بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

بینات

 
 

خوش آئند اقدام!

خوش آئند اقدام!

الحمد للّٰہ وسلام علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

    حق وباطل اور خیر وشرکا تقابل، تضاد وتصادم روزِ ازل سے چلا آرہا ہے۔ ہر رخ کے پیروکار اپنے اپنے رخ پر لگاتار مصروف عمل چلے آرہے ہیں۔ ایک طرف حضرات انبیاء کرام علیہم السلام‘ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے ملانے کے لیے آتے تھے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے دور کرنے اور ہٹانے والے کفار بھی رہے ہیں۔ ایک طرف حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی s جیسے خلفاء راشدین اور اُن کے متبعین تھے تو دوسری طرف ابولہب، ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور ان کے نائبین بھی رہے ہیں۔     سب جانتے ہیں کہ اس وقت بے دین، بددین، ملحدین، مغربی تہذیب کے دل دادہ ،کفار کے اشارۂ ابروپر ناچنے والے شر پسند عناصر سب متحد ومنظم ہوچکے ہیں اور اپنے مغربی ایجنڈے کو پاکستانی قوم پر مسلط کرنے کی تگ ودو اور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف منبع خیر دینی، سیاسی ومذہبی جماعتیں اور تنظیمیں بکھری ہوئی اور الگ الگ راستوں اور شاہراہوں پر چل رہی تھیں۔ ظاہر ہے کہ اس طرح تو کوئی بھی جماعت یا تنظیم انفرادی طور پر منزل مقصود نہیں پاسکتی تھی، کیونکہ منظم شر کا مقابلہ منظم خیر سے ہی ہوسکتا ہے۔ علمائے کرام کے ہاتھ میں قرآن کریم اور سنت ِرسول اللہؐ ہے اور مقابل میں مغربی تہذیب ہے جو سراسر جہل اور ہوا وہوس پر مبنی ہے۔     کسی جماعت یا اتحاد کی دنیوی ترقی اور کامیابی کے لیے جو امور سنہری اصول کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کا لحاظ رکھنا بہت اہم اور ضروری ہے،مثلاً :      ۱:… ماضی سے ربط ہو، تاکہ تاریخی وابستگی کی وجہ سے ہمارا قومی تشخص اور ملی جذبہ دونوں زندہ رہیں۔یعنی کتاب وسنت پر سختی سے عمل ہو، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو قرآن کریم کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی منشأ اور مراد کو پورا کرنے والی جماعت ہے، ان کے نقش قدم کی پیروی ہو، اپنے اسلاف اور اکابر کی تاریخ کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ اس سے ان شاء اللہ تعالیٰ! نہ صرف یہ کہ دنیا میں کامیابی وکامرانی ملے گی، بلکہ اس سے آخرت بھی سنورے گی۔     ۲:…بحیثیت جماعت سب کی فکر اور عمل ایک ہو، جیساکہ قرآن کریم میں ہے: ’’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا‘‘ جب سب کی فکر ایک ہوگی ، سب کا عمل ایک ہوگا تو اس سے جماعتی قوت مضبوط ہوگی، اس سے نتائج اور مقاصد تک پہنچنے میں بہت مدد ملے گی اور منزل قریب سے قریب تر ہوتی نظر آئے گی، خدانخواستہ اگر اب بھی اپنی اپنی آراء پر اصرار وجمود رہا اور اپنی اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے اور اڑے رہے تو ایسی صورت میں ماضی کی طرح ہماری حقیقی قوت پارہ پارہ ہوکر خلفشار کی نذر ہوجائے گی۔ ۳:…اس اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے ظاہری وباطنی اسبابِ قوت کی فراہمی بھی ضروری ہے، مثلاً: ظاہری وباطنی قوت کے اسباب میں سے ہے کہ ہر جماعت اپنے اپنے جماعتی کارکنوں کو تعلیم (خواہ وہ دینی ہو یا عصری) واخلاق ، دعا وتضرع اور چھوٹے بڑے کی تمیز وتعظیم کے اسلحہ سے ضرور لیس کرے۔ جب ہر جماعت کے کارکنان تعلیم یافتہ، مہذب ، باادب، بااخلاق اور تربیت یافتہ اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے اور منوانے والے ہوں گے تو یہ کارکن مستقبل میں مسلم معاشرہ کی صحیح معنوں میں راہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں گے اور علمی وعملی میدان میں کوئی خلا باقی نہ رہے گا۔     ۴:…جہد مسلسل یعنی دین ودنیا کے مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل ولگاتار سعی وعمل کرنا، کیونکہ انسان کے لیے دونوں جہانوں میں جو کچھ ملتا ہے وہ سعی وعمل سے ملتا ہے اور جو محنت وکوشش کرتا ہے، وہ ضرور اس کا ثمرہ ونتیجہ پاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کی جائے کہ دنیا کا حصول بقدرِ ضرورت ہو، اس لیے کہ جب ایک مسلمان دنیا سے حد سے زیادہ محبت کرتا ہے تو اس کی ساری محنت اور تگ ودو اسی کے لیے ہوتی ہے، رفتہ رفتہ دین میں کمزوری آنا شروع ہوجاتی ہے، پھر جائز وناجائز ، صحیح وغلط کے امتیازمیں غفلت اور سستی در آتی ہے، جس کے نتیجہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ اس کا تعلق کمزور ہوجاتا ہے، وہ موت کو بھول کر غافلوں کی طرح زندگی گزارنا شروع کردیتا ہے۔ ایسا آدمی پھر ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر مقدم رکھتا ہے، اپنے اجتماعی تحفظ کو ذاتی تحفظ پر قربان کردیتا ہے اور آخرت کی جزا وسزا سے تغافل برتنا شروع کردیتا ہے۔ جس قوم کے افراد ایسے ہوجائیں تو پھر وہ قوم بحیثیت قوم فاتح اور غالب ہونے کی بجائے مفتوح اور مغلوب ہوجاتی ہے۔     اگر غور سے دیکھا جائے اور دنیا کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ موجودہ دور میں حقیقتاً صرف دو ہی مذہب ہیں: ۱:…اسلام۔ ۲:…مغربیت۔ باقی یہودیت، نصرانیت، ہندو اور سکھ وغیرہ اب مذہب نہیں رہے، بلکہ وہ قومیتیں ہیں، کیونکہ مذہب لائحہ عمل اور مخصوص تہذیب وتمدن کا نام ہے، جس پر زندگی گامزن ہے، اس لحاظ سے دنیا میں اسلام اور مغربیت‘ عمل کی دو شاہراہیں ہیں۔ پہلی شاہراہ حق اور دوسری شاہراہ باطل یا پہلی شاہراہ خیر اور دوسری شر ہے اور دونوں میں ٹکراؤ اور مقابلہ ہے۔ مغربیت کی پشت پر سیاست، دولت اور مضبوط پروپیگنڈہ ہے اور اسلام کی پشت پر چند غریب دین دار اور بے سرو سامان علمائے کرام ہیں۔     ہر باشعور آدمی جانتا ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ انسانیت کی اصلاح وفلاح صرف اور صرف قرآن وسنت پر عمل پیرا ہونے میں ہے اور قرآن وسنت کے صحیح ترجمان اور راہنمائی کرنے والے علماء کرام ہیں۔ اس لحاظ سے اگر پوری ملت اسلامیہ کو ایک شخصیت کا وجود تصور کیا جائے تو علمائے کرام اس کا دل کہلا ئیںگے۔ جس طرح شخصی زندگی کے فرائض دل ادا کرتا ہے، اسی طرح پوری ملت کے متعلق فرائض بھی علمائے دین کے ذمہ ہیں، چاہے اس حقیقت کو کوئی مانے یا نہ مانے۔ حضور اکرم a کا فرمان ہے: ۱:…’’ ألا و إن فی الجسد مضغۃً إذا صلحت، صلح الجسد کلہ و إذا فسدت، فسد الجسد کلہ ألا وھی القلب۔‘‘  (صحیح البخاری، باب فضل من استبرأ لدینہ، جلد:۱، ص:۲۰، ط: دارطوق النجاۃ) ’’خبردار! جسم میں ایک لوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہوتا ہے تو پورا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے اور وہ دل ہے۔‘‘     اور آنحضرت a کا فرمان ہے: ۲:…’’ید اللّٰہ علی الجماعۃ‘‘ ۔ (سنن النسائی، ج:۷، ص:۹۲،ط: مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب) ’’اللہ تعالیٰ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے۔‘‘     جس طرح جسم کے فساد واصلاح کا دار ومدار دل پر ہے، اسی طرح فسادِ ملت اور اصلاحِ ملت کا دار ومدار علمائے کرام ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں علمائے کرام کے لیے بے شمار فضائل، اعزازات، مراتب ومقامات اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ علماء کرام متحد ہوں اور عوام پر ان کا اثر ہو، کیونکہ قوت ‘اتحاد اور ضعف ‘انتشار سے منسلک ہے، جیساکہ قرآن کریم میں ہے: ۱:۔۔۔’’وَأَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَاتَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوْا إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ۔‘‘                                                       (الانفال:۴۶) ’’اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کااور آپس میں نہ جھگڑو، پس نامرد ہوجاؤگے اور جاتی رہے گی تمہاری ہوا اور صبر کرو ، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر والوں کے ۔‘‘ ۲:۔۔۔ ’’یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا وَاتَّقُوْا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔‘‘ (آل عمران:۲۰۰) ’’اے ایمان والو! صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور ڈرتے رہو اللہ سے، تاکہ تم اپنی مراد کو پہنچو۔‘‘     اسی بات کا پاس اور لحاظ رکھتے ہوئے دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی تمام دینی جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کے سربراہوں اور قائدین کی مشاورت سے حضرت مولانا سید عطاء المؤمن شاہ صاحب بخاری کی میزبانی میں ۱۸؍ نومبر ۲۰۱۴ء کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں اجلاس رکھا گیا اور تمام جماعتوں کے سربراہوں کو اس میں مدعو کیاگیا۔ اس اجلاس میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس وشیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم العالیہ کو بھی دعوت دی گئی۔ حضرت ڈاکٹر صاحب چونکہ بیرون ملک سفر پر تھے، آپ کی نیابت آپ کے بڑے صاحبزادے اور جامعہ کے استاذ حضرت مولانا سعید خان اسکندر صاحب نے کی۔ ان کے علاوہ اس اجلاس میں جن اہم شخصیات نے شرکت کی، وہ درج ذیل ہیں:جے یو آئی (ف) کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمن، جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ حضرت مولانا سمیع الحق، اہل سنت والجماعت کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد حنیف جالندھری، شیخ الحدیث مولانا مفتی حمید اللہ جان، شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا خواجہ خلیل احمد، جمعیت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری، سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد، پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی، مجلس احرار اسلام کے سید کفیل شاہ بخاری، روزنامہ اسلام کے چیف ایڈیٹر مفتی زرین خان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا اللہ وسایا، دار العلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کے مہتمم مولانا اشرف علی، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مولانا محمد الیاس چنیوٹی، جمعیت علماء اسلام آزاد جموں وکشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا مسعود الرحمن عثمانی، مولانا محمد امین ربانی، مولانا نذیر فاروقی، مولانا زبیر احمد صدیقی، مولانا قاضی عبد الرشید، مولانا سید یوسف شاہ، مولانا عمر قریشی، مولانا منیر احمد اختر، پیر عزیز الرحمن ہزاروی، قاضی مشتاق، قاضی ارشد الحسینی، مولانا عبد العزیز اور دیگر جید علماء وقائدین ۔     اس اجلاس کی صدارت قائد احرار حضرت مولانا عطاء المؤمن شاہ صاحب بخاری نے کی۔ اجلاس میں بحث وتمحیص کے بعد آٹھ نکاتی ایجنڈا بھی پاس کیا گیا جو مستقبل میں تمام جماعتوں کے لیے نکتۂ وحدت رہے گا:      ۱:…پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ اور اسلامی نظام کا نفاذ۔     ۲:… قومی خود مختاری اور ملکی سالمیت ووحدت کا تحفظ، امریکہ اور دیگر طاغوتی قوتوں کے سیاسی اور معاشی غلبہ وتسلط سے نجات۔     ۳:… ۱۹۷۳ء کے دستور بالخصوص اسلامی نکات کی عمل داری۔     ۴:…تحفظِ ختم نبوت، تحفظِ ناموسِ رسالت کے قوانین اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کی جد وجہد۔      ۵:…مقام اہل بیت عظامؓ وصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تحفظ۔     ۶:…قومی تعلیمی نظام ونصاب میں غیر ملکی کلچر کے فروغ کی مذمت اور روک تھام۔     ۷:… فحاشی وعریانی کی روک تھام۔     ۸:… ملک کو فرقہ وارانہ نفرت انگیزی اور شیعہ سنی اختلافات کو فسادات کی صورت اختیار کرنے سے روکنا اس اتحاد کے مقاصد میں شامل ہے۔     اجلاس کی پہلی نشست میں ایجنڈے کے ساتھ ساتھ شرکاء اجلاس نے اس کارِ خیر پر مجلس احرارِ اسلام اور قائد احرار حضرت مولانا عطاء المؤمن شاہ بخاری صاحب کی نہ صرف تحسین کی، بلکہ اس اجلاس بلانے پر ان کا شکریہ اداکرنے کے ساتھ ساتھ اتحادکی ضرورت واہمیت پر زور دیا۔ پہلی نشست میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عبدالرؤف، مولانا قاری محمدحنیف جالندھری کے تفصیلی بیانات ہوئے، جبکہ قائد احرار امیر شریعت حضرت مولانا حافظ عطاء المؤمن شاہ بخاری صاحب نے اجلاس کے آغازمیں خطبۂ استقبالیہ دیا۔ تقریباً تمام زعماء نے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ نیز ملک کی مذہبی، فکری، معاشی اور سیاسی حالات کی طرف متوجہ کیا۔ ناقص اورغیرشرعی نظام و نصاب تعلیم ،فحاشی وعریانی کی یلغار، ملکی جغرافیہ کولاحق خطرات، مذہبی جماعتوں کے انتشار،علماء کرام، طلباء عظام کی شہادت اورقاتلانہ حملے جیسے موضوعات زیربحث رہے ۔نیزعلماء کرام کی ذمہ داریاں اورموجودہ حالات میں علماء کے کردارکی شدید ضرورت جیسے موضوعات پرگفتگوہوتی رہی۔ اجلاس گویا زعماء ملت کو ان کے کارہائے منصبی اور فرائض کی طرف متوجہ کررہا تھا، ہر مقرر کی تقریر اخلاص اور درد بھری تھی۔     اجلاس کی دوسری نشست کا آغاز نمازِ ظہرکے تقریباًایک گھنٹہ کے وقفہ سے ہوا۔ اس نشست میں مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا سعید خان اسکندر بن ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا زاہد الراشدی، ڈاکٹرخادم حسین ڈھلوں، حضرت مولانا سمیع الحق اور حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے خطاب کیا۔ مذکورہ بالا زعماء کے علاوہ اجلاس سے مولانامفتی حمیداللہ جان، مولانااللہ وسایا، حافظ حسین احمد، مولانا زاہد الراشدی، مولانا سید کفیل شاہ بخاری، مولانا عبدالمجید قاسمی، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا حبیب الرحمن درخواستی، مولانا سعید یوسف نے بھی اپنی اپنی آراء اورخیالات کا اظہار فرمایا۔     مولاناحافظ عطاء المؤمن شاہ بخاری صاحب نے اپنے خطبۂ صدارت میں شرکاء اجلاس سے اجلاس کو مؤثر، کامیاب اورمفیدبنانے کی اپیل کی اوربلوچستان وکراچی کے حالات پر شدید افسوس کا اظہار فرمایا۔ انہوں نے کراچی اور بلوچستان کو انسانیت کا مقتل قرار دیا۔ اسی طرح لادین قوتوں کی جانب سے ملک کو سیکولر ریاست بنانے، ملک میں فحاشی و عریانی کے کلچر کو فروغ دینے، مذہبی منافرت پھیلانے، ملک بھر میں ایک کروڑ چھبیس لاکھ طلباء وطالبات کو مخلوط تعلیم دینے، اُنہیں موسیقی جیسے مخرب اخلاق فن سکھانے پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے ان تمام اقدامات کو اسلام اور پاکستان کے خلاف بیرونی قوتوں کا ایجنڈا قرار دیا۔ انہوں نے دینی قوتوںکو ان کے فرائض منصبی کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں متحد ومتفق ہونے کی جانب متوجہ کیا۔     قائدجمعیت حضرت مولانافضل الرحمن صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایاکہ: کچھ سال قبل امریکہ یہ برملااعلان کرچکا ہے کہ بیسویں صدی برطانیہ کے مفادات کے مطابق جغرافیہ کی تھی، جبکہ اکیسویں صدی امریکی مفادات کے مطابق جغرافیہ کی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ: وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک نئی مشرق وسطیٰ تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ: اس مقصدکے لیے شیعہ سنی تنازعات کو فسادات کی شکل دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگ امریکہ کی ضرورت ہے، ہماری نہیں۔ امریکہ ہمیں مشتعل کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ: حکمرانوں کومذہبی امورسے کوئی دلچسپی نہیں، ہم نے سانحہ تعلیم القرآن کے بعد بار بار حکومت سے اس سلسلہ کے حل کے بات کی اورانہیں بتایاکہ اس سلسلہ کے حل کے لیے مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی سفارشات خودمیاں نواز شریف کے وزارتِ علیا کے زمانہ کامسالک کے درمیان معاہدہ اورگلگت بلتستان میں تمام مکاتب فکرکی مشاورت سے بننے والاقانون موجودہے، انہیں نافذکیاجاسکتاہے ،لیکن اتنے سال گزرنے کے باوجودحکومت نے ایساکوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہاکہ: قراردادِ مقاصد اور آئین پاکستان ہمارے اکابرکی کوششوں اور کاوشوں سے بنا۔ انہوں نے کہاکہ: مسلک دیوبنداس وقت عالمی قوتوں کاہدف ہے، وہ مسلک دیوبند کو دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دے رہے ہیں، حالانکہ مسلک دیوبند ۲۰۱۱ء سے تمام جماعتوں اور اداروں کے متفقہ فیصلہ کے نتیجہ میں اعلان کررہاہے کہ پاکستان میں مسلح جدوجہدمفیدنہیں ہے، اس لیے دیوبندی علماء کوشہیدکیاجارہاہے، مجھ پرتین حملے ہوئے ہیں، میرا کیا قصور ہے؟ ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں بین الاقوامی طورپرچائناکی ترقی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جیسے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے مملکت ِروم سے ہمدردی فرمائی، ہمیں بھی چائناسے تعلق درست کرناہوگا۔     حضرت مولاناسمیع الحق صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ :مسلک دیوبندنشانہ پرہے اورہم پرذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ہم اکابرین کے وارث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ: جہادعلماء دیوبندکاشیوہ رہاہے، البتہ جہادکی مختلف شکلیں ہیں، ہم جہادجاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ: اس اتحادمیں تبلیغی جماعت اورخانقاہوں کوبھی شامل کیاجائے، انہوں نے اس اتحادکومبارک اوروقت کی ضرورت قراردیا۔     مولاناقاری محمدحنیف جالندھری جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے اپنے بیان میں فرمایا کہ آج کااجلاس اپنے محاسبہ کااجلاس ہے، جن لوگوں کوباہم رفیق ہوناچاہیے تھا، وہ فریق بن چکے ہیں۔ باہمی فاصلے‘ فیصلوں پراثراندازہیں ۔ہم اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھارہے، حالات کے ہم خود ذمہ دار ہیں ، ہم قیمتی جانوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ اتحادکے لیے دوچیزیں نہایت ہی ضروری ہیں: ۱:…اخلاص ،۲:… تواضع ۔ اصاغرکواکابرکی اتباع میں چلناہوگا، نہ یہ کہ اصاغر‘ اکابرکواپنے پیچھے چلانے کی کوشش کریں۔ آج سب لوگ اس اجلاس کی کامیابی کے لیے دعاگوہیں، ہمیں بھی وقفہ اجلاس میں دورکعت نمازصلوٰۃ الحاجات پڑھ کرکامیابی کے لیے دعامانگنی چاہیے۔     ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں جنرل سیکرٹری اہل السنت والجماعت نے کہاکہ: ہمیں دنیابھرکے مظلوم سنی مسلمانوں کے لیے پرامن جدوجہدکرنی چاہیے اور ان کے لیے آوازاٹھاناچاہیے ،ہم سب سے زیادہ نشانہ پرہیں، لیکن شیخ الہند کی روحانی اولادان چیزوں سے گھبرانے والی نہیں۔ انہوں نے کہاکہ: ہم میں سے ہرایک کی تکلیف سب کی تکلیف ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہرجماعت کے مزاج ومذاق کی رعایت رکھی جائے، جمعیت،تبلیغی جماعت، ختم نبوت، وفاق المدارس کے پروگراموں میں ہر ایک کے مزاج ومذاق کے مطابق شرکت کرنی چاہیے۔ ایسے ہی اہل السنت والجماعت کے مذاق ومزاج کی بھی رعایت رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ: ہماری جماعت کے بے شمارلوگ شہیدکیے گئے، دودوبھائی بھی اکٹھے شہید ہوئے ،ہم سب متحدہیں ۔     اجلاس میں متفقہ طورپرتمام مذہبی جماعتوں اوراداروں کے سربراہوں پرمشتمل سپریم کونسل کی تشکیل کا اعلان کیاگیا،جس کی سربراہی جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے سربراہ اورشیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر صاحب کے سپردکی گئی جومذکورہ بالاآٹھ نکات کے لیے جملہ جماعتوں اوراداروںکو متحدکرکے جدوجہدآگے بڑھائیں گے۔     اس کے علاوہ اس اجلاس میں ایک گیارہ رکنی رابطہ کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیاگیا جس کے سربراہ حضرت مولانا سید عطاء المؤمن شاہ صاحب بخاری ہوں گے، جو سپریم کونسل کی راہ نمائی میں اس کے طے کردہ لائحہ عمل اور طریق کار پر عمل درآمد کے لیے ضروری امور سرانجام دے گی اور دیگر مسالک کی جماعتوں کے قائدین سے بھی رابطہ کرے گی۔یوں یہ اجلاس حضرت مولاناسمیع الحق صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔     ان تمام جماعتوں کا اس ایجنڈے پر متحد ومتفق ہونا نہ صرف دینی، سیاسی ومذہبی طبقہ کے لیے ایک بہت بڑی خوش خبری اور خوش آئند اقدام ہے، بلکہ یہ پوری پاکستانی قوم کی آواز بھی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس اتحاد کو اپنے مقاصد میں کامیاب کرے اور دشمنوں وشریروں کے شر سے اس کی حفاظت فرمائے۔     کسی جماعت یا اتحاد کے لیے کن باتوں کو اہمیت ہونی چاہیے یا اس کے کیا راہنما اصول اور مختصر دستور العمل ہونا چاہیے، اس بارہ میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہٗ لکھتے ہیں:     ’’۱:… شورائیت: کسی بھی قسم کا دینی، دنیاوی یا سیاسی قدم اٹھائیں تو اہل خیر و صلاح اور اہل دانش و خرد سے مشورہ کیے بغیر نہ اُٹھائیں اور اہل شوریٰ میں سے ہر شخص نہایت اخلاص کے ساتھ فی مابینہٗ وبین اللہ اپنا مشورہ دے، اپنی بات منوانے کی فکر نہ کرے، نہ اپنی رائے پر خواہ مخواہ کا اصرار کرے، اگر صحیح اسلامی شوریٰ پر عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ! بہت سی گمراہیوں اور فتنوں کا سد باب ہوسکتا ہے، ان سب میں بڑا فتنہ عجب اور اعجاب بالرأی کا ہے۔ الغرض مخلصین کے لیے لازم ہے کہ اپنی رائے پر اصرار نہ کریں، بلکہ اپنی رائے کو متہم سمجھیں، مبادا اس میں نفس وشیطان کا کوئی خفی کیدچھپا ہوا ہو۔     ۲:…اعتدال:اگر پوری کوشش کے باوجود سب کی رائے متفق نہ ہوسکے اور اہل حق کی دو جماعتیں وجود میں آہی جائیں تو ہر جماعت اپنے کو قطعی حق پر اور دوسرے کو قطعی باطل پر نہ سمجھے، زیادہ سے زیادہ جس بات کی گنجائش ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے مؤقف کو ’’صواب محتمل خطأ‘‘ اور دوسرے کے مؤقف کو ’’خطأ محتمل صواب‘‘ سمجھے اوردونوں طرف سے برابر یہ خواہش رہنی چاہیے اور کوشش بھی کہ تمام اہل حق ایک کلمہ پر متفق ہوجائیں۔     ۳: …حکایات وشکایات سے احتراز: آج کل پروپیگنڈے کا دور ہے، پرو پیگنڈے کے کرشمہ سے رائی کو پربت اور تنکے کوشہتیر بنا کر پیش کیا جاتا ہے، غلط افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلا کر ایک دوسرے کے درمیان منافرت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جو شخص اس فتنہ سے محفوظ رہنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ جب تک کسی حکایت وشکایت کے صحیح ہونے کا پورا وثوق نہ ہوجائے، اس وقت تک اس پر کان نہ دھرے، نہ اس پر کوئی کارروائی کرے۔ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہٗ سے لوگوں نے شکایت کی کہ ابن ملجم آپ کے قتل کا منصوبہ بنا رہا ہے اور قتل کی دھمکیاں دیتا ہے، آپ اسے قتل کرادیجئے، فرمایا:’’کیا میں اپنے قاتل کو قتل کردوں‘‘؟     اسی طرح اس قسم کی حکایات و شکایات کو نقل کرنا بھی امت کو فتنے میں ڈالنا ہے، آنحضرتa  نے امت کو اسی قسم کے فتنوں کے بارے میں ہدایت فرمائی تھی: ’’ستکون فتنٌ،القاعد فیھا خیر من القائم، والقائم فیھا خیر من الماشی، والماشی فیھا خیر من الساعی‘‘۔     (صحیح البخاری،کتاب الفتن ،ج:۲، ص:۱۰۴۸، ط:قدیمی) ’’بہت سے فتنے ہوں گے، ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑ نے والے سے بہتر ہوگا۔‘‘     اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے: ’’النائم فیھا خیرمن الیقظان والیقظان فیھا خیرمن من القائم‘‘۔        ( الصحیح لمسلم) ’’جواُن میں سورہا ہوگا وہ جاگنے والے سے بہتر ہوگا اور جو جاگ رہا ہوگا وہ اُٹھنے والے سے بہتر ہوگا۔‘‘     ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ میرے کسی قول وعمل سے امت کے درمیان افتراق کی خلیج وسیع نہ ہو، نیز اہل حق کو اس بات سے چوکنا رہنا چاہیے کہ اہل باطل ان کے درمیان اختلافات کو ہوادے کر اپنا اُلوسیدھا نہ کرسکیں۔ جب اہل حق آپس ہی میں لڑنے لگتے ہیں تو اہل باطل کے لیے میدان صاف ہوجاتا ہے، اس لیے اہل حق کو اہل باطل کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننا چاہیے کہ جوش میں اپنوں ہی کو بدنام کرنے لگیں، افسوس ہے کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا مرض یہی ہے کہ اپنوں سے بدگمانی رکھیں گے اور حق کے نام پر اہل حق سے لڑیں گے لیکن اہل باطل کے ساتھ مسامحت اور رواداری برتی جائے گی، اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے۔     ۴:… اکرام واحترام: ایک مسلمان اللہ ورسول a پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اکرام واحترام کا مستحق ہے اور ہماری باہمی رنجشوں سے اس کے احترام کا حکم منسوخ نہیں ہوجاتا۔ سنن ابو داؤد میں آنحضرت a کا ارشاد مروی ہے کہ: ’’إن من إجلال اللّٰہ تعالٰی إکرام ذی الشیبۃ المسلم وحامل القرآن غیر الغالی فیہ والجافی عنہ وإکرام السلطان المقسط‘‘۔ (مشکوٰۃ،کتاب الآداب،،ج:۲ص:۴۲۳) تین چیزیں اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں داخل ہیں: سفید ریش مسلمان کی عزت کرنا، حامل قرآن کی عزت کرنا، جو نہ قرآن میں غلو کرے نہ بے پروائی کرے اور عادل حاکم کی عزت کرنا۔     بہرحال اختلاف کی بنا پر کسی بھی مسلمان کی ہتک عزت جائز نہیں اور خاص طور پر علمائے دین کی بے حرمتی کرنا تو بہت ہی بری بات ہے۔ کوئی مخلص عالم دین ایک رائے رکھتا ہوتو ا س پر سب وشتم کرنا اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتقام کا نہایت خطرہ ہے، ایسا شخص مخذول اور بے توفیق ہوجاتا ہے اور ایمان کی سلامتی مشکل ہوجاتی ہے۔‘‘                       (بصائر وعبر، جلد اول، ص:۱۰۶،۱۰۷،ط:مکتبہ بینات)     اگر ان اصولوں اور باتوں کوہمیشہ مدنظر رکھا گیا اور اس کے مطابق عمل وکوشش کی گئی تو ان شاء اللہ تعالیٰ !کامیابی مقدر ہوگی اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی مدد ونصرت ہمارے شامل حال رہے گی۔ أللّٰہم انصر مَن نصر دینَ سیدِنا محمدٍ صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منہم

 

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے