بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

بینات

 
 

ایک ضروری وضاحت! بابت اسلامی معاشیات

ایک ضروری وضاحت! بابت اسلامی معاشیات

ادارہ بینات سے گذشتہ سال حضرت مولانا ادریس میرٹھی ؒ کا تحریر کردہ مقالہ ایک کتابچہ کی صورت میں ’’اسلامی معاشیات‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔اس حوالے سے ادارہ ایک وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہے جس کی تفصیل کچھ پس منظر کے ساتھ یہ ہے کہ ۲۵؍مارچ ۱۹۶۹ء کو اکابر علماء حق کا ایک اجتماع منعقدہوا، جس میں دیگر اہم مباحث کے علاوہ ملک کی معاشی سنگین صورتِ حال پر بھی بحث وتمحیص اور غور وخوض ہوا،اِجتماع میں طے پایا کہ معاشیات پر ایک اسلامی خاکہ تیار کیا جائے، چنانچہ اس غرض سے ایک’’ مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ تشکیل دی گئی، جس کے ارکان میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، مفتی رشید احمد لدھیانویؒ نور اللہ مراقدہم اور ایک قانونی مشیر ایڈووکیٹ جناب محمد اقبال صاحب تھے۔ اس ’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کا اجلاس حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی دعوت پر مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی (حال جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن) میں منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس سرہ کی علالت کی بنا پر آپؒ کی نیابت آپ کے صاحبزادگان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے فرمائی۔
اس ’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کے اراکین نے دس دنوں کی محنتِ شاقہ اور جہد ِ مسلسل کے بعد مزارعت، احیائے موات اور زمین کے مسائل سے متعلق ایک اسلامی خاکہ تیار کرلیا اور استصواب رائے کے لئے اُسے ملک کے جید علماء کرام کے پاس بھیجا گیا اورپابندی لگائی گئی کہ فی الحال اس کو عام شائع نہ کیا جائے۔ کچھ حضرات نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اُسے شائع کردیا، جس پر حضرت بنوریؒ نے اپنی ناراضی اور ناگواری کا اظہار فرمایا۔
چونکہ اس مجلس کے پیش نظر یہ تھا کہ اس موضوع پر مستقل ایک مستند کتاب مدون کی جائے گی، لیکن کچھ حالات کی نزاکت اور کچھ شرکائے مجلس کے متعدد مشاغل کی بنا پر کتاب کے مختلف ابواب تجویز کرکے بقیہ شرکائے مجلس میں تقسیم کئے گئے، تاکہ اس کتاب کی تدوین اور تکمیل میں آسانی ہو۔
’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کے اراکین کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل تھے:
۱-حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ، مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی۔(حال جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)
۲-حضرت مولانا محمد ادریس ؒ ،مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی۔ (حال جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)
۳-حضرت مولانا مفتی رشید احمدؒ ،جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
۴-حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم، جامعہ دار العلوم کراچی۔
ان اراکین پر مشتمل ’’مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ کا پھر کوئی اجتماع منعقد نہ ہوسکا، اس کے بعد جس نے بھی اس موضوع پر کام کیا، اس نے انفرادی حیثیت سے ہی کام کیا، جیسے محدث العصر حضرت بنوری رحمہ اللہ کی راہنمائی وہدایت پر حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ نے اسلامی معیشت کے عنوان پر ایک بہترین اور عمدہ مقالہ تحریر فرمایا جو ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں سات اقساط میں شائع ہوا۔اسی طرح اس مجلس کے مقتدر شرکاء میں سے بعض دیگر اہل علم نے بھی بعد میں اپنے طور پر انفرادی حیثیت میں کام کیا،جیسے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے والد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کے زیر ہدایت اس موضوع پر کچھ کام کیا۔
آمدم برسر مطلب !حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ نے ’’اسلامی معاشیات‘‘ کے عنوان سے جو گراں قدر مقالہ قلم بند فرمایاتھا اور اُسے ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں سات اقساط میں شائع کیاگیا، جسے بعد میں ’’ادارہ بینات‘‘ نے ’’اسلامی معاشیات، بنیادی خاکہ، نتیجہ فکر: مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کے نام سے طبع کرایا اور اس کے پیش لفظ میں مذکورہ بالا صورتِ حال (علمائے کرام کا اجتماع، مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کی تشکیل، اس کے اراکین کے نام ،وغیرہ) حضرتؒ علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ اور حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ کی تحریروں کے اقتباسات سے نقل کی گئی، جس سے یہ تأثر جھلکا کہ شاید یہ کتاب وہی منظور شدہ’’ابتدائی خاکہ‘‘ہے جس کی طرف حضرت بنوری رحمہ اللہ کی تحریر کے مندرجہ ذیل اقتباس میں اشارہ ہے :
’’ایک مختصر خاکہ تیار کیاگیا تھا، جس کی حیثیت بھی صرف استفتاء ہی کی ہوسکتی ہے، نہ اس کی کتابی تدوین وترتیب تھی، نہ وہ آخری رائے تھی، بلکہ ناتمام خاکہ تھا جو سائیکلوسٹائل کرکے شائع کیاگیا تھا، تاکہ اسے علماء کے پاس بھیجا جاسکے اور اس کی اشاعت کی غرض بھی یہی تھی۔ لیکن خود غرض حضرات نے اس کوآخری فیصلہ سمجھا، اس سے اپنا اُلُّو سیدھا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ یہ جلد بازی ہے…‘‘ ۔
اس اقتباس سے واضح ہوا کہ حضرت بنوریؒ اس ابتدائی خاکے کی اشاعت کے حق میں نہ تھے، جس کی بہرحال پابندی ’’ادارہ بینات‘‘ نے اب تک کی ہے، اسی لئے اس ناتمام خاکے کو اس کتاب کا حصہ بھی نہیں بنایاگیا۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی نور اللہ مرقدہٗ اس ’’مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ کے فعال رکن اور اس مجلس کی کارروائی اور روئیداد کے ضبط کرنے والے تھے اور انہوں نے اس مقالہ میں جو نتیجۂ فکر پیش کیا ہے، اُس کے خدوخال اور راہنما اصول بالکل وہی تھے جو اس ’’مجلس تحقیقِ مسائل حاضرہ‘‘ کے پیش نظر تھے اورحضرت بنوریؒ نے اس مجلس کے اراکین میں جوکام تقسیم کیا تھا،اس میں بھی حضرت میرٹھی ؒکے ذمہ اس بنیادی خاکہ کی روشنی میں ’’اسلامی معاشیات‘‘ پر مقالہ تیار کرنا تھا۔ اس اعتبار سے اس کتاب کو اکابر کا فقہی منہج قرار دینایا اسلامی معیشت پر بنیادی خاکہ، یا نتیجہ فکر:’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کہنا بھی کچھ بے جا نہ ہوگا۔
لیکن بہرحال ’’ادارہ بینات‘‘ ریکارڈ کی درستگی کے لئے یہ وضاحت کرتا ہے کہ یہ کتاب ’’مجلس تحقیق مسائل حاضرہ‘‘ کا مرتب کردہ مذکورہ بالاابتدائی خاکہ نہیں ہے ،بلکہ یہ کتاب حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی نور ا للہ مرقدہ کے اس مقالہ پر مشتمل ہے جو ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں سات اقساط میں شائع ہوا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

وصلّٰی اللّٰہُ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے