٗ ولایسلمہٗ ومن کان في حاجۃ أخیہ کان اللّٰہ في حاجتہٖ ومن فرج عن مسلم کربۃ فرج اللّٰہ عنہ کربۃ من کربات یوم القیامۃ ومن ستر مسلما سترہ اللّٰہ یوم القیامۃ۔ ‘‘         (صحیح البخاری،ج: ۱،ص:۲۸۶)  ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر زیادتی کرتا ہے، نہ اس کو اوروں کے سپرد کرتا ہے۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگتا ہے اللہ پاک اس کی ضرورتیں پوری فرماتے ہیں اور جو کوئی کسی مسلمان کی مصیبت دور کرتا ہے اللہ پاک اس سے قیامت کے دن کی مصیبتیں دور فرمائیں گے اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ پاک قیامت کے روز اُس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔‘‘  ۲:۔۔۔۔۔’’عن عائشۃؓ قالت: قال رسولُ اللّٰہ a: من أدخل علی أہل بین من المسلمین سرورا لم یرض اللّٰہ لہٗ ثوابًا دون الجنۃ۔‘‘     (المعجم الصغیر،ج:۲،ص:۱۳۲) ’’ جو شخص کسی مسلمان گھرانے کی مدد کرکے ان کے دکھ درد اور تکلیف ومصیبت کو دور کرکے اُنہیں خوش کردے تو اللہ جل شانہٗ اس شخص کے لیے جنت سے کم ثواب پر راضی نہ ہوںگے۔‘‘ ۳:۔۔۔۔۔’’وعن أنسؓ قال: قال رسول اللّٰہ a: من قضی لأحد من أمتی حاجۃ یرید أن یسرہٗ بہا فقد سرنی ومن سرنی فقد سر اللّٰہ ومن سر اللّٰہ أدخلہ اللّٰہ الجنۃ۔‘‘                                                            (مشکاۃ المصابیح،ج:۳،ص:۸۳) ’’جو شخص میرے کسی اُمتی کی کوئی حاجت اس ارادے سے پوری کرے کہ وہ اُمتی خوش ہوجائے، تو اس آدمی نے مجھے خوش کردیا، اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اور جس نے اللہ جل شانہٗ کو خوش کیا تو اللہ پاک اُسے جنت میں داخل فرمائیںگے۔‘‘ فائدہ: ۔۔۔۔۔معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کی حاجت پوری کرکے اُسے خوش کردینا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول a کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اور پھر اس عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی مصیبتیں دور فرماکر اس آدمی کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ ۴:۔۔۔۔۔’’وعنہ قال: قال رسول اللّٰہ a: یصف أہل النار فیمر بہم الرجل من أہل الجنۃ فیقول الرجل منہم: یا فلان أما تعرفنی؟ أنا الذی سقیتک شربۃ وقال بعضہم: أنا الذی وہبت لک وضوئً  فیشفع لہٗ فیدخلہ الجنۃ۔‘‘  (مشکاۃ المصابیح،ج:۳،ص:۲۱۸) ’’اہل جہنم صف بستہ کھڑے ہوں گے، ایک جنتی ان کے پاس سے گزرے گا، (اُسے دیکھ کر) ایک جہنمی اس سے کہے گا: اے فلاں! کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟ میں نے آپ کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا، ایک دوسرا جہنمی کہے گا: میں نے آپ کو وضو کا پانی دیا تھا، چنانچہ یہ جنتی ان کی سفارش کرکے انہیں جنت میں لے جائے گا۔‘‘ فائدہ:۔۔۔۔۔ دیکھئے! غور فرمایئے! وضو کا پانی دینا اور ایک گھونٹ پانی پلانا کیسا معمولی اور آسان عمل ہے، مگر چونکہ ا س سے مسلمان کی حاجت پوری ہو رہی ہے، اس لیے نجات کا ذریعہ بن گیا، چنانچہ اس عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ بخشش فرمادیںگے اور جنت میں داخل فرمادیںگے۔ ۵:۔۔۔۔۔’’عن أنس:قال رسول اللّٰہ a: من مشی إلٰی حاجۃ أخیہ المسلم کتب اللّٰہ لہٗ بکل خطوۃ یخطوہا حسنۃ إلٰی أن  یرجع من حیث فارقہٗ فإن قضیت حاجتہٗ خرج من ذنوبہٖ کیوم ولدتہ أمہ و إن ہلک فیما بین ذلک دخل الجنۃ بغیر حساب۔‘‘                                                     (مسند ابی یعلی،ج:۵،ص:۱۷۵) ’’جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی کسی حاجت اور ضرورت سے جائے تو حق تعالیٰ ایسے شخص کو ہر قدم پر ستر نیکیاں عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ اسی جگہ واپس لوٹ آئے جہاں سے وہ چلاتھا، پھر اگر اس مسلمان بھائی کی ضرورت اسی کے ذریعہ پوری ہوگئی تو وہ شخص اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جائے گا جیساکہ آج ہی اس کی ماں نے اُسے جنا ہو اور اگر اسی دوران اس کا انتقال ہوجائے تو بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہوگا۔‘‘  ۶:۔۔۔۔۔’’وعن عبد اللّٰہ بن عمرؓ و قال: قال رسول اللّٰہ a: من أطعم أخاہ حتی یشبعہٗ وسقاہ من الماء حتی یرویہٗ باعدہ اللّٰہ من النار سبع خنادق ما بین کل خندقین خمس مائۃ عام۔‘‘                               (مجمع الزوائد،ج:۳،ص:۳۲۰) ’’حضرت عبد اللہ بن عمروr سے مروی ہے کہ نبی کریم a نے ارشاد فرمایا:جو شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلائے یہاں تک کہ وہ سیر ہوجائے، اس کا پیٹ بھر جائے اور پیاسے کو پانی پلائے یہاں تک کہ وہ سیراب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کھلانے پلانے والے کو دوزخ سے سات خندقوں کی مقدار دور فرمادیںگے، ہر دو خندقوں کی درمیانی مسافت پانچ سو سال کے برابر ہوگی (یعنی کل تین ہزار پانچ سو سال کی مسافت کے بقدر جہنم سے دور فرمائیں گے)۔‘‘  ۷:۔۔۔۔۔’’عن بن عباسؓ عن النبی a قال: من مشی فی حاجۃ أخیہ کان خیرا لہٗ من اعتکاف عشر سنین ومن اعتکف یوما ابتغاء وجہ اللّٰہ بینہٗ وبین النار ثلاث خنادق کل خندق أبعد مما بین الخافقین۔‘‘             (المعجم الأوسط،ج:۷،ص:۲۲۰) ’’جو شخص اپنے بھائی کی حاجت میں کوشش کرے تو یہ اس کے لیے دس سال کے اعتکاف سے افضل ہے، اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک دن کا اعتکاف کیا تو حق تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں حائل کردیں گے، جن میں سے ہر خندق (کی وسعت) مشرق ومغرب کی درمیان وسعت سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘  ۸:۔۔۔۔۔’’من أغاث ملہوفا کتب اللّٰہ لہٗ ثلاثا وسبعین مغفرۃً ، واحدۃ فیہا صلاح امرہ کلہ وثنتان وسبعون لہ درجات یوم القیامۃ ۔‘‘      (مشکاۃ المصابیح،ج:۳،ص:۸۳)  ’’جو شخص کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے (یعنی جو کچھ اس کے بس میں ہو وہ اس کے لیے کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تہتر (۷۳) مغفرتیں (اس کے نامۂ اعمال میں) لکھ دیتے ہیں، ان میں سے ایک مغفرت سے آدمی کے سارے کام بن جائیںگے، باقی بہتر (۷۲) مغفرتوں سے قیامت کے روز اس کے درجات میں اضافہ ہوگا۔‘‘ بہرحال ! مذکورہ بالا تمام احادیثِ مبارکہ سے مسلمانوں کی مدد کی کرنے اور حاجت کے وقت ان کے کام آنے کا بڑا اجر وثواب معلوم ہوا، اور یہ وقت ہمارے مسلمانوں کے کام آنے کا ہے، اس لیے دعا بھی کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق جتنا ہوسکے ان کے ساتھ مالی تعاون کریں اور یاد رکھیں کہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے میں جس طرح ان شاء اللہ! مذکورہ بالا فضائل حاصل ہوں گے، اسی طرح صدقہ کا اجر بھی ملے گا اور صدقہ کے بارے میں آنحضرت a نے ایک حدیث میں قسم کھاکر ارشاد فرمایا کہ:’’ اس سے مال میں کمی ہرگز نہیں ہوتی۔‘‘ اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے