بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

ملفوظاتِ حضرت بنوری رحمہ اللہ

 

ملفوظاتِ حضرت بنوری رحمہ اللہ

ملفوظاتِ حضرت بنوری رحمہ اللہ


    محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہٗ کو اللہ تعالیٰ نے ’’مفتاحاً للخیر مغلاقاً للشر‘‘ بنایا تھا اور یوں تو آپ کا ہر قول وفعل امت کے لیے قدوہ اور اسوۂ حسنہ ہے، لیکن آپ کے بعض اقوال ایسے ہیں کہ جن کے پڑھنے اور سننے سے ’’فرحت منہا القلوب وذرفت منہا العیون‘‘ کی کیفیت طاری ہوتی اور’’ زادتہم إیمانا‘‘ کے مصداق ہیں ،اس لیے اشاعتِ خاص ماہ نامہ بینات ۱۳۹۸ھ مطابق ۱۹۷۸ء کے مطالعے کے وقت مولانا رحمہ اللہ  کے جن اقوال واحوال نے زیادہ متأثر کیا اور ایمانی حرارت پیدا کی، مناسب معلوم ہوا کہ افادۂ عام وخاص کی خاطر ان کو یکجا کیا جائے۔’’ المرء یقیس علی نفسہٖ‘‘ (آدمی اپنے آپ پر قیاس کرتا ہے) کے بموجب اُمید ہے کہ ہر پڑھنے، سننے والا اس سے حلاوتِ ایمانی محسوس کرے گا اور اہل مدارس ان کو بہترین رہبر ورہنما اور مرشدِ کامل کے درجے میں پائیں گے اور باوجود اس کے کہ بعض حضرات حضرت بنوری  رحمہ اللہ  سے پہلے سے بھی واقف ہوںگے اور یہ اقوال اور احوال یا انہوں نے دیکھے ہوںگے یا سنے ہوں گے ، لیکن مکرر سننے پر بھی ان کو نئی تازگی ملے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ!


صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ اور اسی سے التجاء

    ’’ہمیں دو باتوں پر کامل یقین ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے: ایک تو یہ کہ مال ودولت کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں اور دوسرا یہ کہ اولادِ آدم کے قلوب بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اگرہم اخلاص کے ساتھ صحیح کام کریںگے تو اللہ تعالیٰ بندوں کے قلوب خود بخود ہماری طرف متوجہ کرکے اپنے خزانوں سے ہماری مدد کرے گا۔ ہمیں کسی انسان کی خوشامد کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا جو ضرورت ہمیں پیش آتی ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے کہتے اور مانگتے ہیں۔ وہ ایسی جگہ سے ہماری ضرورت کو پورا کرتا ہے جہاں ہمارا گمان بھی نہیں ہوتا، پھر ہم کیوں کسی انسان کے سامنے ہاتھ پھیلائیں؟‘‘

اخفاء پسندی اور نمود وریاء سے نفور

    ’’ مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے یہ کلمات بے انتہا پسند ہیں اور اسی پر میرا عمل ہے:’’ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَیْتُ‘‘ (جس سے سرگوشی کررہا تھا اسی کو سنا رہا تھا) تو جس کے لیے ہم یہ سب کچھ کرہے ہیں اسی کو اپنا حال سناتے ہیں اور اسی سے مانگتے ہیں، کسی اور سے ہمیں کیا واسطہ؟! چنانچہ نہ کبھی فارغ التحصیل طلباء کی دستاربندی اور تقسیم اسناد کے نام سے اور نہ بخاری شریف کے ختم کے نام سے کبھی کوئی سالانہ ، یا غیر سالانہ جلسہ کیا اور نہ ہی کوئی مدرسہ کی روئیداد چندہ دہندگان کی فہرست شائع کی اور نہ کوئی اشتہار، نہ چندہ کی اپیل شائع کی، نہ کوئی مدرسہ کا سفیر یا محصل مقرر تھا۔‘‘

علماء سے دنیا داروں کے تعلق کی نوعیت
 

   ’’دنیا والوںکا علماء سے تعلق کچے دھاگے سے بندھا رہتا ہے، ذراسی کوئی بات ان کے منشاء کے خلاف ہوئی اور فوراً تعلق ختم ہوا۔‘‘

صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل
 

   ’’ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے سوا کسی سے کسی خیر کی توقع نہ کریں اور نہ کسی پر اعتماد وتوکل کریں، ورنہ سوائے خسران وناکامی کوئی اور نتیجہ نہ ہوگا۔‘‘

اخلاص سے مدرسہ کی خدمت کا صلہ
 

   ’’ اللہ کا کام ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا مدرسہ ہے، اللہ تعالیٰ اُسے اسی طرح چلاتا ہے اور اسی طرح چلاتا رہے گا۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نیت خالص کرلیں اور جو شخص بھی اخلاص سے اس مدرسہ کی خدمت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بدلہ دنیا میں بھی دیںگے اور آخرت میں بھی۔‘‘

مخلوق کے بھروسہ پر مدرسہ کا آغاز نہ کرنا

    ’’جناب سیٹھ محمد یوسف مرحوم نے عرض کیا کہ آپ مدرسہ بنایئے اور حضرت مولانا عبد الرحمن کامل پوری کو بھی بلالیجئے، میں آپ دونوں حضرات کی پانچ سال کے لیے مشاہرہ کی رقم پچاس ہزار روپیہ بنک میں جمع کرادیتا ہوں اور بے حد اصرار کیا، لیکن میں نے انکار کردیا، میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے مدرسہ کا آغاز توکل علیٰ اللہ کے بجائے توکل علیٰ الاغیار سے ہو۔‘‘

منصب وعہدے سے استغناء
 

   ’’ واللہ میں نے یہ مدرسہ اس لیے نہیں بنایا کہ مہتمم یا شیخ الحدیث کہلائیں، اس تصور پربھی لعنت۔‘‘ فرمایا: ’’اگر کوئی مدرسہ کے اہتمام اور بخاری شریف پڑھانے کا کام اپنے ذمہ لے لے تو مجھے خوشی ہوگی اور میں ایک عام خادم کی طرح سے مدرسہ کا ادنیٰ سے ادنیٰ کام کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کروںگا۔‘‘

مدرسہ میں زکوٰۃ کو صحیح مصرف میں خرچ کرنے کی اہمیت
 

   ’’ زکوٰۃ دینے والوں سے کہ ہم یہ ہرگز گوارہ نہیں کرتے کہ تم تو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرکے جنت میں جاؤ اور ہم مال کو بے محل خرچ کرکے جہنم میں جائیں، بلکہ ہم تو تمہاری دی ہوئی رقم کو اس کے صحیح مصرف میں جلد از جلد خرچ کرکے تم سے پہلے جنت جانا چاہتے ہیں۔‘‘

مدرسہ اور علم دین کا مقصد

    ’’ ہم نے یہ مدرسہ اللہ تعالیٰ کے لیے بنایا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ طلبہ‘ علمِ دین صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حاصل کریں اور اگر دنیا کا کوئی مقصد ہے، چاہے وہ سند حاصل کرنا ہو یا کوئی منصب ہو یا شہرت وغیرہ کوئی اور مقصد ہو تو خدا کے لیے وہ طالب علم یہاں سے چلا جائے، ہم تکثیرِ سواد کے خواہش مند نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ کام کے آدمی آئیں اگرچہ کم ہوں۔‘‘


طلبہ کے معاش کے حوالہ سے ایک اعتراض کا جواب

    ’’ایک مرتبہ چیف منسٹریٹر محکمہ اوقاف مسعود صاحب مدرسہ تشریف لائے اور کہا کہ: طلبہ کو کوئی ہنر بھی سکھانا چاہیے، جیساکہ آج کل تجدد پسندوں کی طرف سے اس خیال کا چرچا ہورہا ہے کہ علماء کو معاشی اعتبار سے باعزت مقام دیا جائے اور طلبہ کو ہنر سکھانا چاہیے، تاکہ فارغ ہونے کے بعد طلبہ بدحالی کا شکار نہ ہوں تو اس پر فرمایا: ہم تو اس حصولِ معاش کے تصور ہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہم تو چاہتے ہیں کہ طالب علم صرف اللہ تعالیٰ کے دین کا سپاہی بنے، اس کے سوا زندگی کا کوئی مقصد اس کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایسا یقین واعتماد ہو کہ معاش کے بغیر اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرے۔‘‘

علماً،باطناً، ونسبۃً صوفی ہونے کے باوجود ظاہراًحضرت بنوری رحمہ اللہ  کااخفاء اور سادگی
 

   ’’میں نے تصوف کی تمام بنیادی اور اہم کتابوں کا بڑی توجہ کے ساتھ مطالعہ کیا ہے: سراج الطوسی رحمہ اللہ  کی ’’کتاب اللمع‘‘، قشیری رحمہ اللہ  کی ’’رسالہ قشیریہ‘‘، ابوطالب مکی رحمہ اللہ  کی ’’قوت القلوب‘‘ ،  ہجویری رحمہ اللہ  کی ’’کشف المحجوب‘‘ ، امام غزالی رحمہ اللہ  کی ’’إحیاء العلوم‘‘ اور دیگر کتابیں، شیخ اکبر رحمہ اللہ  اور علامہ شعرانی رحمہ اللہ  کی متعدد کتابیں، نیز حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ  کی کتابیں اور حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ  کے مکتوبات اور دیگر کتابیں، آخر میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ  کی ’’تربیت السالک‘‘ اور ’’التکشف‘‘ وغیرہ کتابیں۔‘‘ (نوٹ: لیکن ظاہری وضع ایسی نہیں بنائی جس سے آپ کا شیخ طریقت ہونا ظاہر ہوتا ہو۔)

نامساعد حالات میں بھی دین کی خدمت کا جذبہ 

    ’’ دین کی خدمت کے متعلق کبھی سوچتاہوں کہ خدا نخواستہ اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ مجھ پر خدمتِ دین کے سارے دروازے بند ہوجائیں تو میں کیا کروں گا؟ میں ایسا گاؤں تلاش کروں گا جہاں کی مسجد غیر آباد ہو اور لوگ نماز نہ پڑھتے ہوں، وہاں جاکر اپنے پیسوں سے ایک جھاڑو خریدوں گا اور مسجد کو اپنے ہاتھ سے صاف کروں گا، پھر خود اذان دو ں گا اور لوگوں کو نماز کی دعوت دوںگا، جب وہ مسجد آباد ہوجائے تو پھر دوسری مسجد کو تلاش کروں گا اور وہاں بھی ایسا ہی کروںگا ۔‘‘

کافر کی تکفیربھی (بشرطِ صحت ِ نیت وجذبات) علماء امت کا فریضہ ہے
 

   ’’ جس طرح کسی مسلمان کو کافر کہنا گناہ عظیم ہے، ٹھیک اسی طرح کسی کافر کو مسلمان کہنا بھی بڑا عظیم جرم ہے، اگر علمائے امت اس فریضہ میں کوتاہی کریں تو اداء فرض کی کوتاہی پر عند اللہ مجرم ہوں گے، البتہ یہ ضروری ہے کہ اس فریضہ کی ادائیگی علم صحیح کی روشنی میں نیک نیتی سے ہو اورجذبات سے بالاتر ہو۔‘‘

حضرت بنوری رحمہ اللہ  کے رفقاء کا اخلاص اور قناعت
  

 ’’ میرے اکثر رفقاء نے یہ عہد کیا ہے کہ تاحیات ہرحال میں مدرسہ کی خدمت کریںگے، تنخواہ خواہ ملے یا نہ ملے اور فرمایا :موجودہ دور میں مدارس میں تنخواہ کے اضافہ کے لیے درخواست کا رواج تو ہے، لیکن تنخواہ کے کم کرنے کا رواج نہیں، لیکن الحمد للہ! میرے رفقاء نے ایسی روایت بھی قائم کردی ہے اور اس ضمن میں حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی قدس اللہ سرہ کا ذکر کرتے تھے۔‘‘

مدرسہ اللہ تعالیٰ چلاتا ہے(بندہ تو خادم ہوتا ہے)
  

 ’’ یہ مدرسہ تو حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہے ، ہم تو خادم ہیں ۔‘‘ رمضان المبارک میں عمرہ پر تشریف لے جانے لگے تو عرض کیاگیا: یہ مہینہ چندہ کا ہے اور آپ کے موجود ہونے کا اثر پڑتا ہے تو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جد امجد کا مقولہ سناکر جو انہوں نے حاکمِ یمن ابرہہ کے سامنے کہا تھا:’’ إن لہذا البیت ربا یحمیہ‘‘ (اس گھر کا ایک مالک ہے جو اس کی حفاظت کرے گا)سناکر تشریف لے گئے۔

علم سے مقصود رضائے الٰہی، اصلاحِ اعمال اور اخلاص ہے

     اخلاص اور اصلاحِ اعمال اور نماز باجماعت کے اہتمام اور مقصرین کو تنبیہ اور فخر ومباہات اور سمعہ اور ریاء سے نفرت دلاتے ہوئے ابن ماجہ رحمہ اللہ  کی حدیث:’’ من تعلم علما ممایبتغی بہ وجہ اللّٰہ لایتعلمہٗ إلا لیصیب بہ عرضا من الدنیا لم یجد عرف الجنۃ یوم القیامۃ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ (جس شخص نے ایسا علم سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے، دنیاوی سازو سامان کے لیے حاصل کیا، وہ جنت کی بو بھی نہیں سونگھ سکے گا) سناکر فرمایا: 
    ’’ علم بذاتِ خود مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصود رضائے الٰہی، نصرتِ دین اور خدمتِ اسلام ہے اور علم بغیر عمل کے بے کار غیر مفیدہے، بلکہ بسااوقات مضر ہوتا ہے،  زہرِ قاتل، وبالِ جان اور ضیاعِ آخرت ہے، علماء کے طبقہ میں جو لوگ اس برے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان سے دین کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ علمائے سوء کی غلط کاریوں سے دین اسلام کو بچائے۔‘‘

ختم نبوت کے لیے شہادت کا جذبہ اور قربانی 
 

   تحریکِ ختم نبوت کے موقع پر طلبہ سے فرمایا: ’’ضرورت پڑی تو پہلے بنوری اپنی گردن کٹوائے گا، پھر آپ کی باری آئے گی، اگر مفتی محمود رحمہ اللہ  زخمی پاؤں کی حالت میں تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں تو لنگڑا بنوری بھی ان سے پیچھے نہ رہے گا، وقت آنے پر آپ دیکھیں گے کہ بنوری کے ہاتھ میں جھنڈا ہوگا، اساتذہ ہمارے ساتھ ہوںگے اور تم ہمارے پیچھے ہوگے۔‘‘

تحریکات کے لیے سب سے بڑا فتنہ ’’ریاء کاری اور نام ونمود‘‘
 

    تحریک ختم نبوت کے بارے میں فرمایا:’’ آج کل جو کوئی تحریک دین کے لیے چلائی جارہی ہے، اس میں سب سے بڑا فتنہ نام ونمود کا فتنہ ہے، یہ فتنہ دینی تحریکوں کو تباہ کر ڈالتا ہے، مجھے بار بار یہ ڈر لگتا ہے کہ میں اس فتنہ کا شکار نہ ہو جاؤں اور اس طرح یہ تحریک ڈوب نہ جائے۔‘‘

دنیا کے لیے علم دین کا حصول شقاوت اور بدبختی ہے
    

’’ شقی اور ملعون ہے وہ شخص جو علم دین کو حصولِ دنیا کے لیے استعمال کرتا ہے، ایسے بدبخت سے سرپر ٹوکری اُٹھاکر مزدوری کرنے والا بدرجہا بہتر ہے۔ جو طالب علم اس مدرسہ میں اسلامی شکل وشباہت اختیار کیے بغیر رہنا چاہتا ہے اور جس کے دل میں علم دین کے ذریعہ دنیا کو حاصل کرنے کی تمنا ہے وہ ہمارے مدرسہ میں نہ رہے، ورنہ اللہ اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ اور مدرسہ کے ساتھ بدترین خیانت ہوگی۔‘‘

علماء کی حق گوئی
 

   ’’ علماء کو حق بات کہنے سے گریز نہ کرنا چاہیے ،چاہے اس میں جان کی بازی ہی لگانی پڑے۔‘‘

مدرسہ کے معاملہ میں توکل علیٰ اللہ کی کیفیت
 

   ’’ہم نے جس کے لیے مدرسہ قائم کیا ہے اس کو سب کچھ معلوم ہے، وہ خود ہی جب اور جس طرح چاہے گا اسباب ووسائل پیدا فرما دے گا۔‘‘

مدرسہ اللہ تعالیٰ خود چلاتا ہے
 

   ’’ ہمیں کسی سفیر، جلسہ، اشتہار واعلان کی ضرورت نہیں، جس کا مدرسہ ہے وہ خود چلائے گا۔‘‘

مدرسہ کا مقصد: رسوخ فی العلم، توکل اور استغناء
 

   ’’ مجھے عمارتوں اور موازنوں (یعنی مدرسہ کی عمارت کی لاگت، روزانہ کا خرچ اور سالانہ موازنے کی مدات اور متعلقہ رقوم کی مقدار) سے کوئی دلچسپی نہیں، مجھے تو یہ بتلایئے کہ کام کے کچھ آدمی بھی پیدا ہوسکے؟ اور فرمایا: میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ اچھے اچھے علماء کی نظر بھی اس پر لگی ہوئی ہے، ہم میں رسوخ اور توکل اور استغناء عنقا ہوگیا ہے۔‘‘

مدرسہ کے مالی معاملات میں حضرت رحمہ اللہ  کی انتہائی احتیاط

    ’’ ایک مرتبہ مدرسہ کے خزانچی نے کہا کہ: حضرت! زکوٰۃ کی فنڈ میں ۲۵ ہزار روپے ہیں، غیر زکوٰۃ فنڈ خالی ہے، مدرسین کو تنخواہیں دینے کا وقت ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ فنڈ میں سے قرض لے کر مدرسین کی تنخواہیں ادا کردی جائیں۔ اس پر فرمایا: میں مدرسین کی آسائش کے لیے دوزخ کا ایندھن نہیں بننا چاہتا،مدرسین کو صبر کرنا چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ ان کے فنڈ میں اللہ تبارک وتعالیٰ کچھ بھیج دے اور جو صبر نہیں کرسکتا اس کو اختیار ہے کہ مدرسہ چھوڑ کر چلا جائے۔ اور ایک مرتبہ خازن نے اس طرح غلطی کی تو جب حضرت کو علم ہوا تو فرمایا: اس کا ذمہ دار میں نہیں ہوں، آپ کو جہنم میں جانا پڑے گا اور فرمایا: جب تک یہ رقم ادا نہ کردی جائے اس وقت تک میں تنخواہ نہیں لوں گا۔‘‘
 

مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے اساتذہ کا اعزاز
 

   ’’ مدرسہ عربیہ اسلامیہ کے اساتذہ اور ملازمین کو اللہ تعالیٰ کے اس احسان وانعام کی قدر کرنی چاہیے کہ ان کو حق الخدمت کے عوض میں غیر زکوٰۃ کا پاکیزہ مال ملتا ہے، وہ بھی ایسے مخلصین کی طرف سے جو اپنا نام تک ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے اور ’’لاتعلم شمالہٗ ما تنفق یمینہ‘‘ کا مصداق ہیں ۔‘‘

صرف مدرسہ کی خدمت اصل مقصود نہیں، بلکہ جائز ذرائع سے مدرسہ کی خدمت ہونی چاہیے
 

   ’’ ہم تو صرف صحیح کام کرنے کے مکلف ہیں، اگر صحیح طریق پر مدرسہ نہ چلا سکیں گے تو بند کردیںگے، ہم کوئی دین کے ٹھیکیدار نہیں ہیں کہ صحیح یا غیر صحیح ، جائز یا ناجائز جس طرح بھی ممکن ہو مدرسہ جاری رکھیں، ہم تو غیر صحیح اور ناجائز ذرائع اختیار کرنے کی بنسبت مدرسہ کو بند کردینا بہتر بلکہ آخرت کی مسؤلیت کے اعتبار سے ضروری سمجھتے ہیں۔‘‘

اپنے مفاد پر مدرسہ کے مفاد کو ترجیح

     بعض مخلصین نے مدرسہ کے لیے گاڑی دینے کی پیشکش کی تو فرمایا:’’ پٹرول کی قیمت اور ڈرائیور کی تنخواہ وغیرہ کا بار مدرسہ پر پڑے گا اور اپنے یا دوسروں کے استعمال میں بے احتیاط ہونا ناگزیر ہے، اس سے بچنا نا ممکن ہے، یہ جتنی ٹیکسیاں بازاروں میں چل رہی ہیں اور ہر وقت مہیا ہیں ہماری ہی تو ہیں، جب چاہو بلالو، ٹیکسی حاضر ہے، پھر ہمیں مدرسہ کے لیے گاڑی خرید کر آخرت کی مسؤلیت اپنے ذمہ لینے کی کیا ضرورت ہے؟۔‘‘

بخاری شریف کی اہمیت
 

   ’’میں اس لیے بخاری پڑھاتاہوں کہ اس میں نہ صرف اوراق ہیں، بلکہ اس میں دین ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے انفاسِ قدسیہ ہیں، ہدایت واصلاح کا پورا سامان ہے۔‘‘

’’معارف السنن‘‘ کے لیے کثرتِ مطالعہ اور کتابوں کی ورق گردانی
 

   ’’ معارف السنن‘‘ کی تصنیف کے سلسلہ میں مجھے مختلف کتابوں کے تقریباً دو لاکھ صفحات پڑھنے اور مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔‘‘

مدرسہ کے لیے حضرت کی اولاد کی قربانی
 

   ’’ اس دینی مدرسہ کے لیے ہم نے اپنی عزیزہ لخت جگر کو قربان کردیا، اللہ تعالیٰ ہماری قربانی قبول فرمائیں اور جس عظیم مقصد کے لیے ہم نے اپنے آپ کو، اہل وعیال کو قربان کیا ہے اپنی رحمت سے اس مقصد میں ہمیں کامیاب فرمائیں۔‘‘
    نوٹ: چونکہ حضرت بنوری رحمہ اللہ  کراچی میں مدرسہ کے کاموں میں مصروف اور مشکلات میں سرگرداں تھے اور اُدھر ٹنڈو الٰہ یار میں حضرت کی صاحبزادی فاطمہ مرحومہ کی آنکھ میں کوئی شدید تکلیف پیدا ہوئی اور علاج دوا کرنے والا کوئی موجود نہ تھا، نتیجۃً آنکھوں کی بینائی بالکل جاتی رہی اور علاج کے مرحلہ سے گزر چکی، حضرت نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایاہے۔

مدرسہ کے اساتذہ شریکِ کار ہیں، ملازم نہیں

    ’’ ہم سب اساتذہ وغیرہ کی مثال مشین کے پرزوں کی ہے، جس میں چھوٹے بڑے پرزے سب ہی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ہم سب ایک کشتی کے مسافر ہیں اور اس کشتی کو کنارے تک پہنچانا ہم سب کا فرض ہے۔‘‘ اساتذہ سے فرمایا: ’’ ہم سب ایک منزل کے مسافر ہیں اور ایک ہی کشتی میں سوار ہیں، اپنی اپنی طاقت اور اخلاص کے مطابق اس کشتی کو منزل مقصود تک لے کر چلنا ہے، آپ حضرات میں سے کسی کو بھی یہ غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارا کوئی افسر ہے اور ہم اس کے ماتحت ہیں، ہمارے مدرسے کی بنیاد تقویٰ اور اخلاص پر قائم ہے۔‘‘

حضرت رحمہ اللہ  کی اخفاء پسندی اور شہرت ونمود سے دوری

    ’’ گویا فکرِ معاش کی بجائے فکرِ معاد کو پیدا کرنے کی فکر تھی، اگر ادارہ کے نام کے بغیر کام چلتا تو قطعاً نام نہ رکھتے، مگر چونکہ یہ ممکن نہ تھا، اس لیے ابتدا میں صرف ’’مدرسہ عربیہ‘‘ نام رکھا تھا اور فرمایا کہ: اصل چیز کام ہے نام نہیں۔ جس کے لیے ہم نے بنایا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے اور لوگ اگر اس مدرسہ کو پرائمری سمجھتے ہیں توکیا کوئی حرج ہے؟‘‘

مدارس میں عصری علوم کے داخل نہ کرنے سے متعلق ایک مبارک خواب 
 

   ’’ ایک مرتبہ ڈھاکہ میں علمائے کرام کا ایک اجلاس تھا، جس میں پاکستان کا مشرقی حصہ (موجودہ بنگلہ دیش) اور مغربی حصہ کے اکابر علمائے کرام موجود تھے، عصری علوم کا نصاب مروجہ کے ساتھ جوڑ کا مسئلہ زیر بحث تھا۔ بعض علمائے کرام نے اس کی حمایت میں رائے دی اور کچھ مخالفت کررہے تھے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ علومِ عصریہ کو داخل نصاب کرنے میں حرج ہے؟ میں رات کو خواب دیکھتا ہوں کہ ایک مسجد میں کھڑا ہوں اور سامنے چٹائی بچھی ہے اور اس میں یہ عبارت بنی ہوئی ہے:’’ النجاۃ فی علوم المصطفٰیؐ‘‘ اور اس خواب میں پھر میں دونوں کانوں میں انگلیاں ڈال کر پوری قوت کے ساتھ ان کلمات کے ساتھ اذان دیتا ہوں:’’ النجاۃ فی علوم المصطفٰی سید السادات‘‘ (سید السادات میں نے خود بڑھا دیئے ہیں) صبح جاگنے پر دل میں سے یہ خیال نکل گیا اور یقین ہوگیا کہ اس دور میں بھی صرف علوم نبوت سے کامیابی ممکن ہے، عصری علوم کی ضرورت بالکل بے معنی ہے۔‘‘

نصاب میں قدیم علوم کی ترجیح
 

   ’’ نصاب کے متعلق فرمایا: ’’ہم ان قدیم علوم کو مٹانا نہیں چاہتے، بلکہ ان علوم میں صحیح نصاب پیدا کرنے کے لیے بہتر کتابوں کو داخل کرنا چاہتے ہیں، یعنی اس سلسلہ میں تجدید نہیں بلکہ تقادم چاہتے ہیں۔‘‘

 

مدرسہ کی ترقی اور قبولیت کے لیے حرمین کے اسفار

    ’’ باربار حج یا عمرہ کا سفر کرنے سے میرا مقصد حج یا وعمرہ کی تعداد بڑھانا اور اس کو اپنے لیے سرمایۂ فخر ومباہات سمجھنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ میں تو ایک خاص مقصد کے لیے باربار حرمین شریفین زادہما اللہ رفعتاًجاتا ہوں اور وہ یہ کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جو یہ باغ لگایا ہے: ’’مدرسہ عربیہ اسلامیہ‘‘ اس کی قبولیت اور کامیابی کے لیے دعائیں کروں، بیت اللہ کے فیوض اور روضۂ اقدس l کی زیارت اور ان کو مزید اخلاص اور اہلیت سے سرفراز فرمائیں، جس طرح ایک کار کا ڈرائیور جب سفر شروع کرتا ہے تو پٹرول کی ٹنکی کو بھر لیتا ہے، مگر جہاں ٹنکی خالی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے تو جلد از جلد کسی پٹرول پمپ سے تیل لیتا ہے، اسی طرح میں بھی نہ صرف ہرسال، بلکہ سال میں متعدد مرتبہ حرمین شریفین سے تیل لینے جاتا ہوں۔‘‘

حضرت  رحمہ اللہ  کی نظر میں معارف السنن کی اہمیت
 

    اپنی شاہکار تصنیف ترمذی کی شرح ’’معارف السنن‘‘ کے متعلق فرمایا:’’ اگر قیامت قریب نہیں ہے تو اس کی ضرورت باقی ہے اور اس سے فائدہ جاری رہے گا۔‘‘

ایک ایک مسئلہ کے لیے حضرت کی محنت اور کثرتِ مطالعہ

    ’’ محدثین کے اس قاعدہ :’’ذکر کل مالم یذکرہ الآخر‘‘ کے لیے میں نے پوری فتح الباری کا مطالعہ کیا اور حدیث ترمذی ’’مفتاح الصلاۃ الطہور‘‘ کی توضیح کے لیے میں نے حدیث، فقہ، اصول الفقہ، معانی، بیان وغیرہ کی چالیس کتابوں کی طرف مراجعت کی اور’’ الوضوء بالنبیذ‘‘ کے مسئلے کو تحریر کرنے کے وقت میں نے بدائع، بحر الرائق، فتح القدیر، المجموع للنووی، عمدۃ القاری، نصب الرایہ، ابوداود، اور اس کی شرح عارضۃ الاحوذی، دارقطنی، بیہقی، الجوہر النقی، تہذیب ، تقریب، اصابۃ، بالاستیعاب مطالعہ کیں اور حدیث علیؓ کہ قاضی تین قسم کے ہیں، ’’العرف الشذی‘‘ میں بیہقی کے حوالہ سے اس کو ذکر کیاگیا ہے، میں نے بیہقی کی سنن کبریٰ اور حدیث کی دوسری اہم کتابیں دیکھیں، لیکن کہیں بھی یہ حدیث مرفوعاً نہیں ملی، جستجو جاری رہی، بالآخر بیس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد عجران مولیٰ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ’’الإصابۃ‘‘ میں مرفوع ملی ۔‘‘

روحانیت وبرکت کے حصول کے لیے جسمانی مضرت کی پرواہ نہ کرنا
 

   ’’ مسجدِ نبوی میں اعتکاف کے دوران گھٹنوں میں شدید تکلیف تھی، ایک ڈاکٹر نے انجکشن لگایا اور تجویز کیا کہ ایک دن بیٹھ کر نماز پڑھیں، حضرت بنوری رحمہ اللہ  نے ساری نمازیں تراویح تہجد کھڑے ہوکر ادا کی اور فرمایا: ’’میں جسمانی راحت کی خاطر روحانی ضیوف وبرکات سے کیسے محروم ہوجاؤں؟!۔‘‘

کثرتِ مطالعہ
 

   ’’ ڈابھیل کے قیام میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ ایک ایک بات کی تحقیق کے لیے میں نے پانچ پانچ ہزار، دودو ہزار صفحات کا مطالعہ کیا۔‘‘

غبی صالح طالب علم‘ بے دین ذہین طالب علم سے بہتر ہے

    ’’ ایک غبی دین دار طالب علم برداشت کیا جاسکتا ہے، مگر ذکی بے دین ہرگز برداشت کا حامل نہیں ہے، اور کبھی فرماتے : میرے نزدیک غبی صالح افضل ہے ذکی فاسق سے اور میں جب صبح کو نماز کے لیے نکلتا ہوں اور وضو خانے اور مسجد میں طلبہ کو زیادہ تعداد میں دیکھتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے برعکس دیکھتا ہوں تو سخت افسوس ہوتا ہے اور ’’إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون‘‘ پڑھتاہوں اور معذوری کے باوجود جی چاہتا ہے کہ کمروں میں جاکر سستی کرنے والوں کو خوب ماروں۔‘‘

حضرت رحمہ اللہ  کے ادب کی بدولت ایک کرامت کا ظہور
 

   ’’ پہلی بار سنا رہاہوں، مجھ پر ایسا وقت بھی گزرا ہے کہ اگر پاؤں کی طرف کوئی بھی لکھی ہوئی چیز ہوتی میرے پاؤں پٹخ دئیے جاتے، آخر رو رو کر دعا کرتا رہا، تب یہ کیفیت ختم ہوئی۔‘‘

برائی کا عام ہونا بہت بڑا فتنہ ہے
 

   ’’ برائی کا یہ خاصہ ہے کہ جتنی وہ عام ہوتی ہے اور اس پر گرفت کا بندھن ڈھیلا ہوجاتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کی نفرت وحقارت دلوں سے نکلتی جاتی ہے اور قلوب مسخ ہوتے جاتے ہیں اور نوبت یہاں تک جاپہنچتی ہے کہ وہ معیارِ شرافت بن جاتی ہے۔‘‘

علماء وطلبہ کے لیے تہجد ، نوافل اور تلاوت کا اہتمام
 

   ’’علماء وطلبہ وحفاظ کو خاص کر تہجد کی پابندی اور قرآن کریم کی تاکید کرتا ہوں۔‘‘ فرمایا: ’’قرآن بڑی نعمت ہے، میں صبح کو جب فجر کے لیے مسجد میں داخل ہوتا ہوں تو میرا دل ان لوگوں کے لیے دعا کرتا ہے جو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں۔‘‘ 

قرآن کی نعمت اور کثرتِ تلاوت

    ’’ جب میں دیوبند میں طالب علم تھا تو ایک روز میں نے فجر کی نماز ایک چھوٹی سی کچی عمارت کی مسجد میں پڑھی، نماز کے بعد میں نے اپنی چادر اس کے کچے فرش پر بچھادی اور قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی، جمعہ کی نماز تک اسی ایک نشست میں ایک ہی ہیئت پر ۲۶ پارے پڑھ لیے اور چونکہ جمعہ کی نماز کے لیے مجھے دوسری مسجد میں جانا ناگزیر تھا کہ اس میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی، اس لیے پورا نہ کرسکا، ورنہ پورا قرآن کریم ختم کرلیتا۔‘‘
     حالانکہ حضرت بنوری رحمہ اللہ  حافظ قرآن نہ تھے، جس کا انہیں افسوس رہتا اور تراویح میں تین پارے سننے کا معمول تھا اور کھڑے ہوکر باوجود گھٹنوں کی شدید تکلیف کے، اور فرماتے: ’’بیٹھ کر لطف نہیں آتا‘‘ اور جب قرآن سنتے تو آنکھیں بے ساختہ فوارے کی طرح بہہ پڑتیں اور کبھی کبھی یہ کیفیت بین الترویحات بھی رہتی اور فرماتے: بڑی نعمت ہے قرآن!! حضرت بنوری رحمہ اللہ  عاشق قرآن تھے اور خود بھی قاری تھے اور ڈابھیل میں فجر کی نماز پڑھایا کرتے تھے، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ  جیسے جلیل القدر علماء آپ کے مقتدی ہوا کرتے اور بعض اوقات بڑے بڑے قراء کی اصلاح بھی فرماتے اور آپ کو تلاوت میں تکلف اور نقل سے بڑی نفرت تھی، اگر کسی قاری نے تکلف کیا یا نقل اُتارنے کی کوشش کی تو فوراً تنبیہ فرماتے اور کبھی رکوع میں بڑے دردمندانہ انداز میں’’ لا إلہ إلا اللّٰہ استغفر اللّٰہ أسئلک الجنۃ وأعوذبک من النار‘‘ پڑھتے اور آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتیں اور چہرہ پر اُداسی چھاجاتی اور فرماتے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس ماہ مبارک میں ’’ لا إلہ إلا اللّٰہ‘‘ اور استغفار کی کثرت کی تلقین فرمائی ہے۔‘‘

قرآن اور تلاوتِ قرآن سے محبت
  

 ’’ہمارے مدرسے کی بنیاد قرآن کریم کی تعلیم پر ہے‘‘ اورحفظ کے اساتذہ کو تاکید فرماتے کہ: ’’طلبہ کو قرآن کریم تجوید کے ساتھ پڑھائیں‘‘ اور فرمایا :’’ اگر کوئی اچھا قاری نماز میں قرآن کریم پڑھتا ہے تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنی معذوری کے باوجود گھنٹوں قرآن کریم کھڑا ہوکر سنتا رہوں۔ تمام علوم وفنون، قرآن کریم وسنتِ نبوی l کے غلام ہیں اور علوم قرآن اور علوم نبوی l کے لیے تقویٰ اور اخلاص شرط ہے، اس لیے کہ ان علوم کا تعلق اللہ رب العزت کی ذات سے ہے اور ان علوم میں انوار ہی انوار ہیں اور ان میں شغف باعثِ رحمت ونجات ہے۔‘‘

علم دین کا مقصد
 

   ’’ جو شخص علم دین‘ عمل کے لیے حاصل نہیں کرتا، وہ ایک حیوان سے بدتر ہے، ایسا شخص علم کے انوار وبرکات سے محروم رہتا ہے۔ علم اس لیے حاصل کیا جاتا ہے کہ انسان علم کے ذریعہ اچھے برے وصحیح وغلط میں تمیز کرسکے، ہم تم کو پیٹ پالو حیوان بنانا نہیں چاہتے۔‘‘

جماعتِ اسلامی کے بارے میں حضرت رحمہ اللہ  کی رائے
 

   جماعت اسلامی کے بارے میں فرمایا : ’’مجھے ابتداء سے ہی اس میں معتزلہ اور خوارج کی جھلک نظر آرہی تھی اور بعد کے حالات نے بتایا کہ میرے خدشات درست تھے، کفر کے سوا شاید ہی کوئی غلطی ہوگی جو اس داعی حق سے نہ صادر ہوئی ہو، جو شخص اسلاف سے کٹ کر چلے وہ کسی طرح صراطِ مستقیم پر نہیں رہ سکتا۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  پر طعن سوء خاتمہ کا سبب ہے
 

   جب مودودی صاحب نے خلافت وملوکیت لکھی تو حضرت بنوری رحمہ اللہ  نے فرمایا : ’’اس فتنہ انگیز تالیف کے مؤلف کے حق میں مجھے سوئے خاتمہ کا اندیشہ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے ساتھ ساتھ حضرت عثمان مظلوم  رضی اللہ عنہ پر اعتراض ناقابل عفو جرم ہے۔ ‘‘

عورت کے پردے کی حکمت
 

   ’’ عورت کی ساخت وپرداخت، اس کی عادت واطوار اور اس کی گفتار ورفتار پکار پکار کر کہتی ہے کہ وہ عورت (مستور) ہے، اُسے ستر (پردہ) سے باہر لانا اس پر بدترین ظلم ہے۔‘‘

خدا ناشناس تہذیبوں اور قوموں کی قیادت تمام برائیوں اور فتنوں کی جڑ ہے
    

’’بدقستمی سے عالم کی زمامِ قیادت کافی عرصہ سے خدا ناشناس تہذیبوں اور بددین قوموں کے ہاتھ میں ہے، جن کے یہاں الا ماشاء اللہ! دین ودیانت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں اور شرم وحیا، عفت وعصمت اور غیرت وحمیت کے الفاظ ان کی لغت سے خارج ہیں، ان کے نزدیک مکر وفن اور دغا وفریب کا نام سیاست ہے، انسانیت کشی کے وسائل واسباب کا نام ترقی ہے، فواحش ومنکرات کا نام آرٹ ہے، مرد وزن کے غیر فطری اختلاط کا نام روشن خیالی اور خوش اخلاق ہے، پردہ دری اور عریان کا نام ثقافت ہے اور پسماندہ ممالک ان کی تقلید اور اندھی تقلید اور نقالی کو فخر سمجھتے ہیں، اس لیے آج سارے عالم میں فتنوں کا دور دورہ ہے۔‘‘

مسلمانوں کی مغلوبیت کے دو اسباب

    ’’ آج مسلمانوں کے قبلہ اول اور ارض الانبیاء پر یہود قوم کا تسلط ہے، جن کو انبیائB کی زبان پر ملعون قرار دیا گیا ہے، پھر ان کا مسجد اقصیٰ کو جلانا، مسلمانوں کے اموال لوٹنا، ان کا بے گناہ خون بہانا اور ان پر وحشیانہ ظلم وغیرہ، یہ اس قوم کی تاریخی جرائم پیشہ طبیعت کی ایک مثال ہے، لیکن یہ سب کچھ جو ہوا اس کے بنیادی اسباب دو ہیں، ایک دشمنانِ اسلام پر اعتماد اور بھروسہ، جو بظاہر تعاون کا دعویٰ کرتے ہیں اور اندر سے مسلمانوں اور اسلام کی جڑیں کاٹنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں، دوسرا آرام وراحت کا عادی ہونا، مغربی تہذیب پر فدا ہونا اور دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔‘‘