بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1440ھ- 21 اپریل 2019 ء

بینات

 
 

توکل‘ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کا خصوصی شعار


توکل‘ انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کا خصوصی شعار

کیا رزق کے لیے جد وجہد توکل کے خلاف ہے؟


اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ کرنا انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے۔ قرآن وحدیث میں توکل علیٰ اللہ کا بار بار حکم دیا گیا ہے۔ صرف قرآن کریم میں سات مرتبہ ’’وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ‘‘ فرماکر مؤمنوں کو صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، یعنی حکم خداوندی ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو صرف اللہ ہی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ آئیے! سب سے قبل توکل کے معنی سمجھیں:

لفظی اور شرعی اصطلاح میں توکل کا مطلب

توکل کا لفظی معنی ’’کسی معاملہ میں کسی ذات پر اعتماد کرنا‘‘ ہے، یعنی اپنی عاجزی کا اظہار اور دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توکل کہلاتا ہے۔ 
اس یقین کے ساتھ اسباب اختیار کرنا کہ دنیوی واُخروی تمام معاملات میں نفع ونقصان کی مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اس کے حکم کے بغیر کوئی پتا درخت سے نہیں گر سکتا، ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے وجود اور بقا کے لیے اللہ کی محتاج ہے، غرض یہ کہ خالقِ کائنات کی ذاتِ باری پر مکمل اعتماد کرکے دنیاوی اسباب اختیار کرنا توکل علیٰ اللہ ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو اُسے مرض سے شفایابی کے لیے دوا کا استعمال تو کرنا ہے، لیکن اس یقین کے ساتھ کہ جب تک اللہ تعالیٰ شفا نہیں دے گا، دَوا اَثر نہیں کرسکتی۔ یعنی دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا نظام یہی ہے کہ بندہ دنیاوی اسباب اختیار کرکے کام کی انجام دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسا کرے، یعنی یہ یقین رکھے کہ جب تک حکم خداوندی نہیں ہوگا، اسباب اختیار کرنے کے باوجود شفا نہیں مل سکتی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’قال رجل: یارسول اللّٰہ! أعقلہا وأتوکل؟ أو أطلقہا وأتوکل؟ قال: اعقلہا وتوکل۔‘‘   (سنن ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ، ج:۴، ص:۶۷۰، طبع: داراحیاء التراث العربی، بیروت) 
’’ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا: کیا اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا بغیر باندھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: باندھو اور اللہ پر بھروسہ کرو۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: اہلِ یمن بغیر سازوسامان کے حج کرنے کے لیے آتے اور کہتے کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں، لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرنا شروع کردیتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی سورۃ البقرۃ میں آیت: ۱۹۷ نازل فرمائی کہ:’’ حج کے سفر میں زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو۔‘‘ (صحیح بخاری )
جو بھی اسباب مہیا ہوں، انہیں اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے کہ کرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام نے جب اپنی طویل بیماری کے بعد اللہ تعالیٰ سے شفایابی کے لیے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے پیر کو زمین پر ماریں۔ اب غور کرنے کی بات ہے کہ کیا ایک شخص کا زمین پر پیر مارنا، اس کی بیسیوں سال کی بیماری کی شفایابی کا علاج ہے؟ نہیں! لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے یہ کمزور سبب اختیار کیا، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کے زمین پر پیر مارنے سے پانی کا ایسا چشمہ جاری کردیا، جس سے غسل کرنے پر حضرت ایوب علیہ السلام کی بیسیوں سال کی بدن کی متعدد بیماریاں ختم ہوگئیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعہ کی تفصیلات کے لیے سورۃ الانبیاء، آیت: ۸۳ و ۸۴ اور سورۂ ص، آیت: ۴۱ سے ۴۴ کی تفسیر کا مطالعہ کریں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعہ سے ہمیں متعدد سبق ملے، دو اہم سبق یہ ہیں: پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ سے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا دے سکتے تھے، مگر دنیا کے دار الاسباب ہونے کی وجہ سے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کچھ حرکت کریں، یعنی کم از کم اپنے پیر کو زمین پر ماریں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ جو بھی اسباب مہیا ہوں، ان کو اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکم سے کمزور اسباب کے باوجود کسی بڑی سے بڑی چیز کا بھی وجود ہوسکتا ہے۔ 
حضرت مریم علیہا السلام نے جب اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنا تو اُن کے لیے حکم خداوندی ہوا کہ کھجور کے تنے کو ہلائیں، یعنی حرکت دیں، اُس سے جب پکی ہوئی تازہ کھجوریں جھڑیں تو ان کو کھائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر کسی سبب کے بھی کھجور کھلا سکتے تھے، لیکن دنیا کے دار الاسباب ہونے کی وجہ سے حکم ہوا کہ کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، چنانچہ حضرت مریم p نے حکم خداوندی کی تعمیل میں کھجور کے تنے کو حرکت دی۔ کھجور کا تنا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ چند طاقت ور مرد بھی اسے آسانی سے نہیں ہلاسکتے، لیکن صنف نازک نے اس کمزور سبب کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے سوکھے ہوئے کھجور کے درخت سے حضرت مریم علیہا السلام کے لیے تازہ کھجوریں یعنی غذا کا انتظام کردیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جو بھی اسباب مہیّا ہوں، اللہ پر توکل کرکے اُنہیں اختیار کرنا چاہیے۔ 
اسباب تو ہمیں اختیار کرنے چاہئیں، لیکن ہمارا بھروسا اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے کہ وہ اسباب کے بغیر بھی چیز کو وجود میں لاسکتا ہے اور اسباب کی موجودگی کے باوجود اس کے حکم کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آسکتی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا، جلانے کے سارے اسباب موجود تھے، مگر حکم خداوندی ہوا کہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے سلامتی بن جائے تو آگ نے اُنہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ وہ آگ جو دوسروں کو جلادیتی ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کا سبب بن گئی۔ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر طاقت کے ساتھ تیز چھری چلائی گئی، مگر چھری بھی کاٹنے میں اللہ کے حکم کی محتاج ہوتی ہے، اللہ نے اُس چھری کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن کو نہ کاٹنے کا حکم دے دیا تھا، لہٰذا کاٹنے کے اسباب کی موجودگی کے باوجود چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن نہیں کاٹ سکی۔ 
اسباب وذرائع ووسائل کا استعمال کرنا منشائے شریعت اور حکم الٰہی ہے۔ حضور اکرم a نے اسباب ووسائل کو اختیار بھی فرمایا اور اس کا حکم بھی دیا، خواہ لڑائی ہو یا کاروبار، ہر کام میں حسبِ استطاعت اسباب کا اختیار کرنا ضروری ہے، لہٰذا جائز وحلال طریقہ پر اسباب ووسائل کو اختیار کرنا ، پھر اللہ کی ذات پر کامل یقین کرنا توکل علیٰ اللہ کی روح ہے۔ اگر توکل علیٰ اللہ کا مطلب یہ ہوتا کہ صرف اللہ کی مدد ونصرت پر یقین کرکے بیٹھ جائیں تو سب سے پہلے قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  اس پر عمل کرتے، حالانکہ آپ a نے ایسا نہیں کیا اور نہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم دیا، بلکہ دشمنوں کے مقابلہ کے لیے پہلے پوری تیاری کرنے کی تاکید فرمائی۔ 
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ قرآن کریم میں اللہ پر توکل یعنی بھروسہ کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے، اختصار کے مدِ نظر یہاں صرف چند آیات کا ترجمہ پیش کررہا ہوں: 
۱:-’’ تم اُس ذات پر بھروسہ کرو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘ (الفرقان: ۵۸) 
۲:-’’جب تم کسی کام کے کرنے کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔‘‘ (آل عمران: ۱۵۹) 
۳:-’’جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔‘‘ (الطلاق: ۳) 
۴:-’’بے شک ایمان والے وہی ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل نرم پڑجاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ آیات ان کے ایمان میں اضافہ کردیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘ ( الانفال :۳) 
ہمارے نبی نے بھی متعدد مرتبہ اللہ پر توکل کرنے کی تعلیم دی ہے، فی الحال صرف ایک حدیث پیش ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
’’لوأنکم کنتم توکلون علی اللّٰہ حق توکلہٖ لرزقتم کما یرزق الطیر تغدو خماصا وتروح بطانا۔‘‘                 (سنن الترمذی، باب التوکل علی اللہ، ج:۴، ص:۵۷۳)
’’ اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسے توکل کا حق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ تم کو اس طرح رزق دیتا جیسا کہ پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح سویرے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس لوٹتے ہیں۔‘‘ 
مشاہدہ ہے کہ پرندوں کو بھی رزق حاصل کرنے کے لیے اپنے گھونسلوں سے نکلنا پڑتا ہے، لیکن رزق دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ ہی کی ہے۔ 
جب کفارِ مکہ اُحد کی جنگ سے واپس چلے گئے توراستے میں اُنہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آجانے کے باوجود خوا ہ مخواہ واپس آگئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف حضور اکرم a نے اُن کے ارادہ سے باخبر ہوکر اُحد کے نقصانات کی تلافی کے لیے جنگِ اُحد کے اگلے دن صبح سویرے صحابہؓ میں یہ اعلان فرمایا کہ: ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگِ اُحد میں شریک تھے، صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابۂ کرامs جنگ کی وجہ سے زخمی اور بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے، لیکن انہوں نے آپ a کی دعوت پر لبیک کہا۔ حضور اکرم a اپنے صحابہؓ کے ساتھ مدینہ منورہ سے حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے تو قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص نے مسلمانوں کے حوصلے کا خود مشاہدہ کیا۔ بعد میں اس شخص کی ملاقات کفارِ مکہ کے سردار ابوسفیان سے ہوئی تو اس نے مسلمانوں کے حوصلے کے متعلق بتایا اور مکہ مکرمہ واپس جانے کا مشورہ دیا۔ اس سے کفار پر رعب طاری ہوا اور وہ واپس مکہ مکرمہ چلے گئے، مگر ابوسفیان نے ایک شخص کے ذریعہ مسلمانوں کے لشکرمیں یہ خبر (جھوٹی) پہنچادی کہ ابوسفیان بہت بڑا لشکر جمع کرچکا ہے اور وہ مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان پر حملہ کرنے والا ہے۔ اس پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ڈرنے کے بجائے بول اُٹھے:’’ حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘(آل عمران: ۱۷۳)  ’’ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔‘‘یہی توکل ہے۔  
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہم ایک غزوہ میں حضور اکرم a کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے تو اس درخت کو ہم نے رسول اللہ a کے لیے چھوڑ دیا۔ مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار لے لی اور سونت کر کہنے لگا: کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا کہ: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ a نے کہا: اللہ۔ یہ فرمایا ہی تھا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ آپ a نے وہ تلوار پکڑ کر فرمایا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: تم بہتر تلوار پکڑنے والے بن جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: کیا تو ’’لا إلٰہ إلا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ‘‘ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ سے لڑوں گا اور نہ میں اُن لوگوں کا ساتھ دوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا: میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ (مسند احمد) [یہ واقعہ الفاظ کے فرق کے ساتھ بخاری ومسلم بھی موجود ہے] ۔
خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے مشرکین کے قدم دیکھے جب کہ ہم غار (ثور) میں تھے، وہ ہمارے سروں کے اوپر کھڑے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی نچلی جانب دیکھے تو وہ ہمیں دیکھ لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اے ابوبکر! تیرا ان دو کے متعلق کیا گمان ہے کہ اللہ جن کا تیسرا ہے۔ (بخاری ومسلم)

توکل علیٰ اللہ کے حصول کے لیے ایک دعا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: ’’بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘‘ ۔۔۔۔’’میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلتا ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، اور نہ کسی بھی کام کی قدرت میسر آسکتی ہے نہ قوت، مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔‘‘۔۔۔۔۔۔ تو اس کو کہہ دیا جاتا ہے کہ: تو نے ہدایت پائی ، تیری کفالت کردی گئی، تجھے ہر شر سے بچادیا گیا اور شیطان اس سے دور ہٹ جاتاہے۔ (ابوداؤد، ترمذی)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے