بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

بینات

 
 

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور محفلِ میلاد

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی v

اور محفلِ میلاد 

..............اگر کوئی شخص ملازمانِ شاہی میں سے سرِدربار بادشاہ سے زیادہ کسی وزیر، مشیر کی تعظیم کرے تو وہ تعظیم چوں کہ موجبِ توہینِ بادشاہی ہے، اس لیے بہ وجہ تعظیمِ مفرطِ وزیر‘ یہ تعظیم کرنے والا مستوجبِ عتابِ بادشاہی ہوگا۔ تعظیمِ وزیر کچھ کام نہ آئے گی، بلکہ خود وزیر بہ وجہِ مذکور درپے تذلیلِ شخصِ مذکور ہوجائے گا۔ جب یہ بات ذہن نشین ہوچکی تو اب سنیے! اعلیٰ درجے کی وہ مجلس ہے جس میں قرآن و حدیث پڑھا جائے اور بیانِ احکامِ خداوندی کیا جائے۔ اور کیوں نہ ہو! انبیاء B اس غرض سے بھیجے گئے کہ احکامِ خداوندی پہنچائیں اور کتبِ مقدسہ اسی غرض سے نازل کی گئیں کہ احکامِ خداوندی معلوم ہوجائیں، خود خداوندِ کریم فرماتا ہے: ’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔ ‘‘(سورۂ ذاریات: ۵۶) ’’اور میں نے جو بنائے جن اور آدمی سو اپنی بندگی کو۔‘‘ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’وَمَآ أُمِرُوْآ إِلَّا لِیَعْبُدُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۔‘‘ (سورۂ بینہ:۵) ’’اور ان کو حکم یہی ہوا کہ بندگی کریں خالص کرکے اس کے واسطے بندگی۔‘‘ اور ظاہر ہے کہ عبادت اطاعتِ احکام کا نام ہے، اس لیے وہ مجلس جس میں بیانِ احکام ہو اعلیٰ درجے کی مجلس ہوگی، کیوں کہ غرضِ اصلی عبادت ہے، چناںچہ دونوں آیتیں اس پر شاہد ہیں، بے بیانِ احکام محقق نہیں ہوسکتے۔ غرض! مجلس و وعظ و درسِ قرآن وحدیث کے برابر کوئی محفل نہیں۔ پھر ستم یہی نہیں کہ اس محفل کے لیے تو کچھ اہتمام نہ ہو، نہ اس میں برکت کی امید ہو جو محفلِ میلاد شریف سے رکھتے ہیں اور نہ اس کے لیے فرش و فروش، روشنی و شیرینی وغیرہ ہو جو محفلِ میلاد کے لیے مہیا کی جاتی ہے۔ علاوہ بریں میلاد کی بہ دولت جماعت سی واجب چیز کو ترک کیا جائے اور جماعت کے لیے میلاد شریف ترک نہ کیا جائے اور یہ اس قسم کی بات نہیں تو اور کیا ہے کہ بادشاہ سے زیادہ وزیر کی تعظیم کی جائے۔ پھر اس پر قیام معمول بہ اگر بہ ایں اعتقاد ہے کہ روحِ پر فتوح حضرت سرورِ عالم a اس وقت رونق افروز ہوتی ہے تو یہ اعتقاد بے سند ہے کہ جس کا پتا نہ قرآن میں نہ نشانِ حدیث میں۔ اگر یہ بدعت نہ ہوگا تو اور کون سی چیز بدعت ہوگی؟ شیعوں اور خوارج کے اعتقادات جو اُن کے مبتدع اور فعال ہونے کی وجہ سمجھی گئی تو کیوں سمجھی گئی؟ اس بے سند ہونے کے باعث۔ اور اگر بہ ایں خیال یہ اہتمامِ قیام ہے کہ بعض اولیائے کبار اس وقت کھڑے ہوئے تھے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ ہم بھی اسی طرح مشرف بہ زیارت ہوتے ہیں جیسے وہ اولیاء مشرف ہوئے تھے؟ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بعض اولیائے کبار اربابِ حال کو وقتِ ذکرِ ولادتِ شریف دولتِ زیارت میسر آئی تھی، اس لیے اُن کے واسطے اُٹھنا ضرور ہوا۔ بے شک اگر وہ اس وقت نہ اُٹھتے تو عجب نہ تھا کہ اس بدتعظیمی کے سبب اپنے مرتبہ و مقام سے گرجاتے، مگر عوام الناس جو اُن کی اقتدا کرتے ہیں گویا زبانِ حال سے یوں جتلاتے ہیں کہ گویا ہم بھی دولتِ زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ اب کہیے یہ کس درجے کی ریا ہے؟! بعض اولیاء کو چند بار یہ اتفاق ہوا کہ اپنے حلقے میں ’’یا شیخ بہاء الدین شیأًللہ‘‘ کہا، ان کے ایک مرید نے بھی کہنا شروع کردیا، حضرتؒ نے فرمایا: تم کیوں کہتے ہو؟ مرید نے کہا کہ آپ کہتے ہیں، میں بھی کہتا ہوں۔ حضرتؒ نے فرمایا کہ: مجھ کو تو حضرتؒ کی زیارت میسر آتی ہے، اس لیے کہہ پڑتا  ہوں، تو جو کہتا ہے کیوں کہتا ہے؟ غرض! حضرتؒ نے اس کو منع فرمایا اور اپنی اقتداء اور اتباع کی اس امر میں اجازت نہ دی۔ ایسے میں جن صاحبوں نے وقتِ مذکور پر قیام کیا، وہ مشرف بہ زیارت ہوئے تھے، عوام کو ان کا اقتداء جائز نہیں۔ باقی یہ کہنا کہ ہم بہ غرضِ تعظیم اسمِ مبارک کھڑے ہوتے ہیں، یہ ایسی بے ہودہ بات ہے کہ کوئی عاقل تسلیم نہیں کرسکتا۔ کیا اس وقت آپ مستحقِ تعظیم ہوتے ہیں؟ اس سے آگے پیچھے ان لوگوں کے نزدیک مستحقِ تعظیم نہیں ہوتے؟ افسوس! حضور a کے ذکرِ پر انوار کو ایسی ایسی واہیات سے ناواقفوں نے خراب کردیا۔ اس لیے اپنا یہ قول ہے کہ ہمارے لیے تو مولود شریف اگر کریں جائز بلکہ مستحب ہے، پر رواج کے موافق کرنے والوں کے حق میں جائز نہیں۔ ہاں! گوشۂ تنہائی میں بے قیام کوئی کبھی بہ تقاضائے محبت بہ روایاتِ صحیحہ پڑھ لیا کرے تو سبحان اللہ! پر ان روایاتِ ضعیفہ موضوعہ کا پڑھنا یوں بھی جائز نہیں۔ غرض اصل سے ذکرِ بابرکت حضرت سرورِ عالم علیہ وعلیٰ آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیمات عمدہ حسنات میں سے تھا، گو ذکرِ احکام اور استماعِ احکام بہ غرضِ اطاعت و تبلیغ حقیقت میں ذکرِ ملکِ علام ہے، مگر جیسے متنجن و زعفران وغیرہ اطعمۂ لذیذہ اصل سے عمدہ غذا ہوتی ہے، پر زہر مل جائے تو باوجود عمدگی خراب و مہلک ہوجاتی ہیں اور اس وقت بہ وجہ اختلاطِ زِہر باوجود لذتِ معلومہ اس لذت کا ترک ضروری ہے، چہ جائے کہ بہ وجہ لذت زہرِ مخلوط کا کھانا عمدہ سمجھاجائے؟! ایسے ہی ذکر خیر البشر a متضمنِ ولادت ہو یا متضمنِ وفات عمدہ خیرات میں سے ہے۔ پر بالائی خرابیوں کے باعث واجب الاحتراز ہے، چہ جائے کہ خرابی ہائے مذکورہ بہ وجہ عمدگیِ سفوہ واجب الارتکاب ہوں۔

                                                                 العبد محمد قاسم 

نوٹ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تحریرِ مبارکہ ۱۹؍ ربیع الثانی ۱۲۹۷ھ/ ۲؍ مارچ ۱۸۸۰ء کی ہے اور سہ ماہی ’’احوال و آثار‘‘ کاندھلہ، ج:۱، شمارہ:۳، جنوری تا مارچ ۲۰۰۸ئ، ص:۱۳-۱۴ سے ماخوذ ہے۔ ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔ژ۔۔۔۔۔

 

 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے