بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1440ھ- 20 جون 2019 ء

بینات

 
 

استحکامِ مدارس دینیہ کانفرنس!

استحکامِ مدارس دینیہ کانفرنس!

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

اہل سنت والجماعت علمائے دیوبندکی عظیم الشان مشہورومعروف علمی، دینی، تبلیغی وروحانی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام ’’استحکام مدارس دینیہ ‘‘کے عنوان سے ایک باوقار ونمائندہ اجتماع ۱۵؍ ربیع الاول ۱۴۳۷ھ مطابق۲۷؍ دسمبر۲۰۱۵ء بروز اتوار کو جامعہ کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں کراچی ڈویژن کے تمام مدارس کے مہتممین اور ذمہ دار حضرات شریک ہوئے، خصوصاً وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر استاذ العلمائ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب، دارالعلوم کراچی کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب، حضرت مولانا اسفند یار خان صاحب، حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب، حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب، حضرت مولانا محمد زرولی خان صاحب جیسے اکابر ومشائخ اسٹیج کی زینت بنے۔ اس باوقاراور نمائندہ اجتماع کو کامیاب بنانے اور اس کی بھرپور تیاری میں جن حضرات نے رات دن ایک کیا، ان میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ناظم تعلیمات واستاذ الحدیث، وفاق المدارس سندھ کے ناظم حضرت مولاناامداداللہ صاحب، معاون ناظم حضرت جناب مولانا عبدالرشیدصاحب، کراچی کے کوآرڈینٹربرادرعزیزمولاناابراہیم سکرگاہی وغیرہم کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کوجزائے خیرعطافرمائے۔ وفاق المدار س العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے فیصلے کے مطابق ملک بھرمیں دینی مدارس کے مہتممین کے اجتماعات کے انعقاد کا فیصلہ ہوا،چنانچہ پہلے مرحلے میں صوبہ پنجاب میں چاراجتماعات ہوئے، اس کے بعد خیبرپختونخواہ میں چاراجتماعات ہوئے، صوبہ سندھ میں یہ پہلااورمجموعی طورپر ’’استحکام مدارس دینیہ‘‘ مہم کا یہ نواں اجتماع تھا اور ا س کے بعد ان شاء اللہ! حیدرآباد اور سکھر میں بھی اسی نوعیت کے اجتماعات ہوں گے، اور آخری مرکزی اجتماع ۲۳؍ مارچ ۲۰۱۶ء کو مینار پاکستان کے سائے میں ان شاء اللہ! منعقد ہوگا۔ شرکائے اجلاس کی آمد کا آغاز صبح ہی سے شروع ہوگیا تھا، جامعہ میں داخل ہوتے ہی آنے والے مہمانانِ گرامی کی چائے سے تواضع کی جاتی رہی، جامعہ کی مسجد میں معزز مہمانوں کے لیے محراب کے دونوں جانب کرسیاں لگاکر خوبصورت اور عمدہ نشستیں لگائی گئیں۔ اجلاس بروقت حسب روایت قرآن کریم کی تلاوت اور نعت سے شروع کیا گیا، سب سے پہلا بیان مسجد بیت السلام کے امام وخطیب حضرت مولانا عبدالستار صاحب حفظہ اللہ کا ہوا، جس میں انہوں نے اہل مدارس پر تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کرام کی اخلاقی تربیت، مدرسہ کی صفائی کے نظم اور خصوصاً مدرسہ کے اندر کے نظم کو صاف و شفاف رکھنے پر زور دیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا اسفند یار خان صاحب کا بیان ہوا، جس میں انہوں نے وفاق کی قیادت کو مدارس کا مقدمہ حکومتی ایوانوں میں پیش کرنے اور اہل حکومت سے اپنے موقف کو منوانے پر مبارک باد پیش کی اور اہل مدارس کی طرف سے وفاق کی قیادت پر بھرپور اعتماد اور تعاون کا یقین دلایا۔ اس کے بعد شیخ طریقت حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب نے اپنے خوبصورت اشعار کے ذریعہ اللہ تعالیٰ پر توکل واعتماد اور صفائے باطن پر خوبصورت نصائح ارشاد فرمائیں۔ اس کے بعد تفصیلی بیان وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری زیدمجدہم کا ہوا، جس میں انہوں نے ’’استحکام مدارس دینیہ کنونشنز‘‘کے اغراض ومقاصد، اب تک حکومت سے ہونے والے مذاکرات کے بارہ میں تفصیلات سے آگاہ اور وفاق کی جانب سے اہل مدارس کو بھیجے جانے والے کوائف نامہ کی اہمیت وضرورت کو واضح فرمایا۔ حضرت ناظم اعلیٰ وفاق المدارس کے بیان کے چند اقتباسات یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ حضرت نے ان اجتماعات کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اہل مدارس حضرات سے رابطہ کرنا، آپ حضرات سے ملاقات کرنا، آپ حضرات کی تجاویزوآراء کی روشنی میں لائحہ عمل مرتب کرنا، اس لیے کہ ایک دورایساتھاکہ جب وفاق المدارس کے ساتھ ملحق مدارس کی تعداد عشروں میں تھی، پھروہ سینکڑوں میں تھی اوررفتہ رفتہ اس سے زیادہ ہوئی، جس زمانے میں مدارس کی تعداد کم تھی تووفاق کی قیادت سال دوسال کے بعد مدارس کادورہ کرتی، معائنہ کرتی۔۱۴۰۱ھ، ۱۹۸۱ء میں قائد وفاق کی معیت میں ہم نے گاؤں اورچھوٹے شہروں میں مدارس کے دورے کیے، لیکن آج الحمدللہ! آپ کے بانیوں کے اخلاص اورآپ کے اکابرین کی محنت اوراخلاص کے نتیجے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ ملحقہ مدارس کی تعداد اٹھارہ ہزار سے زائد ہے، اتنی بڑی تعدادمیں ہرمدرسہ میں جانا سالوں میں ممکن نہیں ہے، اس لیے یہ طے کیاگیاکہ ڈویژنوں کی سطح پر، اضلاع کی سطح پر اجتماعات کیے جائیں، تاکہ آپس کے رابطہ کوبڑھایا جائے اور اس رابطے کومضبوط اورمستحکم کیاجائے، چنانچہ اس مقصدکے لیے یہ اجتماع ہوا۔ ۲:۔۔۔۔ حالیہ دنوں میں بالخصوص ۱۶؍دسمبر۲۰۱۴ء کے سانحہ پشاورکے بعدجودینی مدارس کوہدف بنادیاگیا، دینی مدارس کے خلاف پہلے سے تیار منصوبوں کوعملی شکل دینے کے لیے کارروائیاں شروع کردی گئیں، تواس عرصہ میںصوبائی حکومتوں سے مرکزی حکومتوں سے جومذاکرات ہوئے، ان مذاکرات کی کچھ روئیداد، کچھ تفصیل آپ کی خدمت میں عرض کی جائے، تاکہ آپ کووفاق کاموقف معلوم ہو، وفاق المدارس کی جدوجہدمعلوم ہو۔ ۳:۔۔۔۔ ان اجتماعات کے لیے وفاق المدارس کی مجلس عاملہ اورشوریٰ نے جو فیصلے کیے ہیں یا جو حالیہ دنوں میں کچھ امورطے کیے ہیں، ان کے بارے میں آپ کوآگاہ کرکے اعتمادمیں لیاجائے، یہ تین بنیادی مقاصدہیں۔ جہاں تک حکومت سے ہونے والے مذاکرات کی روئیدادکاتعلق ہے، میں اس کا اجمال یا تفصیل عرض کرنے سے پہلے یہ بات عرض کرناچاہتاہوں کہ ایک عرصہ دراز سے دینی مدارس ہدف ہیں، دینی مدارس کے خلاف بیانات واحکامات بین الاقوامی ایجنڈے کاحصہ ہیں۔ آج عالمی قوتوں کے ایجنڈے پر جس طرح اسلام ہے، مسلمان ہیں، مسلم ممالک ہیں، مسلم ممالک کے وسائل ہیں، اسی طرح آج عالمی قوتوں کے ایجنڈے پردینی مدارس بھی ہیں، اسلامی اوردینی قوتیں بھی ہیں۔یہ کیوں ہے؟ اس کاجواب آپ کے پاس موجود ہوگا۔لیکن میں آپ کو وفاق المدارس کے پہلے صدر جووفاق کے بانیوںمیں بھی شامل ہیں، ان کی ایک بات سناناچاہتاہوں، جووفاق المدارس کے پہلے صدر شمس العلماء حضرت مولاناشمس الحق افغانیv نے ۱۹۶۰ء میں خیرالمدارس ملتان میں وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی تھی، اورا س بات کوجب میں نے پڑھاتومجھے حیرانگی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اکابرکوکیافراست، کیابصیرت، کیادور رس نگاہ عطافرمائی تھی، انہوں نے آج سے ۵۵ سال پہلے وہ بات فرمائی جو آج کے حالات پر سوفیصد صادق آتی ہے، انہوں نے کتناعرصہ پہلے اس صورت حال کوبھانپ لیا، انہوں نے وفاق کی مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: آج دنیامیں مقابلہ اسلام اورعیسائیت کانہیں ہے، اسلام اوریہودیت کانہیں ہے، اسلام اورہندوازم کانہیں ہے، کسی مذہب کے ساتھ آج اسلام کامقابلہ اورآج یہ تقابل نہیں ہے، فرمایا کہ: اسلام اورعیسائیت کے مقابلے ہوئے، اسلام اوریہودیت کے ہوئے، مگراب عیسائیت ایک قوم بن چکی ہے، یہودی ایک قوم کی شکل اختیارکربیٹھی، ہندواورسکھ ایک قوم ہیں، آج مقابلہ دنیا میں اسلام اورمغربیت کاہے، آج مغرب ایک مذہب، ایک فکر، ایک فلسفہ، ایک نظریہ اورایک تہذیب کی شکل اختیارکرچکاہے، اس لیے آپ دنیاکے حالات پرنظرڈالیں توخواہ وہ عیسائی ملک ہو، خواہ وہ یہودی ملک ہو، خواہ اس ملک کی اکثریت آبادی ہندؤوں پرمشتمل ہو، خواہ بدھ مت مذہب کے ماننے والے اکثریت میںہوں، آج مغرب یہ چاہتاہے کہ میری فکر، میرافلسفہ، میرانظریہ، میرا کلچر، میری تہذیب، میرا تمدن وہاں پر نافذ ہو۔ وہ عیسائیوں پر اپنی فکر کو مسلط کرناچاہتاہے، وہ یہودی ملکوں میں بھی اپنے نظریئے کومسلط کرناچاہتاہے، وہ اپنی تہذیب کو دنیاکے تمام ممالک پرمسلط کرنا چاہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عیسائی ملکوں میں بھی ہم جنس پرستی کے قانون بن رہے ہیں، آج عیسائی ملکوں کے اندربھی انسانی حقوق کواللہ کے قوانین پربرتری دی جاری ہے۔آج عیسائی ملکوں میں بھی وہ کلچراورتہذیب جو اُن کے مذہب میں نہیں ہے، آج وہاں پربھی مغرب کی فکراورفلسفہ موجود ہے۔ آپ اہل علم ہیں، آپ اس کی تفصیل کوجانتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ آج یورپ اورمغرب کے ملکوں میں دیکھ لیں کہ وہاں پران کے مذہب میں کلچر نہیں ہے، جوآج ان کے ملک میں قانونی حیثیت اختیارکرچکے ہیں، یہ آپ کونہیں ملیں گے، کیونکہ آج کامغرب اپنی فکر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ چاہیے تویہ تھاکہ مغرب کی اس فکرکے مقابلے میں دنیاکے تمام مذاہب ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے، مگرانہوںنے پسپائی اختیارکی اوراس مذہب کی فکرکے مقابلے میں اگرکوئی سینہ تان کرکھڑاہے تووہ اسلام ہے اورمسلمان ہے، جواس کوچیلنج کررہا ہے۔ اسلام اورمسلمانوں کامرکز چونکہ دین کامدرسہ ہوتاہے، اس کو اپنامذہب، اپنانظریۂ فکراوراپنے عقائدونظریات اوراس کو اپنی تہذیب وتمدن چونکہ مدرسہ سے ملتی ہے، مدرسہ اس کامرکزہوتاہے، اس لیے آج بین الاقوامی ایجنڈے پرمدرسہ ہے، چونکہ مدرسہ مغرب کی فکراورفلسفے، مغرب کے نظریات اورمغرب کی تعلیم وتمدن میں سد سکندری بن کرکھڑاہے، آج کامولوی اسے چیلنج کررہاہے، اس لیے آج بین الاقوامی قوتوں کا سب سے پہلاہدف دین کامدرسہ ہے۔میرے دوستو!ہمیں ا س میں کوئی شک نہیں ہوناچاہیے، کہ ہمارے مدارس کے خلاف یہ آئے دن کے اقدامات یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ مجاہدملت حضرت مولانامحمدعلی جالندھریv فرمایاکرتے تھے کہ: ’’حکومت کی پالیسیاں مؤخرہوتی ہیں، ملتوی ہوتی ہیں، منسوخ نہیں ہواکرتیں۔‘‘ وہ اپنے منصوبے مناسب وقت کے انتظارمیں رکھتے ہیں کہ کب کوئی وقت ملے گاتو ہم اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ہدف اسلام اور اسلام کی تعلیم کے مراکز ہیں اور چونکہ وقت کے انتظار میں رہتے ہیں، پشاورکا سانحہ ہوا، توکئی لوگوں نے سمجھااب مدارس کوکنٹرول کرنے کابہترین وقت ہے، قومی ایکشن پلان آگیا، نیشنل ایکشن پلان آگیااوراس نیشنل ایکشن پلان کے اندربیس نکات میں سے ایک نکتہ جان بوجھ کرمدارس کا شامل کیا گیا۔ جس وقت وزیراعظم پاکستان نے قومی ایکشن پلان کااعلان کیا، ہم اس وقت اسلام آبادمیں تھے، ہمارے اسلام آبادکے دوستوں سے اس سے ایک دن پہلے ہی ہمارایہ مشورہ ہوا تھا کہ ہم تمام راولپنڈی اوراسلام آبادکے علماء کا اجتماع بلارہے ہیں، کیونکہ سانحہ پشاورکے بعداعلانات شروع ہوگئے تھے، توانہوں نے وہاںاجتماع کیا، تقریباً پانچ سوکے قریب علماء تھے۔ اس میں حضرت مولانافضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ بھی تشریف لائے، اور یہ فقیر بھی وہاں حاضر تھا، میں نے کہا کہ: وزیراعظم صاحب نے رات قوم سے خطاب میں جوقومی ایکشن پلان میں دینی مدارس کاذکرکیاہے اورجن چیزوں کاذکرکیاہے، ہم اس کومستردکرتے ہیں۔ اس لیے کہ وزیراعظم نے مدرسہ کے حوالہ سے نیشنل ایکشن پلان میں جن تین باتوں کاتذکرہ کیا، وہ تینوں باتیں خلاف واقعہ ہیں، ان کاہم سے کوئی تعلق نہیں۔اوروزیراعظم کونوٹس لیناچاہیے کہ کس نے کون سی بنیادپر قوم کو اندھیرے میں رکھا؟ اٹھارہ کروڑ عوام کے ملک کاوزیراعظم اگرایسی بات کرے کہ جس کا سرے سے ہم سے کوئی تعلق نہ ہو تویہ قابل افسوس بات ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے دینی مدارس کے حوالہ سے تین باتیں کہی ہیں: پہلی بات یہ کہ ۔۔۔۔۔’’ ہم دینی مدارس کورجسٹرڈکریں گے‘‘ ہم نے کہاکہ: دینی مدارس توپہلے سے رجسٹرڈ ہیں اوردینی مدارس کی رجسٹریشن کوئی متنازعہ مسئلہ نہیں ہے۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن ۱۹۵۱-۱۹۵۲ء سے ہورہی ہے، اوراب بھی حکومت کے مختلف محکموں کے دفتروں میں ہمارے مدارس کی رجسٹریشن کی درخواستیں زیرالتواپڑی ہیں۔چاہیے تویہ تھاکہ وزیراعظم یہ اقدام کرتے اور حکم نامہ جاری کرتے کہ ایک ہفتہ کے اندراندر تمام ملتوی درخواستوں کاکام نمٹاکر مدارس کو رجسٹرڈ کیاجائے اورجواہلکاررکاوٹ ڈال رہے ہیں، ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے، ان کوکہنایہ چاہیے تھا، مگرانہوں نے کہاکہ ہم مدارس کورجسٹرڈکریں گے تویہ خلاف واقعہ بات وزیراعظم نے کہی اوران کوغلط بتائی گئی۔ دوسری بات:۔۔۔۔۔ انہوں نے یہ کہی کہ:’’ دینی مدارس کو ملک کے قانون کا پابند بنائیں گے‘‘ میں نے کہایہ بھی خلاف واقعہ بات کہی۔ اہل مدارس تمام قوانین کی خود ارباب اقتدارسے زیادہ پابندی کرتے ہیں، ہم پرکبھی قانون شکنی کاالزام نہیں آیا۔ہم نے ہمیشہ قانون اورآئین کااحترام کیاہے۔قانون اورآئین کو حکومتوں اور اداروں نے توڑاہے۔ہم نے آج تک قانون کونہیں توڑا، ہم قانون نہ توڑتے ہیں نہ قانون کوتوڑنے دیں گے، نہ مدارس کادفاع چھوڑیں گے، نہ قانون توڑیں گے۔ہمارے مدارس خود بے انتہاء قوانین کے پابندہیں ۔یہ کہناکہ مدارس کوملکی قوانین کاپابندبنایاجائے گا، یہ بھی خلاف واقعہ بات ہے۔  تیسری بات:۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم کے اس خطاب میں قومی ایکشن پلان کے اندریہ آئی کہ:’’ دینی مدارس کی فنڈنگ اور ان کی آمدنی کے ذرائع کو چیک کیاجائے گاکہ ان کوپیسہ کہاں سے آتاہے؟ کون ان کوپیسے دیتاہے؟۔‘‘ تومیں نے کہا کہ دینی مدارس ایک ایک پائی کاحساب رکھتے ہیں، ہمارے اوپرآج تک کوئی کرپشن کاالزام نہیں ہے، سرسے پاؤں تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے حکومتی لوگ ہیں۔دینی مدارس نے تواللہ کو جواب دیناہے۔اگرکوئی ایک روپیہ بھی مدرسہ کو دیتاہے تو اہل مدارس اس کابھی حساب رکھتے ہیں، کوئی پچاس لاکھ دیتاہے اوررسیدنہیں مانگتا تو مدرسہ کامنتظم اس کابھی حساب رکھتاہے۔ہم ان پیسوں کے حسابات کاآڈٹ کرواتے ہیں اورآڈٹ کاپی متعلقہ رجسٹریشن آفس میں جمع کراتے ہیں، اس لیے یہ کہناکہ دینی مدارس کی آمدنی کہاں سے ہوتی ہے؟یہ بھی خلاف واقعہ بات ہے اوراس میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ ہماراموقف تھااوراب بھی ہے۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے وزیر اعظم اور آرمی چیف کی موجودگی میں حکومتی نمائندوں سے ہونے والے مذاکرات کے بارہ میں اہل اجتماع کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ: مدارس کے متعلق ہدایات اور حکومت سے ہونے والے مذاکرات کی آگاہی کے لیے وفاق المدارس رسالہ کو اہمیت کے ساتھ پڑھا کریں۔ ان کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مذہبی امور جناب عبدالقیوم سومرو صاحب نے خطاب کیا اور مدارس کو درپیش مسائل اور اس کے اسباب ووجوہ کے بارہ میں نشان دہی کی اور اس کے بعد جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کا بیان ہوا، جس میں آپ نے اہل مدارس سے فرمایا کہ: مدارس کے حسابات اور آمد وخرچ کو صاف شفاف رکھیں، اگر کوئی مدرسہ میں سوئی بھی دیتا ہے تو اس کی رسید کاٹیں اور وہ سوئی کہاں استعمال ہوئی، اپنے رجسٹروں میں اس کا بھی اندراج کریں۔ اس پر آپ نے محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہٗ کا ایک واقعہ سنایا کہ آپ مدرسہ کی اشیاء کے بارہ میں کتنا محتاط تھے، فرمایاکہ: حضرت بنوری قدس سرہ تشریف فرماتھے، ایک صاحب جو جامعہ میں بھی خدمات سرانجام دیا کرتے تھے اور دوسری جگہ پر بھی، انہوںنے حضرت کے سامنے سے ایک کاغذ اٹھاکر کچھ لکھنا چاہا، آپ نے فرمایا: جناب! یہ کاغذ مدرسہ کی دینی ضروریات کے لیے ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ حضرت! میں بھی ایک دینی خدمت کے لیے یہ کاغذ استعمال کررہا ہوں۔ آپؒ نے فرمایا:’’جس نے یہ کاغذ دیا ہے، اس نے اس مدرسہ کے دینی کام کے لیے دیا ہے، دوسری جگہ کے دینی کام کے لیے نہیں۔‘‘ یہ واقعہ سنانے کے بعد حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہٗ نے فرمایا: یہ ہمارے اکابر کا طرزِ عمل ہے، جس کی ہمیں پیروی کرنا چاہیے۔ آخری خطاب جامعہ دارالعلوم کراچی کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا ہوا اور جامعہ کے رئیس حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہٗ کی دعا پر یہ اجتماع اختتام پذیر ہوا، یہ اجتماع ظہر کی نماز تک جاری رہا، نماز کے بعد تمام مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف کھانے کا انتظام کیا گیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس اجتماع کو کامیاب بنانے والوں اوراس میں دامے، درمے، سخنے خدمت بجالانے والوں کو اپنے شایانِ شان جزائے خیر عطا فرمائے۔ مدارس اور اہل مدارس کی حفاظت فرمائے اور مدارس کی خیروبرکات سے جملہ عالم اسلام کو مستفید ومنور فرمائے۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے