بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

بینات

 
 

سعودی حکومت اور اُمتِ مسلمہ میں اعتمادکی ضرورت! (پہلی قسط)

سعودی حکومت اور اُمتِ مسلمہ میں اعتمادکی ضرورت!                               (پہلی قسط)

اس وقت اُمتِ مسلمہ جس زبوں حالی اور انتشار و خلفشار کا شکار ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اُمتِ مسلمہ کی فکری ، سیاسی اور بین الممالک شیرازہ بندی کے لیے انفراد ی اور اجتماعی کوششیں کی جائیں، عوامی اور حکومتی سطح پر اس نیک مقصد کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ان تمام امور اور اقدامات سے دور رہاجائے جو اُمتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق پر منفی اثرات مرتب کرتے ہوں، اس وقت کفر یہ طاقتوں اور ان کے خفیہ و علانیہ پروگراموں سے اُمت کے بچاؤ کے لیے آپس کے اصولی اور فروعی تنازعات سے بالاتر ہوکر سوچنے اورقدم اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ اب وہ وقت آچکا ہے کہ اُمتِ مسلمہ کے تمام گروہ مشترکات و مسلمات کے فارمولوں پر اپنی توانائیاں یکجا کرنے کی کوشش کریں اور اغیار کو کسی بھی طریقے سے اپنے درمیان فتنہ اندازی کے مواقع فراہم نہ کریں، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپس کے اختلافات اپنے حلقوں تک محدود رہیں، کامل یاناقص ہونے کا باہمی قضیہ بڑی عدالت کے لیے چھوڑدیں، جس اخروی فیصلہ کے لیے ہم دنیامیں لپک رہے ہیں اس فیصلے نے ہمارا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ہے، مگر ملتِ کا فرہ ہمیں پھر بھی ایک ہی (مسلم قوم) سمجھ کر اپنا حریف اور مجرم ثابت کررہی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے طاغوتی قوتوں کے سامنے بھرپور وحدت کا مظاہرہ کریں۔ دینِ اسلام میں ایسی کئی بنیادیں موجود ہیں جو اَب بھی ہماری وحدت کابیّن ثبوت ہیں، جیسے حرمین شریفین اور وہاں کے مناسک اور اعمال کے لیے خطوں اور علاقوں کی تمیز کے بغیر، رنگ و نسل کے امتیاز سے بالاتر اور فرقہ و مسلک کی شناخت سے بے نیاز ہوکر سب ’’لبیک أللّٰہم لبیک‘‘کی صدائیں بلند کیے جارہے ہوتے ہیں، حرمین شریفین وہ نکتۂ وحدت ہے جس کی خاطر، جس کے نام پر پوری اُمتِ مسلمہ ہمہ وقت متحد ہونے کے لیے تیاررہتی ہے۔ ماضی بعیداور قریب کے چند نامناسب واقعات کے حوالے سے اُمتِ مسلمہ کا ردِ عمل محتاجِ بیاں نہیں ہے۔ حرمین شریفین کے تحفظ، تقدس اور دفاع کے حوالے سے پاکستان سمیت پوری اسلامی دنیا ایک پلیٹ فارم پر متحد نظر آتی ہے۔ حرمین شریفین کے ساتھ احترام و تقدس کے انہی جذبات کی وجہ سے حرمین شریفین کی خادم حکومت، سعودی عرب کے لیے اُمتِ مسلمہ انتہائی احترام و عقیدت کے جذبات رکھتی ہے اور سعودی حکومت کے بعض سیاسی مسائل کو بھی اُمتِ مسلمہ دینی معاملہ سمجھ کر ردِ عمل دیتی ہے۔  ہمارا حسن ظن ہے کہ سعودی حکومت اور پاکستانی حکومت کے درمیان برادرانہ مراسم کو کوئی چیز متاثر نہیں کرسکتی، اسی طرح ہمہ وقت گہرے مسلسل روابط کی وجہ سے پاکستانی قوم کے سعودی عرب کے بارے میں جذبات بھی کسی ایمیگریشن میں سنسر نہیں ہوسکتے، سعودی حکومت بھی پاکستان کے عوام و خواص کے بارے میں کسی غلط فہمی کی بجائے اعلیٰ درجہ کے حسن ظن کی حامل ہوگی ۔ مگر ایک عرصہ سے سعودی حکومت کی چھتری کے نیچے بعض انتظامی و فقہی معاملات ایسے رونما ہونا شروع ہوگئے ہیں جو کسی منظم منصوبے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں یا سعودی حکومت کی لاعلمی میں سعودی حکومت کے خلاف یہ سازش ہورہی ہے کہ اُمتِ مسلمہ سعودی حکومت سے دور اور بدظن ہوجائے ، اور سعودیہ حکومت اور اُمتِ مسلمہ کے درمیان اعتماد کی فضا ختم ہوجائے، اس لیے دینی خیر خواہی اور سعودیہ عربیہ سے برادرانہ اُخوت کے پیش نظرایسے چندامورکی نشاندہی وقت کی ضرورت ہے اور سعودیہ کے بہی خواہوں کے توسط سے ان کی خدمت میں پیش کرناچاہتے ہیں : جدہ ایئرپورٹ پرنامناسب رویہ! سعودی حکومت کے بعض انتظامی اور دینی امور میں کچھ غیر ذمہ دار لوگ ایسے ہیں جو حکومت سعودیہ کے تنخواہ دار اور نمک خوار ہونے کے باوجود اُمتِ مسلمہ بالخصوص پاکستانی قوم اور سعودیہ کے درمیان دوری، بداعتمادی، اور بدگمانی کا باعث بن رہے ہیں، مثال کے طور پر جو زائرین کرام جدّہ ایئر پورٹ پر اُترتے ہیں یا وہاں سے واپس آرہے ہوتے ہیں ان کے ساتھ ایئر پور ٹ کے عملے کا رویہ انتہائی نامناسب ہوتا ہے، جسے بجاطور پر بالکل غیر انسانی اور غیر اخلاقی کہا جاتا ہے، جدہ ایئرپورٹ پہنچنے تک حرمین شریفین اور وہاں کی انتظامیہ کے لیے اپنائیت اور عقیدت کے جو جذبات ہوتے ہیں ان کا استقبال بدترین اجنبیت سے کیا جاتا ہے، وہاں بوڑھے، عورتیں اور بچے احرام کی حالت میں ایمیگریشن کی لائن میں کھڑے رہتے ہیں، جبکہ سامنے کاؤنٹر پر کوئی کارکن یا تو موجود نہیں ہوتا، اگر موجود ہوتا ہے تو وہ کارکن لائن کو کھڑی اور کاؤنٹر کو خالی چھوڑ کر کہیں بھی چلاجائے وہ اپنے فیصلہ میں ’’بادشاہ‘‘ مطلق کا عملی مظاہرہ کررہا ہوتا ہے اور یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک کارکن اگر کچھ کام کررہا ہے تو ادھر سے کوئی اور ’’شیخ‘‘ آدھمکے گا اور گالوں سے گالیں چپکانے کی رسم اطمینان سے اداکرنے کے بعد جب تک چاہیں تبادلۂ خیال فرماتے رہیں گے یا بڑے بڑے موبائلوں کے اندرونی مواد کے مشاہدہ و مبادلہ کے کارِ خیر میں مگن رہیں گے اور ادھر حاجی صاحبان اور معتمرین حضرات مجرموں کی طرح مہر بلب ساکت کھڑے رہیں گے، وہاں بول چال، اعتراض و اشکال یا گزارش و فرمائش کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، ورنہ شاہانِ جدہ کی مزاج شکنی کی جنایت کبریٰ کے نتیجے میں ’’خروج نہائی ‘‘کے ساتھ واپس بھی ہوسکتے ہیں ، کیوں کہ جدہ ایئرپورٹ کا قانون لال رومال کے پلو اور پیلے بیج کے پین کے ساتھ ہی بندھا ہوا ہے۔ لاعلمی، زبان سے ناواقفیت کی بنا پر معمولی غلطی یاسامان کی معمولی زیادتی کی پاداش میں حجاج کرام کی وہ تکریم کی جاتی ہے جس کی دنیا میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی، ہاں! ممکن ہے ہمارے بعض لوکل بس اڈوں پر اس طرح ہوتا ہو میں اس کی نفی نہیں کرسکتا۔ باقی دنیا کے کسی ایئرپورٹ کے عملے کا مسافروں کے ساتھ وہ رویہ ہرگز نہیں ہوسکتا جو جدّہ ایئرپورٹ پر ہوتا ہے ۔ البتہ سامان کی کمی بیشی کی وجہ سے پریشان ہونے والے حاجی صاحبان اگر سفر حج وعمرہ کے باقی ماندہ کھلے ’’ریالوں ‘‘کاایک ’’شرعی تعویذ ‘‘خنصروبنصر کے درمیان رکھ کروہاں خدمت کے لیے موجود بنگلہ دیشی زعماء کے وسیلے سے استدعاکریں تو بعض لوگوں کے بقول ایسا حاجی جدہ ایئرپورٹ کے ’’آسیبی‘‘ اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ ان گزارشات کا مقصد جدہ ایئرپورٹ پر کام کرنے والے بھائیوں کی برائی یا شکایت نہیں ہے، ہمیں ان سے شکایت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ہم ان کے نہیں حرمین کے مہمان ہیں، ان سے ازراہ ِ مجبوری سرِ راہ وقتی سابقہ پڑتاہے اور پڑا رہ جاتا ہے۔ باقی سعودی حکومت سے ان کے خلاف شکایت کرنا بھی مقصود نہیں، ہم ان بھائیوں کو معذورقراردیتے ہوئے فقط یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ان بھائیوں کی ذاتی بھلائی اور سعودی حکومت کی انتظامی ضرورت کے لیے جدہ ایئرپورٹ کے عملے کی تربیت کی ضرورت ہے، سچ بات یہ ہے جدہ ایئر پورٹ کا عملہ قطعی پروفیشنل نہیں ہے، اس لیے انہیں کہیں اور نہ سہی کم از کم کراچی ایئر پورٹ پر ٹریننگ کے لیے بھیجنا چاہیے، اگر ایسا ہوجائے تو امید ہے کہ حرمین جاتے ہوئے ہمیں جس قدر احترام والے رویہ کی آرزو گھلائے جارہی ہے وہ پور ی ہوجائے گی اوریہ بھائی اپنے فرائض اداکرنے کی مشق بھی کرلیں گے اور جدہ آنے والے مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے سامنے سعودیہ کی اسلامی و عربی میزبانی کی صحیح تصویر پیش ہوسکے گی۔ اور ہمارے بعض بھائیوں کے لاابالی پن یاکام سے عدم واقفیت کی بنا پر ان کے رویے کو سعودیہ کی پالیسی سمجھنے کی غلط فہمی دور ہوجائے گی۔ان شاء اللہ! یہ امر اس وقت اس لیے ضروری ہے کہ سعودی حکومت اور دیگر مسلم ممالک کے درمیان زبردست اعتماد و اتحاد کی ضرورت ہے اور بعض معمولی رویے اور جزوی واقعات بسااوقات دوریوں کا ذریعہ بن جایا کرتے ہیں، ہمیں ایسے تمام اسباب پہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو ہماری وحدت کے لیے مضر ثابت ہوں۔ باقی پھر کبھی!! حرمین کے انتظامات اورحلقہائے دروس ! حرمین شریفین دنیا کا واحد مرکز ہے جہاں ہر رنگ و نسل اور ہر خطے وعلاقے کے لاکھوں لوگ ہمہ وقت موجود رہتے ہیں اور کسی قسم کی بدمزگی یا انتشار نہیں ہوتا، اس کی روحانی وجہ تو ظاہر ہے کہ آنے والے عشق الٰہی اور محبت رسول (a) کے جو جذبات لے کر آتے ہیں اوراپنی اپنی زبانوں میں اپنے اپنے نظریات کے مطابق فنائیت و فدائیت کے گلہائے مشکبار نچھاور کررہے ہوتے ہیں، اُنہیں کسی امتیازی شان، انفرادی روش یا فسادی عمل کی توجہ و فرصت ہی نہیں رہتی، دوسری بڑی مادی وجہ وہ سعودی حکومت کی انتظامی چابکدستی ہے، دنیا اس کی مثال بھی پیش نہیں کرسکتی کہ اتنے بڑے اژدحام کو خالی ہاتھوں محض وردی کے عقیدت مندانہ رعب سے کنٹرول کیاجاتاہے، کسی سپاہی کے ہاتھ میں چھڑی (أسیاط کأذناب البقر) نہیں ہوتی، کسی کے پاس رعب دار اسلحہ دکھائی نہیں دیتا، اس کے باوجود قانون کی بالادستی کا رعب مجرم کو جرم کرنے سے قبل ہزار بار سوچنے پر مجبور کردیتاہے، کیوں کہ وہاں قانونی مجرم کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے، امیر و غریب، شاہی خاندان اور عوام کے لیے ایک ہی قانون ہے جس کی ایک بہترین مثال گزشتہ دنوں بادشاہِ وقت کے بھتیجے کی سزائے موت کاشرعی و قانونی فیصلہ ہے جو منکرات پر آنکھیں بند کر کے واویلا کرنے والے میڈیاکی نظروں سے اوجھل رہا۔ بہرکیف! سعودی حکومت کے حسن انتظام کی جوعملی تصویریں حرمین شریفین میں ہرطرف نظر آتی ہیں، حرمین کی تعمیر، توسیع، نظافت، حفاظت کی خدمات دکھائی دیتی ہیں، اُسے سعودی حکومت کی حرمین شریفین کے ساتھ کھلی عقیدت کا مظہر مانناپڑتاہے اور یہ طرزِ عمل سعودی حکومت کی نیک نامی اور اُمتِ مسلمہ کی ہمدردی کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے، پھر دنیا بھر کے زائرین کے ساتھ بلاامتیاز خادمانہ رویہ حرمین کا عمدہ پیغام ثابت ہورہا ہوتا ہے۔ مگر دوسری طرف انہی مقاماتِ مقدسہ میں بعض مقامی اور کچھ اجنبی حضرات سعودی لباس میں ملبوس، ایسے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ جن کا رویہ زائرین کے ساتھ بالکل ہتک آمیز، تحقیر آلود اور تشویش کن ہوتا ہے اور وہ اپنے اس نامناسب رویہ کو پوری طرح سعودی حکومت کی نمائندگی، ترجمانی بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سرکاری وظیفہ ہونے کا تاثر دے کر روا رکھے ہوتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو حرمین شریفین میں مختلف مقامات پر انتظامی رہنمائی یا حلقہائے دروس کے عنوان سے خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں، ایسے بعض لوگ انتظامی ذمہ دارکے مقام پر کھڑے ہوکر اپنی مخصوص فکر کی تبلیغ اور مخالف فکر کی ’’تغلیط‘‘ پر زورد ے ر ہے ہوتے ہیں۔ بسااوقات بعض زائرین کوروک کر ان کی انتظامی غلطی کی آڑ میں اپنی مخصوص فکر کو ان پرمسلط کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، اور اپنی ناتجربہ کاری اورعنادی جذبے کی وجہ سے مسافر زائرین کو صحیح بات بھی تحقیری آلودگی کے بغیر نہیں کہہ پاتے۔ اسی طرح حلقۂ دروس میں بھی بعض مدرسین کے بیان، تعبیر اور شدّت سے واضح طور پر مخصوص فکر‘ مسلّط کرنے اور دوسروں کی تغلیط کرنے کاتأثر دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے حق میں ’’تغلیط ‘‘ کا لفظ بہت ہلکا استعمال کیا ہے، وہ اس لیے کہ گزشتہ چندسالوں سے چونکہ سعودی حکومت کوکچھ کچھ اندازہ ہوا تھا کہ سعودی لباس میں ان کے بعض نمک خوار سعودی حکومت کی نمائندگی بڑے مکروہ انداز میں کررہے  ہیں، اس بنا پر سعودی حکومت نے ایسے لوگوں کی لگام کھینچنے کا اعلان فرمایا تھا جس کے کافی اچھے اثرات محسوس ہوئے تھے، یہ لوگ دوسروں کی تکفیروتضلیل سے کم از کم تغلیط پر آئے ہیں، مگر مکمل طور پر باز اَب بھی نہیں آئے، بلکہ اب بھی جہاں دیکھیں ہر حلقے میں کوئی نہ کوئی اختلافی مسئلہ ’’تغلیط‘‘ اور ’’تسلیط‘‘ کے انداز میں زیرِ بحث نظر آئے گا۔ ان سمجھداروں کو یہ کون بتاسکتا ہے کہ یہ اختلافات ہم سے بڑے اپنے اپنے دلائل و براھین کے ساتھ اپنے پیروکاروں کے لیے چھوڑ کے جاچکے ہیں، ائمہ مجتہدین میں سے کسی نے یہ خواہش کبھی ظاہر نہیں کی کہ سارے لوگ ان کی فکر کے تابع بن جائیں، حرمین شریفین اس کی سب سے بڑی مثال ہے کہ آج تک یہاں جس مسلک کو پیشوائی حاصل رہی اس مسلک کے مقتدائوں یا پیروکاروں نے کبھی اپنی رائے کو دوسروں پر مسلط کرنے یا دوسروں کے لیے عدم برداشت کا رویہ اپنانے کی غلطی نہیں کی، بلکہ ہر ایک مسلک والے آزادی کے ساتھ حرمین شریفین کو اُمتِ مسلمہ کی مشترکہ متبرک متاع سمجھ کر روحانی آسودگی حاصل کرتا رہا ہے، کسی گروہ اور مسلک نے دوسرے کی آزادی اور اس کی یکسوئی میں حائل ہونے کی کوشش نہیں کی اور ہمارا حسن ظن ہے کہ سعودی حکومت کی سرکاری پالیسی بظاہر اَب بھی یہی ہے۔ مگر نہ جانے کیا خفیہ عوامل ہیں کہ حرمین کے بعض مدرسین اور مطوعین اس سرکاری پالیسی کے بالکل برعکس زائرین کو نہ صرف یہ کہ اپنے مسلک کے مطابق عبادت اور اعمال کی آزادی و یکسوئی کے لیے نہیں چھوڑتے، بلکہ ہروقت اُنہیں تشویش سے دوچار کرنے کے لیے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور اختلافی مسائل کے بیان کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ حج کے دوران دیکھا گیا کہ حاجیوں کو ان کے مسالک کے مطابق حج کے اعمال، اذکار اور اَوراد سکھانے کی بجائے تین طلاقوں کو ایک بنانے، فاتحہ خلف الامام، رفع یدین اور آمین بالجہر اور تراویح کی رکعات جیسے چودہ صدیوں پرانے مسائل بیان کیے جاتے تھے اور ان مسائل کے بارے میں حاجیوں کے نظریہ و عمل کی درستگی کی کوشش کی جاتی تھی، جو در حقیقت اپنی مخصوص فکر کو حاجیوں پر مسلط کرنے کی ناسمجھی کا ارتکاب ہے۔ دنیاجانتی ہے کہ یہ مسائل قرنِ اول سے اختلافی چلے آرہے ہیں اور کوئی فریق دوسرے پر اپنا نظریہ و عمل مسلط نہیں کرسکا اور نہ ہی ایسی کوششوں نے کبھی کامیابی پائی ہے، ان اختلافی مسائل کے باوجود اُمتِ مسلمہ باہمی اُخوت و محبت سے محروم نہیں رہی، اب موجودہ حالات میں اس طرح کے اختلافی مسائل کو اس شدومد کے ساتھ بیان کرنا کہ گویا سعودی حکومت دوسری رائے والوں کو سراسر غلط سمجھتی ہے اور دوسری رائے کے سارے لوگ دین اور دینداری سے عاری ہیں، اس کی بجز اس کے کیا تأویل ہوسکتی ہے کہ یہ مخصوص طبقہ سعودی حکومت کے خرچہ پر سعودی حکومت اور اُمتِ مسلمہ کے درمیان نفرتیں پیدا کرکے دوریاں پیدا کرنا چاہتا ہے اور اسلامی دنیا میں سعودی حکومت کو تنہا کرنا چاہتا ہے ۔ ہمار ی رائے میں سعودی خرچہ پر سعودی خزانوں سے اپنی تجوریاںبھرنے والے مغربی دشمنوں کی بنسبت یہ طبقہ سعودی حکومت کے حق میں زیادہ نقصان دہ ہے، کیوں کہ مغربی قوم کے مکروفریب کوسمجھنے کی وجہ سے تو اُمتِ مسلمہ اور سعودی حکومت میں وحدت واعتماد کی فضاء قائم ہورہی ہے اور اسلامی سیاسی و عسکری اتحاد کی شکلیں پیداہورہی ہیں، جبکہ ہمارے بعض ناداں دوست سعودی خرچہ پر اُمتِ مسلمہ کے پرانے اختلافی مسائل کو ہوا دے کر اُمتِ مسلمہ اور سعودی حکومت کے درمیان وحدت کو ختم کرنے کے اسباب جمع کررہے ہیں، جوکہ اسلامی دنیامیں سعودیہ کو تنہا کرنے کی گھنائونی سازش ہے۔ ہماراخدشہ ہے کہ یہ لوگ سعودی حکومت کے لیے کہیں مارآستین ثابت نہ ہوں اور یہ ناروا رویے اس صورتِ حال کا پیش خیمہ ثابت نہ ہوں جو پُھنپُھناتے اژدہا کی طرح حجازِ مقدس کا رُخ کیے ہوئے ہے۔ ولا سمح اللّٰہ                                                                                                                                  (جاری ہے

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے