بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1440ھ- 20 اگست 2019 ء

بینات

 
 

تعلیم وتربیت پر ماحول کے اثرات


تعلیم وتربیت پر ماحول کے اثرات

 

الحمدللّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ

 

   دین اسلام اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظیم نعمت ہے،جس نے اولاد،والدین، بڑوں ، چھوٹوں، پڑوسیوں،مسلمانوں، حتیٰ کہ جانوروں تک کے حقوق وفرائض اور ذمہ داریوں کے بارہ میں واضح تعلیمات اور ہدایات دی ہیں۔
    اگر ایک مسلمان صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائے تو قلب وقالب دونوں کی اصلاح ہوجائے گی، آخرت سے پہلے اس کی دنیوی زندگی بھی جنت کا نمونہ ثابت ہوگی۔ اس کی جان، مال، عزت ،آبرو ہر چیز محفوظ ہوجائے گی۔اس کے دل کو سکون نصیب ہوگا۔اس کا دماغ وسوسوں ، توہمات اور دنیوی تفکرات سے راحت پائے گا۔ مخلوق خدا کی محبت اس کے دل میں جگہ پالے گی۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات پر اس کو رحم آئے گا۔ مسلمانوں کی تکالیف ، پریشانیوں اور ان پر مظالم سے اس کا دل دکھے گا۔ ان کی تکلیفوں،پریشانیوں اور مصائب وآلام کو دور کرنے کی ہر ممکن سعی کرے گا۔
    لیکن ہائے افسوس! کہ مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کو چھوڑ دیا ، مغرب کی بے خدا قوموں کی اندھی تقلید کو اپنا شعار بنالیا ، جس کی نحوست سے آج کا مسلم معاشرہ گناہ ومعصیت ، فسق وفجور ، بے حیائی وبے حجابی ، حیوانیت وبہیمیت کے گرداب میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ آج کا مسلمان نفس پرستی، تعیش پسندی ، اور خواہش براری کے لئے اسلامی حدود کو پامال کررہا ہے ۔ اخلاق وآداب ، تہذیب وتمدن ، تعلیم وتربیت اور سیاست ومعاشرت جیسے شعبوں میں اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور پیروی کو چھوڑ کر بے دین، بے ہدایت اور بے خدا قوموں کی نقالی کو اپنے لئے سرمایۂ افتخار اور ان کے طور طریقوں اور عادات واطوار کے اپنانے کو اپنے لئے اعزاز سمجھ رہا ہے۔
    خود غرض اور خود پسند مسلمانوں کی اکثریت کے دل میں اللہ کا خوف ہے ، نہ آخرت کا ڈر ہے ۔ نہ جنت کی تمنا اور طلب ہے ، نہ اس کی جستجواور کوشش ہے ۔ہر طرف ظلم وقساوت کا دور دورہ ہے۔ یہود ونصاریٰ کی تقلید وپیروی اور تہذیب وتمدن کاغلبہ مسلمانوں پر مسلط ہوچکا ہے۔اور بالکل وہی صورت حال ہے جس کی نشاندہی نبی مکرم، فخرِ مجسم، ہادیِ امم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوا چودہ سو سال پہلے فرمادی تھی کہ :
’’لَتَتَّبِعُنَّ سننَ من کان قبلکم شبراً بشبر وذراعا بذراع حتی لودخلوا جُحْرَ ضب تَبِعْتُمُوْہم، قیل یارسول اللّٰہ! الیہود والنصاریٰ؟ قال: فمَنْ؟! ‘‘۔   
                                                     (متفق علیہ، مشکوٰۃ،ص:۴۵۸)
ترجمہ:’’تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی ہُوبہُو پیروی کروگے ، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اگر گوہ کے بَل میں داخل ہوگا تو تم بھی ہوگے۔صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یہود ونصاریٰ (مراد ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اور کون (مراد ہوسکتا ہے)؟‘‘۔
    اسلام نے تعلیم دی ہے کہ ایک مسلمان کی جب اولاد ہوتو اس کا اچھے سے اچھا نام رکھے۔ تعلیم وتادیب کے قابل ہوتو اسے بہتر سے بہتر تعلیم اور اسے اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق سے آراستہ کرے۔ شادی کے قابل ہو تو ایسے خاندان میں اس کا رشتہ تجویز کرے جو دینی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے فائق ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
۱:…’’من ابتُلِیَ من ھذہ البنات بشئی فأحسنَ إلیہن کُنَّ لہ سترا من النار‘‘۔                                              (متفق علیہ،مشکوٰۃ،ص:۴۲۱)
ترجمہ:’’تم میں سے جس کی ان لڑکیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے تو وہ لڑکیاں اس کے لئے آگ سے پردہ (بچاؤ کا ذریعہ) ہوں گی ‘‘۔
۲:…’’عن أنسؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من عال جاریتین حتی تبلغا جاء یوم القیامۃ أنا وھو کذا وضم أصابعہ‘‘۔         (مشکوٰۃ،ص:۴۲۱)
ترجمہ:’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو بچیوں کی پرورش کی، یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح ہوں گے اورپھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملالیں ‘‘۔
۳:…’’عن ابن عباس ؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : … مَنْ عال ثلاث بنات أو مثلہن من الأخوات فأَدَّبَھُنَّ ورَحِمَہن حتی یُغْنِیَہن اللّٰہ أوجب اللّٰہ لہ الجنۃَ فقال رجل : یارسول اللّٰہ ! أواثنتین؟ قال أو اثنتین …‘‘۔                                     (مشکوٰۃ ،ص:۴۲۳)
ترجمہ:’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے تین بیٹیوں یا ان کی طرح (یعنی تین) بہنوں کی پرورش کی ، پھر انہیں ادب سکھایااور ان پر شفقت کی ،یہاں تک کہ اللہ اُنہیں (شادی، مال یا موت کے ذریعہ)غنی کردے توایسے آدمی کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کو واجب کردیا۔ ایک آدمی نے کہا: یارسول اللہ! اگر دوہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھی ہوں(یعنی تب بھی یہی بشارت ہے)‘‘۔
۴:…’’عن جابر بن سمرۃؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : لَأَنْ یُّؤدِّبَ الرجلُ ولدَہٗ خیرا لہ مِنْ أَن یتصدق بصاع‘‘۔     (مشکوٰۃ، ص:۴۲۳)
ترجمہ:’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اپنے بچہ کو ادب سکھائے، یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایک صاع صدقہ کرے‘‘۔
۵:…’’عن أبی ھریرۃؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : إذا خطب إلیکم مَنْ تَرضَون دینَہٗ وخُلُقَہٗ فزوِّجوہ إن لاتفعلوہ تکن فتنۃ فی الأرض وفساد عریض‘‘۔                                  (مشکوٰۃ،ص:۴۲۴)
ترجمہ:’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس ایسے لوگ رشتہ بھیجیں جن کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو ان کا نکاح کردو، اگر تم ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور بہت زیادہ فساد برپا ہوگا‘‘۔
    اولاد کے جوان ہونے کے بعد ان کی شادی میں تاخیر نہ کریں، کیونکہ شادی میں تاخیر بھی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں غلط راستہ اختیار کرنے کی تحریک پیدا کرتی ہے اور پھر اس کا گناہ اور وبال اُن کے باپ پر ہوتا ہے، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’من ولد ولداً فلیحسن اسمہٗ وأدبہ فإذا بلغ فَلْیُزوجْہ فإن بلغ ولم یزوجہ فأصاب إثماً فإنما اإثمہ علیٰ أبیہ‘‘۔
            (شعب الایمان للبیہقیؒ ، حدیث نمبر:۸۶۶۶،باب فی حقوق الأولاد والأھلین)
ترجمہ:’’جس شخص کے یہاں بچہ پیدا ہو تو وہ اس کا اچھا سانام رکھے ،اس کی اچھی تربیت کرے اور جب بالغ ہوجائے تواس کی شادی کردے، پس اگر بالغ ہونے کے بعد اس نے شادی نہیں کی اور وہ کسی گناہ میں مبتلا ہوگیا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہوگا‘‘۔
    ہم نے ان تعلیمات کو چھوڑ کر اپنی اولاد کو صرف اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخل کرایا‘ جہاں لارڈ میکالے کا نصاب پڑھایا جاتا ہے، جہاں اسلامی عقائد پر کاری ضرب لگائی جاتی ہے، جہاں دین سے نفرت وبیزاری اور اسلام کی ہر بات میں تشکیک وتذبذب کا درس دیا جاتا ہے۔ان تعلیم گاہوں میں مسلم نوجوانوں اور خواتین کی صورت وسیرت، وضع وقطع، اخلاق و معاشرت ، تہذیب وثقافت کے تمام زاویئے ہی بدل کر رکھ دیئے گئے اور مادیت کا اتنا درس دیا گیا کہ آج کا نوجوان اپنے ملک کے بجائے اغیار کے ممالک میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور ایک مسلمان کے لئے اس وقت مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں، جب اس کی اولاد جوان ہوجاتی ہے اور وہ اس تہذیب میںڈھلنے لگتی ہے جس کو اس کے والدین نے پسند کیا تھا۔ اب ایسا مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ میں نے یہاں آکر دنیا تو کمالی ، لیکن اپنی اولاد کی عزت وناموس اور شرم وحیا کو داؤ پر لگادیا۔ ایسے ہی ایک عبرت ناک واقعہ کی خبر ’’روزنامہ امت ‘‘میں بایں الفاظ چھپی ہے:
’’لندن(امت نیوز )برطانوی عدالت نے پاکستانی نژاد جوڑے کو اپنی ۱۷سالہ بیٹی کے قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنادی ہے۔ اُنہیں کم از کم ۲۵برس جیل میں قید کاٹنی پڑے گی۔ ٹیکسی ڈرائیور ۵۲سالہ افتخار احمد اور اس کی اہلیہ ۴۹سالہ فرزانہ نے غیرت کے نام پر اپنی ۱۷ سالہ بیٹی شفیلہ کو قتل کردیا تھا۔ برطانوی پولیس کے مطابق شفیلہ کو ۱۱ستمبر ۲۰۰۳ء کو اس کے والدین نے قتل کردیا تھا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی بیٹی مغرب زدہ ہوگئی ہے اور خاندان کے لئے شرم کا باعث بن رہی ہے۔ مقتولہ نے والد کی خواہش پر شادی سے بھی انکار کردیا تھا۔ چیسٹر کراؤن کورٹ کے جج جسٹس روڈرک ایونز نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ ماں باپ کی جانب سے اپنی بیٹی کو قتل کرنے کی وجہ صرف ’’کمیونٹی‘‘ ہے، جس میں وہ اپنے آپ کو شرمندہ محسوس کرتے تھے۔ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر ملزم جوڑے کے بیٹے جنید اور بیٹی مہوش بھی عدالت میں موجود تھے جو رونے لگے ،جبکہ سزاپانے والی ان کی والدہ فرزانہ بھی کچھ لمحے سکتے میں رہنے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ واضح رہے کہ مقتولہ شفیلہ کی لاش ٹکڑوں میں اس کے گھر کے قریب دریا کے کنارے سے ملی تھی۔ اپنے ماں باپ کے خلاف گواہی بھی اس بدقسمت جوڑے کی دوسری بیٹی ۲۴ سالہ علینا نے دی تھی‘‘۔
    ترقی دنیا اور مال ودولت کی طمع اورلالچ میں اس جوڑے نے اپنے دیس ،ملک ، خاندان اور اقرباء کو چھوڑا ، ایک بیٹی کا غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکات کی بنا پر قتل ناحق کا ارتکاب کیا ، دوسری بیٹی کو اپنا باغی بنایا، چھوٹے بچوں کو لاوارث اور بے سہارا کیا اور دونوں میاں بیوی کو کردہ گناہ کی سزا بھگتنے کے لئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہونا پڑا ۔ یہ ہے نتیجہ دیارِ غیر میں رہنے کا اور یہ انجام ہے اولاد کی دینی تعلیم وتربیت سے غفلت برتنے کا ۔ اسی کو قرآن میں ’’خسر الدنیا والآخرۃ‘‘ کہا گیا ہے۔
    نیک اولاد دین ودنیا کا بہترین سرمایہ اور آخرت کا بیش قیمت ذخیرہ ہے۔ اگر ان کی تعلیم وتربیت سے غفلت برتی گئی یا ان کی پرورش غلط بنیادوں پر کی گئی تو ایسی اولاد نہ صرف یہ کہ والدین کے لئے تباہی وبربادی کا سبب بنے گی، بلکہ ملک وقوم اور دین ومذہب کو بھی رسوا کرے گی۔ اس لئے شریعت مقدسہ نے اولاد کی اخلاقی ،مذہبی، دینی، ہمہ قسم کی تعلیم وتربیت کا صحیح اور اعلیٰ انتظام کرنا ماں باپ کی ذمہ داری قرار دیا ہے اور ہر صاحب خانہ پر اپنی اولاد کی دینی تربیت اور اچھے اخلاق سکھانے کا فرض عائد کیا ہے،اس لئے کہ پچپن میں جس قسم کی تربیت ہوجاتی ہے، بڑا ہوکر آدمی اسی پر قائم رہتا ہے اور جو شخص جس روش اور عادت پر جوان ہوتا ہے ،اسی روش اور عادت پر بڑھاپے تک قائم رہتا ہے ۔ اگر اولاد کو پچپن میں ہی غلط ماحول ، غلط سوسائٹی اور غلط راستہ پر ڈال دیاگیا تو جوان ہوکر بھی وہ اُسی غلط راستہ اور غلط روش کا انتخاب کرے گی۔اب اس کو راہ راست پر لانا نہایت کوشش کے باوجود دشوار ہوگا اور سوائے تباہی وبربادی کے ان سے کسی خیر کی توقع اور امید رکھنا عبث ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کی اچھی تربیت کو بہترین عطیۂ الٰہی فرمایا ہے۔
    خلاصہ یہ کہ مسلمان کو بالعموم اور دیارِ غیر میں رہنے والے مسلم حضرات بالخصوص نوجوان بچوں کو صاف ستھرا اور پاکیزہ ماحول فراہم کریں۔ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ اور قریب تر کرنے کے لئے حد درجہ محنت اور کوشش کریں۔ سیرتِ نبوی ، اسلامی تاریخ ، صحابہ کرامؓکے واقعات، بزرگانِ دین کے قصے اور مفید ناصحانہ ملفوظات پر مشتمل کتب کا خود بھی مطالعہ کریں اور بچوں کو بھی ایسی کتب پڑھنے کی ترغیب اور تدبیر کریں۔ ان شاء اللہ! جس اولاد کی تربیت اس انداز پر ہوگی تو وہ اولاد والدین کی زندگی میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور مرنے کے بعد ان کی حسنات میں اضافے کاسبب بنے گی۔
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وعلیٰ أٰلہٖ وصحبہ أجمعین


 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے