بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

بینات

 
 

توہینِ رسالت قانون ومدارسِ دینیہ سے امتیازی سلوک کیوں   ؟!

توہینِ رسالت قانون ومدارسِ دینیہ سے
 امتیازی سلوک کیوں   ؟!

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

 

مشہور کہاوت ہے کہ: ایک شخص ایک بستی کے پاس سے گزررہا تھا، کتے اس کے پیچھے پڑگئے، اس نے کتوں کو بھگانے کے لیے زمین سے پتھر اُٹھانے کی کوشش کی تو زمین کے یخ بستہ ہونے کی وجہ سے وہ شخص پتھر زمین سے اُٹھا نہ سکا، تو کہنے لگا کہ: بستی کے لوگ کتنے ظالم ہیں! کتوں کو چھوڑ رکھا ہے اور پتھروں کو باندھ رکھا ہے۔
کچھ یہی حال ہماری حکومتوں اور مقتدر طبقہ کا ہے۔ ایک طرف بے دین، دین دشمن وملک دشمن عناصر کو کھلی چھٹی دینے کے علاوہ پرائیویٹ اسکول، این جی اوز کے ماتحت عصری اداروں کو مادر پدر آزادی ملی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہیں من مانی کریں، جتنا چاہیں فیسیں بڑھائیں اور جو چاہے نصاب پڑھائیں اور جس طرح چاہیں ملکِ پاکستان کے نونہالوں کے ذہنوں کو ڈھالیں، ایسے ادارے اور عصری اسکول جو ملکِ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا اور ملک کو نیم جان کررہے ہیں، ان کے تو تمام کرتوتوں سے صرفِ نظر اور دینی مدارس جو ملکِ عزیز کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی سالمیت اور استحکام کی ضمانت ہیں، ان کو جکڑنے اور ان کے خلاف شکنجہ کسنے کے لیے آئے دن بے جا قوانین کی آڑ میں ان پر سختیاں کی جارہی ہیں۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل خبر ایک اسکول کے بارہ میں لکھی گئی ہے، ہم اس اسکول کا نام لیے بغیر جو کچھ اس میں ہورہا ہے اس کی نشان دہی کیے دیتے ہیں اور یہ ایسی باتیں ہیں جن کو پڑھنے سے ایک عقل مند آدمی کے ہوش اُڑجاتے ہیں اور سوچ میں پڑجاتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ ہمارے ملک پاکستان میں ہورہا ہے اور اگر یہ ہورہا ہے تو ہمارے اربابِ اقتدار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف نوٹس کیوں نہیں لیتے؟! اور اگر یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟! لیجیے! آپ بھی اس مضمون کے (جو محترم جناب شاہد خان صاحب نے لکھا ہے)چیدہ چیدہ اقتباسات پڑھ لیجیے:
’’کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ’’اسکول‘‘ کسی ریاست کو شکست دے سکے؟! اس اسکول کا نام سب سے پہلے سوشل میڈیا پر تب گردش میں آیا جب وہاں موجود طالبات نے اپنے خون آلود پیڈز اور زیرجامے دیواروں پر چسپاں کر کے اپنی ’’ آزادی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ پھر وہاں طلبہ و طالبات کی مخلوط ڈانس محفلوں کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔ پھر وہاں کے پڑھائے جانے والے نصابی کتب کے سکرین شاٹس شیئر ہوئیں، جن میں پاکستان کے ایسے نقشے تھے جہاں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے علاوہ گلگت،  بلتستان کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور ان کتابوں میں ان کو ’’ انڈین سٹیٹس‘‘ لکھا گیا تھا۔ اور یہ معاملہ کسی ایک کتاب تک محدود نہیں تھا، بلکہ تقریباً تمام کلاسز کی تمام کتابوں میں تھا، جن کے خلاف سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے احکامات بھی بے اثر ثابت ہوئے۔ 
اس اسکول کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز اُٹھانے والے اس اسکول کے سابق ملازم ۔۔۔۔۔۔۔ کو اس قسم کے مواد کے خلاف آواز اُٹھانے پر زدوکوب کیا گیا اور قتل تک کی دھمکیاں ملیں۔ پاکستانی معاشرے میں سرائیت کرنے والے ان طلبہ کی اکثریت تقریباً لادین ہے۔ وہ ان تمام نظریات اور افکار کا تمسخر اُڑاتے نظر آتے ہیں، جن پر نہ صرف ہمارا معاشرہ کھڑا ہے، بلکہ جن کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا تھا۔ حد یہ ہے کہ ان طلبہ کی اکثریت کو اُردو سے بھی تقریباً نابلد رکھا جاتا ہے، جو اسلام کے بعد پاکستان کو جوڑے رکھنے والا دوسرا اَہم ترین جز ہے۔ 
پاکستان کے اعلیٰ ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے ان طلبہ کی اکثریت بڑی تیزی سے پاکستان میں اہم ترین پوزیشنیں سنبھال رہی ہے۔ اگر یہ اسکول اسی رفتار سے کام کرتا رہا تو آنے والے پانچ سے دس سالوں میں پاکستان ایک لبرل ریاست بن چکا ہوگا، جس کے بعد اس کے وجود کو پارہ پارہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ مشہور زمانہ گرفتار شدہ ملعون ایاز نظامی کے الفاظ شاید آپ کو یاد ہوں کہ :
’’ ہم نے تمہارے کالجز اور یونیورسٹیز میں اپنے سلیپرز سیلز ( پروفیسرز اور لیکچررز ) گھسا دئیے ہیں، جو تمہاری نئی نسل کے ان تمام نظریات کو تباہ و برباد کر دیںگے جن پر تم لوگوں کا وجود کھڑا ہے۔ انہیں پاکستان کی نسبت پاکستان کے دشمن زیادہ سچے لگیں گے۔ وہ جرأتِ اظہار اور روشن خیالی کے زعم میں تمہاری پوری تاریخ رد کردیںگے۔ انہیں انڈیا فاتح اور تم مفتوح لگو گے۔ انہیں تمہارے دشمن ہیرو اور خود تم ولن نظر آؤگے۔ انہیں نظریۂ پاکستان خرافات لگے گا۔ اسلامی نظام ایک دقیانوسی نعرہ لگے گا اور وہ تمہارے بزرگوں کو احمق جانیں گے۔ وہ تمہارے رسول پر بھی بدگمان ہوجائیں گے، حتیٰ کہ تمہارے خدا پر بھی شک کرنے لگیں گے۔‘‘
اس اسکول نے’’ تعلیم‘‘ کے عنوان سے پاکستان کے خلاف جو جنگ چھیڑ رکھی ہے، اس کو روکنے میں میڈیا اور سپریم کورٹ (بظاہر) دونوں ناکام نظر آرہے ہیں۔ ‘‘

https://web.facebook.com/beaconhousewaronpakistan/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ادارے کے بارہ میں ایسی اطلاعات کے بعد اس کو بند کردینا چاہیے تھا، جو دینِ اسلام اور ملکِ پاکستان کے خلاف کھلم کھلا بچوں کا ذہن بنارہا ہے اور اپنے نصاب میں ہندوستان کے موقف کی حمایت اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کو پسِ پشت ڈال رہا ہے۔ لیکن اے کاش! کہ ہماری حکومتوں کی طرف سے اس کے برخلاف دینی مدارس پر چڑھائی ہورہی ہے، صوبہ پنجاب میں مدارس کو کنٹرول بلکہ بند کرنے کے مترادف ان کے خلاف خاموشی سے چیرٹی ایکٹ کے نام سے قانون بنادیا گیا ہے جس کو ۲۸؍ فروری ۲۰۱۸ء کو پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے پاس کیا اور ۷؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو گورنر نے اس پر دستخط کرکے قانون کا حصہ بنادیا ، جس سے یہ صاف صاف نظر آرہا ہے کہ اس سے مدارس کو بالکل ہی ختم کرنے کا منصوبہ بنالیا گیا ہے۔
انہی حالات کے پیش نظر ۲۹-۳۰؍ ستمبر کو جامعہ دارالعلوم کراچی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وفاق المدارس العربیہ ’’چیرٹی ایکٹ‘‘ کو یکسر مسترد کرتا ہے ، اس کے خلاف ملک گیر مہم شروع کی جائے گی۔ صوبوں، ڈویژنز اور اضلاع کی سطح پر کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ اور یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وفاق المدارس کو ’’ایگزامنر یونیورسٹی‘‘ یا ’’خودمختار تعلیمی وامتحانی بورڈ‘‘ کا درجہ دیاجائے۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور دیگر تمام اُمور کو وزارتِ تعلیم کے سپرد کیا جائے۔ قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی، این ۔ او۔ سی کی شرط اور کھالیں جمع کرنے کی پاداش میں دینی مدارس کے ذمہ داران کو سنائی جانے والی سزاؤں، جرمانے اور دیگر اقدامات کے خلاف وفاق المدارس کا عدالت سے رجوع کا فیصلہ ۔ میٹرک تک یکساں نصابِ تعلیم نافذ کرنے، چھٹی جماعت تک ناظرہ قرآن کریم اور انٹرمیڈیٹ (بارہویں) تک ترجمۂ قرآن کریم مکمل کرنے کے قانون پر عملدرآمد کیا جائے۔ کوائف طلبی کے نام پر مدارس کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔ دینی مدارس کے نمائندہ وفاقوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔ عربی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے اور سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ نیز اُردو زبان کو حقیقی معنوں میں قومی زبان کا درجہ دے کر ذریعۂ تعلیم بنایا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ وفاق المدارس العربیہ کی مجلسِ عاملہ نے حکومت سے مذاکرات کے لیے گیارہ رکنی کمیٹی کا اعلان بھی کیا، جن کے نام یہ ہیں:
۱:- حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب، صدرِ وفاق، ۲:- حضرت مولانا انوار الحق صاحب، نائب صدر وفاق، ۳:- حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، نائب صدر وفاق، ۴:- حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب، ناظمِ اعلیٰ وفاق، ۵:- حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، ۶:- حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب، ۷:- حضرت مولانا صلاح الدین صاحب، ۸:- حضرت مولانا سعید یوسف صاحب، ۹:- حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب، ۱۰:-حضرت مولانا فیض محمد صاحب، ۱۱:- حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب۔ 
اس کے علاوہ عصری اسکولوںکے نظامِ تعلیم میں آئینِ پاکستان کے تقاضوں کے مطابق اسلامی علوم کو شامل کروانے اور تعلیمی اداروں کو بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والی این جی اوز کے سپرد کرنے سمیت دیگر اُمور کی نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس کے ارکان یہ ہوں گے:
۱:- مولانا ڈاکٹر عادل خان صاحب، ۲:- مولانا امداد اللہ یوسف زئی صاحب، ۳:-مولانا حسین احمد صاحب، ۴:- مولانا قاضی عبدالرشید صاحب،۵:-مولانا سعید خان اسکندر صاحب، ۶:- مولانا سعید یوسف صاحب۔
اس کے ساتھ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحان منعقدہ ۱۴۳۹ھ میں پوزیشن لینے والے طلبہ وطالبات کے اعزاز میں آزاد کشمیر، گلگت،   بلتستان اور چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد میں تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
ہوتا یہ ہے کہ حکومتیں بظاہر مدارس اصلاحات کا نام لیتی ہیں، مدارس کی قربانیوں اور خدمات کا اعتراف بھی کرتی ہیں، ان کے لیے کچھ کرگزرنے کا اعلان بھی ہوتاہے، لیکن یہ سب کچھ ہماری دانست میں درحقیقت اُن کو جال میں پھانسنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور یہ صدر جنرل ایوب خان کے زمانہ سے ہورہا ہے اور یہ تمام تر بیرونی ایجنڈے کے ایما پر ہوتا ہے، جو آج تک تواتر کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ پرویز مشرف نے بھی مدارس کے کردار کو سراہا کہ مدارس پاکستان میں بڑی این جی اوز ہے جو دس لاکھ طلبہ کے کھانے کا انتظام کرتی ہے، لیکن سب سے زیادہ مدارس پر پابندیاںاس کے دور میں لگیں، علماء کرام کی شہادتیں سب سے زیادہ اس کے دور میں ہوئیں۔ 
حال ہی میں محترم جناب وزیراعظم عمران خان صاحب نے بھی مدارس کے بارہ میں کچھ کرگزرنے کا ارادہ کیا ہے، جیسا کہ انہوں نے اپنے کئی بیانوں میں اس کا اظہار بھی کیا، بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی بیرونی نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کا تسلسل ہے۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ بہرحال انہوں نے اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کو ۳؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز بدھ کو وزیراعظم ہاؤس بلایا اور ان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ تک رہی۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ جناب قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے درج ذیل پندرہ مطالبات وزیراعظم کے سامنے رکھے:
۱:-دینی مدارس وفاقی ادارے ہیں، اُن کا نیٹ ورک آزاد کشمیر، گلگت،  بلتستان سمیت پورے ملک میں ہے، لہٰذا اُن کے جملہ معاملات کو حکومت کی طرف سے وفاقی سطح پر ڈیل کیا جائے۔
۲:-دینی مدارس چونکہ تعلیمی ادارے ہیں، اس لیے ان کے جملہ اُمور وزارتِ تعلیم کے متعلق ہونے چاہئیں۔
۳:-ملک بھر میں ایک نظام اور ایک طریقہ کار کے مطابق رجسٹریشن کروائی جائے، جس طرح ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، ویسے ہی مدارس کی بھی رجسٹریشن ہو، اس میں کوئی امتیازی شرائط یا پیچیدگیاں نہ ہوں۔
۴:-مدارس کے سال میں ایک مرتبہ کوائف جمع کیے جائیں۔ ایک ادارہ، کسی ایک ڈیٹا فارم کی بنیاد پر کوائف جمع کرے اور باقی جن اداروں کو دینی مدارس کے کوائف مطلوب ہوں، وہ اسی ادارہ سے لے لیں۔
۵:- دینی مدارس میں پڑھنے کے لیے آنے والے غیر ملکی طلبہ کے ویزوں پر سے نہ صرف یہ کہ پابندی ختم کی جائے، بلکہ ان کو ویزوں کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔
۶:-قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے اداروں کے افراد پر جو دہشت گردی مقدمات، ان کی گرفتاریاں اور ان پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں، ان کو فی الفور ختم کیا جائے۔
۷:-جن علمائے کرام اور مذہبی کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں، ان کے نام فوری طور پر فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں۔
۸:-دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹ کھولنے پر غیراعلانیہ پابندی عائد کردی گئی ہے، اسے فی الفور ختم کیا جائے۔
۹:-مدارس ومساجد کو بجلی وگیس کے بلوں میں استثناء دیا جائے یا اُنہیں گھریلوصارفین کے ریٹ پر بل ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔
۱۰:-مدارس میں زیرِتعلیم طلبہ کی اسناد کو صحیح حیثیت دی جائے اور ان کے ساتھ امتیازی رویہ بند کیا جائے۔
۱۱:-دینی مدارس اور عصری اسکولوں کے نصاب کو میٹرک تک ایک کیا جائے اور نہ صرف یہ کہ مدارس اور اسکولوں کا نصاب یکساں کیا جائے، بلکہ پاکستان سے طبقاتی تفریق ختم کردی جائے، اسی طرح اس حوالے سے تشکیل دی گئی ٹاسک فورس میں دینی مدارس اور علمائے کرام کو مزید نمائندگی دی جائے۔
۱۲:-عربی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دیاجائے، کیونکہ یہ قرآن کریم، رسولِ کریم(a) اور جنت کی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے دین کی زبان ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی جائے۔
۱۳:-گزشتہ دور میں جن حکومتوں نے چھٹی کلاس تک ناظرہ اور بارہویں تک مکمل ترجمۂ قرآن لازمی قراردینے کی قانون سازی کرلی، قومی اسمبلی، سینیٹ اور پنجاب اسمبلی میں بل پاس ہوئے وہ اور جن صوبائی اسمبلیوں نے ابھی تک قانون سازی نہیں کی، ان سے اس سلسلہ میں قانون سازی کرائی جائے اور اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ 
۱۴:-اردو کو صحیح معنوں میں قومی زبان کا درجہ دیا جائے اور اردو کو ذریعۂ تعلیم قرار دیاجائے۔
۱۵:- جمعہ کی چھٹی بحال کی جائے۔ 
محترم وزیراعظم صاحب نے ان باتوں کو غور سے سنا اور مدارس کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ: آپ حضرات ۳۵؍ لاکھ بچوں کی تعلیم اور کفالت کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہیں، یہ آپ کی بڑی کنٹری بیوشن ہے اور یہ بھی کہا کہ: مدارس کو دہشت گردی سے منسلک کرنا ناانصافی ہے۔ مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم صاحب نے جناب شفقت محمود وزیرِتعلیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو مدارس کی قیادت کے ساتھ جملہ حل طلب اُمور پر مذاکرات اور کام کرے گی۔ اور وفاقی وزیرِ مذہبی اُمور اُن کی معاونت کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نواز شریف کے گزشتہ دورِ حکومت میں ’’ختم نبوت‘‘سے متعلق حلف نامہ کو غیرمؤثر کرنے کی کوشش کی گئی، اس پر ان کو ناکامی ہوئی۔ اب نئے سرے سے اور ایک نئے انداز سے توہینِ رسالت قانون کو غیرمؤثر کرنے کی کوشش اس نئی حکومت نے شروع کردی ہے، جس کی خبر عام اخبارات نے تو چھاپنے کی زحمت گوارا نہیں کی، یا بزورِ قوت ان کو خبرلگانے سے روکا گیا، صرف ایک اخبار روزنامہ ۹۲نیوز نے ۲۰ستمبر ۲۰۱۸ء کو یہ خبر لگائی کہ : توہینِ رسالت کے مرتکب شخص اور جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت ہوگی۔ الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل سینیٹ میں پیش، سوشل میڈیا پر قرآن پاک کی بے حرمتی پر عمر قید، مذہبی شخصیات کی توہین پر ۳؍ سال ، فحش مواد تیار کرنے پر ۴ ؍ سال سزا ہوگی۔ قادیانی گروپ کو خود کو مسلمان کہنے، عقیدے کی تبلیغ پر ۳؍ سال قیدوجرمانہ ہوگا۔ سماعت گریڈ۱۸؍ کا افسر کرے گا۔ بل غور کے لیے کمیٹی کے سپرد، اس کی تفصیلات درج ذیل خبر میں ملاحظہ فرمائیں:
’’ اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی، نامہ نگار، آئی این پی) سینیٹ میں الیکٹرانک کرائمز کی ممانعت (ترمیمی) بل ۲۰۱۸ء پیش کردیا گیا۔ بل کے تحت سوشل میڈیا پر قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کرنے والے کو عمر قید، توہینِ رسالت کے مرتکب شخص اور توہینِ رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت، مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات کے استعمال پر تین سال قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ بل میں قادیانی گروپ کے لوگوں کو خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے پر تین سال تک کی قید اور جرمانہ بھی کیا جائے گا۔ بل میں سوشل میڈیا پر فحش مواد تیار کرکے ڈالنے پر ۴؍ سال تک قید اور ۳۰ لاکھ روپے جرمانہ، فحش مواد کو کسی بھی قانونی جواز کے بغیر کسی کو بھی تقسیم پر ۳؍ سال تک قید اور ۲۰ لاکھ روپے جرمانہ ہوسکے گا۔ سینیٹ میں بل وزیرِمملکت خزانہ حماد اظہر نے پیش کیا۔ بل کے مطابق کسی بھی طبقے کے مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے اس کے مذہب کی یا مذہبی عقائد کے توہین آمیز مواد کو پھیلانے پر ۱۰؍ سال تک کسی بھی نوعیت کی سزائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کرنے والے کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔ توہینِ رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔ مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات کے استعمال پر تین سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ بعض مذہبی شخصیات یا زیارت گاہوں کے لیے مخصوص صفات، توضیحات اور عنوانات وغیرہ کے غلط استعمال پر تین سال تک سزائے قید دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جائے گا۔ قادیانی گروپ وغیرہ کے شخص کی طرف سے اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے پر تین سال تک سزائے قید دی جائے گی اور جرمانہ بھی کیا جائے گا۔ بل میں توہینِ رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ توہینِ رسالت سے متعلق مقدمے کی سماعت گریڈ ۱۸ کا افسر کرے گا۔ بل میں سوشل میڈیا پر فحش مواد تیار کرتا ہے یا فروخت کرتا ہے، اس کو ۴؍ سال تک کی پابندِ سلاسل اور ۳۰؍ لاکھ روپے جرمانہ ہوسکے گا۔ اسی طرح فحش مواد کو کسی بھی قانونی جواز کے بغیر کسی کو بھی تقسیم کرتا ہے تو جرم کا قصور وار ہوگا اور اسے ۳؍ سال تک قید اور ۲۰؍ لاکھ روپے جرمانہ ہوسکے گا۔ پریزائڈنگ آفیسر سینیٹر ستارہ ایاز نے بل کو مزید غوروخوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔‘‘ (روزنامہ ۹۲ نیوز، ۲۰؍ ستمبر ۲۰۱۸ء)
اس خبر کے عام ہونے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے ایک وفد نے بل کے محرک وزیرمملکت برائے خزانہ جناب حماد اظہر سے ملاقات کی تو انہوںنے یقین دہانی کرائی کہ یہ بل سینیٹ سے واپس لے لیا جائے گا، لیکن آج کی خبر ہے کہ وہ بل جس کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا، اس پر غوروخوض کے لیے اجلاس بلایا گیا، جس سے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے اسلام اور سینیٹر فدامحمد خان صاحب نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، اس کی تفصیل اس خبر میں ملاحظہ فرمائیں:
’’اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام نے توہینِ رسالت کا جھوٹا الزام لگانے پر مجوزہ سزائے موت ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ بند کمروں میں بیٹھ کر توہینِ رسالت قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینٹر روبینہ خالد کی زیرِ صدارت قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے اجلاس میں توہینِ رسالت قانون کا ترمیمی بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنا لوجی میں پیش ہوا، جے یوآئی کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری رکاوٹ بن گئے۔ ممبران کے واک آؤٹ پر اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل میں ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک کرائمز بل کی شق نمبر۲۷-جی کو حذف کیا جائے۔ اس شق کے مطابق توہینِ رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو وہی سزا یعنی سزائے موت ہوگی جو اس جرم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شق ۲۷-جی پہلے سے موجود اُصول سے انحراف اور مقدمہ درج کروانے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے توہینِ رسالت قانون میں ترمیم لائی جارہی ہے۔ مولانا حیدری نے کہا کہ: ملک میں ہر دوسرا قانون غلط استعمال ہوتا ہے، وہاں تو کسی کو فکر لاحق نہیں ہوتی، لہٰذا ہم اس قانون میں تبدیلی نہیںکرنے دیں گے۔ اس سے قبل بھی اس قانون نے کئی جانیں لی ہیں، اس لیے اس قانون کو مت چھیڑا جائے، وگرنہ کسی بھی نقصان کے ذمہ دار یہ خود ہوں گے اور تنبیہ کی کہ اگر اس طرح کا کوئی بھی اقدام اُٹھایا گیا تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔ آئندہ کمیٹی کے اجلاس میں نہیں بیٹھوں گا۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ توہینِ رسالت کے حوالے سے قوانین پہلے سے بنے ہوئے ہیں، میں اس قانون کو چھیڑنے کے حق میں نہیں، اس سے ملک میں افراتفری پھیلے گی۔ چیئرپرسن کمیٹی روبینہ خالد نے کہا کہ جھوٹی گواہی دینے پر قذف کا قانون موجود ہے۔ جھوٹے الزامات کی سزا سخت نہ ہو، لیکن سزا ضرور ہونی چاہیے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ: امریکا اور یورپ ہمارے مذہب کو توہین کا نشانہ بناتے ہیں، قانون میں یہ چیز ڈالیں کہ اگر بیرونِ ملک کوئی ہمارے نبی کی توہین کرے تو اس کو ہم یہاں طلب کریں، توہینِ رسالت کا الزام لگانے والے کے لیے سزا کے معاملے کو ان کیمرا اجلاس میں زیربحث لایا جائے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سلمان تاثیر کا قتل بہت غلط اقدام تھا، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، تاہم بند کمروں میں بیٹھ کر توہینِ رسالت قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ مولانا عبدالغفور حیدری اور تحریک انصاف کے سینیٹر فدا محمد کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے، جس پر کمیٹی چیئرپرسن نے اجلاس کو غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا۔‘‘                                         (روزنامہ اُمت، راولپنڈی،۱۱؍ اکتوبر۲۰۱۸ء)
اُدھر ۸؍اکتوبر۲۰۱۸ء کو متحدہ مجلسِ عمل کے زیراہتمام حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کی صدارت میں قومی مشاورت کانفرنس‘ اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں متحدہ مجلسِ عمل کی پوری قیادت، اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے نمائندگان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علاوہ تقریباً تمام مذہبی جماعتوں کے نمائندے، شعبہ صحافت اور شعبہ تجارت سے متعلق حضرات بھی موجود تھے۔ اس کانفرنس کے اعلامیہ میں کہاگیا کہ: 
۱:- ختم نبوت یا توہینِ رسالت قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی کی ہم حکومت کو اجازت نہیں دیں گے اور حکومتی پالیسی ساز شخصیات کے بیانات کی یہ اجلاس مذمت کرتا ہے۔
۲:- دینی مدارس کی اتحادِ تنظیمات مدارسِ دینیہ نے جو مطالبات حکومت کو پیش کیے ہیں، اس پر سب کا اتفاق ہے، ایک مہینہ تک ان کی منظوری کا ہم انتظار کریں گے اور اگر نہیں ہوا تو اگلے اقدامات بعد میں کیے جائیں گے۔
۳:- مقبوضہ کشمیر کے الیکشن کو وہاں کی عوام نے مسترد کیا ہے۔ یہ اجلاس ان کے عوامی فیصلے کی تائید کرتا ہے اور یہ کہ مقبوضہ کشمیر میں الیکشن استصوابِ رائے کا متبادل نہیں ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دیا جائے۔
۴:- یہ اجلاس ہندوستان کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات کی پرزور مذمت کرتا ہے اور حالیہ دنوں میں چار سو میزائلوں کی خریداری خطہ میں طاقت کے توازن کو بگاڑسکتی ہے اور پاکستان کے لیے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ اجلاس اس پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اس جیسے اقدامات کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کرتا ہے۔
۵:- کشمیر اور فلسطین کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کا یہ اجلاس اعادہ کرتا ہے اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
۶:- برما، شام، عراق، لیبیا میں عام بے گناہ لوگوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اور یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بیرونی قوتیں افغانستان اور اسلامی دنیا سے فوری طور پر انخلاء کا اعلان کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ اقتدار میں آکر اتنا بے حس کیوں ہوجاتے ہیں کہ ان کو محسنِ انسانیت، فخرِ رسل، شفیع المذنبین، خاتم الانبیاء، حضرت محمد رسول اللہ a کی عزت وعظمت کی حفاظت کی بجائے آپa کی عزت وناموس کو مجروح کرنے کے راستے ڈھونڈتے اور بناتے ہیں۔ کیا دنیا میں کہیں ایسا قانون ہے کہ ایک مقتول کا وارث قاتل پر ایف آئی آر درج کرائے، یہ مقدمہ عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد شہادتوں کے سقم یا کسی بھی قانونی تقاضے کو پورا نہ کرسکنے یا کسی قسم کے شک کی بناپر عدالت قتل کے ملزم کو بری کردے تو کیا اس ۳۰۲ کے مدعی کو سزائے موت سنادی جاتی ہے؟ پاکستانی عدالتوں میں کتنے کیس ایسے ہیں جن میں مدعی کی کمزوریوں یا قانونی مجبوریوں پر ملزم کو شک کا فائدہ دے کر بری کردیا جاتا ہے، حالانکہ مدعی سو فیصد سچا ہوتا ہے، تو کیا ایسے مظلوم مدعی کو پھانسی چڑھادیا جائے؟ ٹھیک ہے ۳۰۲ کے قانون میں بھی یہی سزا تجویز کردو کہ مقتول کے ورثاء نے اگر اپنا دعویٰ ثابت نہ کیا تو قاتل کو معافی دی جائے گی اور قتل کا دعویٰ ثابت نہ کرنے پر مدعی کو پھانسی دے دی جائے گی، پھر دیکھنا دنیا تمہیں کیا کہتی ہے؟ 
اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو ہر آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور ممتاز قادریؒ کی طرح کہے گا کہ جب حکومتیں اور عدالتیں حضور اکرم a کی عزت وناموس کی توہین کرنے والے موذیوں کو سزائیں نہیں دیتیں، بلکہ اُلٹا حضور اکرم a کی اہانت کرنے والے بدبختوں اور مجرمین کی تھانہ وعدالت کو اطلاع دینے پر خود مجھے پھانسی ہوسکتی ہے، تو کیوں نہ میں ایسے موذی کو خود ہی ٹھکانے لگاؤں اور پھر پھانسی پر چڑھ جاؤں، تو اس کا معنی یہ ہوا کہ لاقانونیت خود حکومت پھیلا رہی ہے اور معاشرہ کو قتل وقتال کی طرف خود حکومت دھکیل رہی ہے۔
ہم حکومت پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ آپ قادیانیت نوازی نہ کریں اور نہ ہی کسی بیرونی ایجنڈے پر عمل درآمد کریں، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ حضور اکرم a کی عزت وناموس کا تحفظ کرکے حضور اکرم a کی شفاعت کے مستحق بنیں۔ آپ کی دنیا بھی بنے گی اور آخرت میں بھی سرخروئی نصیب ہوگی، ورنہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کی عزت وناموس کا تحفظ کرنا جانتے ہیں، وہ اپنے کسی بندے سے کام لے لیں گے، لیکن آپ دنیا میں بھی ذلیل ورسوا ہوں گے اور آخرت بھی آپ کی تباہ وبرباد ہوجائے گی۔ مرضی آپ کی ہے کہ آپ کس راہ کا انتخاب کرتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو دینِ اسلام اور حضور اکرم a کی عزت وناموس کا محافظ بنائے۔ ہمارے ملک پاکستان، اس کے تمام اداروں، علماء، طلبہ، دینی مدارس اور مساجد کی حفاظت فرمائے۔ پاکستان کو استحکام نصیب فرمائے، اس کی مالیاتی اور اقتصادی مشکلات کو دور فرماکر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی نصیب فرمائے اور نظریۂ پاکستان کے مطابق اس ملک کو اسلامی نظام کی نعمت سے ہمکنار فرمائے اور جو لوگ اس کے لیے اپنے اپنے انداز اور طریقے سے جدوجہد کررہے ہیں،اللہ تبارک وتعالیٰ ان سب کو اجرِجزیل عطا فرمائے۔ آمین

وصلّٰی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے