بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

بینات

 
 

سفرِترکی کے چند مشاہداتی تأثرات!!


سفرِترکی کے چند مشاہداتی تأثرات!!


۲۲؍نومبر ۲۰۱۷ء بروز بدھ صبح نو بجے قطر ایئرلائن کے ذریعہ ’’ہیومن فاؤنڈیشن‘‘ کے چیئرمین جناب حاجی محمد احمد صاحب کی سرپرستی میں ہم کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے ترکی کے سفر پر روانہ ہوئے۔ ہم کل دس ساتھی تھے، پانچ کراچی سے اور پانچ ساتھی اسلام آباد سے آئے تھے۔ قطر ایئرپورٹ دوحہ میں ہم سب ساتھی اکھٹے ہوگئے اور وہاں سے ترکی کے دار الخلافہ انقرہ کے لیے نیا خوشگوار سفر شروع ہوا، ساڑھے چار گھنٹے فضائی سفر کے بعد ہم انقرہ ائیرپورٹ پر اُترئے، وہاں کے ساتھیوں نے ہمیں وصول کیا اور انقرہ ہی میں رات گزاری۔ انقرہ اگرچہ ترکی کا دار الخلافہ ہے، لیکن یہ زیادہ بڑا شہر نہیں ہے۔
 جناب حاجی محمد احمد صاحب ایک خد اترس انسان ہیں، دنیا کے جس خطہ میں بھی مسلمانوں پر جب کوئی آفت اور مصیبت پڑتی ہے تو ممکنہ حد تک حاجی صاحب ہر قسم کے تعاون اور مدد کے لیے میدان میں آجاتے ہیں۔ سرزمینِ شام کے عرب سنی مسلمانوں پر وہاں کے ظالم حکمران بادشاہ بشار الاسد کے مظالم سے دوچار ہونے والے لاکھوں کی تعداد میں وہاں کے سنی مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے، ترکی کے ساتھ شام کی سرحد لگتی ہے، اس لیے وہاں کے مہاجرین کی ایک بڑی تعداد تقریباً پانچ لاکھ مہاجرین صرف ایک شہر استنبول میں آکر پناہ گزین ہیں اور ترکی کے دیگر شہر بھی بے شمار پناہ گزینوں کی پناہ گاہ ہیں۔ ترکی کے بالکل قریب شام کی اپنی سرحد جو بشار الاسد کے ظلم کے پنجوں سے نسبتاً محفوظ ہے، اس میں ہزاروں خیموں کا شہر آباد ہے جس میں لاکھوں بے بس مسلمان بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، میں نے دیکھا تو تا حد نگاہ خیمے ہی خیمے نظرآرہے تھے، ساتھیوں نے بتایا کہ ان خیمہ بستیوں میں (۷۰) ستر لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔ ’’ہیومن فاؤنڈیشن‘‘ کے چیئرمین جناب محمد احمد صاحب زیادہ تر کنٹینروں کے ذریعہ سے ان مہاجرین تک غذائی اجناس پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، بڑے باہمت آدمی ہیں، انہوں نے جانے والے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ترکی کا ٹکٹ آپ لوگ خود کریں، باقی وہاں رہنے سہنے اور کھانے پینے کا انتظام میں کروںگا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے، ان کی وجہ سے ہمیں ترکی کے مقدس مقامات دیکھنے کا موقع بھی ملا اور شام کے مجبور مہاجرین سے ملاقات اور ہمدردی کا جذبہ بھی ملا۔ بہرحال ہم انقرہ سے بذریعہ جہاز ترکی کے دوسرے بڑے شہر ’’عُرفہ‘‘ کے لیے روانہ ہوگئے، یہاں ہم نے ایک دن اور ایک رات گزاری اور چند خاص مقامات کی زیارت کی، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
۱:۔۔۔۔۔سیدنا حضرت ایوب علیہ السلام کا وہ چشمہ ’’عرفہ‘‘ کے علاقے میں ہے جس چشمہ سے حضرت ایوب علیہ السلام نے غسل کیا اور بیماری سے شفایاب ہوگئے، یہاں آپ کے نام پر مسجد ہے اور ایک جگہ پانی ہے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ یہ پانی اسی چشمہ سے آتا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح کیا ہے:
 ’’أُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌوَّشَرَابٌ۔‘‘ (ص:۴۲)
ترجمہ:’’اپنے پاؤں سے زمین کو مارو یہ ٹھنڈا پانی ہے جس سے غسل کرو اورپانی پی لو۔‘‘
۲:۔۔۔۔۔عُرفہ کے علاقہ میں دوسرابڑا تاریخی مقام آتشِ نمرود ہے، جس میں نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعہ سے بڑی آگ میں پھینکا تھا اور آگ کو اللہ تعالیٰ نے گل وگلزار بنادیا تھا، یہ ایک پہاڑی ہے جس پر دو بڑے ستون آمنے سامنے کھڑے ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں ستونوں کے ساتھ وہ جھولا باندھا گیا تھا جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بٹھا کر پھینکا گیا تھا، نیچے ایک وادی نما علاقہ ہے، اب وہاں پر ایک بڑی نہر بہہ رہی ہے جس میں لاکھوں مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی نظر آرہی ہیں، اس پہاڑی پر ایک پرانا ویران قلعہ نظر آتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ یہ نمرود کا قلعہ تھا، عرفہ سے ’’کلس‘‘ جاتے ہوئے رات کے وقت دیر تک ہم دریائے فرات کے کنارے محوسفر رہے، کاش! ہم نے دریائے فرات کو دن کے وقت دیکھاہوتا، یہی دریائے فرات بغداد کے پاس سے بھی گزرتا ہے۔
 ترکی، عراق اور شام آپس میں پڑوسی ممالک ہیں، ایسا لگتا ہے کہ خلافت عثمانیہ کے وقت عراق اور شام کے کئی علاقے ترکی کے اندر آگئے ہیں، اسی لیے یہ تاریخی مقامات اب ترکی میں شامل ہوگئے ہیں، انہی علاقوں میں آج کل ’’انطاکیہ‘‘ آگیا ہے، انطاکیہ میں حبیب النجار شہید کی قبر بھی ہے، (جن کا سورۂ یٰسین میں ذکر ہے) یہ زمین سے کافی نیچے ایک غار میں ہے، ان کے ساتھی بھی وہیں پر ہیں، حبیب نجار کی قبر ایک دیوار کے ساتھ پیوست ہے، قبر بالکل نمایاں نظر آتی ہے، قرآن عظیم کی سورت یسین میں اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے تین ساتھیوں کا قصہ بیان فرمایاہے اور ان کی شہادت کا واقعہ بھی بیان کیاہے، ان قبروں سے ہمیں قرآن عظیم کی صداقت کا عین الیقین حاصل ہوگیا۔
 ہم نے ’’کلس‘‘ اور ’’ریحان لی‘‘ میں ایک دن اور ایک رات گزاردی اور وہاں سے بذریعہ جہاز ہم استنبول کے لیے روانہ ہوگئے۔ عرفہ ، انقرہ اور ریحان لی میں ہم نے شام کے بے بس مہاجرین کو بھی دیکھا اور ان کے کیمپ اور خیمہ بستیاں بھی دیکھیں اور ان کی بے بسی اور بے کسی کا مشاہدہ بھی کیا ، ہزاروں یتیم بچے ان گھروں میں آباد ہیں، ایک گھر میںہم نے دو ایسے بچے دیکھے جو عمر میں چھ چھ سال کے ہوں گے، جن کے جسم کے اعضاء بشار الاسد کی ظالم افواج کی کیمیکل بمباری سے شل ہوچکے تھے، ایک بچہ دیکھ رہا تھا، لیکن بول نہیں سکتا تھا، ان کے بازو اور انگلیاں ٹیڑھی ہوچکی تھیں، میں نے ایک بچے کے منہ میں ٹافی رکھی، لیکن وہ ٹافی کے چبانے اور چوسنے پر قادر نہیں تھا، دوسرا بچہ بھی بے بس پڑا ہوا تھا، ان کے قریب چند عورتیں تھیں جو اپنے گھروں اور شوہروں سے محروم تھیں، میں نے عربی میں ان کی تسلی کے لیے تھوڑا سا بیان بھی کیا، نہ معلوم بشار الاسد ظالم کے ظلم کا شکار ان عورتوں نے کچھ سنا اور سمجھا بھی یا وہ کسی کے سمجھنے سمجھانے سے عاجز تھیں۔
 ان بے بس شامی مہاجرین کو ترکی حکومت نے خوب سنبھالاہے، ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے سکولوں کا انتظام بھی کیا ہے اور علماء نے دینی مدارس کا اہتمام بھی کیا ہے، لیکن یہ سب انتظامات ناکافی ہیں، خوراک کا معاملہ بھی بڑا پیچیدہ ہے، کیونکہ شام کے مہاجرین صرف ترکی میں لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں اور ترکی سرحد پر خیمہ بستی کا ایک بڑا شہر آباد ہے۔ احباب نے بتایا کہ ان خیموں میں ستر لاکھ سے زیادہ مہاجرین بے یارو مددگار زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان کے الخبیب فاؤنڈیشن کا وہاں بہت بڑا کام جاری ہے، آئی ایچ ایچ کی ماتحتی میںبہت بڑا کام ہورہا ہے، یہ ترکی کا اپنا امدادی ادارہ ہے۔ ہم نے کئی کیمپ ایسے دیکھے ہیں جن پر پاکستان کا جھنڈا نمایاں طور پرلہرا رہا تھا، جناب حاجی محمد احمد صاحب بھی مسلسل چاولوں کے کنٹینران مہاجرین کے لیے پاکستان سے روانہ کررہے ہیں اور دیگر اجناس بھی بھیج رہے ہیں،مولانا مفتی ابولبابہ صاحب بھی ان مہاجرین میں بڑا کام کررہے ہیں، مولانا عبد الستار صاحب کے کام کا بھی وہاں پر چرچا ہم نے سنا ہے۔
 چند ماہ قبل جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ناظم تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ صاحب اور مولانا عاصم زکی صاحب نے بھی نقد کی صورت میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی طرف سے ایک خطیر رقم ان مہاجرین تک پہنچائی ہے۔ خبیب فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر روٹیوں کا بڑا پلانٹ لگایاہے جس میں روزانہ ایک لاکھ اسی ہزار روٹیاں تیار کی جاتی ہیں، اس کے قریب دیگر اجناس اور کپڑوں کا بڑا گودام ہے جو ان مہاجرین کے لیے ہے، ہاں! اس پر افسوس ہے کہ ہم نے حکومت پاکستان کی طرف سے امداد کی کوئی ظاہری شکل نہیں دیکھی، ممکن ہے اندر اندر سے حکومت پاکستان کچھ کررہی ہوگی۔ عرب ممالک پر بھی افسوس ہوتا ہے کہ قطر کے علاوہ عرب ممالک اپنے ان بے بس عرب بھائیوں کی مدد میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں، ممکن ہے کسی نہ کسی جانب سے وہ امداد لے جا رہے ہوں گے، مجھے بین الاقوامی ادارہ یو این او سے بھی شکایت ہے کہ اس نے ان شامی مہاجرین کے لیے کچھ نہ کیا، حالانکہ وہ قانونی طور پر مدد کا پابند ہے۔ میں اپنی اس تحریر کے ذریعہ سے حکومت پاکستان کے ہر ادارے اور ملک کی تمام سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان شامی مہاجرین کی بھر پور انداز سے مدد کریں، یہ مہاجرین زکوۃ اور صدقات کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پاکستان کی مساجد کے ائمہ اور خطباء پر اسلامی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان مہاجرین کی مدد کے لیے اپنی مساجد اور سوسائیٹیوں کے ذریعہ بھرپور تعاون کی ترتیب بنائیں۔
 ترکی کے بڑے شہر استنبول میں ہم نے چار دن گزارے، ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ قریب میں سلطان محمد فاتح کی مسجد میں ہم نماز پڑھتے تھے۔ استنبول کے اہم مقامات سے ایک مقام تو حضرت ابوایوب انصاری ؓ کی قبر مبارک ہے، ایک بہت بڑے درخت کے نیچے یہ قبر واقع ہے، قبر کے نشانات نہیں ہیں، صرف ایک ہموار زمین ہے‘ جس میں قبر ہے، آپ کے دیگر ساتھی بھی وہاں مدفون ہیں، ان کی بنی ہوئی قبریں ہیں، لوگوں کا بہت ہجوم اور رش لگا رہتا ہے۔ استنبول میں قیام کے دوران ہم پینورامہ میوزیم دیکھنے کے لیے بھی گئے، اس میوزیم میں داخل ہونے پر ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے، اس میوزیم کا ٹکٹ ترکی کے پندرہ لیرامیں ملتا ہے، اگر ایک لیرا کی قیمت پاکستانی تیس روپے لگائی جائے تو یہ ٹکٹ ساڑھے چار سو روپے کا ہوجاتاہے۔
 پینورامہ کے اس میوزیم میں سلطان محمد فاتح کی جنگوں کا وہ نقشہ ہے جس کا تعلق دیکھنے سے ہے، اس کو تحریر میں لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، یہ جنگی منظرنامہ مجسموں اور تصویروں کی مدد سے پیش کیا گیاہے، جس کی شرعی وفقہی حیثیت اپنی جگہ بے غبار ہے،یہاں تعارفی تاریخ کے طورپر بطور حکایت نقل کرتے ہیں، اس میوزیم میں ایک طرف سلطان محمد فاتح کی فوج دیوہیکل گھوڑوں پر سوار ہے، خود سلطان فاتح ایک عظیم الشان سفید گھوڑے پر سوار ہیں، سرخ رنگ کا بڑا جبہ زیب تن کیا ہوا ہے اور بڑی سفید گول پگڑی سر پر ہے، کھلے میدان میں مجاہدین کے بیچ میں گھوڑے کو نصاریٰ کی طرف موڑ رہے ہیں، ان کی فوج بھی گھوڑوں پر سوار ہے، سامنے بہت بڑی اونچی فصیل اور دیوار ہے جو نصاری کے بڑے گرجے کے ارد گرد بنائی گئی ہے، اندر بہت بڑا گرجا ہے جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا گرجا تھا، دوسرا گرجا روم میں تھا۔ دنیا میں عیسائیوں کے یہی دو گرجے مرکزی حیثیت رکھتے تھے اور عیسائی مذہب اسی پر قائم تھا، اس گرجے کی فصیل کئی میلوں پر پھیلی ہوئی ہے، فصیل پر چڑھنے کے لیے مسلمان مجاہدین سیڑھی کے ذریعہ سے چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اوپر سے عیسائی تیر برساتے ہیں، مسلمان شہید ہوجاتے ہیں، لیکن پیچھے نہیں ہٹتے ہیں، ان کے گھوڑے جس طرح دیوہیکل جسم والے ہیں، اسی طرح یہ مجاہدین بھی بڑے بڑے قدوقامت کے مالک ہیں، پیدل فوج بھی پیچھے قطار میں ہزاروں کی تعداد میں تیار کھڑی دکھائی گئی ہے، سب کی بڑی بڑی پگڑیاں ہیں، توپ کے گولے اتنے موٹے موٹے ہیں کہ دونوں ہاتھوں کا دائرہ بناکر بھی اُن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، وہاں اس قدیم زمانے کی اصلی توپ بھی موجود ہے اور اصلی گولے بھی موجود ہیں، جب آدمی وہاں کھڑا ہوکر جنگ کا نقشہ دیکھتا ہے تو جنگ کے موقع کا خیال گزرنے لگتا ہے، گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں آتی ہیں اور توپ کے گولے چھوڑنے اور آگ پھینکنے کا پورا نظارہ سامنے ہوتا ہے، قلعہ کی فصیل پر جب توپ سے بارود کا گولہ جاگرتا ہے تو قلعہ کا ایک حصہ ٹوٹ جاتاہے، فصیل کے اوپر عیسائی کھڑے ہیں اور لمبے لمبے تیروں سے مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں، ایک مسلمان شہید کے سینہ میں تیر ایسا پیوست نظر آتا ہے جو بالکل سیدھا کھڑا ہے اور مسلمان شہید پڑا ہے، بے شمار مسلمان شہید پڑے ہوئے ہیں اور ان سے تازہ تازہ خون بہہ رہا ہے، مجاہدین اپنے زخمی ساتھیوں کو کندھوں پر اٹھاکر محفوظ مقام کی طرف لے جاتے ہیں اور خون سے لت پت ہوجاتے ہیں، وہاں میدان میں گھوڑے بھی زمین پر مرے ہوئے پڑے ہیں، اکثر تیروں سے زخمی ہیں اور آگ سے جلے ہوئے ہیں۔ بہرحال یہ عظیم جہاد کا ایسا منظر ہے کہ اگر مسلمان اس کو دیکھے تو جذبۂ جہاد سے دیوانہ ہوجائے گا اور اگرکافر دیکھے تو مسلمان ہوجائے گا۔
استنبول میں ہم نے شیخ محمود آفندی سے ان کے مکان پر ملاقات کی، وہ خود کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے مگر ضعف زدہ تھے، ترکی میں شیخ محمود آفندی ایک دینی سائبان کا درجہ رکھتے ہیں، ان کے مرید شریعت کے پابند ہیں اور لاکھوں میں ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے مرید عمدہ سفید عماموں اور لمبی قمیصوں میں ملبوس تھے، شیخ محمود آفندی نے تصوف اور اصلاحی مواعظ پر کئی کتابیں بھی لکھی ہیں، چند کتابیں ہمیں بھی بطور ہدیہ پیش کیں، پھر ہم نے ان کے قریب ایک دوسرے مقام پر شیخ محمد عوامہ سے ملاقات کی، کافی تفصیلی گفتگو ہوئی، یہ ایک بڑے علمی آدمی ہیں، بیس سال تک مدینہ منورہ میں رہے ہیں اور پھر شام چلے گئے، اصل میں یہ حلب کے باشندے ہیں، مگر شام کے برے احوال کی وجہ سے وہاں سے ہجرت کی اور یہاں ترکی میں آباد ہوگئے۔ یہ عبد الفتاح ابوغدہ کے شاگردوں میں سے ہیں، انہوں نے اپنی مجلس میں شیخ زاہد الکوثری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ کیا اور محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے عطیہ میں مجھے اپنی کتابیں دیں اوربہت محبت کا اظہارکیا۔
استنبول میں مجمع البحرین کے مقام پر ایک پہاڑی کے اوپر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قبر ہے، ہم نے جب وہاں حاضری دی تو بہت لمبی قبر نظر آئی، اگرچہ ہموار زمین میں قبر کے نشانات نہیں تھے، مگر یہ نظر آرہا تھا کہ قبر بیت اللہ کی سمت میں نہیں تھی، مجھے ابتداء میں شک ہوا کہ اتنی لمبی قبرکیسی ہے تو ایک صاحب نے کہا کہ ان لوگوں کی عادت تھی کہ نبی کی قبر بہت لمبی بنایاکرتے تھے۔ پھر میں نے اشکال ظاہر کیا کہ یہ قبر قبلہ رخ کیوں نہیں ہے؟ تو بتانے والے واقف کار آدمی نے کہا کہ یہ بیت المقدس کی طرف ہے، تب مجھے یقین آگیا کہ یہی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قبر ہے، پھر میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع بن نون صلی اللہ علیہ وسلم تو مجمع البحرین میں آئے تھے، یہاں مجمع البحرین کہاں ہے؟ تو ایک ساتھی مجھے کچھ آگے کی طرف لے گیا اور کہا: وہ سامنے دیکھیں! مجمع البحرین ہے، ایک طرف سے بحر اسود آرہا ہے اور دوسری طرف سے بحر مرمرہ آرہا ہے، دونوں کے ملنے کا یہ وسیع سمندر مجمع البحرین کہلاتا ہے، یہ مشاہدہ اس لحاظ سے فرحت بخش تھا کہ اس کی بدولت قرآن کریم کے ایک مضمون کا ظاہری مصداق سمجھنے میں مدد ملی۔ مجمع البحرین کا تذکرہ قرآن کریم میں سورۂ کہف میں موجود ہے، میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ حاضری کے لیے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قبر پر آیا اور خوب دعائیںکیں۔
 استنبول میں ہم نے اس پہاڑ کو بھی دیکھا جس پر سلطان محمد فاتح رحمۃ اللہ علیہ نے خشکی میں کشتیاں چلائیں، قصہ اس طرح ہوا کہ استنبول میں عیسائیوں کے بڑے گرجے کے بڑے حصے کے ارد گرد سمندر ہے، عیسائیوں نے سمندر میں بڑی بڑی زنجیریں باندھ لیں، تاکہ سلطان محمد فاتح سمندر کی طرف سے کشتیاں ڈال کر حملہ نہ کرسکے۔ عیسائیوں نے خشکی کی طرف سے پہرہ دینا شروع کردیا اور پہاڑ کی طرف سے سمندر میں کشتیاں آنے کا امکان نہیں تھا، اس لیے عیسائی اس طرف سے مطمئن تھے، سلطان محمد فاتح ؒکے مجاہدین نے تختے بچھاکر پہلے پہاڑ کی عقبی جانب سے کشتیاں اوپر پہاڑ تک پہنچادیں اور پھر سمندر کی جانب تختے بچھاکر اس پر پھسلنے والا مادہ لگادیا اور ایک دن میں تقریباً نو ے کشتیاں سمندر میں اُتاردیں اور سمندر کو عبور کیا اور عیسائیوں کے قلعے اور گرجے کے سامنے آکھڑے ہوگئے، عیسائیوں کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ اس طرف سے بھی کوئی حملہ کرسکتا ہے۔
 اب جنگ کا وہی نقشہ قائم ہوگیا جس کا تذکرہ میں نے اس سے پہلے پینورامہ میوزیم کے تحت کیا ہے۔ آج کل اس پہاڑ کے کنارے پر بڑی سڑک گزرتی ہے جس پر مسلسل گاڑیاں رواں دواں ہیں اور دوسری طرف سمندر ہے، ایک عجیب منظر ہے جو جاذب نظر ہے۔

سلطان محمد فاتح  کون تھے؟

سلطان محمد فاتح ۱۴۳۲ عیسوی میں پیدا ہوئے تھے اور ۱۴۸۱ عیسوی میں زہر خورانی سے شہید کردیئے گئے۔ ترکی کے ہر شہر اور پوری مملکت میں سب سے زیادہ روشن نام سلطان محمد فاتح کا ہے۔ عوام الناس میں اتنے مقبول ہیں کہ دکانوں، فیکٹریوں، مساجد اور پارکوں کے نام فاتح کے نام سے رکھے ہوئے ہیں۔ خرید وفروخت کی چھوٹی بڑی اشیاء پر فاتح نام بطور یادگار نظر آتا ہے، سلطان محمد فاتح کے تعارف کا اجمالی خلاصہ یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے شاندار ماضی اور تابناک تاریخ میں تقریباً ۳۶ مشہور بادشاہ اور سلاطین گزرے ہیں، سب نے بھرپور جہاد کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں اور تقریباً آدھی دنیا کو فتح کیا تھا، ان میں سلطان محمد فاتح سب سے زیادہ مشہور اور نمایاں گزرے ہیں، جن کو سرکاری اعزاز کے ساتھ فاتح کا لقب ملا ہے۔
 خلافتِ عثمانیہ کے ۳۶ سلاطین میں سلطان محمد فاتح ساتویں نمبر کے سلطان اورخلیفہ گزرے ہیں، یہ سلطان مراد خان الثانی کے بیٹے ہیں، یہ نابغۂ روزگار سلطان ۱۴۳۱ عیسوی میں پیدا ہوئے تھے، گویا سلطان محمد خان فاتح آج سے تقریباً سوا چھ سو سال پہلے گزرے ہیں، ۱۴۵۱ عیسوی میں یہ ترکی کے تخت خلافت پر تخت نشین ہوگئے تھے اور ۱۴۸۱ عیسوی تک تقریباً ۳۰ سال تک حکومت کی، ان کی پوری زندگی جہاد میں گزری ہے، گھمسان کی جنگوں میں صف اول میں رہتے تھے، ہمیشہ اپنے سفید گھوڑے پر میدان جنگ میں تلوار لہراتے ہوئے نظر آتے تھے، تخت نشین ہوتے ہی انہوں نے ’’قارمان‘‘ پر حملہ کرکے اسے فتح کیا، پھر دوسرے سال میں انہوں نے مشہور قلعہ اناضول کو فتح کیا اور پھر قلعہ رومیلی کا محاصرہ کیا اور بیز نطینی بادشاہت کے خلاف اعلان جہاد کیا، تیسرے سال میں سلطان محمد خان فاتح نے بیزنطینیہ کے مشہور قلعہ اور پایۂ تخت کی طرف پیش قدمی کی اور استنبول کے اطراف کا ہرطرف سے محاصرہ کیا اور سارے بری اور بحری راستے بند کردیئے۔
اسی سال یعنی ۱۴۵۳ عیسوی میں سلطان محمد فاتح نے خشکی پر کشتیاں چلا کر پہاڑ کی اونچائی سے نہایت حکمت کے ساتھ ایک دن میں تقریباً نوے کشتیاں سمندر میں اتاردیں اور اسی سال میں سمندر پار کیا اور آگے ایک خلیج پر آکر مورچے سنبھال لیے، اسی سال ۲۹ مئی ۱۴۵۳ عیسوی میں صبح کے وقت عیسائیوں سے گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے استنبول فتح ہوگیا اور سلطان محمد فاتح استنبول میں فاتحانہ انداز سے داخل ہوگئے، بیزنطینی حکومت ختم ہوگئی اور عیسائیوں کا مشہور گرجا ’’آیاصوفیہ‘‘ مسلمانوں کے ہاتھوں میں آگیا، سلطان محمد فاتح نے اس کومسجد میں تبدیل کیا اور استنبول کو خلافت عثمانیہ کا دار الخلافہ قرار دیا، ’’آیا صوفیہ گرجا‘‘ آج بھی ترکی میوزیم کے پاس موجود ہے، چوتھے سال میں سلطان محمد فاتح نے آس پاس کی ریاستوں سے صلح کے معاہدے کیے اور ’’سربیا‘‘ کی طرف جنگ کے لیے روانہ ہوگئے، سلطان محمد فاتح نے ۱۴۶۱ عیسوی میں البانیہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا اور آگے بڑھ کر ’’طرابزون‘‘ اور ’’اماستر‘‘ پر شدید حملہ کیا اور وہاں کے بادشاہ اوزن حسن کو شکست دے دی، طرابزون کے فتح کرنے سے رومی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا، ۱۴۶۶ عیسوی میں البانیہ نے معاہدہ توڑا تو سلطان فاتح نے پلٹ کر البانیہ پر حملہ کردیا اور کئی قلعے فتح کرکے ’’قونیہ‘‘ پر قبضہ کرلیا، ۱۴۸۰ عیسوی میں سلطان محمد فاتح نے ’’اوترانتو‘‘ پر حملہ کردیا اور ’’اودس‘‘ قلعہ کا محاصرہ کیا، ۱۴۸۱ عیسوی میں عصر کے وقت سلطان محمد فاتح کو کسی کافر یا منافق نے زہر کھلادی اور یہ عظیم مجاہد اُننچاس سال کی عمر میں شہید ہوگئے، استنبول میں مسجد فاتح کے پاس سلطان محمد فاتح کی قبر ہے، اس طرح اسلام کے یہ عظیم غازی اور مجاہد تیس سالہ حکومت وخلافت کے بعد اللہ تعالیٰ کے جوار رحمت میں چلے گئے۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

 (بحوالہ السلاطین العثمانیون)

ترکی کے موجودہ حکمران طیب اردگان

ہم نے ترکی میں آج کل طیب اردگان کی مقبولیت کا ایک عجیب منظر دیکھا۔ استنبول میں ہم اپنی گاڑی میں بیٹھے ہوئے روڈ پر سفر کررہے تھے کہ سامنے ایک ٹیکسی جارہی تھی‘ جس کے پچھلے شیشے پر ترکی میں کچھ لکھا ہوا تھا اور ایک نوجوان کی تصویر بھی لگی ہوئی تھی، ہماری گاڑی چلانے والا تیس سال سے ترکی میں قیام پذیر ہے، اس نے کہا کہ: اس ٹیکسی پر لکھا ہوا ہے کہ اس شخص کے خاندان کا کوئی بھی مرد یا عورت اگر اس ٹیکسی میں سفر کرے گا تو ان سے کرایہ نہیں لیا جائے گا۔
 ہمارے ساتھی نے بتایا کہ یہ لڑکا ایک عام فوجی تھا، طیب اردگان کے خلاف فتح اللہ گولن نے امریکہ کی مدد سے جو بغاوت کی تھی، اس میں اس لڑکے کو اس فوجی استاذ نے فون پر کہا کہ: فوج کا دستہ لے کر ایک فوجی کرنل ایئرپورٹ پر قبضہ کے لیے آرہا ہے، اگر تم میرے شاگرد ہو تو تم پر میرا حق ہے کہ اس فوجی افسر کو ماردو، اس نے اس فوجی کرنل کو مارا تو بغاوت ناکام ہوگئی، لیکن مقتول کرنل کے ساتھیوں نے اس فوجی لڑکے کو بھی مارکر شہید کردیا۔ اس ٹیکسی والے نے اس لڑکے سے محبت کی بنیاد پر اُس کے خاندان کو مفت سفر کی سہولت دینے کو اپنے لیے اعزاز سمجھا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترکی کے عوام طیب اردگان سے کتنی محبت رکھتے ہیں۔ یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے، یہ استنبول میں قاپ طوپی کے مشہور میوزیم کے علاوہ مشاہدات ہیں۔ قاپ طوپی کے مقدسات سے متعلق ان شاء اللہ! اس مضمون کے علاوہ کسی اور مضمون میں تحریر کروں گا ،اللہ تعالیٰ اس کے لکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین! 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے