بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

بینات

 
 

آہ! حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ  بھی داغ مفارقت دے گئے

آہ! حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ  بھی داغ مفارقت دے گئے


شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہ کے اکلوتے فرزندارجمند، تبلیغی جماعت کے بانی وپہلے امیر حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی نور اللہ مرقدہ کے اکلوتے نواسے، مولانا افتخار الحسن کاندھلویؒ کے داماد، دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کے رکن، جامعہ مظاہر العلوم سہارن پور کے سرپرست، خانقاہ خلیلیہ سہارن پور کے روحِ رواں وجانشین، جامعہ کاشف العلوم نظام الدین کے فاضل، ہزاروں علماء وصلحاء اور عوام کی اصلاح وتربیت کرنے والے قلندر صفت مردِ خدا شناس، اسلافِ اُمت کا نمونہ اور روایاتِ اکابر کے پاسباں حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی ۱۰/ ذو الحجہ ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۲/ اگست ۲۰۱۹ء بروز پیر دوپہر تین بجے ا س دنیائے رنگ وبو کی ۸۰ بہاریں دیکھ کر راہیِ عالمِ آخرت ہوگئے، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہ ما أعطٰی وکل شئ عندہٗ بأجل مسمٰی۔
حضرت مولانا محمد طلحہ کی پیدائش ۲جمادی الاولیٰ ۱۳۶۰ھ مطابق ۲۸ مئی ۱۹۴۱ء کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قد سرہٗ کے گھر دوسری اہلیہ سے سہارن پور میں ہوئی۔ ۱۶ رجب ۱۳۷۵ھ مطابق ۲۹فروری ۱۹۵۶ء کو قرآن مجید حفظ کی تکمیل کی۔ پہلی محراب ۱۳۷۶ھ میں مسجد شاہ جی دہلی میں سنائی۔ فارسی تعلیم کا آغاز ۵ دسمبر ۱۹۵۶ء سہارن پور میں ہوا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے مدرسہ کاشف العلوم مرکز نظام الدین میں داخلہ لیا اور وہیں سندِ فراغ حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا انعام الحسن، مولانا افتخار الحسن، مولانا عبید اللہ ، مولانا محمد یوسف اور مولانا محمد ہارون قدس اللہ اسرار ہم جیسے بزرگ اکابر حضرات تھے۔
مولانا موصوفؒ عابد، زاہد، سادگی پسند اور سادہ طبیعت تھے۔ اپنی سادگی، منکسر المزاجی اور ملنساری کی وجہ سے ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبول تھے۔ اعتدال، توازن اور توسع وکشادہ نظری آپ کا امتیازی وصف تھا، ہر وقت زبان کو اللہ کی یاد سے تررکھنا آپ کا محبوب وطیرہ تھا۔ مولانا محمد عبد اللہ خالد قاسمی خیر آبادی مدیر ماہنامہ مظاہر علوم سہارن پور حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ کی زبانی آپ کے حالات میں لکھتے ہیں:
’’میری والدہ محترمہ چھ ماہ سہارنپور اور چھ ماہ دہلی نظام الدین رہا کرتی تھیں اور والدہ کا جہاں قیام ہوتا میری تعلیم وہیں ہوتی، بیماری اور کمزوری کی وجہ سے تکمیل حفظ میں مجھے خاصی دیر لگی، البتہ حفظ کی تکمیل تک مستقل قیام سہارنپور ہی رہا اور ۱۶رجب ۱۳۷۵ھ مطابق ۲۹فروری ۱۹۵۶ء میں قرآن پاک مکمل ہوا۔پہلی محراب ۱۳۷۶ھ میں مسجد شاہ جی دہلی میں سنائی۔ فارسی کی تعلیم کا آغاز ۵دسمبر ۱۹۵۶ء میں سہارنپور میں ہوا ،پھر اس کے بعد چھ سال نظام الدین دہلی میں بسلسلۂ تعلیم رہنا ہوا، البتہ مہینہ میں ایک مرتبہ مولانا محمد یوسف صاحب نوراللہ مرقدہٗ کے ساتھ سہارنپور آتا تھا۔ بندہ کی اعلیٰ تعلیم نظام الدین دہلی میں ہوئی اور وہیں سے فراغت ہوئی۔ والد محترم حضرت شیخ محمد زکریا نوراللہ مرقدہٗ کی ذات چونکہ اس وقت کے علماء و مشایخ کے لیے مرجع تھی اور علماء و اتقیاء کی کچے گھر میں خوب آمد رہا کرتی تھی، اس لیے ان بزرگانِ دین سے بچپن ہی سے استفادہ کا خوب موقع ملا۔ حضرت مولانا مفتی سعید احمد اجڑاڑویؒ، شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ، مولانا محمد یوسفؒ ،مفتی محمود گنگوہیؒ جیسے اکابر کی خدمت میں میرا بچپن گزرا ہے، اس وقت کے کئی واقعات لوحِ ذہن میں محفوظ ہیں ۔
ایک مرتبہ اپنے کتب خانہ یحیوی پر بیٹھاکھیل کھیل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بیعت کررہا تھا، اتنے میں حضرت مدنیؒ کا تانگہ آگیا ،حضرت تانگہ سے اترے اور مجھے بیعت کرتے دیکھا تو فرمایا کہ: مجھے بھی بیعت کرلیں، میں نے بلا تکلف کہہ دیا کہ آئیے! اور حضرت مدنی کو بیعت کرلیا، اس کے بعد سے حضرت مدنیؒ مجھے ’’پیر صاحب‘‘ ہی کہہ کے پکارتے اور ایک طرح سے یہ میرا لقب پڑگیا۔‘‘

مہمان نوازی

حضرت شیخ محمد زکریا نوراللہ مرقدہٗ کی فیاضی اور ان کے دسترخوان کی وسعت بڑی مثالی تھی ، حضرت پیر صاحب کے یہاں بھی اس کا بڑا اہتمام اور التزام ہوا کرتا تھا کہ کوئی بھی مہمان چاہے وہ خاص ہو یا عام،جماعت ہو یافرد بغیر کھاناکھائے نہ جائے، اور اس کے لیے مستقل خدام کو ہدایت دیتے رہتے تھے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع میں کوئی کمی باقی نہ رہے۔ اگر مہمانوں کی خدمت میں کسی خادم سے کسی طرح کی ادنیٰ سی بھی کوتاہی محسوس کرتے تو اس کی سرزنش فرماتے ۔

غیر اسلامی وضع قطع سے تنفُّر

پوری دنیا جہاں سے لوگ آپ سے ملاقات کے لیے اور دعا و زیارت کے لیے آتے تھے ،ان میں ہر طرح کے افراد ہوتے تھے ،اگر کسی کا لباس غیر اسلامی دیکھتے ،یا وضع قطع غیر شرعی دیکھتے تو برملا اس سے اظہارِ ناراضگی فرماتے ،اور اگر کوئی ڈاڑھی منڈا یا مقطوع اللحیہ ملاقات کے لیے بڑھ جاتا تو بہت مرتبہ ان کو اس قدر ڈانٹتے تھے اور بعض مرتبہ اتباعِ سنت کی دعوت کے جذبہ سے اتنی سخت سرزنش کرتے کہ سامنے والا توبہ ہی کرلیتا۔ آپ کی خانقاہ خلیلیہ میں وقت کے جلیل القدر علماء و مشایخ کی کثرت سے آمد رہتی اور کچا گھر علم اور علماء کی ایک بہار پیش کرتا تھا۔
آپ ۱۴۰۰ھ سے باضابطہ مظاہرعلوم سہارنپور کے رکن شوریٰ اور چند سال تک اس کے جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر فائز رہے اور حینِ حیات سرپرستِ شوریٰ رہے۔اسی طرح دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کے بھی تا حیات رکن رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ،درجات بلند فرمائے۔‘‘
شروع سے آپ کی روحانی تعلیم وتربیت حضرت شیخ الحدیث نے خود فرمائی، لیکن اپنے بیٹے کو بیعت حضرت شاہ عبد القادر رائے پوری قدس سرہٗ سے کرایا۔ پھر اپنی زندگی ہی میں حضرت شیخ الحدیث صاحب نے اپنے بیٹے کو خلافت سے نوازا اور لوگوں کی اصلاح وتربیت پر مامور فرمایا۔ حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ کی خانقاہ کی منظر کشی کرتے ہوئے جناب محترم فضیل احمد ناصری صاحب نے لکھا ہے:
’’مولانا جس مکان میں اپنی خانقاہ چلاتے تھے، یہ کچا گھر کہلاتا ہے، یہ مکان ان کے دادا حضرت مولانا یحییٰ کاندھلویؒ نے خریدا تھا۔ یہ مکان پہلے دن جس حال پر تھا، آج بھی اسی حال پر ہے۔ ان کے دادا اور والد ہمیشہ اس گھر میں رہے۔ اس کے بالائی حصے کو ان کے والد حضرت شیخ الحدیث ؒ نے دار التصنیف بنا دیا تھا۔ فضائلِ اعمال سمیت ساری کتابیں یہیں لکھی گئیں، پیر صاحب نے اس مکان کو اخیر تک اپنا مسکن رکھا اور خانقاہی امور بھی یہیں سے چلائے۔ کچا گھر اب خانقاہِ خلیلیہ بھی کہلاتا ہے۔ پیر صاحب جب مسلسل بیمار رہنے لگے تو اپنے بہنوئی اور خلیفہ مولانا سید محمد سلمان مظاہری کو اس کا منتظم بنایا، کچا گھر اب بھی موجود ہے، خانقاہ ان شاء اللہ! آئندہ بھی چلے گی، مگر جگر گوشۂ شیخ الحدیث اب کسی کو نہ ملے گا۔
آپؒ سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے، ایک بہن کے علاوہ سب بہنیں اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوگئیں، آپ کی اہلیہ کا بھی چند مہینوں پہلے انتقال ہوا تھا۔ آپ شوگر کے عارضہ میں مبتلا تھے اور گزشتہ سال آپ کو دل کا دورہ ہوا تھا، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا، چند ماہ بیمار رہنے کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں پہنچ گئے۔ آپ کی نماز جنازہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم جو صدر جمعیت علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث ہیں، نے پڑھائی۔ آپ کی نمازِ جنازہ اسی رات گیارہ بجے شب ادا کی گئی اور آبائی قبرستان حاجی شاہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کی جملہ حسنات کو قبول فرمائے۔ آپ کے متوسلین، معتقدین اور مریدین کو صبر جمیل سے نوازے اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ 
تمام قارئینِ بینات سے حضرت کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے