بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

بینات

 
 

اسلامی نظریاتی کونسل ، لائق تبریک سفارشات ۔۔۔۔ میانمار کے مسلمانوں پر ظلم کب تک؟

اسلامی نظریاتی کونسل ۔۔۔۔۔ لائق تبریک سفارشات

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

اسلام اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ مقدس دین ہے، جس کی ایک ایک بات وحی الٰہی سے منور اور رضائے الٰہی کے حصول کی ضامن ہے۔ پاکستانی قوم کو اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر بجالانا چاہیے کہ الحمد للہ! آج کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل کی صورت میں حکومت کا کوئی ادارہ تو ایسا موجودہے جہاں سے حکومت کو مکمل بحث وتمحیص اور غور وخوض کے بعد دین اسلام کی چمکتی دمکتی اور منور وروشن تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین وراہنمائی اور ہدایات وسفارشات ملتی رہتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی معاشرے میں اسلامی نظام کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ اسے نافذ کرنے والے ادارے کس خلوص کے ساتھ اسے نافذ کرتے ہیں اور جس قوم پر اسے نافذ کیا جائے وہ کس یقین وایمان اور فرحت ومسرت سے اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق واعانت سے یہ دونوں سعادتیں اہل پاکستان کو نصیب ہوگئیں تو ہمارا یقین وایمان ہے کہ یہ ملک نہ صرف روحانی ومادی سعادتوں کا گہوارہ بن جائے گا، بلکہ عالم اسلام کی زمامِ قیادت بھی اس کے ہاتھ میں ہوگی۔ علمائے کرام اور مسلم عوام نے حکومت کو جب بار بار اسلامی نظام کے نفاذ کے ایفائے عہد کے لیے متنبہ اور متوجہ کیا تو کہا گیا کہ چونکہ پاکستان میں مذہبی طبقہ متفق اور متحد نہیں، کس کے نظریات اور قرآن وسنت کی تشریح اور توضیح کے لیے کس کی تعبیرکو اختیار کیا جائے؟ اس لیے ہمارے لیے کئی ایک مشکلات اور پیچیدگیاں ہیں۔ علمائے کرام نے اپنے اتحاد واتفاق اور اپنی محنتوں اور کاوشوں سے متفقہ ۲۲؍ نکات پاس کرکے حکمرانوں کے اس لغو اور بے بنیاد عذر کو بھی دور کردیا۔ لیکن افسوس کہ آج تک ان نکات پر نہ کوئی قانون سازی ہوئی اور نہ ہی کوئی مثبت پیش رفت سامنے آسکی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹوؒ کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے جب ۱۹۷۳ء کا آئین مرتب کیا گیا تو اس میں ایک ادارہ اسلامی نظریاتی کونسل کا بھی وجود میں لایا گیا اور کہا گیا کہ :اسلامی کونسل کے فرائض مندرجہ ذیل ہوں گے: ’’1:۔۔۔۔۔پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو ایسی سفارشات پیش کرے گی جن پر عمل پیرا ہوکر ایک عام مسلمان اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی قرآن وسنت کے اُصولوں کے مطابق بسر کرسکے۔ 2:۔۔۔۔۔کونسل طلب کیے جانے پر صدر، گورنر، پارلیمنٹ، کسی ایک ایوان اور صوبائی اسمبلی کو مشورے فراہم کرے گی اور انہیں کسی مخصوص بل کے بارے میں مطلع کرے گی کہ وہ بل اسلام کے اُصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ 3:۔۔۔۔۔ایسی سفارشات پیش کرے گی جن پر عمل کرکے موجودہ قوانین کو بتدریج اسلامی انداز میں ڈھالا جاسکے گا۔ کونسل یہ بھی بتائے گی کہ قوانین کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کے لیے انہیں کتنے مرحلوںمیں منقسم کرنا ہوگا۔ 4:۔۔۔۔۔ایسے اُصولوں کو جو اسلامی روح کے مطابق ہوں اور جن کو قانونی درجہ دینا ضروری ہو، کونسل سلیقے سے ترتیب دے گی، تاکہ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ان سے رہنمائی حاصل کرسکیں۔ 5:۔۔۔۔۔جب کوئی سوال صدر، گورنر، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کی طرف سے مشورہ کے لیے کونسل کو پیش کیا جائے گا تو کونسل کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر صدر، گورنر، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی (جس نے بھی مشورہ طلب کیا ہو) کو اطلاع دے کہ وہ مشورہ کب تک فراہم کردے گی۔ 6:۔۔۔۔۔اگر فوری ضرورت ہوگی اور صدر، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی محسوس کرے گی کہ قانون کے بارے میں کونسل کا مشورہ دیر سے ملنے کا امکان ہے تو وہ مشورہ کے پہنچنے سے پہلے ہی قانون بناسکتے ہیں۔ یہ قدم عوامی مفاد کے تقاضوں کے تحت اُٹھایا جاسکتا ہے۔ اگر قانون منظور ہوجاتا ہے اور کونسل اس کے بارے میں رائے دیتی ہے کہ وہ اسلام کے اُصولوں کے منافی ہے تو صدر، گورنر، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی (جو بھی متعلق ہو) اس قانون کو ایک بار پھر ایوان میں پیش کروائے گا۔ 7:۔۔۔۔۔ اپنے قیام کے بعد کونسل سات سال کے اندر آخری رپورٹ پیش کرے گی اور ہر سال ایک عبوری رپورٹ پیش کرتی رہے گی۔ رپورٹ چاہے آخری ہو یا عبوری ، اسے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ رپورٹ تمام صوبائی اسمبلیوں میں بھی پیش ہوگی، تاکہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں اس پر بحث ہوسکے۔ پارلیمنٹ اور ہر اسمبلی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد آخری رپورٹ پیش ہونے کے دو سال بعد تک اس کے مطابق قانون بنائے گی۔‘‘       (آئین پاکستان(1973ئ)اردو، صفحہ:۱۴۳، ۱۴۴) الحمد للہ! اس ادارہ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے کام لیتے ہوئے کئی ایک بنیادی مسائل کو قرآن وسنت اور شریعت اسلامی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو سفارشات بھجوائیں، لیکن وہی چکی کے دو پاٹ، کسی ایک سفارش کو بھی پارلیمنٹ نے بھولے سے ہاتھ تک نہیں لگایا۔آج بھی تمام مکاتب فکر اور مذہبی جماعتیں اس بات کا بڑی شد ومد اور قوت واستدلال سے حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث وتمحیص کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرکے انہیں قانون کا حصہ بنایا جائے، تاکہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کچھ پیش رفت ہوسکے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی منہ بند ہوسکے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے کی کیا ضرورت ہے؟ اور حکومت پاکستان نے کیوں اس کو باقی رکھا ہوا ہے؟ بہرحال اسلامی نظریاتی کونسل جس میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی ہے اور حکومت پاکستان کو متفقہ طور پر اسلامی قوانین کی طرف راہنمائی اس سے ملتی ہے، اس کو نہ صرف یہ کہ باقی رکھا جائے، بلکہ اس کی تمام سفارشات کو اہمیت اوراولیت دے کر ان پر قانون سازی بھی شروع کی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں اور سفارشات کے علاوہ ایک سفارش یہ بھی کی گئی ہے کہ عدالتیں خلع اور تنسیخ نکاح میں فرق کریں، جیسا کہ روزنامہ جنگ میں ہے: ’’(اسلام آباد، نمائندہ جنگ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کونسل نے یہ بھی قرار دیا کہ عدالتیں خلع اور تنسیخ نکاح میں فرق کریں۔ اجلاس نے مسلم عائلی قوانین آرڈی نینس کی دفعہ :۸پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ تفویض طلاق شرعاً درست ہے، تاہم واضح انداز میں ایک ایسی اضافی دفعہ کی عبارت تجویز کی جائے جس میں ابہام نہ ہو، جس کی وجہ سے میاں بیوی میں اختلاف واقع ہو۔ کونسل نے رائے دی کہ دونوں قوانین مسلم عائلی قوانین ۱۹۶۱ء اور قانون انفساخ نکاح مسلمانان۱۹۳۹ء میں اس دفعہ کو شامل کیا جائے اور فسخ نکاح کی دیگر صورتوں (خلع، مباراۃ، ظہار، ایلاء اور لعان) کو بھی شامل کرلیا جائے۔ نکاح نامہ فارم نئے سرے سے مرتب کیا جائے ،اور متعلقہ وزارت کو خط ارسال کیا جائے کہ کونسل کی رائے کے مطابق کمپیوٹرائزڈ نکاح فارم مرتب کیا جائے۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمد خان شیرانی نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں فیصلوں سے آگاہ کیا۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔کونسل نے قراردیا ہے کہ مروجہ عدالتی خلع جس میں شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یکطرفہ ڈگری جاری کرتی ہے، درست نہیں ہے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ خلع اور فسخ، ایلائ، لعان اور ظہار کی تعریفات پر مشتمل انفساخ نکاح مسلمانان ۱۹۳۹ء میں ایک اضافی دفعہ کا ڈرافٹ تیار کریں۔ مولانا شیرانی نے وضاحت کی کہ خلع ایک سودا ہے جس میں خاوند اور بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (روزنامہ جنگ کراچی، ۲۸؍ مئی۲۰۱۵ء مطابق ۹؍ شعبان المعظم ۱۴۳۶ھ) حقیقت یہ ہے کہ مسلم عوام اس مسئلہ میں بہت ہی زیادہ الجھن اور پریشانی کا شکار ہے، ایک طرف تو معمولی معمولی باتوں کی بناپر لڑکی اور اس کے والدین یا بہن بھائی عدالت میں خلع لینے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ اور دوسری طرف شوہر ناراضی کی بناپر باوجود عدالت کے نوٹس بھجوانے کے عدالت نہیں جاتا، جس کی بنا پر عدالت یکطرفہ ڈگری جاری کرتے ہوئے اس کی بیوی کو خلع کا سرٹیفیکٹ دے دیتی ہے۔اب اس لڑکی کا شوہر دارالافتاؤں کا رُخ کرتا ہے اور ان سے اس سوال کا فتویٰ طلب کرتا ہے کہ کیا عدالت کا شوہر کی رضا مندی معلوم کیے بغیر خلع کا فیصلہ دینا جائز ہے؟ ظاہر ہے خلع تو فریقین کی رضامندی سے ہوتا ہے، نہ کہ یکطرفہ ڈگری جاری کرنے سے۔اور بعض اوقات کسی شریف لڑکی کو شوہر ایسا ’’متعنت‘‘ ملتا ہے کہ نہ تو وہ شریفانہ انداز میں اس کے حقوق ادا کرتا ہے اور نہ ہی اس کو طلاق دے کر آزاد کرتا ہے تو اب عدالت اس کے لیے کیا فیصلہ اختیار کرے؟ اسی طرح کی کئی اور قانونی پیچیدگیاں، خامیاں اور مشکلات ایسی ہیں جو فریقین کو اکثر وبیشتر پیش آتی ہیں۔انہی مشکلات کے بارہ میں شہید ِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی vرقم طراز ہیں: ۱:… ہمارے یہاں یہ تو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ جس شخص کو جج کے منصب پر فائز کیا جائے وہ رائج الوقت قانون کا ماہر ہو اور ایک عرصہ تک اس نے بحیثیت وکیل کے تجربہ بھی بہم پہنچایا ہو، لیکن شریعت ِ اسلامی نے منصب قضا کے لیے جو شرائط مقرر کی ہیں، مثلاً: اس کا مسلمان ہونا، عادل ہونا، شرعی قانون کا ماہر ہونا، ان شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا، چنانچہ جس جج کی عدالت میں خلع کا مقدمہ جاتا ہے، اس کے بارے میں ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ مسلمان بھی ہے یا نہیں؟ اور شرعی قانون کا ماہر ہونا تو درکنار وہ ناظرہ قرآن بھی صحیح پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ کسی غیر مسلم کا فیصلہ مسلمانوں کے نکاح وطلاق کے معاملات میں شرعاً نافذ ومؤثر نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ یہ اُصول طے کردیا جائے کہ خلع کے جو مقدمات عدالتوں میں جاتے ہیں ان کی سماعت صرف ایسا جج کرسکے گا جو مسلمان ہو، نیک اور خدا ترس ہو، اور شرعی مسائل کی نزاکتوں سے بخوبی واقف ہو، چونکہ خلع سے حلال وحرام وابستہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس میں شرعی اُصول وقواعد کی پابندی کی جائے۔ ۲:… موجودہ عدالتی نظام میں سب سے زیادہ مؤثر کردار قانون کے ماہرین (وکلائ) حضرات کا ہے کہ وہی فریقین کی طرف سے عدالت میں پیش ہوتے ہیں اور عدالت کی قانونی راہ نمائی کرتے ہیں، لیکن وکیل صاحبان کا طرزِ عمل عموماً یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مؤکل کا موقف قطعاً غلط اور باطل ہے،وہ اس باطل کی پیروی کے لیے مستعد ہوجاتے ہیں اور پھر اس باطل کو حق اورجھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے نہ صرف خود عدالت میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں، بلکہ اپنے مؤکل کو بھی جھوٹا بیان تلقین کرتے ہیں اور یہ جھوٹا بیان اس کو اس طرح رَٹاتے ہیں جس طرح قرآن حفظ کرنے والا بچہ مکتب میں قرآن کریم کے الفاظ کو رَٹتا ہے۔ کوئی خاتون خلع کی درخواست عدالت میں پیش کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے بھی وکیل صاحبان کی خدمات حاصل کرنا ناگزیر ہوتا ہے اور وکیل صاحبان اس سے بھی جھوٹا بیان دِلواتے ہیں۔ خیال کیجیے کہ عورت کا جو دعویٰ اس طرح کے وکیلانہ جھوٹ پر مبنی ہو اور عدالت اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر اسے خلع کی یک طرفہ ڈگری دے دے تو کیا یہ عدالتی فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حلال وحرام کو تبدیل کرنے میں مؤثر ہوسکتا ہے؟ ۳:… عدالت کا منصب فریقین کے ساتھ انصاف کرنا ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ عدالت کا جھکاؤ کسی ایک فریق مقدمہ کی طرف نہ ہو، لیکن مغربی پروپیگنڈے کے زیر ِ اثر ہمارے یہاں گویا یہ اُصول طے کرلیا گیا ہے کہ خلع کے مقدمے میں مرد ہمیشہ ظالم ہوتا ہے اور عورت ہمیشہ معصوم ومظلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلع کے تقریباً سو فیصد فیصلے عورت کے حق میں کیے جاتے ہیں۔ جب عدالت نے ذہنی طور پر شروع ہی سے عورت کی طرف داری کا اُصول طے کرلیا ہو تو سوچا جاسکتا ہے کہ اس کا فیصلہ انصاف کی ترازو میں کیا وزن رکھتا ہے؟ اور وہ شرعاً کیسے نافذ ومؤثر ہوسکتا ہے؟ اور اس کے ذریعہ عورت پہلے شوہر کے لیے حرام اور دوسرے کے لیے حلال کیسے ہوسکتی ہے؟ ۴:… مفتی اور قاضی کے منصب میں یہ فرق ہے کہ مفتی کے سامنے جو صورتِ مسئلہ پیش کی جائے، وہ اس کا شرعی حکم لکھ دیتا ہے، اس کو اس سے بحث نہیں کہ سوال میں جو واقعات درج ہیں وہ صحیح ہیں یا نہیں؟ نہ اس کے ذمہ اصل حقائق کی تحقیق وتفتیش لازم ہے۔ برعکس اس کے قاضی کا منصب یہ ہے کہ مدعی نے اپنے دعویٰ میں جو واقعات ذکر کیے ہیں، ان کے ایک ایک حرف کی تحقیق وتفتیش کرکے دیکھے کہ ان میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ؟ اور جب تحقیق وتفتیش کے بعد دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی الگ الگ ہوجائے تو اس کی روشنی میں عدل وانصاف کی ترازو ہاتھ میں لے کر خدا لگتا فیصلہ کرے۔ لیکن ہمارے یہاں خلع کے مقدمات میں تحقیق وتفتیش کی ضرورت کو نظر انداز کردیا گیا ہے، گویا عدالتیں قاضی کی بجائے مفتی کا کردار ادا کرتی ہیں، مدعیہ کی جانب سے جوواقعات پیش کیے جاتے ہیں، جن کو وکیل صاحبان نے اپنی خاص مہارت کے ذریعہ بات کا بتنگڑ بناکر خوب رنگ آمیزی اور مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا ہوتا ہے، عدالت انہی کو وحی آسمانی اور حرفِ آخر سمجھ کر ان کے مطابق یک طرفہ ڈگری صادر کردیتی ہے۔ شوہر کو حاضر ِ عدالت ہونے کی بھی زحمت نہیں دی جاتی، نہ صحیح صورتِ حال کو معلوم کرنے کی تکلیف اُٹھائی جاتی ہے، عدالت زیادہ سے زیادہ یہ کرتی ہے کہ شوہر کے نام نوٹس جاری کردیتی ہے کہ وہ:’’فلاں تاریخ کو حاضر عدالت ہوکر اپنا موقف پیش کرے، ورنہ اس کے خلاف کارروائی یک طرفہ عمل میں لائی جائے گی۔‘‘مرد یہ سمجھتا ہے کہ اس کا عدالت جانا، نہ جانا برابر ہے، کیونکہ عدالتی فیصلہ تو بہرصورت اس کے خلاف ہونا ہے، اس لیے وہ عدالت کے نوٹس کانوٹس ہی نہیں لیتا، ادھر عدالت یہ سمجھتی ہے کہ اس نے شوہر کے نام نوٹس بھجواکر قانون وانصاف کے سارے تقاضے پورے کردیئے ہیں، اب اگر وہ عدالت میں نہیں آئے گا تو اپنا نقصان کرے گا، اس لیے وہ خلع کی یک طرفہ ڈگری جاری کردیتی ہے۔ دراصل خلع کے مقدمہ کو بھی دیوانی مقدمات پر قیاس کرلیا گیا ہے کہ مالیاتی مقدمہ میں اگر مدعا علیہ حاضر عدالت ہوکر اپنا دفاع نہیں کرے گا تو فیصلہ اس کے خلاف ہوجائے گا، اس لیے وہ اس کے خوف کی بنا پر خود حاضر عدالت ہوگا، حالانکہ خلع کا مقدمہ عورت کے ناموس کے حلال وحرام سے متعلق ہے، اس میں ایسی تساہل پسندی کسی طرح بھی روا نہیں ہوسکتی، اور جب عدالت اپنا منصبی فرض جو شرعاً اس کے ذمہ ہے بجا نہ لائے تو اس کے یک طرفہ فیصلے کے بارے میں کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ شرعاً نافذ ومؤثر ہے؟ ہماری عدالتیں آخر ایسی بے اختیار کیوں ہیں کہ وہ مدعا علیہ کو عدالت میں بلانے سے عاجز ہوں اور بغیر تحقیق وتفتیش کے حلال وحرام کے یک طرفہ فیصلے کرنے کی انہیں ضرورت پیش آئے؟ ۵:… میاں بیوی کے درمیان کشاکشی کا اندیشہ ہو تو حق تعالیٰ شانہ نے حکام اور دونوں خاندانوں کے لوگوں کو حکم فرمایا ہے کہ ان کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں، چنانچہ ارشاد ہے: ’’وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ أَہْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ أَہْلِہَا إِنْ یُّرِیْدَا إِصْلاَحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْْنَہُمَا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا۔‘‘                   (النسائ:۳۵) ’’اور اگر تم کو ان دونوں کے درمیان کشاکشی کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو، مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو، عورت کے خاندان سے (تجویز کرکے اس کشاکشی کو رفع کرنے کے لیے ان کے پاس)بھیجو(کہ وہ جاکر تحقیق حال کریں، اور جو بے راہی پر ہو یا دونوں کا کچھ کچھ قصور ہو، سمجھائیں) اگر ان دونوں آدمیوں کو (سچے دل سے) اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ میاں بیوی میں اتفاق پیدا فرمائیں گے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی خبر والے ہیں۔‘‘                                                   (النسائ:۳۵، مأخوذ از ترجمہ حضرت تھانویؒ) لیکن ہمارے یہاں اس حکم الٰہی کو یکسر نظر انداز کردیا گیا اور ’’خلع کی یک طرفہ ڈگری‘‘ کو تمام عائلی مسائل کا واحد حل قرار دے لیا گیا، چنانچہ میاں بیوی کے درمیان مصالحت کرانے کا یہ قرآنی حکم گویا منسوخ کردیا گیا، لڑکے اور لڑکی کے خاندان کے لوگ تو اس کے لیے کوئی قدم کیا اُٹھاتے؟ ہماری عدالتیں بھی قرآن کریم کے اس حکم پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتیں، بلکہ اس سے بڑھ کر ستم ظریفی یہ کہ بعض دفعہ میاں بیوی دونوں شریفانہ زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں، لیکن لڑکی کے والدین خلع کا جھوٹا دعویٰ کرکے خلع کی یک طرفہ ڈگری حاصل کرلیتے ہیں اور عدالت میاں بیوی سے پوچھتی تک نہیں۔‘‘                                             (آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۶،ص: ۷۶۲ تا ۷۶۵) بہرحال طلاق اور خلع میں کئی وجوہ سے فر ق ہے کہ: خلع کا مطالبہ عموماً عورت کی جانب سے ہوتا ہے اور اگر مرد کی طرف سے اس کی پیشکش ہو تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف رہتی ہے، عورت قبول کرلے تو خلع واقع ہوگی، ورنہ نہیں۔ جب کہ طلاق عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں، وہ قبول کرے یا نہ کرے، طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ عورت کے خلع قبول کرنے سے اس کا مہر ساقط ہوجاتا ہے، طلاق سے ساقط نہیں ہوتا، البتہ اگر شوہر یہ کہے کہ تمہیں اس شرط پر طلاق دیتا ہوں کہ تم مہر چھوڑ دو اور عورت قبول کرلے تو یہ بامعاوضہ طلاق کہلاتی ہے اور اس کا حکم خلع ہی کا ہے، خلع میں شوہر کا لفظ’’طلاق‘‘ استعمال کرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر عورت کہے کہ: ’’میں خلع (علیحدگی) چاہتی ہوں‘‘ اس کے جواب میں شوہر کہے: ’’میں نے خلع دے دی‘‘ تو بس خلع ہوگئی۔ خلع میں طلاق بائن واقع ہوتی ہے، یعنی شوہر کو اب بیوی سے رجوع کرنے یا خلع کے واپس لینے کا اختیار نہیں ، ہاں! دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ تنسیخ نکاح کی صحیح صورت یہ ہے کہ عورت کی شکایت پر عدالت، شوہر کو طلب کرے اور اس سے عورت کے الزامات کا جواب طلب کرے، اگر شوہر ان الزامات سے انکار کرے تو عورت سے گواہ طلب کیے جائیں یا اگر عورت گواہ پیش نہیں کرسکتی تو شوہر سے حلف لیا جائے، اگر شوہر حلفیہ طور پر اس کے دعویٰ کو غلط قرار دے تو عورت کا دعویٰ خارج کردیا جائے گا اور اگر عورت گواہ پیش کردے تو عدالت شوہر کو بیوی کے حقوق شرعیہ ادا کرنے کی تاکید کرے اور اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ان دونوں کا یکجا رہنا ممکن نہیں تو شوہر کو طلاق دینے کا حکم دیا جائے اور اگر وہ طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو(جب کہ وہ عورت کے حقوق واجبہ بھی ادا نہیں کرتا) تو عدالت از خود فسخ نکاح کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ فیصلہ کرنے والا جج مسلمان ہو، ورنہ اگر جج غیر مسلم ہو (جیسا کہ پاکستان کی عدالتوں میں غیر مسلم جج بھی موجود ہیں) تو اس کا فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔حکومت پاکستان سے ہماری درخواست ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی اس سفارش کو ترجیحاً جلد از جلد پارلیمنٹ میں پیش کرکے اس کو قانون کا حصہ بنائے، تاکہ پاکستانی مسلم قوم اس اذیت ناک اور تکلیف دہ صورت حال سے نکل سکے۔اور عدالتیں واضح طور پر خلع اور تنسیخ نکاح کے فیصلوں میں فرق کریں، ہر ایک کے لیے شریعت مطہرہ نے جو طریقہ کار متعین و مقرر کیا ہے، اس کی پابندی کی جائے۔

میانمار کے مسلمانوں پر مظالم کب تک؟

مسلم ممالک کی تعداد کہنے کو تو ستاون سے زائد ہے، لیکن تقریباً ہر اسلامی ملک انتشار، افتراق، عدم اتحاد اور عدم استحکام کا شکار ہے، جس کی بنا پر کئی ایک غیر مسلم ممالک میں مسلمان اقلیت ظلم وستم، جبرواکراہ اور قتل وغارت گری کے لیے تختۂ مشق بنی ہوئی ہے۔ خصوصاً میانمار کے مسلمانوں پر برما کی حکومت کی طرف سے مسلسل مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ویسے تو ۱۹۶۸ء سے برمی مسلمان وہاں کی حکومت کے عتاب کا شکار ہیں، لیکن تین سال سے وقتاً فوقتاً برما کے مسلمانوں پر وہاں کے حکومتی اہلکاروں اور مگھ غنڈوں نے مل کر مسلمانوں کا قتل عام شروع کررکھا ہے۔ ہزاروں مسلمان تہہ تیغ کیے جاچکے ہیں اور لاکھوں مسلمان بے گھر ہوچکے ہیں۔ قریب کے ممالک ان کو اپنے ہاں پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ، اس لیے دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور اپنے اپنے ممالک کے حکمرانوں سے یہ اپیلیں کررہے ہیں کہ برما کے مسلمانوں کو اس وحشیت وبربریت سے چھٹکارا دلایا جائے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں سب سے پہلے قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے برما کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائی، جس پر دوسرے اراکین اسمبلی نے بھی آپ کی تائید کی، اس لیے پاکستان کے وزیر اعظم جناب میاں نواز شریف صاحب نے تین رکنی کمیٹی بنادی ہے، جس میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار احمد صاحب، جناب سرتاج عزیز صاحب ، جناب فاطمی صاحب شامل ہیں جو برماکے مظلوم مسلمانوں کی دادرسی کا طریقہ کار طے کرے گی۔ حکومت پاکستان سے ہماری اپیل ہے کہ وہ: ۱:… برما کے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مختلف فورموں پر مؤثر آواز اٹھائے، تاکہ برمی مسلمانوں کو احساس ہو کہ وہ اکیلے نہیں، بلکہ امت مسلمہ ان کی پشت پر ہے۔ ۲:… اقوام متحدہ برما کے مظلوم مسلمانوں کی کھل کر امداد کرے اور برما کی حکومت کے ظلم وستم کو بند کرائے۔ ۳:… بنگلہ دیش اور اس طرح برما کی سرحد پر جو ممالک آباد ہیں وہ ان مظلوم وبے سہارا افراد کو اپنے ہاں پناہ دیں۔ ۴:… پاکستانی مسلم عوام سے بھی درخواست ہے کہ برما کے ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کریں اور ہر اعتبار سے ان کی مدد وتعاون بھی کریں۔

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے