بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شوال 1440ھ- 24 جون 2019 ء

بینات

 
 

تزکیہ و تربیت سے خالی تعلیم کے نقصانات

تزکیہ و تربیت سے خالی تعلیم کے نقصانات

    رب کریم نے نبی مکرمa کی بعثت فرماتے ہوئے پہلی وحی جو نازل کی اس میں تعلیم کی اہمیت، اس کے مقاصد اساسیہ اور اس کے حصول کے ذرائع کو شاندار انداز میں بیان کردیا: ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جو پیداکرنے والا ہے، پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے، پڑھ عزت والے رب کے نام سے، وہ جس نے تعلیم سکھائی قلم کے ذریعہ سے، انسان کو وہ تعلیم دی جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ سورۂ علق کی ان پانچ آیات میں تعلیم اور اس کے مشتقات اور اس کے اغراض و مقاصد کو کھلے انداز میں بیان کردیا گیا۔      امتِ محمدیہ(l) کا رشتہ علم کے ساتھ ایسا وابستہ کردیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی چھوٹ نہیں سکتا، بالاضافہ اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کائنات کی تمام مخلوقات پر جو فضیلت دی اس کا بنیادی سبب بھی علم ہی ہے، اسی بناپر فرشتوں کو انسان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا گیا، سورۂ بقرہ میں اس مکالمہ کا ذکر موجود ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے مابین ہوا،اللہ رب العزت نے جب فرشتوں کے علم کا امتحان لیا تو وہ عاجز ہوگئے اور حضرت آدم m کامیاب ٹھہرے، بالآخر فرشتوں نے حضرت آدم m کو سجدہ کیا، یہ فضیلت و منزلت علم ہی کی وجہ سے حاصل ہوئی کہ انسان مسجودِ ملائک بنا۔     سورۂ علق کی آیا ت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ علم وہی علم ہے جس میں رب کائنات کی رضا کا حصول مضمر ہو۔ دنیا کا کوئی علم فی نفسہٖ مضر یا نقصان دہ نہیں ہے، ہاں! جب اس کی ٹہنی کو غیر اللہ کی جانب سے حرکت دی جائے گی، اور اس کو حاصل کرنے کا مقصد دنیا میں خود کو مستعلی کرنا ہوگا، ظلم و ستم کا راستہ اختیار کرکے کمزور و ناتواں لوگوں پر مصائب ڈھائے جائیں گے، یا علم کو حاصل کرنے کے بعد انسانیت کے حقوق کو غصب کیا جائے گا، یا علم کے آجانے کے بعد مادر پدر آزادی کی لہر کو فروغ دیا جائے گا، یا پھر اسلامی تعلیمات اور اس کی تہذیب و ثقافت کو کمتر جانتے ہوئے غیراللہ کی اندھی تقلید کی جائے گی تو ایسے میں لازم ہوگا کہ یہ علم فائدہ دینے کی بجائے انسانیت کو ہلاکت کی تہوں میں داخل کرنے کا موجب ہوگا، جیساکہ عصر حاضر کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ انسان نے خود ہی اپنی ہلاکت کا سامان تیار کرلیا ہے۔ پہلی و دوسری جنگیں اس بات کی شہادت ہیں اور اسی طرح ایٹمی مواد کے تیار ہوجانے کے بعد دنیا کا ہر گوشہ غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ اسی وجہ سے سورۂ علق کی پہلی دوآیات میں علم کے حصول اور اس کے عظیم رب کے ساتھ رشتہ و تعلق کی اہمیت کے ساتھ انسان کو بتادیا گیا ہے کہ انسان کو تکبر و گھمنڈ کا رویہ اختیار کرنے کی چنداں حاجت نہیں، کیوں کہ انسان کی اصل و اساس پانی کے ایک گندے قطرے کے بعد خون کے لوتھڑے سے زیادہ کچھ بھی نہیں، تاوقتیکہ وہ اپنی بعثت و تخلیق کے مقصد پر اپنی زندگی بسر کرنا شروع نہ کردے۔ قرآن میں بیان ہواہے کہ ’’ہم نے پیدا نہیں کیا انسان کو مگر اپنی عبادت کی خاطر۔‘‘ احادیث مبارکہ میں بھی حصول علم کی اہمیت اور اس کے مقصد و مطلب کو واضح کیا گیا ہے۔ ’’علم حاصل کرناہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’میں معلم بناکر بھیجا گیا ہوں‘‘ ۔۔۔۔۔ ’’اے اللہ! علم نافع عطافرما‘‘ جیسی بے شمار احادیث نبویہ اور دعائیں موجود ہیں۔      تیسری آیت میں بیان کردیا گیا ہے کہ پڑھنے کے بعد واجب ہے کہ ہم انسانیت کے ساتھ متواضع رویہ کواختیار کرتے ہوئے ان کے ساتھ بھلائی و ہمدردی اور نیکی و تکریم کا تعلق استوار کریں، کیوں کہ جو علم اُسے دیا گیا ہے یہ علم کریم و عزت والے رب کی جانب سے ملا ہے، اس علم کو انسانیت کی خدمت اور ان کی دست گیری کا ذریعہ بناناچاہیے، نہ کہ اس کے بعد انسان مارے غرور کے حیوانیت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے صرف اپنے مفادات کے تحفظ کو تو یقینی بنائے، چاہے اس کے سبب دوسروں کے گھر ویران و تاریک ہوتے ہوں، گویا کہ اس آیت میں اللہ رب العزت انسان کاتزکیہ فرمارہے ہیں کہ علم کے حصول کے بعد مادہ پرستی کا دامن نہ تھام لینا اور اس کے ساتھ سرکشی و بڑائی کو اپنا شعار نہ بنالینا، کیوں کہ اسی کے سبب شیطان کو تاقیامت مردود اور جن و انس اور کائنات کی تمام مخلوقات کی لعنت کا مستحق بنادیا گیا۔      چوتھی اور پانچویں آیت میں اول تو علم کے حاصل ہونے کے اہم ترین ذریعہ کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ آگے واشگاف الفاظ میں اللہ نے انسانیت کی استعداد و صلاحیت کی بنیاد کو بیان کردیا کہ جوکچھ تم جانتے ہو وہ ہم نے تم کو بتایا اور سکھلایا، وگرنہ تم تو جانتے ہی نہ تھے۔ اس بات کے بعد واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کو اپنا سینہ اس بات پر چوڑا کرنا چاہیے جو اس کی اپنی تخلیق ہو اور وہ چیز کسی اور کے پاس موجود نہ ہو اور اس نے یہ کسی کی مدد و نصرت کے بغیر حاصل کیا ہو اور ایسا ہونا ممکن ہی نہیں، لہٰذا امر واقع ہے کہ انسان عاجزی کو اپنائے۔     مندرجہ بالاگزار شات کودرج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام وہ دین متین ہے جس نے نہ صرف علم کی اہمیت کو ببانگ دہل بیان کیا اور اس کے حصول پر زور دیا، بلکہ اس کے حدودِ اربعہ کو بھی متعین کردیا کہ یہ حد فاصل ہے علم رحمانی اور علم شیطانی کے مابین۔ جو علم رحمانی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے گا وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوجائے گا، ورنہ ابدی لعنت اور ناکامی کا مستحق ٹھہرے گا۔     اللہ جل جلالہٗ نے قرآن کریم میں حضورa کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ:’’ ہم نے ’’اُمِّیِّیْن‘‘ (اَن پڑھ) میں رسول بناکر بھیجا انہیں میں سے، وہ تلاوت کرتے ہیں آیات کی اور تزکیہ کرتے ہیں، تعلیم دیتے ہیں کتاب و حکمت کی۔۔۔۔الخ‘‘ اس آیت میں اور اس جیسی دیگر آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریمa کی چار صفات کا ذکر کیا ہے جن کی تعلیم دینا آپa کے فریضہ میں شامل تھا۔      اول:۔۔۔۔۔ آیات کی تلاوت۔        ثانی:۔۔۔۔۔تزکیہ۔     ثالث:۔۔۔۔۔ تعلیم کتاب ۔        رابع:۔۔۔۔۔تعلیم حکمت ودانشمندی ۔     علم کا رشتہ جب تک تزکیہ کے ساتھ استوار و قائم رہے گا، اس علم کے ذریعہ انسان عروج کے اقبال تک پہنچے گا اور جب علم سے تزکیہ کے رشتہ کو کاٹ دیا جائے گا تو یہ علم ضلالت و گمراہی اور انسانیت کی کشتی کو ڈبودینے کا سبب بھی بن جائے گا اور اس کے ساتھ ہی اللہ کی ناراضگی ہمیشہ کا مقدر بن جائے گی۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آج کل کے تمام تعلیمی ادارے بالخصوص حکومتی و عصری تعلیمی اداروں کا رشتہ تزکیہ سے کٹا ہوا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ طالب علم استاذ پر دست درازی، والدین، اساتذہ، بڑوں، دوستوں اور رشتہ داروں کی عزت و تکریم سے تہی دامن ہوچکا ہے اور اسی کابدیہی ومشاہداتی نتیجہ ہے کہ معاشرہ عدم اطمینان کی کیفیت سے دوچار ہے اور کرپشن، لوٹ مار، چوربازاری، دھوکہ دہی و بددیانتی کا رواج عام جاری و ساری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ علمی چوری، مالی خیانت جیسے گھناؤنے جرائم کو بھی عزت و منزلت کے حصول کے لیے کرگزرنے میں کوئی حجاب نہیں کرتے۔ آئے روز اخبارات و ٹی وی پر خبریں چلتی ہیں کہ فلاں مقام پر فلاں طالب علم یا فلاں طالبہ نے خودکشی کرلی ہے او ر اس کے متعدد اسباب بیان کیے جاتے ہیں کہ محبت میں ناکامی پر یا گھریلو ناچاقی پر، شادی بالجبر کے اندیشے پر خودکشی کی گئی ہے، مگر ایک اہم نکتہ کو ہمیشہ نظروں سے اوجھل رکھاجاتاہے کہ اس حدتک پہنچنے کا ذریعہ کونسا سبب بنا ہے؟ شاید کبھی کسی نے اس پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا، جبکہ بانجھ و غیر مؤثر اور ناکارہ تعلیم جو تزکیہ و تربیت سے خالی ہوگی کو حاصل کرنے والے طالب علم یا طالبہ سے آپ یہ کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اخلاقیات سے عاری سرگرمیوںاور یورپ و مغرب کی تقلید میں مشغول ہوتے ہوئے عشق و معاشقہ کی لعنت سے دور رہ سکتے ہیں۔ تعلیم وہ مطلوب ہے جو تزکیہ و تربیت کے ساتھ مربوط ہو اور استاذ صرف کتاب کو رَٹوانے یا اَزبر کروانے اور امتحانات میں کامیابی کے چور راستے بتانے کا مکلف نہیں، بلکہ یہ وہ منصب ہے کہ جس پر فائز ہونے والے کی ابدی کامیابی کا انحصار اور معاشرے کی ترقی و فلاح کا منبع تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات ہوتے ہیں۔ اگر ان کی خط مستقیم پر رہنمائی و نگہبانی نہیں کی گئی تو مسلم معاشرہ ہمیشہ کی ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوجائے گا، جس کا آغاز بڑی سرعت کے ساتھ ہوچکا ہے، اس کے سامنے بند باندھنے کا واحد ذریعہ تعلیم ہے اوروہ تعلیم جس کا تعلق و رشتہ تزکیہ و تربیت کے ساتھ اَٹوٹ ہو۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے