بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

بینات

 
 

جاوید احمد غامدی سیاق وسباق کے آئینہ میں(پہلی قسط)

جاوید احمد غامدی سیاق وسباق کے آئینہ میں        (پہلی قسط)

    جناب جاوید احمد غامدی صاحب کون ہیں؟ ان کا علمی پس منظر کیا ہے؟انہوں نے کہاں پڑھا؟ کیا پڑھا؟ ان کے پاس دینی وعصری علوم کی کوئی سند یا ڈگری ہے یا نہیں؟ وہ کس کے تربیت یافتہ ہیں؟ وہ کن کے علوم وافکار سے متأثر ہیں؟ ان کے اساتذہ کون تھے؟ وہ ایک دم کہاں سے نمودار ہوئے؟ اور دیکھتے ہی دیکھتے کیسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے؟ ان کو ٹی وی پر کون لایا؟ وہ اسلامی نظریاتی کونسل میں کیسے داخل ہوئے؟ ان سے اپنی فکر وفلسفہ کے پروان چڑھانے میں کن لوگوں نے ان سے تعاون کیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن سے غامدی صاحب کے بہت سے سامعین، قارئین وعاشقین بے خبر ہیں! کہتے ہیں کہ انسان اپنے استاذوں سے اور استاذ اپنے شاگردوں سے پہچاناجاتا ہے۔ آیئے! اس حوالے سے ایک شاگرد، استاذ اور استاذ الاساتذہ کی سوانح اور کردار وعمل کا جائزہ لیتے ہیں۔ حمید الدین فراہی     یہ ۱۹۰۰ء کا ذکر ہے، ہندوستان پر برطانوی سامراج کی دوسری صدی چل رہی تھی۔ ہندوستان کا وائسرائے مشہور ذہین اور شاطر دماغ یہودی ’’لارڈ کرزن‘‘ تھا۔ ان صاحب کو مسلمانوں سے خدا واسطے کابیر اور صہیونی مقاصد کی تکمیل کا شیطانی شغف تھا۔ انگریز نے برصغیر کی زمین پاؤں تلے سے کھسکتے دیکھ لی تھی، سونے کی ہندوستانی چڑیا کے پروہ نوچ چکا تھا، اب مشرق وسطیٰ میں تیل کی دریافت اور ارضِ اسلام کو اپنے گماشتوں میں تقسیم کرنے کا مرحلہ در پیش تھا۔ لارڈ کرزن کو انگریز سرکار کی جانب سے حکم ملا تھا کہ وہ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں میں مقیم عرب سرداروں سے ملاقات کرے اور مطلب کے لوگوںکی فہرست بنائے۔ خلیج عرب کے ساحلی علاقوں سے مراد: کویت، سعودی عرب کا تیل سے لبالب مشرقی حصہ جو اس وقت آل سعود کے زیرنگیں تھا، نیز بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات میں شامل سات مختلف ریاستیں اور عمان ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ ریت پر لکیریں کھینچ کر ’’جتنا کم اتنا لذیذ‘‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے جس طرح کیک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے ہیں، اسی طرح ’’جتنا مالدار اتنا چھوٹا‘‘ کے اصول پر عرب ریاستیں اپنے دوست عرب سرداروں میں تقسیم کرچکے تھے۔ اب اس تقسیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فیلڈورک کی ضرورت تھی، اور لارڈ کرزن اپنے مخصوص یہودی پس منظر کے سبب یہ کام بخوبی کرسکتا تھا۔     لارڈ کرزن خلیج عرب کے خفیہ دورے پر فوری روانہ ہونا چاہتا تھا او ر اُسے کسی معتمد اور راز دار عربی ترجمان کی ضرورت تھی، برصغیر میں عربی اس وقت دو جگہ تھی، یا تو دارالعلوم دیوبند اور اس سے ملحقہ دینی مدارس یا پھر علی گڑھ کا شعبہ عربی۔ اول الذکر سے تو ظاہر ہے کوئی ایسا ٹاؤٹ ملنا دشوار تھا، لارڈکرزن کی نظر انتخاب اسی طرح کی مشکلات کے حل کے لیے قائم کیے گئے ادارہ علی گڑھ پر پڑی، وہاں ایک مانگو تو چار ملتے تھے۔ مسئلہ چونکہ وائسرائے ہند کے ساتھ خفیہ ترین دورے پر جانے کا تھا، جس کے مقاصد اور کارروائی کو انتہائی خفیہ قرار دیا گیا تھا، ا س لیے کسی معتمد ترین شخص کی ضرورت تھی جو عقل کا کورا اور ضمیر کا ماراہوا ہو۔ سفارشوں پر سفارشیں اور عرضیوں پر عرضیاں چل رہی تھیں کہ خفیہ ہاتھ نے کارروائی دکھائی اور علی گڑھ کے سر پرستانِ اعلیٰ کی جانب سے ایک نوجوان فاضل کا انتخاب کرلیا گیا۔ لارڈکرزن صاحب کو ان کی عربی دانی سے زیادہ سرکار سے وفاداری کی غیر مشروط یقین دہانی کرادی گئی اور یوں یہ عجمی عربی دان مسلمان ہوکر بھی اس تاریخی سفر پر انگریز وائسراے کا خادم اور ترجمان بننے پر راضی ہوگیا، جس کے نتیجے میں آج خلیجی ریاستوں میں استعمار کے مفادات کے محافظ حکمران پنجے گاڑے بیٹھے ہیں اور امریکی وبرطانوی افواج کو تحفظ اور خدمات فراہم کررہے ہیں۔     یہ نوجوان فاضل حمید الدین فراہی تھے جو اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں ایک گاؤں ’’فراہا‘‘ میں پیدا ہوئے۔ موصوف مشہور مؤرخ علامہ شبلی نعمانی کالج میں عربی پڑھاتے رہے، لارڈکرزن کی ہم راہی کے لیے ان کے انتخاب میں علی گڑھ میں موجود ایک جرمنی پروفیسر ’’جوزف ہوروز‘‘ کی سفارش کا بڑا دخل تھا جو یہودی النسل تھا اورموصوف پر اس کی خاص نظر تھی۔ موصوف نے اس سے عبرانی زبان سیکھی تھی، تاکہ تورات کا مطالعہ اس کی اصل زبان میں کرسکیں۔     لارڈکرزن صاحب جناب فراہی کی صلاحیت اور کارکردگی سے بہت خوش تھے، چنانچہ واپسی پر انہیں انگریزوں کی منظور نظر ریاست حیدر آباد میں سب سے بڑے سرکاری مدرسہ میں اعلیٰ مشاہرے پر رکھ لیاگیا اور موصوف نے وہاں سے اس کام کا آغازکیا جو قسمت کامارا یہودیوں کا پروردہ ہر وہ شخص کرتا ہے جسے عربی آتی ہو۔ انہوں نے اپنے آپ کو قرآن کریم کی ’’مخصوص انداز‘‘ میں خدمت کے لیے وقف کرلیا۔ مخصوص اندازسے مراد یہ ہے کہ تمام مفسرین سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کی جائے کہ قرآن کریم کو محض لغت کی مدد سے سمجھا جائے۔ یہ لغت پرست مفسرین دراصل اس راستے سے قرآنی آیات کو وہ معنی پہنانا چاہتے تھے جس کی ان کو ضرورت محسوس ہو، اگرچہ دوسری آیات یا احادیث، مفسرین صحابہؓ وتابعینؒ کے اقوال اس کی قطعی نفی کرتے ہوں۔ درحقیقت قرآن سے ان حضرات کا تعلق‘ انکارِ حدیث پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہوتا ہے، جیساکہ تمام منکرین حدیث کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے اس عیب کو چھپانے کے لیے قرآن کریم سے بڑھ چڑھ کر تعلق اور شغف کا اظہار کسی نہ کسی بہانے کرتے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہی حیدر آباد ہے جہاں شاعر مشرق علامہ اقبالؒ جیسے فاضل شخص کو محض اس لیے ملازت نہ مل سکی کہ وہ مغرب دشمن شاعری کے مرتکب تھے، لیکن فراہی صاحب پر لارڈکرزن کا دست کرم تھا کہ حیدر آباد کی آغوش ان کے لیے خود بخود واہو گئی اور انہیں ایک بڑے ’’علمی منصوبے‘‘ کے لیے منتخب کرلیا گیا۔     اس منصوبے نے جو برگ وبار لائے انہیں مسلمانانِ برصغیر بالخصوص آج کے دور کے اہالیان پاکستان خوب خوب بھگت رہے ہیں۔ فراہی صاحب نے ’’تفسیر نظام القرآن‘‘ لکھی جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ کتب خانوں میں تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتی۔ علامہ شبلی نعمانیؒ، فراہی صاحب کے بارے میں اس وقت شدید تحفظات کا شکار ہوگئے تھے، جب ان کی بعض غیر مطبوعہ تحاریر ’’دار المصنفین‘‘ میں شائع ہونے کے لیے آئیں، لیکن ان کی طباعت سے انکار کردیا گیا کہ زبردست فتنہ پھیلنے کا خطرہ تھا۔ فراہی صاحب اپنے پیچھے چند شاگرد، چند کتابیں اور بے شمار شکوک وشبہات چھوڑ کر ۱۹۳۰ء میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ امین احسن اصلاحی     فراہی صاحب نے حیدر آباد سے منتقل ہونے کے بعد اعظم گڑھ کے ایک قصبے ’’سرائے میر‘‘ میں ’’مدرسۃ الاصلاح‘‘ نامی ادارہ قائم کیا۔ نام سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ تفسیر کے مسلمہ اصولوں کی اصلاح کرکے نئی جہتیں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ موصوف کے اس مدرسے میں ۱۹۲۲ء میں ایک نوجوان فارغ ہوا جو اساتذہ کا منظور نظر اور چہیتا تھا۔ فراہی صاحب نے اُسے دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ مل کر ’’قرآن کریم کا مطالعہ‘‘ کرے۔ یہ نوجوان آگے چل کر فراہی صاحب کا ممتاز ترین شاگرد اور ان کے نظریات وافکار کی اشاعت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا۔ یہ نوجوان جب ’’مدرسۃ الاصلاح‘‘ میں داخل ہوا تو امین احسن تھا، فارغ ہوا تو ’’امین احسن اصلاحی‘‘ بن چکا تھا۔ اس نے فراہی صاحب کی وفات کے بعد آپ کی یاد میں رسالہ ’’الاصلاح‘‘ جاری اور ’’دائرہ حمیدیہ‘‘ قائم کیا۔      اصلاحی صاحب انکارِ حدیث اور اجماعِ امت کے منکر ہونے کے علی الرغم جماعت اسلامی کے بانیوں میں سے تھے، اور ایک عرصہ تک مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ ۱۹۵۸ء میں مودودی صاحب سے اختلافات کی بنا پر جماعت سے علیحدہ ہوئے اور وہی کام شروع کیا جو ان کے استاد فراہی صاحب نے آخری عمر میں کیا تھا۔ موصوف نے ’’حلقۂ تدبر قرآن‘‘ قائم کیا، جس میں کالج کے طلبہ کو قرآن کریم اور عربی پڑھائی جاتی تھی، ساتھ ساتھ ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے تفسیر لکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی، لیکن اُسے مقبول کروانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ فراہی صاحب بہرحال عالم فاضل شخص تھے، لیکن اصلاحی صاحب اس پائے کے عالم نہ تھے، مغربی علوم تو کیا وہ شرعی علوم سے بھی کما حقہ واقف نہ تھے، ان کی تفسیر میں کئی بچگانہ غلطیاں ہیں۔ اصلاحی صاحب ہفتہ وار درس بھی دیتے تھے، لیکن انکارِ حدیث، تجدد پسندی اور لغت پرستی نے انہیں اپنے پیش رواستاذ کی طرح کہیں کا بھی نہ چھوڑا تھا، آخر خالد سعود اور جاوید غامدی جیسے شاگرد تیار کرکے ۱۹۹۷ء میں اس دارِفانی سے رخصت ہوگئے۔ محمد شفیق (جاوید احمد غامدی)     قیام پاکستان کے ابتدائی دور میں پاک پتن کے گاؤں میں ایک پیرپرست اور مزار گرویدہ قسم کا شخص رہتا تھا، جس کا نام محمد طفیل جنیدی تھا۔ مزاروں والا خصوصی لباس، گلے میں مالائیں ڈالنا، ہاتھ میں کئی انگوٹھیاں پہننا اور لمبی لمبی زلفیں بغیر دھوئے تیل لگائے رکھنا اس کی پہچان تھی۔ ۱۸؍اپریل ۱۹۵۱ء کو اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ نام تو اس کا محمد شفیق تھا، لیکن باپ کے مخصوص مزاج کی وجہ سے اس کا عُرف کا کوشاہ پڑ گیا۔ یہ خاندان ککے زئی کہلاتاتھا، اس طرح اس کا پورا عرفی نام ’’کاکو شاہ ککے زئی‘‘ بنا، محمد شفیق عرف کاکوشاہ ککے زئی جب گاؤں کی تعلیم کے بعد لاہور آیا تو اُسے اپ ٹوڈیٹ قسم کا نام رکھنے کی فکر لاحق ہوئی، اس نام کے ساتھ تو وہ ’’لہوریوں‘‘ کا سامنانہ کرسکتا تھا، سوچ سوچ کر اُسے ’’جاوید احمد‘‘ نام اچھا معلوم ہوا کہ کہ ماڈرن بھی تھا اور رعب دار بھی۔ اس نے محمد شفیق سے تو جان چھڑالی، اب ’’کاکو شاہ ککے زئی‘‘ کے لاحقے کا مسئلہ تھا جو کافی سنگین اور مضحکہ خیز تھا، لیکن فی الحال اُسے اس کی خاص فکر نہ تھی۔ اس زمانے میں اس کا ایک قریبی دوست ہوتا تھا ’’جناب رفیق احمد چوہدری‘‘ وہ اس روئیداد کے عینی گواہ ہیں۔      سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ۱۹۷۲ء کا دور تھا، کاکوشاہ لاہور گورنمنٹ کالج سے بی اے آنرز کرنے کے بعد معاشرے میں مقام بنانے کی جد وجہد کررہا تھا، اس کی انگریزی تویوں ہی سی تھی، لیکن قدرت نے اُسے ایک صلاحیت سے خوب خوب نوازا تھا، وہ تھی طلاقت ِلسانی، اس کے بل بوتے پروہ تعلقات بنانے اور آگے بڑھنے کی سعی میں مصروف تھا، آخرکار اس کی جد وجہد رنگ لائی اور وہ اپنی چرب زبانی سے پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف جناب مختار گوندل کو متاثر کرکے اوقاف کے خرچ پر ۲۹؍ جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ’’دائرۃ الفکر‘‘ کے نام سے ایک تربیتی اور تحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈالنے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر جلد ہی قدرت نے اُسے مولانا مودودی مرحوم کے سایۂ عاطفت میں ڈال دیا تو جاوید احمد کو فوری طور پر جماعت اسلامی میں پذیرائی ملی، رکنیت ِمجلس شوریٰ تو چھوٹی شئے ہے، اس کے حواری اُسے مولانا مودودی کا ’’جانشین‘‘ بتانے لگے۔     آخر کار جب جاوید احمد کو جماعت اسلامی سے ۱۹۵۷ء میں الگ ہونے والے مولانا امین احسن اصلاحی سے روابط کا شوق مولانا کے قریب تر اور جماعت اسلامی سے مزید دور لے جانے کا باعث بنا، تو آہستہ آہستہ وہ جاوید احمد سے جاوید احمد غامدی ہوگیا۔ اس لقب کی ’’جناب جاوید احمد غامدی صاحب‘‘ چار وجوہات بیان کرتے ہیں اور صحیح ایک کو بھی ثابت نہیں کرسکتے،حال ہی میں ان کے ایک شاگرد خاص نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ ’’اصل میں وہ اصلاحی صاحب سے عقیدت کی وجہ سے اصلاحی لقب رکھنا چاہتے تھے، لیکن ’’مدرسۃ الاصلاح‘‘ سے فارغ نہ تھے، اس لیے غامدی نام رکھ لیا۔ ’’سبحان اللہ! چھوٹے میاں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ غامدی نہ اصلاحی کے ہم وزن ہے نہ ہم معنی ! آخر کس طرح سے اصلاحی سے غامدی تک چھلانگ لگادی گئی؟؟ گویا یہ پانچویں وجہ بھی عارہی عار ہے اور پورا مکتب فکر مل کر اپنے بانی کے نام کی درست توجیہ کرنے سے قاصر ہے۔     ۲۰۰۱ء سے قبل غامدی صاحب کی تحریک پروان چڑھ رہی تھی، لیکن اسے لارڈکرزن کی سرپرستی دستیاب نہ تھی، ۲۰۰۱ء میں یہ کمی بھی پوری ہوگئی اور ان کے سر پر عصر حاضر کے لارڈکرزن کا دست شفقت کچھ ایسا جم کر ٹکا کہ وہ شخص جس کا دینی اور مذہبی علم کسی باقاعدہ مسلمہ دینی درس گاہ کا مرہون منت نہیں، بلکہ اس کا علم جنگلی گھاس کی طرح خود رو ہے اور اس کی عقل وفہم کسی مسلمہ ضابطہ کی پابند نہیں ہے، جو عربی کی دوسطریں سیدھی نہیں لکھ سکتا ، جو انگریزی کی چار نظموں اور چار مصرعوں کی پونجی میں آدھے سے زیادہ مصرعے چوری کرکے ٹانکتا ہے، جس کی اکثر اردو تحریریں سرقہ بازی کا نتیجہ ہیں، وہ آج ملک کا مشہور ومعروف اسکالر ہے اور اس کافرمایا ہوا مستند سمجھاجاتا ہے۔ ’’ککے زئی سے غامدی تک‘‘ کے سفر کی روداد عبرت ناک بھی ہے اور الم ناک بھی۔ سچ ہے استاذ اپنے شاگردوں سے ہی پہچانا جاتا ہے اور شاگرد اپنے استاذ کی پہچان کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ’’فراہی سے اصلاحی اور اصلاحی سے غامدی تک’’ استاذی شاگردی کا سلسلہ اس مقولے کی صداقت کے لیے کافی سے زیادہ شافی ہے۔  ’’بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ‘‘     غامدی صاحب کے متعلق اوپر جو باتیں لکھی گئیں یقینا یہ ان کے بہت سے محبین کے لیے نئی ہوں گی، مگر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے عقائد ونظریات، قرآن وسنت، اجماع امت اور دین ومذہب کو بگاڑنے، اکابر واسلافِ امت کے خلاف بغاوت کرنے اور ان کے خلاف زبان درازی کرنے کی ہمت رکھتے ہوں، وہ دنیا بھر کی اسلام دشمن قوتوں اور مذہب بیزارلابیوں کے منظور نظر بن جاتے ہیں، ان کے تمام عیوب ونقائص نہ صرف چھپ جاتے ہیں، بلکہ اعدائے اسلام ان کی سرپرستی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو اپنا فرض اور اعزاز سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت وسرپرستی کے لیے اپنے اسباب، وسائل، مال ودولت اور خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں، صرف یہی نہیں، بلکہ نظری، بصری میڈیا کے ذریعے ان کا ایسا تعارف کرایا جاتا ہے کہ دنیا ان کی نام نہاد علمی شوکت وصولت کے سامنے ڈھیر ہوجاتی ہے۔     جس طرح آج سے ایک صدی پیشتر ضلع گورد اس پور کی بستی قادیان کے میٹرک فیل اور مخبوط الحواس انسان غلام احمد قادیانی کو استعمار نے اٹھایا، اس کی سرپرستی کی اور اس سے دعویٰ نبوت کرایا، ٹھیک اسی طرح دور حاضر کے نام نہاد اسکالر جاوید غامدی کا قضیہ ہے، جس طرح غلام احمد قادیانی کا کوئی پس منظر نہیں تھا اور اس میں ا س کے سوا کوئی کمال نہیں تھا کہ اس نے مسلمانوں کے قرآن کے مقابلہ میں نیا قرآن، مسلمانوں کے دین کے مقابلہ میں نیا دین اور مسلمانوں کے نبی کے مقابلہ میں نئی نبوت کا اعلان کیا، جہاد جیسے دائمی فریضہ کو حرام قرار دیا اور حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے قطعی عقیدہ کا انکار کیا، اسی طرح جناب جاوید احمد غامدی صاحب بھی دین اسلام کے مقابلہ میں نئے ترمیم شدہ دین اور مذہب کی ایجاد کی کوشش میں ہیں اور انہوں نے بھی اپنے پیش روؤں کی طرح منصوص دینی مسلمات کے انکار پر کمر ہمت باندھی ہوئی ہے۔     جاوید احمد غامدی کے معتقدین نے خود ان کا تعارف اور پیدائش کے بعد تعلیم وتعلم کو اس طرح بیان کیا ہے:     جاوید احمد غامدی کی پیدائش ۱۸؍ اپریل ۱۹۵۱ء کو ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں جیون شاہ میں ہوئی۔ آبائی گاؤں ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ داؤد ہے اور آبائی پیشہ زمینداری ہے۔ ابتدائی تعلیم پاک پتن اور اس کے نواحی دیہات میں پائی۔ اسلامیہ ہائی اسکول پاک پتن سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور اس کے ساتھ انگریزی ادبیات میں آنرز (حصہ اول) کا امتحان پاس کیا۔     عربی وفارسی کی ابتدائی تعلیم ضلع ساہیوال ہی کے ایک گاؤں نانگ پال میں مولوی نور احمد صاحب سے حاصل کی، دینی علوم قدیم طریقے کے مطابق مختلف اساتذہ سے پڑھے، قرآن وحدیث کے علوم ومعارف میں برسوں مدرسۂ فراہی کے جلیل القدر عالم اور محقق امام امین احسن اصلاحی سے شرف تلمذ حاصل رہا، ان کے داد انور الٰہی کو لوگ گاؤں کا مصلح کہتے تھے، اسی لفظ مصلح کی تعریب سے اپنے لیے غامدی کی نسبت اختیار کی اور اب اسی رعایت سے جاوید احمد غامدی کہلاتے ہیں۔ (دانش سرا، المورد، ماہنامہ) جاوید احمد غامدی پاکستان سے تعلق رکھنے والے مدرسہ فراہی کے معروف عالم دین، شاعر، مصلح، فقیہ العصر اور قومی دانشور ہیں۔ (بحوالہ وکی پیڈیا)۔                                    (جاری ہے)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے