بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

بینات

 
 

اجتماعی بیان کی نزاکت اور ضروری احتیاط

اجتماعی بیان کی نزاکت اور ضروری احتیاط

    بعض مقرر اور مبلغ اپنے جذبے کے تحت عوام کے اجتماع میں بیان کرتے ہوئے ایسے مشکل اور نازک موضوع کا بھی ذکر کرتے ہیں جس کے کافی دوررس اثرات ونتائج مرتب ہوتے ہیں، ایسا بیان کرتے ہوئے شاید اُن کا دھیان اس پہلو کی طرف جانے سے رہ جاتا ہے کہ اس طرح کے موضوع پر بیان کرنے سے عوام میں عقائدِ اسلامیہ کے بارے میں کئی قسم کی اشکالات پیدا ہوںگے، چنانچہ اسی بارے میں غور وفکر کے لیے چند باتیں عرض کی جاتی ہیں:     1۔۔۔۔۔عوام کے اجتماع میں تقریراور بیان کا بنیادی مقصد دین کا شوق اور آخرت کی فکر پیدا کرنا ہوتا ہے، اس کے لیے قرآن وحدیث، ان کی تفاسیر وشروح میں انبیاء کرامؑ، صحابہ کرامؓ اور دیگر اکابر کی بے شمار آسان، واضح، صحیح اور مستند باتیں موجود ہیں،جن کو عام آدمی سمجھ جاتا ہے، لیکن اگر نازک اور مشکل باتیں، مثلاً ایسا موضوع جس کا براہِ راست واضح تعلق صحابہ کرامؓ کے درمیان پیش آنے والے باہمی اختلافات سے ہو اور جس کی بنیاد پر اسلامی فرقے وجود میں آئے ہوں‘ بیان کیا جائے گا تو بجائے دین کا شوق پیدا ہونے کے ذہن میں اشکالات اور الجھنیں پیدا ہوں گی۔      مفتی محمد شفیع عثمانیv اپنی تفسیر میں ’’ادع إلٰی سبیل ربک‘‘ کے تحت فرماتے ہیں: ’’نصیحت سے مراد عنوان بھی نرم ہو ۔۔۔۔۔۔ حکمت سے مراد وہ بصیرت ہے جس کے ذریعہ انسان مقتضیاتِ احوال کو معلوم کرکے اس کے مناسب کلام کرے۔ اصولِ دعوت دوچیزیں ہیں: حکمت اور موعظت جن سے کوئی دعوت خالی نہ ہو۔‘‘  (معارف القرآن ج:۵)     علامہ شبیر احمد عثمانیv’’ تفسیر عثمانی‘‘ میں فرماتے ہیں:  ’’حکمت سے مراد ہے نہایت پختہ اور اٹل مضامین، موعظت حسنہ، لوگ ترغیب وترہیب کے مضامین سن کر منزل مقصود کی طرف بے تابانہ دوڑنے لگتے ہیں، جو بڑی اونچی عالمانہ تحقیقات کے ذریعہ ممکن نہیں۔ حدیث میں ارشاد مبارک ہے: ’’لوگوں پر آسانی کرو، دشواری پیدا نہ کرو۔‘‘     2۔۔۔۔۔ کوئی بات، واقعہ یا شخصیت کتنی ہی بلند وبالا، عظمت شان والی اور اہم کیوں نہ ہو اس کا ذکر وبیان موقع محل کی مناسبت سے کیا جائے تو مفید ثابت ہوتا ہے، ورنہ اختلاف وانتشار کے امکانات بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس اصول کا خاص طور پر تبلیغی جماعت میں تو غیر معمولی اہتمام کیا جاتا ہے۔ نماز اسلام کا بنیادی رکن اور اہم ترین فرض ہے، جس کے فرائض وواجبات اور دیگر ضروری مسائل کا سیکھنا بھی فرض ہے، لیکن اس کے بارے میں بھی اتنی زیادہ احتیاط کی جاتی ہے کہ بارہ تیرہ آدمیوں پر مشتمل جماعت میں وقت لگانے کے دوران اجتماعی تعلیم میں اختلاف پیدا ہونے کے خدشہ کے پیش نظر بنیادی فرائض کے مسائل سیکھنے یا مذاکرے سے منع کیا جاتا ہے، چنانچہ پرانے تبلیغی بزرگ عالم مولانا محمد عمر پالن پوریv جماعتوں کی روانگی کے وقت ہدایات دیتے ہوئے فرماتے ہیں:  ’’ہماری اس تعلیم میں فضائل کی تعلیم ہوتی ہے، اس سے شوق اور رغبت پیدا ہوتی ہے اور اس میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوتا، چونکہ مسائل میں اختلاف ہے، اس لیے اجتماعی تعلیم میں مسائل کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ سارے ہی حنفی ہوں تو بھی مسائل بیان کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ جماعت میں اکثر عوام ہوتے ہیں، غلط مسائل بتانے لگیں گے، اگر مسائل بیان کرنا شروع کیے تو اختلاف ہوجائے گا اور کام نہیں ہوگا۔‘‘      اسی طرح کوئی بھی اور کتاب نہ پڑھنے اور صرف حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا ؒ کی تصنیف کردہ فضائل کی کتابیں پڑھنے کی بھی یہی حکمت (سخت انتشار، تنازع اور کشمکش کا خدشہ) بتائی جاتی ہے۔      3۔۔۔۔۔اوپر بتائی گئی تبلیغی اکابر کی اتنی غیر معمولی احتیاط کے ہوتے ہوئے ایسے موضوع کو بیان کرنے کی گنجائش کس طرح پیدا ہوسکتی ہے جس کا براہِ راست واضح تعلق نبی اکرم a کے قریب ترین بہترین زمانہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرq اور حضرت عبد اللہ بن عباسq جیسے عظیم فقیہ، مجتہد اور مفسر اکابر صحابہ کرامؓ، کبار تابعینؒ اور صلحاء کے دور میں پیش آنے والے اجتہادی اختلاف سے ہو اور جس موضوع کو حضرت شیخ الحدیثv کے خاص خلیفہ مفتی محمود حسن گنگوہیv نے فتاویٰ محمودیہ، ج:۴، ص:۸۰ پر ’’اجتہادی چیز‘‘ قرار دیا ہو۔ (مزید دیکھئے: صفحہ:۳۴،۳۵ پر)     4۔۔۔۔۔ اُمت کے اکابرعلماء جب بھی کسی ایسی حدیث یا تاریخی واقعہ کا ذکر کرتے ہیں جس سے صحابہ کرام s کے آپس کے اختلافات یا نزاع کا پتہ چلتا ہو تو وہ اختلاف والی بات ذکر کرنے کے بعد اس کی تشریح وتوضیح اس طرح بیان کردیتے ہیں کہ ہر ہر صحابیؓ کا احترام اور تقدس باقی رہے اور کوئی بات اس طرح نہ بیان ہوجائے کہ ایک صحابیؓ کی تو فضیلت ظاہر ہو، مگر دوسرے صحابیؓ کا مقام ومرتبہ مجروح ہو، مثلاً ’’شمائل ترمذی‘‘ میں جب ’’باب حضور اقدس a کی میراث کا ذکر‘‘ کے سلسلے میں حدیث بیان کی گئی تو اس حدیث کے طویل قصے کو نقل کرنے کے بعد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاv نے حضرت عباسq اور حضرت علیq کے آپس میں جھگڑنے اور حضرت عمرq کی تقریر کے سلسلے میں پیدا ہونے والے اشکالات (چند ضروری ابحاث) کے جوابات دیتے ہوئے تینوں اکابر صحابہs کو اپنی اپنی جگہ حق بجانب ثابت کیا۔      اس طریقے سے ہٹ کر صحابہ کرامs کے باہمی اختلاف میں اگر صرف ایک اجتہادی رائے کو تو خوب کھول کھول کر اس انداز سے بیان کیا جائے گا اور ہرطرح کے فضائل ومناقب بھی بیان کیے جائیںگے کہ گویا اسلام اور حق اسی طرف تھا اور اسلام اسی پر موقوف تھا، اس کے علاوہ سب کچھ باطل تھا اور باقی صحابہ کرامs کی دوسری اجتہادی رائے کا کوئی ذکر نہیں ہوگا، جبکہ معاملہ بھی ایسا نازک ہو کہ مقتضیاتِ احوال کے تحت ذکر کرنا بھی ضروری ہو تو ایسا کرنے کے نتائج واثرات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔     5۔۔۔۔۔صحابہ کرامs کے باہمی اختلافات (مشاجراتِ صحابہؓ) کے نازک اور مشکل موضوع پر تو بڑے بڑے ائمہ اسلام بھی گفتگو سے اجتناب کی کوشش کیا کرتے تھے۔ مشہور تابعی اور بڑے عالم وفقیہ حضرت حسن بصریv کا یہ ارشاد اگرچہ صحابہ کرامs کے باہمی قتال کے سلسلے میں ہے، لیکن اس کا ذکر یہاں بھی موزوں اور مناسب ہے کہ:  ’’جس معاملہ میں تمام صحابہ کرامs کا اتفاق ہے ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔ حضرت محاسبیv فرماتے ہیں کہ ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حسن بصریv نے فرمائی۔ ہمیں یقین ہے کہ ان سب نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اللہ کی خوشنودی چاہی تھی۔‘‘ (مقام صحابہؓ، ص:۹۵، حضرت مولانا مفتی شفیعؒ کی زندگی کی غالباً آخری تصنیف جو آپ نے تاریخی روایات کی بنیاد پر عائد کیے گئے الزامات کے رد عمل میں اصولی بحث کرتے ہوئے جواب کے طورپر تحریر کی)      حضرت مفتی صاحبv کے فرزندِ ارجمند مولانا محمد تقی عثمانی زید مجدہٗ نے بھی تقریباً اسی سال ۱۳۹۱ھ میں اسی موضوع پر ’’حضرت معاویہq اور تاریخی حقائق‘‘ تحریر کی، چنانچہ وہ ’’بحث کیوں چھیڑی گئی؟‘‘ کے عنوان کے تحت ابن خلدونv کی بیان کردہ بحث کو جامع اور کافی قرار دینے کے بعد تحریر کرتے ہیں: ’’ ابن خلدونv اپنی اس بحث میں مشاجرات صحابہ کرامs کے دریائے خون سے نہایت سلامتی سے گزرے ہیں۔پھر مولانا عثمانیv موجودہ زمانے میں اس مسئلے کی کھود کرید کو انتہائی مضر قرار دیتے ہوئے تاریخ اسلام اور خاص طور پر مشاجرات صحابہؓ والے حصہ کی تحقیق کے کام سے احتراز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘   (ص:۱۴،۱۶)      حکیم الاسلام قاری محمد طیبv شاید اپنے مقام ومرتبہ کا تقاضا سمجھتے ہوئے باامر مجبوری نازک موضوع پر تحقیقی مقالہ (چھوٹی کتاب) تحریر کرکے آخری گزارش میں فرماتے ہیں کہ:’’ اگریہ نہ چھیڑاجاتا تو جو نقول پیش کی گئیں ان کے پیش کرنے کی کبھی نوبت نہ آتی۔‘‘      اور پھر یہ بھی فرماتے ہیں: ’’ ہم اصل حقیقت کو سمجھ کرخاموشی اختیار کرنے ہی کو معقول جذبہ سمجھیں گے۔‘‘     جبکہ عام اجتماع کی نسبت کتاب تو بہت ہی محدود تعداد میں دلچسپی رکھنے والے لوگ ہی پڑھتے ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ جس مشکل موضوع کو چھیڑنے سے حضرت حسن بصریv اور حضرت محاسبیv جیسے بڑے علماء وفقہاء ڈرتے ہوں اور سکوت اور خاموشی اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہوں اور جس موضوع پر علامہ ابن خلدونv جیسے محقق مؤرخ کی کی گئی بحث کو ’’دریائے خون سے نہایت سلامتی سے گزرنا‘‘ کہاگیا ہو، اس طرح کے موضوع کو اگر ہزاروںلوگوں کے اجتماع (اور پھر جدید الیکٹرانک سہولیات کی وجہ سے کروڑوں لوگوں) میں بیان کیا جائے گا تو اس سے کس کس طرح سے اشکالات اور الجھنیں پیدا ہوںگی!!! اس کا اندازہ باآسانی کیا جاسکتا ہے اور پھر مستقل طور پر ایسے کچھ مذہبی گروہ موجود ہیں جو  صحابۂ کرامs پر انتہائی سنگین الزامات عائد کرتے ہیں، چنانچہ اس بات سے پریشان ہوکر مولانا محمد تقی عثمانی زیدمجدہٗ نے حدیث نقل کرکے بڑی دردمندی سے تحریر کیا کہ : ’’میرے صحابہؓ کے معاملہ میں خدا سے ڈرو،خدا سے ڈرو، میرے بعد ان کو اعتراضات کا نشانہ مت بنانا‘‘ ہم سید الاولین والآخرین a کے اس ارشاد گرامی کا واسطہ دے کر یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ صحابہ کرامs کی عظمت شان کو پیش نظر رکھ کر ان کے صحیح موقف کو ٹھنڈے دل کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘                    (ایضاً، ص:۱۰۶)     6۔۔۔۔۔دینی اعمال کا شوق پیدا کرنے کے لیے مولانا محمد الیاسv کے ارشاد پر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاvنے ’’فضائل اعمال‘‘ (چھوٹی چھوٹی کتابوں کا مجموعہ ، تبلیغی نصاب) تصنیف کی، اس میں دو سوصفحات پر مشتمل ایک کتاب ’’حکایاتِ صحابہؓ    ‘‘ ہے جس میں صحابہ کرامs کی خصوصیات اور حالات وواقعات بیان کیے گئے ہیں، جن میں ’’دین کی خاطر سختیاں برداشت کرنا اور تکالیف ومشقت جھیلنا‘‘ اور ’’بہادری، دلیری اور موت کا شوق‘‘ کے عنوانات کے تحت جہاد میں شوق وجذبے سے لڑتے لڑتے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور شہید ہوجانے کے بھی کافی واقعات ہیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ’’فضائل اعمال‘‘ میں ان واقعات کے بیان سے اجتناب کی کوشش کی گئی ہے، جن سے صحابہ کرامs کے باہمی اختلافات کی کوئی بحث شروع ہوکر اشکالات کا سبب نہ بنے۔ تبلیغی جماعت کے اکابر مولانا محمد الیاسؒ، مولانا محمد یوسفؒ، مولانا محمد انعام الحسنؒ، مولانا محمد عمر پالن پوریؒ، مولانا سعید احمد خانؒ، مفتی زین العابدینؒ، مولانا محمد اسلم w اور دیگر تمام حضرات بھی اجتماع میں اسی انداز سے بیان کرتے تھے۔     7۔۔۔۔۔ہر مذہبی رسم، طریقہ، عنوان، انداز کے پس پردہ کوئی فکر، سوچ، عقیدہ یا نظریہ موجود ہوتا ہے، اس عنوان وانداز کو اختیار کرنے کی وجہ سے وہی فکر اور عقیدہ بھی زندہ ہوتا اور فروغ پاتا ہے، تشبہ سے ممانعت کے حکم کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے، تشبہ کے بارے میں کچھ اس طرح کی بات حضرت شیخ الحدیثv نے ’’شمائل ترمذی‘‘ میں نفلی روزہ کی فضیلت کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کی ہے۔ (ص:۳۱۳، حدیث نمبر: ۱۲ کے تحت)     8۔۔۔۔۔ یونیورسٹیز اور کالجز کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ایسے حضرات جو دین سے کچھ دور ہو چکے ہیںاور ان کے ذہن میں دین کے بارے میں اشکالات پیدا ہوچکے ہیں (جن کو سیکولرز یا دین سے بیزار بھی کہہ دیا جاتا ہے) یہ بات بڑی قوت سے اور کثرت سے کرتے رہتے ہیں کہ اسلام کا نظام کتنے عرصے چل سکا اور ساری منفی باتیں اور ان سے منفی مطالب نکال کر کہتے ہیں کہ اسلامی تاریخ پڑھ کر تو دیکھیں، خونی جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر دین کا بیان کرنے والا خود ہی اسی قسم کا واقعہ بیان کرے گا تو گویا ان کے اشکالات میں اضافہ ہی کرے گا۔ یہ صحیح ہے کہ اعتراضات کرنے والے تو اعتراضات کرتے ہی رہتے ہیں، لیکن اتنی تدبیر تو کی جاسکتی ہے کہ کم از کم خود تو ایسی مشکل اور نازک باتیں نہ چھیڑی جائیں جو ایسے اشکالات پیدا کرنے میں تقویت کا ذریعہ بنیں۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے