بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

محدثِ جلیل علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ اورخدمت ِحدیث

 

محدثِ جلیل علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ اورخدمت ِحدیث

محدثِ جلیل علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ
اورخدمت ِحدیث

 

تیرہویں صدی اور چودہویں صدی ہجری میں برصغیر ہند کی سرزمین پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت رہی کہ ان دونوں صدیوں میں بے شمار علمائِ محدثین وفقہاء پیدا ہوئے، جنہوں نے اس فن شریف کی تدریس وتالیف اور اس کی طباعت ونشر کے ذریعہ ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔
یہ علماء محدثین اپنے بلند علمی مقام کے ساتھ تقویٰ وطہارت، اخلاص وللہیت اور دعوت الی اللہ کے کاموں میں بھی امتیازی شان کے حامل تھے، ان کی انتھک محنت اور شبانہ روز جد وجہد کے سبب پورے عالم اسلام میں ان کے عظیم کارناموں کا اعتراف کیاگیا۔ نیز علم حدیث میں ان کے انہماک کے سبب شروحاتِ حدیث میں اُن کی تالیفات کا قابل ذکر ذخیرہ وجود میں آگیا، جس کو پورے عالم اسلام کے علمی حلقوں میں بنظر استحسان دیکھا گیا۔ ان محدثین کے قابل فخر تلامذہ اور مسترشدین نے علم حدیث کی نشر واشاعت اور دعوت وتبلیغ کی زبردست خدمات انجام دیں اور یہ سلسلہ الی یومنا ہذا - بفضلہٖ تعالیٰ- جاری وساری ہے۔ ان ہی عظیم محدثین میں حضرت علامہ محدثِ عصر سید یوسف بنوری رحمہ اللہ رحمۃً واسعۃً کی ذات گرامی بھی شامل ہے، جنہوں نے تقریباً نصف صدی تک علوم اسلامیہ اور خصوصاًسنت نبویہ (علی صاحبہا الف الف صلوۃ) کی اہم خدمت انجام دی اور تدریس وتالیف کے ذریعہ اس فن شریف میں قابل قدر اضافہ فرمایا، فجزاہ اللّٰہ عنا وعن جمیع المسلمین خیر الجزائ۔

مختصر حالاتِ زندگی

محدثِ عصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ  ۶؍ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۸ء ضلع مردان کے ایک چھوٹے سے گاؤں مہابت آباد میں ایک علمی اور دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ  کے دادا امیر احمد خان  بڑے ذی وجاہت بزرگ تھے، ان کے محلہ میں صرف وہی شخص سکونت کرسکتا تھاجو نماز کا پابند ہو۔ آپ  کی دادی صاحبہ سیدہ فاطمہ  بھی ولیہ تھیں۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ  فرماتے تھے کہ مجھے دعاؤں کا ذوق اپنی دادی صاحبہ  سے حاصل ہوا۔ میں نے بہت چھوٹی عمر میں ظفر جلیل شرح حصن حصین پڑھ لی تھی، اس کتاب سے دعائیں بھی یاد کیں اور اُردو بھی سیکھی۔آپ  کے والد ماجد سید زکریا  رحمہ اللہ نجیب الطرفین سید تھے اور صاحب حال بزرگ، جید عالم دین، حاذق طبیب اور تعبیر رؤیا کے امام تھے،کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ والدہ محترمہ قبیلہ محمد زئی کابل کے شاہی خاندان سے تھیں۔

ابتدائی تعلیم

محدثِ عصر  رحمہ اللہ  اپنی خود نوشت سوانح حیات میں تحریر فرماتے ہیں: 
’’قرآن پاک اپنے والد ماجد اور ماموں سے پڑھا۔ امیر حبیب اللہ خان کے دور میں افغانستان کے دار الحکومت کابل کے ایک مکتب میں علم صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اس دور کے مشہور استاذ حافظ عبد اللہ بن خیر اللہ پشاوری شہید  ۱۳۴۰ھ ہیں۔ علاوہ ازیں فقہ، اصولِ فقہ، منطق، معانی وغیرہ مختلف فنون کی متوسط کتابیں پشاور اور کابل کے اساتذہ سے پڑھیں‘‘۔                                 (بینات، بنوری  نمبر،ص:۹)

دار العلوم دیوبند میں

کابل سے واپسی کے بعد دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا،یہاں آپ  نے مشکوٰۃ المصابیح کے درجہ میں داخلہ لیا۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ  نے اپنے وقت کے مشہور اساتذہ سے مختلف علوم وفنون کی کتابیں پڑھیں۔ آپ  کے اساتذہ میں مفتی محمد شفیع دیوبندی ، مولانا غلام رسول خان ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی ، مفتی عزیز الرحمن دیوبندی ، مولانا عبد الرحمن امروہی ، علامہ شبیر احمد عثمانی  اور خاتم المحدثین مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ  ایسے اساطین علم وفضل اور نابغۂ روزگار شخصیات شامل ہیں۔دارالعلوم میں جب کچھ اختلاف شروع ہوا اور علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  اپنے بعض رفقاء کے ساتھ مستعفی ہوکر گجرات کے مشہور مدرسہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل سملک، ضلع سورت تشریف لے گئے تو مولانا بنوری رحمہ اللہ  بھی اپنے محبوب استاذ کے ہمراہ ڈابھیل روانہ ہوگئے اور جامعہ ڈابھیل میں دورہ کی تکمیل فرمائی۔
علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  نے چند ہی دنوں میں آپ  کی صلاحیتوں اور علمی استعداد کا اندازہ لگالیا اور استاذ شاگرد میں ایسا قوی تعلق پیدا ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت کشمیری  کے علوم کا آپ  کو وارث بنایا۔ علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوتِ حافظہ، ذکاوت، متون وشروحِ حدیث کی وسیع معلومات، رجال وتاریخ، جرح وتعدیل، طبقاتِ رواۃ کی پوری واقفیت، تقویٰ وزہد کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ علامہ بنوری رحمہ اللہ  نے اپنی خداداد صلاحیت کے سبب اپنے استاذ کے ان علوم سے بھر پور استفادہ فرمایا۔

علامہ کوثری رحمہ اللہ  کے علوم سے استفادہ

ہندوستان کے ان نابغۂ روزگار اساتذہ کے علاوہ بنوری رحمہ اللہ نے عالم اسلام کے معروف عالم اور محقق علامہ محمد زاہد الکوثری رحمہ اللہ  سے بھی بھر پور فیض اٹھایا۔علامہ بنوری رحمہ اللہ  نے لکھا ہے کہ:’’میں شیخ سے اس زمانہ میں ملا جب میں مجلس علمی ڈابھیل کی طرف سے ’’فیض الباری‘‘ اور ’’نصب الرأیۃ‘‘ کی طباعت کے لیے مصر بھیجا گیا۔ میں نے شیخ سے علماء ہند کا تعارف کرایا‘‘۔

علامہ بنوری رحمہ اللہ نے شیخ زاہد الکوثری رحمہ اللہ  کے بارے میں لکھا ہے: 
’’وہ ایک ایسے شخص تھے جو انتہائی وسعت علمی، حیران کن مہارت، دقت ِ نظر،خارقِ عادت حافظہ، محیرانہ استحضار جیسی خصوصیات کے ساتھ ساتھ علومِ روایت کے تمام انواع واقسام، علم درایت کے تمام مقاصد ومدارک، مکارمِ اخلاق، خصائل حمیدہ، تواضع، قوت لایموت پر قناعت، زہد وتقویٰ، مصائب پر صبر واستقامت، کریمانہ ذات،اپنے خزائن علمیہ اور معارف گنجینہ میں سخاوت کے جامع تھے، اس کے ساتھ ساتھ بسیطہ ارض کے مختلف گوشوں کے نادر مخطوطات اور دنیا کے کتب خانوں کی معلومات پر وسیع علم رکھتے تھے۔ مزید برآں دین کی آبروکی حفاظت پر حمیت وغیرت اور ملت اسلامیہ تک حق بات پہنچانے میں صاف گو اور بے باک تھے‘‘۔          (مقدمۂ مقالات کوثری بحوالہ خصوصی نمبر، ص:۱۳۱)
اسی سفر میں شیخ الاسلام مصطفی صبری  سے بھی ملاقات کی اور ان کی خدمت میں اپنے استاذ شاہ محمد انور رحمہ اللہ  کی کتاب ’’مرقاۃ الطارم فی حدوث العالم‘‘ پیش کی۔ شیخ صبری  اس سے بہت محظوظ ہوئے اور اپنی کتاب ’’موقف العقل والنقل‘‘ میں اس کا ذکر کیا۔

اجازتِ حدیث

علامہ بنوری  کو حدیث شریف کی اجازت مندرجہ ذیل مشائخ ومحدثین سے حاصل تھی: ۱-امام العصر حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری ، ۲-حضرت مولانا عبد الرحمن امروہی ، ۳-شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ، ۴-علامہ شبیر احمد عثمانی ، ۵-حضرت مفتی عزیز الرحمن دیوبندی ، ۶-الشیخ حسین بن محمد الطرابلسی ، ۷-الشیخ العلامہ محمد زاہد الکوثری ، ۸- الشیخ عمر حمدان المقدسی المالکی ، ۹-الشیخ محمد بن حبیب اللہ بن مایابی الشنقیطی ، ۱۰- الشیخ خلیل الخالدی المقدسی ، ۱۱-شیخہ امۃ اللہ بنت الشیخ عبد الغنی مہاجرۂ مکہ مکرمہ رحمہم اللہ  ۔                                                     (بینات خصوصی نمبر، ص:۷۴،۷۲)
مولانا محمد یوسف لدھیانوی  تحریر فرماتے ہیں: 
’’یہاں اس لطیفہ کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ دیوبند کے مورث اعلیٰ دو بزرگ ہیں: ایک علم حدیث میں اور دوسرے طریقت وسلوک میں،چنانچہ علماء دیوبند کا علمی رشتہ حضرت شاہ عبد الغنی مجددی ثم مدنی  سے وابستہ ہے۔ حضرت نانوتوی  اور حضرت گنگوہی  ان کے بلاواسطہ شاگرد رشید ہیں۔ حضرت شیخ الہند  اور حضرت مولانا خلیل احمد صاحب شہارنپوری  کو ان سے بالواسطہ تلمذ اور بلاواسطہ اجازتِ حدیث حاصل ہے۔ دیوبند کا سلسلۂ طریقت قطب عالم سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی  سے پیوستہ ہے۔ دورِ اول اور دورِ دوم کے سارے اکابر دیوبند حضرت حاجی امداد اللہ  کے خلفاء ومسترشدین ہیں۔
حضرت بنوری  زمانہ کے لحاظ سے اکابر دیوبند کے طبقۂ چہارم میں آتے ہیں، لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ اُنہیں حضرت شاہ عبد الغنی  سے صرف ایک واسطہ سے اجازتِ حدیث حاصل ہے۔ ’’عن المحدثہ أمۃ اللّٰہ بنت الشاہ عبد الغنی  عن أبیہا‘‘ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی  سے بھی صرف ایک واسطہ سے اجازت وخلافت طریقت حاصل ہے، (یعنی آپ  کو حضرت نگینوی  سے اور انہیں حضرت حاجی صاحب  سے، نیز آپ  کو حضرت حکیم الامت حضرت تھانوی  سے اور ان کو حضرت حاجی صاحب  سے) حضرات محدثین کی اصطلاح کے مطابق علو سند کا یہ شرف اس زمانہ میں بہت کم حضرات کو حاصل ہوگا‘‘۔                                     (خصوصی نمبر،ص:۷۳۱،۷۳۲)

علامہ عثمانی رحمہ اللہ کی شہادت وتزکیہ

علامہ عثمانی  رحمہ اللہ نے آپ  کو جو اجازتِ حدیث مرحمت فرمائی، اس میں تحریر فرمایاکہ: 
’’وہو فی ما أری - ولاأزکی علی اللّٰہ أحدًا- صالحٌ، راشدٌ، مسترشدٌ، مستقیمُ السیرۃ، جیدُ الفہم، ذو مناسبۃ قویۃ بالعلوم، مستعدٌ لتدریسہا‘‘۔
 اس سے قبل تحریر فرمایا ہے: 
’’فجدَّ واجتہد فی اکتساب علم السنۃ والقرآن وبرع فیہ وفاق أقرانَہ ما شاء اللّٰہ‘‘۔
حضرت عثمانی  نے اپنے ایک گرامی نامہ میں تحریر فرمایا:
 ’’مجھے جو قلبی تعلق آپ کے ساتھ ہے وہ خود آپ کو معلوم ہے۔مجھے بہت سی علمی توقعات آپ کی ذات سے ہیں۔ سنن ابی داؤد کے درس سے میری تمنا پوری ہوئی، میں مدت سے چاہتا تھا کہ اس درجہ کا کوئی سبق آپ کے ہاں ہو، الحمد ﷲ! آپ کا درس مقبول ہے‘‘۔(خصوصی نمبر،ص:۷۳۹)

امیر شریعت شاہ عطاء اللہ رحمہ اللہ  کے تأثرات

ایک بار حضرت (بنوری رحمہ اللہ ) ملتان تشریف لے گئے۔ حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ  علیل تھے، عیادت کے لیے ان کے درِدولت پر حاضری دی۔ حضرت امیر شریعت  خود باہر تشریف لائے، آپ سامنے کھڑے ہیں، مگر شاہ جی  پوچھتے ہیں: کون؟ آپ نے سمجھا کہ شاید علالت کی وجہ سے پہچان میں فرق آگیا، اس لیے عرض کیا: محمد یوسف بنوری۔ شاہ جی  نے پھر پوچھا۔ آپ سمجھے کہ شاید مرض کی وجہ سے سماعت میںفرق آگیا، اس لیے ذرا بلند آواز سے کہا:محمد یوسف بنوری، فرمایا: نہیں، نہیں، بلکہ انور شاہ! یہ کہہ کر آپ سے لپٹ گئے۔                          (خصوصی نمبر،ص:۷۴۱)

درس وتدریس

اللہ تعالیٰ نے حضرت بنوری رحمہ اللہ  کو ہرفن میں مہارتِ تامہ عطا فرمائی تھی، عربی زبان وادب میں ایسی مہارت تھی کہ آپ  کی تحریر وگفتگو سن کر عرب علماء متعجب ہوکر جھوم جھوم جاتے تھے، مگر آپ  کا خصوصی ذوق فن تفسیر اور حدیث پاک میں اشتغال تھا۔ آپ  نے حدیث پاک کی جن کتابوں کا گہرائی اور توجہ سے مطالعہ فرمایا، اس کی فہرست طویل ہے۔ شاید ہمارے دور کے بہت کم اہل علم نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا ہوگا۔

مجلس علمی ڈابھیل سملک

حضرت مولانا احمد رضا بجنوری رحمہ اللہ  تلمیذ رشید حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
’’راقم الحروف کو مولانا محمد میاں سملکی  نے ۱۳۴۹ھ میں ڈابھیل بلایا اور حضرت شاہ صاحب  کی سرپرستی میں مجلس علمی کی بنیاد ڈال کر اس کے کام احقر کے سپرد کیے، پھر کچھ عرصہ قیام کرکے وہ افریقہ چلے گئے۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی وفات ۱۳۵۲ھ کے بعد مجلس علمی کی سرپرستی ان کے جانشین علامہ محقق مولانا عثمانی رحمہ اللہ نے منظور فرمائی۔ اس وقت احقر نے مولانا بنوری رحمہ اللہ کو پشاور سے ڈابھیل بلانے کی تحریک کی اور مہتمم صاحب جامعہ کی منظوری حاصل کرکے وہاں بلالیا۔موصوف نے درسی خدمات کے ساتھ مجلس علمی کے کاموں میں میری اعانت وشرکت کی۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ  کی مکمل سوانح عمری اعلیٰ درجہ کی فصیح وبلیغ عربی میں تالیف کی جو مجلس سے اسی وقت شائع ہوگئی تھی۔
حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ہی حضرت مولانا بدر عالم صاحب  نے مجلس علمی کی تحریک پر’’ فیض الباری‘‘ مرتب کی اور حضرت مولانا عبد العزیز صاحب  گوجرانوالہ نے ’’نصب الرأیۃ‘‘ کی تصحیح وتحشیہ کی خدمت انجام دی۔ ان تینوں کتابوں کو لے کر احقر اور مولانا بنوری نور اللہ مرقدہٗ حرمین شریفین ہوتے ہوئے مصر گئے اور وہاں نو دس ماہ رہ کر ان کو طبع کرایا، ساتھ ہی وہاں کے اکابر علماء کرام اور کتب خانوں سے استفادہ بھی کرتے رہے، مصر کا یہ سفر ۱۳۵۷ھ میں ہوا تھا۔مصر سے واپس ہوکر یہ طے کیا گیا کہ مولانا بنوری  ’’العرف الشذی‘‘ پر کام کریں، تاکہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ  کے علوم وکمالات کو زیادہ سے زیادہ بہتر صورت میں نمایاں کیا جاسکے۔‘‘

غیر معمولی تلاش وجستجو

حضرت محدث بنوری رحمہ اللہ نے تلاش وتفحص اور مظان وغیر مظان سے اپنے شیخ کے علوم کی تخریج وتوضیح کا حق ادا کردیاہے۔ محدث کشمیری رحمہ اللہ بحر بے کراں تھے، آپ  کے درس میں حدیث کی روایت اور دوسرے مسائل کے سلسلہ میں دوسرے علوم وفنون کے حوالے آجاتے تھے، کہیں صرف ونحو کا مشکل حوالہ آجاتا، کہیں علم کلام وفلسفہ کا کوئی مسئلہ زیر بحث آجاتا، پھر ایسی کتابوں کے حوالے آجاتے جو عام طور پر اہل علم کے یہاں متداول نہیں تھیں۔ مولانا نے متداول اور غیر متداول کتابوں سے مسائل نکالنے میں کسر نہیں اٹھا رکھی اور اس کے لیے بے نظیر محنت کی شاندار مثال قائم کی، چند مسئلوں کی تحقیق کے لیے کئی کئی کتابوں کی ورق گردانی کرنی پڑی، تب جاکر مسئلہ دستیاب ہوا۔خود فرماتے ہیں:
 ’’میں نے اپنی قوت وطاقت تخریج ومأخذ سے مطلع ہونے پر پوری طرح صرف کی۔ ورق گردانی، مظان اور غیر مظان سے مسئلہ نکالنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ کبھی میں ایک مسئلہ کی تلاش میں گھڑیاں ہی نہیں کئی کئی راتیں اور دن گزاردیتا اور اس کے لیے ایک ایک کتاب کی مجلدات پڑھتا اور جب مجھے اپنی متاع گم گشتہ مل جاتی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہتا۔ شیخ نے دورانِ درس جس کتاب کا حوالہ دیا ہوتا اس سے مسائل نکالنے کا التزام کررکھا تھا، لہٰذا میں’’ کتاب سیبویہ، رضی شرح کافیۃ، دلائل الاعجاز، أسرار البلاغۃ، عروس الأفراح، کشف الأسرار‘‘ دیکھنے پر مجبور تھا، جس طرح میں شروحِ حدیث کی اہم کتابیں ’’فتح الباری، عمدۃ القاری‘‘ اور فقہ مذاہب میں ’’شرح مہذب، مغنی لابن قدامۃ‘‘ اور رجال میں کتب رجال دیکھنے پر مجبور تھا۔ اگر میری جوانی، بحث وجستجو کا شوق اور شیخ کے جواہر پارے سمیٹنے کا عشق نہ ہوتا تو میں اس بار گراں کا اہل نہیں تھا۔ حدیث کی اہم کتابوں کی شرح میرے لیے اس کٹھن کام سے بہت زیادہ آسان تھی‘‘۔

ڈابھیل میں قیام اور خدمتِ حدیث

حضرت بنوری رحمہ اللہ کے عزیز رفیق اور علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  کے شاگرد رشید مولانا محمد میاں  سملکی ثم افریقی نے اپنے استاذ کے علمی کاموں کی اشاعت کی نسبت سے ڈابھیل میں ایک مجلس علمی قائم کی تو نگاہِ انتخاب علامہ بنوری رحمہ اللہ  پر پڑی اور مجلس علمی کی طرف سے وہاں قیام اور خدمت کی پیش کش ہوئی، چنانچہ آپ  نے اس کو قبول فرمایا۔ مجلس علمی میں جو کام سپرد ہوا وہ خاصہ دشوار اور کٹھن تھا، یعنی ’’العرف الشذی‘‘ کے حوالوں کی تخریج اور انہیں مکمل طور پر نقل کرنا۔ حضرت مولانا (بنوری ) فرماتے تھے کہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ  کے ایک ایک حوالہ کے لیے بسااوقات مجھے سینکڑوں صفحات کا مطالعہ کرنا پڑتا تھا اور اس کی دو مثالیں پیش فرماتے ہیں:
 ۱:… حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ  نے کسی موقع پر متعارض روایات کی تطبیق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اس قبیل سے ہے کہ:’’ہرراوی نے وہ بات ذکر کردی جو دوسرے نے ذکر نہیں کی‘‘ اس کے بعد فرمایا کہ یہ بڑا اہم قاعدہ ہے، مگر افسوس کہ مصطلح الحدیث کے مدونین نے اس کو ذکر نہیں کیا، البتہ حافظ  نے فتح الباری میں کئی جگہ اس قاعدے سے تعرض کیا ہے۔مولانا (بنوری ) فرماتے تھے کہ میں نے ان مقامات کی تلاش کے لیے پوری فتح الباری کا مطالعہ کیا، تب معلوم ہوا کہ حافظ نے پوری کتاب میں دس سے زیادہ جگہوں پر اس قاعدے سے تعرض کیا ہے۔
۲:… حضرت شاہ صاحب  نے اختلافِ صحابہ  پر بحث کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’ابوزید دبوسی  نے بالکل صحیح فرمایا کہ جب کسی مسئلہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کااختلاف ہو تو وہاں منشائے اختلاف کا معلوم کرنا اور اس نزاع کا فیصلہ چکا نا بڑا دشوار ہے‘‘۔
مولانا فرماتے تھے کہ اس حوالہ کی تلاش کے لیے میں نے دبوسی  کی کتاب’’ تأسیس النظر‘‘ پوری پڑھی، مگر یہ حوالہ نہیں ملا، خیال آیا کہ یہ حوالہ دبوسی  کی دوسری دوکتابوں ’’أسرار الخلاف‘‘ یا ’’تقویم الأدلۃ‘‘ میں ہوگا، مگر وہ دونوں غیر مطبوعہ تھیں اور میرے پاس موجود نہیں تھیں، پھر خیال آیا کہ یہ حوالہ بالواسطہ ہوگا یا تو شیخ عبد العزیز بخاری  کی کتاب ’’کشف الأسرار‘‘ کے حوالہ سے ہوگا یا ابن امیر الحاج  کی شرح ’’التحریر‘‘ کے واسطہ سے، چنانچہ ان دونوں کتابوں کا بہت سا حصہ مطالعہ کرنے کے بعد دونوں میں یہ حوالہ مل گیا۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت مولانا کو اس تخریج میں کتابوں کی کس قدر ورق گردانی کرنا پڑی اور اس کے لیے اپنی کتنی صلاحیتیں وقف کرنا پڑیں، اس طرح ’’العرف الشذی‘‘ کی تحقیق وتخریج میں ’’معارف السنن‘‘ کا مصالحہ تیار ہوگیا اور اسی تخریج کو آپ  نے جدید طرز پر مدون کرکے ’’معارف السنن‘‘ تالیف فرمائی۔

ڈابھیل میں شیخ الحدیث کے منصب پر

مولانا بنوری  جب سفر مصر سے واپس آئے تو گجرات کے مشہور مدرسہ جامعہ ڈابھیل میں صدارتِ تدریس کے لیے آپ  کا انتخاب ہوا اور اس طرح آپ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اور حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی مسند درسِ حدیث کے وارث ہوئے۔ مولانا نے بخاری شریف اور بعض دیگر صحاح کی کتابوں کا درس شروع فرمادیا۔راقم الحروف جامعہ کے درجۂ پنجم کا طالب علم تھا، اس سال کے دورہ کے طلبہ نے سنایا کہ حضرت بنوری رحمہ اللہ  جب جامعہ کے دار الحدیث میں مسند ِدرس پر تشریف لائے تو اپنے استاذ کی یاد تازہ ہوگئی اور سبق شروع کرنے سے پہلے زار وقطار رونے لگے، فرماتے تھے کہ یہ بھی اشراط الساعۃ میں ہے کہ علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  ایسے علم کے سمندر کی مسند پر آج مجھ جیسا ادنیٰ طالب علم بیٹھا ہے اور جس جگہ پر بیٹھ کر حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ  درس دیتے تھے، اس سے تھوڑا ہٹ کر بیٹھ کر درس شروع کرایا، یہ ان کے بلند اخلاق اور اپنے اساتذہ کی عظمت وتوقیر کی نشانی تھی۔
حضرت بنوری رحمہ اللہ  کے درس کی شہرت دور دور پھیل چکی تھی، اطراف کے مدارس کے بعض اساتذۂ حدیث بھی ڈابھیل تشریف لاکر اپنے اشکالات حل کرتے تھے، اس طرح حضرت بنوری رحمہ اللہ  کا وجود مسعود پورے علاقہ کے علماء وفضلاء کے لیے باعث خیر وبرکت تھا۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ  نے بعض ذی استعداد نوجوان علماء کی علمی رہنمائی کرکے اُنہیں بہترین اساتذہ بنایا۔

پاکستان کا سفر اور دار العلوم ٹنڈوالٰہ یار میں علم حدیث کی خدمت

پاکستان بننے کے بعد ہندوستان میں کچھ حالات ابتر رہے اور مدارس میں طلبہ کی تعداد بھی کم رہ گئی، اس لیے کہ پنجاب، سندھ، سرحد کے طلبائ، دوسری طرف مشرقی بنگال کے طلباء کی آمد بند ہوگئی، ادھر پاکستان میں علامہ عثمانی ، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ، مولانا احتشام الحق  ودیگر علماء کرام پاکستان میں دارالعلوم دیوبند کے طرز کی درسگاہیں قائم کرنے کے منصوبے بنارہے تھے، چنانچہ ان ہی اکابرین کی نظر انتخاب حضرت بنوری رحمہ اللہ  پر بھی پڑی اور حضرت  کو وہاں بلایاگیا۔

ٹنڈوالٰہ یار خان میں شیخ التفسیر کے منصب پر

حضرت بنوری  ٹنڈوالٰہ یار میں شیخ التفسیر کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے، نیز حدیث پاک کے اسباق بھی جاری رہے، مگر قدرت کو حضرت بنوری رحمہ اللہ  سے اور کام لینا تھا، اس لیے دارالعلوم ٹنڈوالٰہ یار میں کچھ ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ علامہ مستعفی ہوکر کراچی تشریف لائے۔


کراچی میں ’’جامعۃ العلوم الاسلامیۃ ‘‘کی تاسیس

کراچی تشریف لاکر سخت بے سروسامانی کی حالت میں توکلاً علی اللہ ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ  اس سلسلہ میں کن کن مراحل سے گزرے، اس کی تفصیل آپ  کی مفصل سوانح میں موجود ہے، اس مختصر مقالہ میں اس کو ذکر کرنا بے فائدہ ہے۔

تخصص فی الحدیث

اس جامعہ کا جو نصاب مقرر ہوا، اس میں حدیث شریف اور علوم حدیث کی طرف خصوصی توجہ دی گئی اور ابتدا ہی سے اپنے جامعہ میں ’’تخصص فی الحدیث‘‘ کا شعبہ قائم فرماکر اس فن شریف کی اہم خدمت انجام دی۔ ’’جامعۃ العلوم الاسلامیۃ‘‘ کے جن فضلا کو مختلف عنوانات پر کام سپرد ہوا، اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

نمبر شمارنامعنوان مقالہ
1مولوی محمد اسحاق سلہٹی

کتابۃ الحدیث وأدوار تدوینہ

2مولوی عبد الحکیم سلہٹی

وسائل حفظ الحدیث وجہود الأمۃ فیہ

3مولوی محمد زمان ڈیروی

الکتب المدونۃ فی الحدیث وأصنافہا وخصائصہا

4مولوی عبد الحق ڈیروی

مصطلح الحدیث وأسماء الرجال والجرح

5مولوی حبیب اللہ سرحدی

الصحابۃؓ وما رووہ من الأحادیث

6مولوی حبیب اللہ مختار دہلویؒ

السنۃ النبویۃ والقرآن الکریم

7مولوی عبد الرؤف ڈھاکوی

السنۃ النبویۃ والإمام الأعظم أبوحنیفۃؒ

8مولوی محمد انور شاہ بنوی

المسائل الستۃ من مصطلح الحدیث

9مولوی مفیض الدین ڈھاکوی

حاجۃ الأمۃ إلی الفقہ والاجتہاد

10مولوی مہر محمد میانوالویؒ

الکوفۃ وعلم الحدیث

11مولوی عبد الغفور سیالکوٹی

الإمام الطحاویؒ ومیزتہ فی الحدیث بین محدثی عصرہٖ

12مولوی عبد القادر کھلنوی

الإمام الطحاویؒ ومیزتہ فی الحدیث بین محدثی عصرہٖ (اردو)

13 مولوی عبد الحق بریسالی

عبد اﷲ بن مسعودؓ من بین فقہاء الصحابۃؓ وامتیازہ فی الفقہ

14مولوی محمد امین اورکزئی   ؒ

مسانید الإمام الأعظم أبی حنیفۃؒ ومرویاتہ من المرفوعات والآثار

15مولوی اظہار الحق چاٹگامی

مسانید الإمام الأعظم أبی حنیفۃؒ ومرویاتہ من المرفوعات والآثار

16مولوی محمود ا لحسن میمن شاہی

الإمام أبویوسفؒ محدثًا وفقیہًا

   (خصوصی نمبر،ص:۲۶۰)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت بنوری رحمہ اللہ  علم حدیث میں کیسے رجال تیار کرنے میں مصروف تھے۔محدث العصر علامہ بنوری رحمہ اللہ  نے علم حدیث میں حسب ذیل کام چھوڑا ہے:۱:۔۔۔’’معارف السنن‘‘۔ ۲:۔۔۔’’عوارف المنن‘‘ مقدمۃ ’’معارف السنن‘‘۔ ۳:۔۔۔مقدمۃ ’’فیض الباری‘‘۔۴:۔۔۔مقدمۃ ’’نصب الرأیۃ‘‘۔ ۵:۔۔۔مقدمۃ ’’أوجز المسالک‘‘۔۶:۔۔۔مقدمۃ ’’لامع الدراری‘‘۔ ۷:۔۔۔’’جامع ترمذی کی تقریر ’’العرف الشذی‘‘ کی تصحیح فرمائی، جس کا نسخہ محفوظ ہے۔

ان کے علاوہ اپنے دو ہونہار اور فاضل شاگردوں سے امام طحاوی رحمہ اللہ  کی’’ مشکل الآثار‘‘ (۱)اور امام ترمذی رحمہ اللہ  کی سنن میں ’’وفی الباب‘‘ پر ’’لُب اللباب‘‘ (۲)کے نام سے عظیم الشان کام کروایا۔

 حاشیہ نمبر(۱)یہ درحقیقت ’’شرح معانی الآثار‘‘ پر مولانا محمد امین اورکزئی رحمہ اللہ  کا کام ہے، جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔(ادارہ)

حاشیہ نمبر(۲)’’سنن ترمذی‘‘ کے ’’وفی الباب‘‘ کی احادیث کی تخریج کا یہ کام حضرت  نے خود شروع فرمایا تھا، انجام کار مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کے سپرد ہوا، ’’کشف النقاب عما یقولہ الترمذی وفی الباب‘‘ کے نام سے پانچ جلدیں منظر عام پر آئی ہیں۔ (ادارہ)

’’شرح معانی الآثار‘‘ کی اہمیت شیخ بنوری رحمہ اللہ کی نظر میں

مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ  رقم طراز ہیں:

    ’’حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ امام طحاوی رحمہ اللہ  کی عبقریت اور فقہ وحدیث میں ان کی مہارت وحذاقت کے بڑے مداح تھے، فرماتے تھے کہ:’’ ان کے معاصرین میں بھی کوئی ان کا ہمسر نہیں تھا اور بعد کے محدثین میں بھی کسی کو ان کے مقام رفیع تک رسائی نصیب نہیں ہوئی۔‘‘ حضرت  نے تخصص فی الحدیث کے بعض شرکا کو مقالہ نویسی کے لیےیہ موضوع دیا تھا: ’’الإمام الطحاوی  ومیزتہ بین معاصریہ‘‘ یعنی مثال ونظائر سے یہ ثابت کیا جائے کہ امام طحاوی رحمہ اللہ  کو ابن جریر ، ابن خزیمہ ، محمد بن نصر  وغیرہ معاصرین پر کن کن امور میں فوقیت حاصل ہے۔    

حضرت  فرماتے تھے کہ: دار قطنی ، بیہقی  اور خطیب  تینوں مل کر حدیث میں طحاوی رحمہ اللہ  کے ہم سنگ ہوتے ہیں، مگرتفقہ اور عقلیت میں طحاوی رحمہ اللہ  کا پلہ پھربھی بھاری رہتا ہے۔‘‘    امام طحاوی رحمہ اللہ  کی تالیفات میں ’’شرح معانی الآثار‘‘ امت کے سامنے موجود ہے جو فقہ وحدیث کا مجمع البحرین ہے، مگر افسوس ہے کہ اب تک دیگر کتب حدیث کی طرح اس کی خدمت نہیں ہوسکی اور اگر ہوئی ہے تو امت کے سامنے نہیں۔ حافظ بدر الدین عینی رحمہ اللہ  نے مدۃ العمر اس کا درس دیا اور اس کی تین شرحیں لکھیں، لیکن حیرت ہے کہ ان میں سے کوئی بھی حلیۂ طباعت سے آراستہ نہیں ہوئی۔

(الحمد ﷲ اب دار العلوم دیوبند کے استاذ حدیث، صاحبزادۂ محترم حضرت شیخ الاسلام مدنی نور اللہ مرقدہٗ حضرت مولانا محمد ارشد مدنی مدظلہ نے علامہ عینی رحمہ اللہ  کی شرح کی طباعت کا سلسلہ شروع فرمادیا ہے، اللہ تعالیٰ اس عظیم خدمت پر ان کو اجر عظیم عطا فرما وے اور جلد از جلد مکمل کتاب طبع ہوکر علمی حلقوں میں پہنچ جائے، آمین) (۱)    

(حاشیہ نمبر(۱) الحمد للہ! اب یہ کتاب مکمل زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر ۲۳؍ جلدوں میں منظر عام پر آچکی ہے۔(ادارہ 

اور بھی کئی نامور اہل علم نے اس پر کام کیا ہے، مگر کسی کی محنت منظر عام پر نہیں آئی۔

    حضرت رحمہ اللہ  محسوس فرماتے تھے کہ اس پر مندرجہ ذیل پہلو پر کام کرنے کی ضرورت ہے:  

  الف:…رجالِ سند کی تحقیق جس کی روشنی میں حدیث کا مرتبہ متعین ہوسکے۔

    ب:…متون کی تخریج جس سے ایک طرف تو امام طحاوی رحمہ اللہ  کی ہر روایت کے متابعات وشواہد سامنے آجائیں اور طحاوی رحمہ اللہ  کی احادیث کے قبول کرنے میں بعض لوگوں کو جو کھٹکا ہوتا ہے، وہ دور ہوجائے۔ اسی کے ساتھ دیگر کتب حدیث میںاس حدیث کی نشاندہی کرنے سے ان کتابوں کی شروح کی طرف مراجعت آسان ہوجائے۔ دوسرے حدیث کے متعدد طرق میں وارد شدہ الفاظ بیک نظر سامنے آنے سے حدیث کی مراد بھی واضح ہوجائے۔

    ج:…امام طحاوی رحمہ اللہ  ائمہ احناف کے مسلک کی تصریح کرجاتے ہیں اور دیگر مجتہدین کے مذاہب کی طرف اجمالاً اشارہ کرجاتے ہیں، مگر ہر مذہب کے قائلین کی تصریح نہیں فرماتے، ضرورت ہے کہ اس اجمال کو رفع کیا جائے۔ 

   د:…امام طحاوی رحمہ اللہ  نے قریباً ہرمسئلہ میں احادیث وآثار کے علاوہ ’’وجہ النظر‘‘ کے ذیل میں عقلی دلیل کا التزام فرمایا ہے جو خاصی دقیق اور مشکل ہوتی ہے، اس کی تہذیب وتنقیح کرکے مقصد کی توضیح کی جائے۔

 ہ:…حضرات متقدمین کے کلام میں اکثر طوالت ہوتی ہے جس سے بعض دفعہ مبتدی کو فہم مطالب میں دقت پیش آتی ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ طحاوی رحمہ اللہ  کے ہر باب کے مقاصد کی تلخیص کی جائے۔ یہ کام متقدمین میں سے حافظ زیلعی رحمہ اللہ  کر چکے ہیں، لیکن ان کی یہ تالیفات دستیاب نہیں اور ماضی قریب میں حضرت مولانا حسین علی صاحب رحمہ اللہ  نے بھی اس کی تلخیص کی، مگر بہت زیادہ اختصار کی وجہ سے مفید عام نہ ہوسکی۔

    و:…یہ بھی ضرورت ہے کہ ہر باب کی احادیث وآثار کی فہرست مرتب کردی جائے کہ اتنی مرفوع ہیں، اتنی مراسیل، اتنی موقوف اور اتنی مکرر۔

    ز:…اور سب سے اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ’’شرح معانی الآثار‘‘ کے متن کی تصحیح کی جائے، کیونکہ اس میں بکثرت اغلاط ہیں، بعض اغلاط تو ایسی ہیں کہ جن سے عبارت ناقابل فہم بن گئی ہے یا مفہوم بالکل مسخ ہوچکا ہے اور تعجب ہے کہ حافظ جمال الدین زیلعی رحمہ اللہ  اور ان کے سامنے جو نسخہ تھا، اس میں بھی یہ اغلاط موجود تھیں۔ حضرت  چاہتے تھے کہ مندرجہ بالا امور کو پیش نظر رکھ کر طحاوی شریف پر کام کیا جائے، چنانچہ آپ  نے اپنے تلمیذ سعید مولانا محمد امین صاحب زید مجدہٗ کو اس کام پر مامور فرمایا۔مولانا نے حضرت  کی رہنمائی میں جو کام کیا، اس کا انداز یہ ہے:

اولاً:۔۔۔ہرباب کی تلخیص۔

    ثانیاً: ۔۔۔اس تلخیص کے ضمن میں مذاہب ائمہ کا بیان۔

ثالثاً: ۔۔۔ائمہ اربعہ  رحمہم اللہ  کے مذاہب ان کی کتب فقہ سے بقید حوالہ نقل کرنا۔

رابعاً: ۔۔۔زیر بحث باب کے آثار کی تعداد اور تفصیل۔

خامساً: ۔۔۔نمبر وار باب کی ہر حدیث کی تخریج۔  

  سادساً: ۔۔۔اصل کتاب کی حتی المقدور تصحیح۔

سابعاً:۔۔۔حضرت اقدس  کی خواہش کے مطابق ہرباب کے آخر میں اس بحث کے متعلق حنفیہ  کی مؤید احادیث وآثار کا اضافہ جو ’’شرح معانی الآثار‘‘ میں نہیں، مولانا محمد امین صاحب نے بڑی محنت وجانفشانی سے کام کیا اور اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل کتب کا بالاستیعاب مطالعہ فرمایا:۱:۔۔۔تاریخ بغداد، خطیب بغدادی ، ۱۴؍مجلدات۔ ۲:۔۔۔حلیۃ الاولیائ، ابونعیم اصفہانی ، ۱۰؍ مجلدات۔ ۳:۔۔۔ طبقات، ابن سعد ، ۸؍مجلدات۔ ۴:۔۔۔ تاریخ کبیر، امام بخاری ، ۸؍مجلدات۔ ۵:۔۔۔الکنی، ابی بشر دولانی ، ۲؍جلدیں۔ ۶:۔۔۔معجم صغیر، طبرانی ، ایک جلد۔ ۷:۔۔۔ تاریخ جرجان، ۱؍جلد۔    پھر ان سب کتابوں کی تمام احادیث وآثار کو کتب حدیث وفقہ کی ترتیب پر مرتب کیا، مولاناموصوف نے تو صرف اپنی تخریج کے لیے یہ کام کیا تھا، مگر یہ بجائے خود ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جس پر علمی دنیا کو ممنون ہونا چاہئے۔ ‘‘(۱)                       (خصوصی نمبر،ص:۲۶۷

        حاشیہ نمبر (۱)  مولانا نے حضرت کی نگرانی میں اس کتاب کی شرح وتعلیق اور رجال کی تحقیق کا کام شروع فرمایا تھا، الحمد للہ ’’نثر الأزہار علی شرح معانی الآثار‘‘ کے نام سے اس کی دو جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں، افسوس کہ مولانا اس کام کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچاسکے اور ’’کتاب السیر‘‘تک ہی پہنچے تھے کہ شہادت کا واقعہ پیش آگیا، رحمہ اللّٰہ تعالٰی وغفرلہ، شنید ہے کہ اب بقیہ غیر مطبوعہ مسودے پر بھی کام جاری ہے، اللہ کرے کہ جلد طبع ہوکر علمی حلقوں تک پہنچے۔(ادارہ

’’سنن ترمذی‘‘ پر عربی زبان میں ایک گراں قدر مضمون

امام ترمذی رحمہ اللہ  کی کتاب پر حضرت بنوری رحمہ اللہ  کا دمشق کے’’ مجلۃ المجمع العلمی العربی‘‘ میں ایک اہم مضمون شائع ہوا تھا، جس میں شیخ نے امام ترمذی رحمہ اللہ  کی کتاب کی خصوصیات پر محدثین وائمہ کے کلام کو سامنے رکھ کر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، ذیل میں اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:

امام ترمذی رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب میں احادیث نبویہ کو آٹھ قسموں میں جمع کردیا ہے۱

؎۔۔عقائد ودینی اصول، ۲:۔۔۔شرعی احکام، عبادات ومعاملات اور حقوق العباد سے متعلق احادیث، ۳:۔۔۔تفسیر قرآن، ۴:۔۔۔ آداب واخلاق، ۵:۔۔۔سیرت وشمائل نبوی، ۶:۔۔۔ مناقب صحابہ ، ۷:۔۔۔ رقاق، وعظ ونصیحت اور ترغیب وترہیب سے متعلق احادیث (جسے ’’کتاب الزہد‘‘ کا نام دیا جاتا ہے) اور ترمذی رحمہ اللہ  کی ’’کتاب الزہد‘‘ کی نظیر صحاح ستہ میں نہیں ملتی، ۸:۔۔۔علاماتِ قیامت سے متعلق احادیث۔یہ اقسام اگرچہ صحیح بخاری میں بھی ہیں، لیکن وہ شروط کی سختی کے سبب احادیث کے ذخیرہ کو جمع نہ کرسکے۔ ترمذی رحمہ اللہ  کی ’’کتاب الزہد، کتاب الدعوات، کتاب التفسیر‘‘ کا مقابلہ بخاری شریف کے ان ابواب سے کریں، حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔۲

:… امام ترمذی رحمہ اللہ  نے احادیث پر صحت، حسن، غرابت اور ضعف کے اعتبار سے جو حکم لگایاہے، وہ پڑھنے والوں اور تحقیق کرنے والوں کے لیے بہت نافع اور اہم چیز ہے۔۳

:…امام ترمذی رحمہ اللہ  نے اپنی کتاب میں ائمہ کے مذاہب اور امت کے تعامل کو خوب عمدگی سے اس طرح بیان کیا ہے کہ اختلافی مسائل بیان کرنے والی دیگر کتب احکام وغیرہ بہت سی کتابوں سے مستغنی کردے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ  کی یہ ایک خصوصیت ہے جس میں کوئی بھی ان کا شریک نہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم  وتابعین رحمہم اللہ   کے مذاہب پر مطلع ہونا اور ایسے مذاہب جن پر عمل متروک ہوچکا ہے، جیسے کہ شام کے امام اوزاعی رحمہ اللہ ، عراق کے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ، خراسان کے امام اسحاق ابراہیم مروزی رحمہ اللہ   وغیرہ حضرات کے مذاہب پیش کرنا یہ بڑا دقیق ونادر علم ہے، جس پر لوگ صرف امام ترمذی رحمہ اللہ   او ران کی کتاب کے ذریعہ ہی مطلع ہو سکتے ہیں۔۴

:…امام ترمذی رحمہ اللہ نے فقہاء امت کے مذاہب کو دوقسموں پر تقسیم کیا اور ہرقسم کے لیے الگ باب قائم کیا، جس میں اس مسئلہ کو ثابت کرنے والی حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس طرح احکام سے متعلق متعارض احادیث کو دوباب میں تقسیم کردیا۔ امام ترمذی رحمہ اللہ  بسا اوقات ایک قسم کی تائید کرتے ہیں اور اس کو تفقہ یا تحدیث یا تعامل کے اعتبار سے راجح قرار دیتے ہیں یا دونوں میں جمع ہوسکے تو تطبیق دیتے ہیں۔

:… سند میں مذکور رواۃ اگر کنیت کے ساتھ ہوں توان کا نام بتلادیتے ہیں اور اگر نام سے مذکور ہوں تو ان کی کنیت۔ عام طور سے ایسا اس مقام پر کرتے ہیں جہاں غموض اور خفاء یا ضرورت ہو۔ علماء حدیث نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں دولابی رحمہ اللہ  کی کتاب ’’الأسماء والکنی‘‘ سب سے عمدہ ہے

۔۶:… روایات ذکر کرکے امام ترمذی رحمہ اللہ  جرح وتعدیل کرتے ہیں اور کسی خاص شرط کے پابند نہ ہونے کی تلافی اس جرح وتعدیل سے کیا کرتے ہیں اور حدیث کا درجہ، صحت، حسن اور غرابت کے اعتبار سے متعین کرکے اس کمی کو پورا کردیتے ہیں

۔۷:… امام ترمذی رحمہ اللہ  حدیث نقل کرنے کے بعد بسا اوقات نہایت عمدہ حدیثی ابحاث اور اسنادی فوائد لاتے ہیں جو اور کتابوں میں نہیں پائے جاتے، چنانچہ حدیث کے موصول، مرسل، موقوف اور مرفوع ہونے کو بتلاتے ہیں کہ راوی حدیث صحابی  ہے یا تابعی  اور حدیث کا جرح کیا ہے

؟۸:… عام طور پر امام ترمذی رحمہ اللہ  ہر باب میں حدیث کے متعدد طرق اور ساری روایات ذکر کرنے کی بجائے صرف ایک حدیث ذکر کرتے ہیں اور ایک طریق ہی لاتے ہیں، خصوصاً احکام سے تعلق رکھنے والی احادیث میں، اسی لیے جامع ترمذی میں احادیثِ احکام کا ذخیرہ کم ہے، البتہ اس کی تلافی وہ اس طرح کرتے ہیں کہ اس باب میں اور موضوع سے متعلق دیگر جن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم  سے احادیث مروی ہیں، ان کو ذکر کردیتے ہیں، اس طرح سے باب میں جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم  سے احادیث ہوتی ہیں ان کی تعداد معلوم ہوجاتی ہے، جو ائمہ نقد ومحققین کے یہاں بڑی قابل قدر خدمت ہے اور ذوقِ قدیم وجدید دونوں کے لیے بڑی پر کیف خدمت ہے۔ وہ ’’فی الباب عن فلان وفلان‘‘ کہہ کر اسی استیعاب سے نام گنوا دیتے ہیں کہ جس کی تفتیش وتخریج کے لیے ہزاروں صفحات اور بیسیوں بڑی بڑی جلدوں کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، لیکن پھر بھی بعض اوقات وہ حدیث نہیں ملتی۔امام ترمذی رحمہ اللہ  کی ’’وفی الباب‘‘ والی احادیث کی تخریج حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ  نے ’’اللباب‘‘ نامی کتاب میں کی، لیکن سیوطی رحمہ اللہ  اس کو ذکر کرکے لکھتے ہیں کہ مجھے وہ کتاب مل نہ سکی۔ حضرت شیخ بنوری رحمہ اللہ  فرمایا کرتے تھے کہ:’’ میں نے حرمین شریفین، قاہرہ اور آستانہ کے عظیم الشان کتب خانوں میں اُسے تلاش کیا، لیکن ’’اللباب‘‘ نہ مل سکی‘‘۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  سے پہلے ان کے شیخ حافظ عراقی رحمہ اللہ  نے بھی امام ترمذی رحمہ اللہ  کی ’’وفی الباب‘‘ والی احادیث کی تخریج کی تھی، وہ بھی کہیں دستیاب نہیں، حافظ ابن سید الناس یعمری رحمہ اللہ  اور حافظ عراقی رحمہ اللہ  نے اپنی شروح میں ’’ما فی الباب‘‘ کی تخریج کا التزام کیا ہے

۔۹:… امام ترمذی رحمہ اللہ  مشکل احادیث کی گاہے بگاہے تفسیر وتاویل بھی کرتے جاتے ہیں، کبھی اپنے الفاظ میں اور کبھی ائمۂ فن کے کلام سے، جیسے کہ’’ کتاب الزکوٰۃ‘‘ میں حضرت ابوہریرہqکی حدیث ’’أنا اللّٰہ یقبل الصدقۃ ویأخذہا بیمینہ الخ‘‘ ذکر کی اور فرمایا: اہل علم اس حدیث اور اس جیسی ذات وصفات سے متعلق احادیث کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: ’’ان احادیث میں جس طرح آیا ہے، اسی طرح تسلیم کیا جائے گا، اس کی کیفیت نہیں معلوم کریںگے، امام مالک بن انس رحمہ اللہ ، سفیان ثوری رحمہ اللہ  اور عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ  وغیرہ حضرات اس جیسی صفاتِ الٰہیہ سے متعلق احادیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: بغیر کیفیت اور حقیقت بیان کئے اسی طرح اُن کو مان لو، یہی علمائِ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے‘‘۔ 

   ۱۰:… امام ترمذی رحمہ اللہ  باب میں غریب احادیث لاتے ہیں اور صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑ دیتے ہیں اور ’’وفی الباب عن فلان وفلان‘‘ میں اس کی طرف اشارہ کردیتے ہیں، یہ کوئی عیب نہیں ہے، اس لیے کہ اس حدیث میں جو ضعف اور عیب ہوتا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ  اس کی صراحت کردیتے ہیں، یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح امام نسائی رحمہ اللہ  اپنی کتاب میں جب حدیث کے طرق بیان کرتے ہیں تو پہلے جو کمزور یاغلط ہوتا ہے اُسے لاتے ہیں، پھر اس کے مخالف صحیح اور قوی لاتے ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مجلۃ المجمع العلمی العربی،ج:۳۲،ص:۳۰۸)      

’’عوارف المنن‘‘ مقدمۃ ’’معارف السنن‘‘

حضرت بنوری رحمہ اللہ  نے ’’معارف السنن‘‘ کا ایک مفصل مقدمہ لکھنے کا ارادہ فرمایا تھا، مگر اس کی ایک جلد کتابی شکل میں طبع ہوسکی، اس مقدمہ کا دوتہائی حصہ مکمل ہوچکا تھا، مگر افسوس کہ بقیہ کام ادھوراہی رہ گیا، وللّٰہ الأمر من قبل ومن بعد۔(۱)

’’معارف السنن‘‘ شرح ’’جامع الترمذی‘‘

یہ کتاب حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ  کا ایک عظیم کارنامہ شمار ہوتی ہے، طلبۂ حدیث شریف اور اہل علم کے لیے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے بارے میں ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر حفظہٗ اللہ تعالیٰ نے بہت جامع تبصرہ فرمایا ہے۔ موصوف ’’معارف السنن‘‘ کے مقدمہ میں رقم طرازہیں:
’’انہ أوسع شرح لمذاہب الأئمۃ المتبوعین  من مصادرہا الموثوقۃ وبیان تعامل الأمۃ وأوثق مصدر لأدلۃ الإمام أبی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ فی الخلافیات بین الأئمۃ وأکمل شرح لجامع الترمذی من جہۃ استیفاء المباحث حدیثًا وفقہًا وأصولاً وما إلٰی ذلک من مہمات علمیۃ وأحسن شرح لحل المشکلات وتوضیح المغلقات بعبارات أدبیۃ وأسلوب رائع وأجمل شرح لأقوال إمام العصر مسند الوقت الشیخ محمد أنور شاہ الکشمیری رحمہ اللّٰہ فی شرح الحدیث فی أمالیہ ومؤلفاتہ ومذکراتہ المخطوطۃ ورسائلہ المطبوعۃ وأشمل کتاب یحتوی علی فوائد من شتی العلوم ونفائس الأبحاث روایۃً ودرایۃً، فقہًا وحدیثًا، عربیۃً وبلاغۃً وأبدع تألیف جمع بین جمال التعبیر وحسن الترتیب ومتانۃ البحث ورزانۃ البیان واستقصاء کل باب من غرر النقول لأولی الألباب وصلی اللّٰہ علٰی سیدنا محمد وآلہ وأصحابہ وسلم‘‘۔

حاشیہ نمبر(۱)’’عوارف المنن‘‘ کے دستیاب مسودے پر بھی کام جاری ہے، ان شاء اللہ! جلد ہی منظر عام پر آجائے گا۔ (ادارہ)
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہٗ فرماتے ہیں کہ:
    ’’ شیخ بنوری رحمہ اللہ  کی تصانیف میں جامع ترمذی کی شرح ’’معارف السنن‘‘ ساڑھے تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے، چھ ضخیم جلدوں میں نہایت اہم تصنیف ہے۔‘‘
شیخ جامعہ ازہر فضیلۃ الاستاذ شیخ عبد الحلیم محمود رحمہ اللہ  کی رائے ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں:
     ’’ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ  اور علامہ عینی رحمہ اللہ  کی شروحِ حدیث پر ’’معارف السنن‘‘ کی اعلیٰ توجیہات، بے مثال طرزِ استدلال اور ادب ومعانی نے سبقت حاصل کرلی ہے۔‘‘
مولانا سلیم اللہ خان صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ: 
    ’’ابتدائی دو جلدوں کے مطالعہ سے اس شرح کی جو خصوصیات ہمارے سامنے آئیں، وہ بالاختصار پیش خدمت ہیں:
    ۱:…علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  کی قیمتی آرا اور سنہری تحقیقات کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ حسین پیرایہ میں پیش کیا گیا ہے۔
    ۲:…’’العرف الشذی‘‘ کے مبہم یا موہم مقامات کا تشفی بخش حل پیش کرتے ہوئے امام الحدیث علامہ کشمیری رحمہ اللہ  کے نقطۂ نظر کی عمدہ تشریحات کی گئی ہیں۔
    ۳:…حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ، علامہ شوکانی رحمہ اللہ ، مولانا مبارک پوری رحمہ اللہ  اور دیگر حضرات کی طرف سے احناف پر کیے گئے اعتراضات کا نہایت ہی خوش اسلوبی سے ازالہ کیا گیا ہے۔
    ۴:… اسنادی مباحث میں معرکۃ الآرا موضوعات پر انتہائی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے اور اختلاف کی صورت میں قول فیصل بھی ذکر کردیا گیا ہے۔
    ۵:…فقہی اور اسنادی تحقیقات کے علاوہ بعض نحوی، لغوی، کلامی اور اصولی مسائل پر نفیس اور عمدہ تحقیقات اور قیمتی فوائد اس شرح کی زینت ہیں۔
    ۶:…متقدمین مثل امام طحاوی رحمہ اللہ  وغیرہ کی طرح متأخرین مثل شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ  ومولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ ، علامہ نیموی رحمہ اللہ  اور شیخ لکھنوی رحمہ اللہ  کی تحقیقات وآرا کو اس شرح میں مولانا مرحوم بہت اہتمام کے ساتھ درج کرتے ہیں۔
    ۷:…بعض حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم  وتابعین وائمہ فقہ وحدیث  رحمہم اللہ  کے احوال اس شرح میں اس قدر بسط وتفصیل کے ساتھ آگئے ہیں کہ یکجا کسی دوسرے مقام پر اتنی تفصیل کے ساتھ ملنا دشوار ہے۔
    ۸:… خاص خاص مسائل پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کا بہت اچھا تعارف کرایا ہے، جس کو دیکھ کر قاری میں ان کتابوں کے مطالعہ کا شوق کروٹیں لیتا ہے۔
    ۹:…نقل مذاہب میں یہ احتیاط برتی گئی کہ اصل مأخذ سے ہی ان کو لیا گیا ہے، مثلاً شوافع کا مذہب کتب شوافع کی مراجعت کے بعد درج کیاگیا ہے، اسی طرح یہی احتیاط حنابلہ اور مالکیہ کے مذاہب نقل کرتے وقت کی گئی ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ’’تسامح فی النقل‘‘ کی وہ خامی جو دوسرے مذاہب نقل کرتے وقت بالعموم پیش آجاتی ہے، اس سے یہ شرح محفوظ ہے۔
    ۱۰:…احناف کے اقوال نقل کرتے وقت عموماً متقدمین کی کتابوں پر اعتماد کیا گیا ہے، نیز احناف میں صرف ان حضرات کی تحقیقات کو نقل کیا گیا ہے جن کا مرتبہ حدیث میں مسلم ہے، جیسے طحاوی ، عینی  اور صاحب بدائع  وغیرہ،  تلک عشرۃ کاملۃ۔   (خصوصی نمبر، ص:۳۹۴-۳۹۵)
حضرت مولانا محمد منظورنعمانی رحمہ اللہ  تلمیذ ِشیخ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  جنہوں نے ندوۃ العلماء میں ترمذی شریف کا درس دیا ہے، تحریر فرماتے ہیں:
     ’’معارف السنن‘‘ کے مطالعہ سے مولانا بنوری مرحوم کی علمی خصوصیات اور خاص کر فن حدیث میں ان کے رسوخ وتبحر اور وسعت ِمطالعہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ حضرت الاستاذ الامام الکشمیری قدس سرہٗ کی خاص تحقیقات سے واقفیت کا سب سے زیادہ مستند ذریعہ بھی اس عاجز کے نزدیک ’’معارف السنن‘‘ ہی ہے‘‘۔                  (خصوصی نمبر، ص:۶۸۰)
خود علامہ بنوری رحمہ اللہ  نے ’’معارف السنن‘‘ کے بارے میں تحریر فرمایاہے: 
    ’’فہذہٖ ہی ’’معارف السنن‘‘ وما أدراک ماہی ’’معارف السنن‘‘؟ شرحٌ لِأَنْفَاسِ إمامِ العصر المحدث الکبیر الکشمیری  فی درس ’’جامع الترمذی‘‘ وتوضیحٌ لأمالیہ وجمعُ دُررِہٖ المبعثرۃ فی مذکراتہ وتآلیفہ بتعبیر قاسیت فیہ العنائَ وترتیب طال لأجلہ الرقاد واستیفاء لکل موضوع من غرر النقول عثرت علیہا بعد بحث طویل الخ‘‘۔                                  (خصوصی نمبر، ص:۲۰۴)
حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہٗ فرماتے ہیں:
    ’’اللہ تعالی