بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

دارالعلوم دیوبند!  (ایک جائزہ)

 

دارالعلوم دیوبند!  (ایک جائزہ)

دارالعلوم دیوبند!  (ایک جائزہ)

 

 

آج سے تقریباً ۸۰؍ سال قبل مصر کے  ہفت روزہ ’’الاسلام ‘‘ میں محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ  کا ایک عربی مضمون شائع ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ بعد میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے ترجمان رسالہ ’’الرشید ‘‘کی اشاعتِ خاص ’’دارالعلوم دیوبند نمبر‘‘ ۱۳۹۶ھ / ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا، مضمون کا مختصر تعارف حضرت نے اپنے قلم سے یوں فرمایا تھا: 

’’ماہنامہ ’’الرشید‘‘ کے خاص نمبر ’’دارالعلوم دیوبند نمبر‘‘ کے لیے راقم الحروف بنوری سے عزیزم عبدالرشید ارشد نے مضمون لکھنے کی فرمائش کی تھی، ضعیف اور عدیم الفرصت ہونے کی وجہ سے جدید مضمون لکھنے سے قاصر رہا۔ آج سے تقریباً ۴۰؍ سال قبل قاہرہ میں ایک مضمون عربی میں ایک ہفت روزہ رسالہ ’’الاسلام‘‘میں وہاں کے فضلاء کے مطالعہ کے لیے لکھا تھا کہ وہ دارالعلوم کی خدمات سے واقف ہوسکیں، اس کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ۴۰؍ سال پہلے دارالعلوم کا جو کارنامہ تھا، بعد میں دارالعلوم دیوبند نے بہت سے جدید کارنامے اور آثارِ مبارکہ اضافہ کیے ہیں، ان کا ذکر اس میں نہ ملے گا، یہ بات پیشِ نظر رہے۔‘‘ [محمد یوسف بنوری]

افادیت کے پیشِ نظر مذکورہ بالا تحریر ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں اِفادۂ عام کے لیے پیش خدمت ہے۔‘‘

 

زمانے میں اللہ تعالیٰ کے کچھ نفحات ہیں، وہ ایک قوم کو خاص ترجیحی مآثر عطا کرتا ہے اور دوسری قوم کو دیگر خصائص سے مشرف کرتا ہے۔ کبھی قوموں کو یہ خصائص عطا کرتا ہے اور کبھی اُن سے روک لیتا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ’’اور ان ایام کو ہم بدلتے رہتے ہیں لوگوں میں۔‘‘ نیز ارشاد ہے: ’’یہ اللہ کی سنت ہے جو گزر چکی ہے اس کے بندوں میں۔‘‘ قرونِ اولیٰ کی بات رہنے دیجئے جن میں قرآن وسنت اور حدیث کے چشمے اُبل رہے تھے، قرونِ متوسطہ ‘چوتھی صدی سے آٹھویں صدی تک ہی کو لیجئے، آپ دیکھیں گے کہ اس دور میں خطۂ عرب، حجاز، عراق، شام، اُندلس، مصر اور خراسان و ماوراء النہرکے علاقے کتاب وسنت اور دیگر علومِ دینیہ سے بکثرت بہرہ ور ہیں اور ان میں بلندپایہ حفاظِ حدیث وناقدینِ رجال، مایہ ناز ائمۂ فقہ اور حاملینِ دین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آئے گا، جن کی کثرت سے عقل حیران ہے۔

حافظ خطابی الشافعی، ابوعمر قرطبی مالکی، حافظ عز الدین، ابن عبد السلام الشافعی، حافظ ابن دقیق العید، حافظ فضل اللہ تورپشتی حنفی، حافظ علاء الدین الماردینی حنفی، حافظ علا ء الدین مغلطائی، حافظ ابن حجر اور اس پائے کے دیگر جہابذۂ امت، اس دور میں آسمانِ علم وفضل کے درخشندہ ستارے بن کر چمکے اور ایک عالم کو اپنی روشنی سے منور کیا۔

لیکن اس دور میں سرزمینِ ہند بنجر نظر آتی ہے اور وہ مذکورہ بالا علاقوں کے عبقری افراد کے شانہ بشانہ چلنے سے قاصر ہے، بلاشبہ اس دور میں بھی کچھ سربرآوردہ افراد پیدا ہوئے اور باہر سے یہاں آئے، لیکن اُن کے آثار ونشانات اَنمٹ ثابت نہ ہوئے، تاکہ اللہ تعالیٰ نے خطۂ ہند پر احسان فرمایا اور عبقری امام، نابغۃ الایام، الامام الحجۃ شاہ ولی اللہ فاروقی دہلویؒ کو پیدا کیا، جب کہ ہندوستان کے اُفق پر غالی شیعوں اور رافضیوں کے سیاہ بادل منڈلارہے تھے، قریباً سارے ہندوستان پر ان کا تسلط تھا، بدعات راسخ ہوچکی تھیں اور سنت کی رسی بوسیدہ ہورہی تھی۔

نوامیسِ فطرت میں اللہ تعالیٰ کی یہ سنت جاری ہے کہ ایک جماعت تاقیامت حق پر قائم رہے گی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ہرآئندہ نسل میں ایسے رجالِ کار کو کھڑا کرتا رہے گا جو دین سے غالیوں کی تحریف اور باطل پرستوں کے غلط ادعاء کی اصلاح کرتے رہیں گے، چنانچہ اسی سنت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس امام کے ذریعے ملتِ حنیفیہ کے ستونوں کو مضبوط کیا، قرآن وسنت کے علم صحیح کی بنیاد ڈالی اور قوم کی بدحالی کا مداوا کیا، اُن کے بعد اُن کی اولاد واحفاد کے ذریعے ولی اللّٰہی تحریک پروان چڑھی اور اس کے حسنِ روزافزوں کو چارچاند لگے۔

پس ہندوستان میں یہ پہلی دینی وعلمی تحریک تھی، جس کی بنیادیں نہایت راسخ اور جس کی عمارت بلند وبالا تھی۔ امام ولی اللہ محدث دہلویرحمۃ اللہ علیہ  کی جدید علمی تحریک اور شیعوں کی دستبرد سے اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کی حمایت وحفاظت کا بار اُن کے فرزندِ اکبر شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ   نے اُٹھایا اور اُن کی تحریکِ دینی اور مروَّجہ بدعات کی اصلاح وتردید کو سنبھالنے کا فریضہ شاہ اسماعیل شہید بن شاہ عبد الغنی بن شاہ ولی اللہw نے انجام دیا، یوں ان دو شخصوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ   کی علمی واصلاحی تحریک کی تکمیل کرائی۔

بعد ازاں جب ویرانۂ ہند پر حکومت کے منحوس سائے پھیلنے لگے اور اس کے جبر واستبداد اور تسلُّط کو استحکام نصیب ہوا، تو ولی اللّٰہی تحریک کے انوار مٹنے لگے اور اس بادِ سموم سے اس کی ترو تازہ شاخیں پژمردہ ہونے لگیں۔ اُدھر برٹش گورنمنٹ کے تکبر وخودسری میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں حکومت اور مسلمانوں کے درمیان ۱۸۵۷ء کا معرکہ ہوا، جس میں بدقسمتی سے حکومت کو غلبہ اور مسلمانوں کو شکست ہوئی، اس سے حکومتِ برطانیہ کی تیزی وتندی میں مزید اضافہ ہوا، اس کا تسلُّط اور بھی مستحکم ہوگیا۔

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس کی انتقامی سازشوں سے دین کی بنیادیں ہلنے لگیں اور شعائرِ اسلام ایک ایک کرکے مٹنے لگے۔ ان بھیانک تاریکیوں میں ایک گمنام سے خطے میں جو دارالسلطنت دہلی سے تقریباً سو میل کے فاصلے پر واقع ہے، روشنی کی صُبحِ صادق نمودار ہوئی، یہ مبارک خطَّہ قصبۂ دیوبند ہے ، چنانچہ عارف باللہ الشیخ مولانا محمد قاسم نانوتوی دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ   نے ۱۲۸۳ھ میں ایک دینی وعلمی مرکز کی بنیاد رکھی، جو آج دارالعلوم اور جامعہ قاسمیہ کے نام سے شہرۂ آفاق ہے۔ یہ روشنی بتدریج پھیلتی چلی گئی، یہاں تک کہ اس سے دُور دراز کے تاریک علاقے بھی منور ہوگئے اور خطۂ ہند سے جہل کے پردے ہٹ گئے اور پھر اُس کا فیضان خطۂ ہند سے نکل کر جاوا، سماٹرا، چین، جنوبی افریقہ، افغانستان اور ایران تک پہنچا اور ان شاء اللہ! اس کے نور وضیاء اور حسن وبہار میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہے گا۔

جو حقائق میری آنکھوں کے سامنے ہیں وہ مجھے مجبور کررہے ہیں کہ میں علیٰ رؤس الاشہادیہ دعویٰ کروں کہ اگر سرزمینِ دیوبند سے علم ومعرفت کا یہ چشمۂ صافیہ نہ بہہ نکلا ہوتا تو تیرہویں صدی کے اَواخر میں ہندوستان سے قرآن وسنت کے علوم کا خاتمہ ہوگیا ہوتا۔

میں یہاں اس عظیم الشان دانش کدہ کی ابتدائے تاسیس سے لے کر اسلامی صدی کے نصف تک کے ۷۰؍ سالہ دور کے آثار وبرکات کی جانب چند اشارات کرنا چاہتاہوں:

 

دیوبند اور افراد سازی

 

جن حضرات نے اس دارالعلوم میں داخل ہوکر اُس کے درجاتِ عالیہ میں درس لیا، مگر اس کے پورے نصاب کی تعلیم نہیں پائی، اُن کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے اور جو حضرات اس کے مقررہ نصاب کی تکمیل کے بعد دارالعلوم کی آخری سند سے مشرَّف ہوئے، ان کا شمار پانچ ہزار تک پہنچتا ہے اور ان میں سے وہ نابغہ شخصیتیں جنہوں نے علم وحکمت کے دروازے کھولے اور ہندوستان میں مختلف جہتوں سے فیض کے چشمے جاری کیے، ان کی تعداد ایک ہزار نفوسِ قدسیہ سے کم نہیں۔ ۱۳۵۰ھ سے ۱۳۵۷ھ تک دارالعلوم سے فیض یاب ہونے والے طلبہ کا سالانہ داخلہ ڈیڑھ ہزار ہے اور ان میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ یہ صرف وہ طلبہ ہیں، جو خاص دارالعلوم میں اِقامت پذیر ہیں، ان طلبہ کی تعداد اس کے علاوہ ہے، جو دارالعلوم سے وابستہ مدارس میں تعلیم پاتے ہیں اور مجموعی طور پر ان دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علماء کرام کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، جو میں اُوپر ذکر کرچکا ہوں۔

 

دیوبند اور تاسیسِ مدارس

 

جو حضرات اس شیریں اور فیاض چشمہ (دارالعلوم دیوبند) سے سیراب ہوکر نکلے، انہوں نے اپنے اپنے علاقے میں بے شمار مدارسِ دینیہ کی بنیادیں اُستوار کیں، اس وقت ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے، تاہم جو مدارس اس جامعہ (دارالعلوم دیوبند) سے منسوب ہیں، ہندوستان میں ان کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوگی۔

ان میں سے بعض مدارس وہ ہیں جن کی بنیاد فضلائے دارالعلوم نے خود رکھی، بعض ایسے ہیں جن کو فضلائے دارالعلوم کے مبارک ہاتھ تدریس واہتمام کی شکل میں چلا رہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کا دارالعلوم سے امتحانی رابطہ ہے اور سالانہ امتحان کے پرچے دارالعلوم سے ارسال کیے جاتے ہیں، مگر یہ مدارس کسی محکمۂ اوقاف کے زیرِ انتظام چل رہے ہیں، نہ کوئی مخصوص جماعت ان کی کفیل ہے، تاکہ جامعہ ازہر سے متعلقہ مدارس کی طرح ان میں انتظامی وحدت ہوتی، بلکہ ہر مدرسہ اپنے اُمور ومعاملات میں مستقل ہے،بہرحال یہ جامعہ دارالعلوم دیوبند ان تمام دینی مدارس کی اصل بنیاد (اُم المدارس) ہے جو سرزمینِ ہند کو منور کررہے ہیں۔

 

دیوبند کی نابغہ اور سرآمد روزگار شخصیتیں

 

علماء دیوبند میں سب سے اول جن حضرات کو سیادت وقیادت کا شرف حاصل ہوا وہ تین افراد تھے جن کے سینوں میں پاک صاف دل اور اُن کے دماغ میں بلندپایہ اسلامی افکار وعلوم کا وسیع سمندر تھا۔

۱… الشیخ الامام عارف باللہ مولانا محمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ   (المتوفیٰ: ۱۲۹۷ھ)

۲… الفقیہ المحدث العارف مولانا الشیخ رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ   (المتوفیٰ: ۱۳۲۳ھ)

۳…بحرِ بیکراں الشیخ مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ   (المتوفیٰ:۱۳۰۴ھ)

ان حضرات کے خصائص کی تفصیل کے لیے مستقل فرصت درکار ہے۔ مختصر یہ کہ یہ حضرات علومِ کتاب وسنت اور علومِ ظاہر وباطن کے جامع اور عارفین اور اصحابِ قلوب کی وراثت کے امین تھے، انہوں نے پہاڑ سے زیادہ راسخ عزائم کے ساتھ ورع وزہد، انکسار وتواضع، شہرت سے نفرت اور اتباعِ سنت ایسے بلندپایہ اخلاق وشمائل کو اس حد تک جمع کرلیا تھا کہ اخلاقِ عالیہ میں یہ حضرات اپنے دور میں ضربُ المثل تھے، ان کی تعریف میں راقم الحروف کا یہ قصیدہ ہے:

ہمم لہم فی الدہر درۃ تاجہم

کلم لہم تشفی الصدی صلصال

’’ان کا عزم وہمت زمانے میں ان کے تاج کا موتی ہے۔ ان کے کلمات سے خشک لب تشنۂ سیراب ہوتا ہے ۔‘‘

سمت وصمت و الوقار و ہیبۃ

علم غزیر ہامی ہطال

’’خوش روئی، خاموشی، وقار، ہیبت، بے پناہ برسنے اور بہنے والا علم۔‘‘

لہم التواضع والرزانۃ والتقی

فضل لہم ضربت بہ المثال

’’ ان کی تواضع، رزانت ومتانت اور تقویٰ، وطہارت کے فضائل ضرب المثل ہیں۔‘‘

وتلأ لأت أنوارہم بوجوہہم

ہدی النبیؐ جمالہم وجلال

’’ان کے اَنوار اُن کے چہروں سے چمکتے ہیں، ان کا جلال وجمال طریقۂ نبویؐ کی تفسیر ہے ۔‘‘

کرم وخلق عفّۃ ودیانۃ

ہدی الصحابۃؓ حالہم ومقال

’’کرم، اخلاق، عفت ودیانت میں ان کا قول و عمل صحابہؓ کے نقش قدم پر ہے ۔‘‘

باھی جمالُہم جمالَ شریعۃ

فہی جمال وزاد کمال

’’ ان کے ذاتی جمال کا جمالِ شریعت سے آمیز ہ ہوا، تو ان کے جمال کو چار چاند لگ گئے اور کمال میں اضافہ ہوا۔‘‘

وبہی کمالُہم کمالَ علومِہم

عند التباھی فاستزاد جمال

’’اور بوقتِ مقابلہ کمالِ علوم کے ساتھ ان کا ذاتی کمال غالب آیا اور اُن کے حسن وجمال میں اِضافہ کا موجب ہوا۔‘‘

دع وصف قوم أزہرت آثارُہم

فالشمس البہر والمدیح خیال

’’اس قوم کی کیا تعریف کی جائے جن کے آثار تاباں و درخشاں ہیں، پس آفتاب خود ہی روشن ہے اور مدح وثناء خیالِ محض ہے ۔‘‘

والشمس طالعۃ زہت أنوارہا

والوصف یقصر والمجال حجال

’’اور آفتاب طلوع ہے ا س کے انوار خود چمکتے ہیں، وصف قاصر رہتا ہے اور گفتگو کی مجال وسیع ہے ۔‘‘

ان حضرات کے بعد قیادت مندرجہ ذیل حضرات کے سپرد ہوئی:

۱…مسند الوقت، شیخ العصر، الاستاذ الامام، شیخ الہند مولانا محمود حسن  رحمۃ اللہ علیہ   ( ۱۳۳۹ھ)

۲…عارف باللہ الشیخ مولانا عبد الرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ   (۱۳۳۷ھ)

۳…شیخ المحدث مولانا خلیل احمد سہارن پوری رحمۃ اللہ علیہ   (المتوفیٰ بالمدینۃ المنورۃ۱۳۴۶ھ ودفن بالبقیع)

ان کے بعد شیخ محدث حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی طال بقائہٗ اور الشیخ امام العصر الشاہ محمد انور الکشمیری رحمۃ اللہ علیہ   (متوفی ۱۳۵۲ھ) اور موجودہ دور میں اس کے ستون جن پر ا س کی عمارت قائم ہے چار نفوس ہیں:

۱:…الشیخ مولانا اشرف علی تھانوی۔

۲:…محقق العصر مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی، صاحب فتح الملہم شرح صحیح مسلم،شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ ڈابھیل۔

۳:…شیخ العصر مولانا الشیخ حسین احمد مدنی، شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند۔

۴:…فاضل محقق مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ دہلوی، صدر جمعیت علماء ہند۔

مسلمانوں کی رہنمائی اور بیداری میں ان چاروں حضرات کی مساعی جمیلہ قابلِ تشکر ہیں، انہوں نے مسلمانوں کے لیے علم وعمل اور دین وسیاست کا بہت اونچا معیار قائم کیا ہے اور اُن کے لیے علمی وسیاسی اور اجتماعی وانفرادی مسائل پر غور وفکر کرنے کی راہیں کشادہ کردی ہیں۔ یہ حضرات پختہ فکر، ذہن رسا، صدقِ عمل اور خلوصِ نیت کے جامع ہیں، ان کے چہروں سے علم وحکمت کا نور جھلکتا ہے اور قیل وکمال کی علامات نمایاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ امت کے لیے ان کی نافع زندگی کو عافیت وسلامتی سے ہم کنار کرے اور عزت وکرامت کے ساتھ ان کی مساعیِ مبارکہ میں برکت فرمائے۔

 

علمائے دیوبند اور ان کے علمی آثار

 

علمائے دیوبند نے تفسیر وقرآن، شرحِ حدیث، اُصولِ فقہ، فقہ حنفی، فرائض، توحید وعقائد، سیرت وآداب اور دیگر علوم وفنون میں نیز فرقِ باطلہ، عیسائیت، ملاحدہ، دہریت، مرزائیت، قادیانیت اور غالی شیعوں کے رد میں، نیز دینِ متین کی حفاظت اور مبتدعین کے رد اور غیر مقلدین کی بعض سینہ زوریوں کی تردید میں جو کتابیں تالیف فرمائی ہیں، ان کی تعداد دوہزار کے قریب ہے، جن میں چھوٹے چھوٹے رسائل سے لے کر کئی کئی جلدوں پر مشتمل ضخیم کتابیں شامل ہیں۔ یہ مقدار صرف اکابر اور نابغہ شخصیتوں کی تالیفات کی ہے، دارالعلوم کے دیگر فضلاء اور منتسبین کی تالیفات مزید برآں ہیں۔ ان تمام کتابوں کے نام کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔ ان اکابر میں سے صرف ایک مصنف حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی تصنیفات ۵۰۰ سے زائد ہیں، ان میں سے بعض کتابوں کی دو سے لے کر بارہ تک جلدیں ہیں، یہاں تک کہ موصوف کثرتِ تالیف میں قاہرہ کے نابغہ عالم شیخ جلال الدین سیوطیؒ سے بھی فائق ہیں۔ اگر میں یہ کہوں تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ اس نابغۂ ہند کی کتابیں اتقان وتحقیق میں نابغۂ مصر کی کتابوں سے فائق ہیں۔ ہاں! سیوطیؒ کی وسعتِ معلومات اور اُن کے حیرت افزا تبحر کا مقابلہ نہیں کیاجاسکتا۔ شیخ تھانوی کی ان کتبِ مذکورہ میں سے بیشتر ملکی زبان اردو میں ہیں، لیکن عربی میں بھی کم نہیں۔ پھر ان تالیفات کے علاوہ آپ کے وہ مواعظ وملفوظات ہیں، جو آپ نے مختلف مجالس اور جلسوں میں بیان فرمائے اور جن میں بہت سے علوم اور بلندپایہ تحقیقات ہیں۔

علمائے دیوبند میں سے صرف ایک عالم مولانا الشیخ الفقیہ عزیز الرحمن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ   نے مختلف سوالات کے جواب میں پچاس ہزار فتاویٰ صادر فرمائے۔ ان کے فتاویٰ دارالعلوم کے کتب خانے میں محفوظ ہیں اور شیخ تھانوی کے فتاویٰ کی (۵) ضخیم جلدیں طبع ہوچکی ہیں اور شیخ محدث وفقیہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ   کے فتاویٰ (۳) جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس طرح ان حضرات کے علم ونفع کثیر کا دنیا میں چرچا ہے۔ میں یہاں ان حضرات کی ان کتابوں کا اجمالی تذکرہ کرتاہوں، جو تفسیرِ قرآن، شرحِ حدیث، شروحِ کتبِ حدیث اور علم وادب سے متعلق ہیں۔

 

علمائے دیوبنداور تفسیرِ قرآن

 

۱:…ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ ، بزبانِ اردو، اس پر عجیب وغریب فوائد تحریر فرمانے کا سلسلہ شروع کیا تھا، مگر ان کی تکمیل نہ فرماسکے۔

۲:…تکملہ فوائد شیخ الہندؒ، از محققِ عصر مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، سورۂ آلِ عمران اور سورۂ مائدہ سے آخرِ قرآن تک۔

۳:… تفسیرِ بیان القرآن، ۱۲؍حصص از مولانا اشرف علی تھانوی، جو نفائسِ جلیلہ پر مشتمل ہے۔

۴:… خلاصۂ تفسیر بیان القرآن، از مصنف موصوف۔

۵:… فتح المنان فی تفسیر القرآن، از مولانا عبد الحق دہلوی دیوبندی (تحصیلاً) آٹھ ضخیم جلدوں میں یہ تفسیر عربی اور اُردو دونوں میں مشتمل ہے اور اس میں بلند پایہ فوائد ہیں۔

۶:… البیان فی علوم القرآن، از مولانا عبد الحق موصوف، یہ بہت ہی عمدہ کتاب ہے، اس کا انگریزی میں ترجمہ ہوچکا ہے۔

۷:… ترجمۂ قرآن، مولانا عاشق الٰہی، مع فوائدِ تفسیریہ (اردو)

۸:…مشکلات القرآن، از امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری (عربی)

۹:…اعجازُ القرآن، از محقق العصر مولانا شبیر احمد عثمانی دیوبندی

۱۰:… حاشیہ تفسیر بیضاوی کامل، از مولانا عبد الرحمن امروہی (عربی)

۱۱:… حاشیہ تفسیرِ جلالین، از مولانا حبیب الرحمن دیوبندی سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند

۱۲:… سبق انعامات فی نسق الآیات (عربی) از حکیم الامت تھانوی

۱۳:… رسالہ اسرارِ قرآنی (اردو) از مولانا محمد قاسم نانوتوی آپ کا ایک رسالہ آیاتِ قبلہ کے اسرار میں ہے۔

۱۴… درسِ تفسیرِ قرآن (اردو) از مولانا حسین علی پنجابی، تلمیذ حضرت شیخ گنگوہیؒ۔

۱۵… تقریرات متعلقہ تفسیرِ قرآن: از مولانا عبید اللہ سندھی دیوبندی جو اُن کے بعض تلامذہ نے قلم بند کیں۔

۱۶… حاشیۂ تفسیر مدارک، تا بقرہ از بعض علمائے دیوبند۔

۱۷… فوائد تفسیریہ، از مولانا احمد علی لاہوری جو مولانا سندھی سے مستفاد ہیں۔

۱۸… قرآن کریم کی چند سورتوں سے متعلقہ چندرسائل، از مولانا احمد علی لاہوری، یہ بھی مولانا سندھی سے مستفاد ہیں۔

نوٹ: ( مولانا احمد علی لاہوری کے نام کا محمد علی لاہوری قادیانی کے نام سے التباس نہ ہونا چاہیے، مولانا احمد علی اہل حق میں سے ہیں اور محمد علی لاہوری طائفہ قادیانیہ مرزائیہ کے بڑے طاغوتوں میں سے تھا۔ قادیانیت کے بانی اور اس کے موافقین کی تکفیر پر علمائے ہند کااجماع ہے، ان برخود غلط دعادی کی بنا پر جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مسٹر محمد علی لاہوری نے بھی بیان القرآن کے نام سے ایک تفسیر لکھی ہے جس میں ہذیانات اور اباطیل ہیں، پس متنبہ رہنا چاہیے۔)

۱۹…شیخ محقق تھانوی کے دو رسالے جن میں سے ایک میں نذیر احمد دہلوی پر اور دوسرے میں مولانا احمد علی کے رسائل پر تنقید کی ہے۔

۲۰…ہدیۃ المہدیین فی تفسیر آیت خاتم النبیین، از مولانا محمد شفیع دیوبندی، خاصا بڑا اور عجیب رسالہ ہے۔

۲۱…خاتم النبیین: امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کا آیتِ خاتم النبیین میں ایک رسالہ ہے، جو بہت ہی عجیب وغریب علوم پر مشتمل ہے۔

۲۲… عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ m از امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ  ۔ حضرت عیسیٰ m سے متعلقہ آیات کی مبسوط شرح جو بہت سے علوم ولطائف پر حاوی ہے۔ قرآن کریم سے متعلقہ علمائے دیوبند کی تالیفات کا احاطہ بہت ہی دشوار ہے۔ بلاتامل جو فوری طور پر اس وقت ذہن میں آئیں میں نے بطور نمونہ ان کا تذکرہ کردیا، تاکہ علمائے دیوبند کی خدمتِ دین اور خدمتِ قرآن کا قدرے اندازہ ہوسکے، ورنہ تفصیل کے لیے دوسرا موقع درکار ہے۔

حاصل یہ کہ یہ جلیل القدر تالیفات ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اُمت کو بہت ہی نفع پہنچایا اور ان کو زمین میں حسنِ قبول عطا فرمایا جس سے توقع ہوتی ہے کہ وہ عند اللہ بھی مقبول ہوں گی، جیساکہ کہاگیاہے:

إنا لنرجوا فوق ذٰلک مظہرا

فضلائے دارالعلوم دیوبند کے مآثر میں سے نمازِ فجر کے بعد قرآن کریم کا درس دینا بھی ہے جو ہندوستان کی بہت سی مساجد میں رائج ہے، اس درس کے ذریعے جمہور اُمت اور عوام مسلمین کو جو ضروریاتِ دین سے واقف نہیں‘ قرآن کے مقاصد کی جانب توجہ دلائی جاتی ہے اور یہ خدمتِ دین کی ایک جدید تحریک ہے اور اس کے آثار بہت ہی عمدہ ہیں، حق تعالیٰ اس میں برکت فرمائے۔

 

دیوبند اور علم حدیث

 

علمِ حدیث علمائے دیوبند کی بہت سی تالیفات ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے، یہاں مختصر سی تعداد ذکر کرتا ہوں:

۱:…حاشیہ صحیح بخاری (عربی) از مولانا الشیخ احمد علی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ   (المتوفیٰ: ۱۲۹۷ھ) موصوف کا شمار اکابر علمائے دیوبند میں ہوتا ہے اور ان کا یہ حاشیہ ایک ضخیم شرح کا حکم رکھتا ہے۔

۲:…بذل المجہود فی شرحِ سنن ابی داؤد (عربی) از مولانا الشیخ خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ   (المتوفیٰ: ۱۳۴۶ھ) ۵ ضخیم جلدوں میں (اور اب مصر سے ۲۰ جلدوں میںشائع ہوئی ہے۔ مترجم)

۳:… فتح الملہم فی شرح صحیح مسلم (عربی) از محقق العصر مولانا شبیر احمد عثمانی، پانچ صحیح جلدوں میں۔ (دو جلدیں چھپ چکی ہیں، تیسری زیرِ طبع ہے۔ افسوس! کہ باقی کی تکمیل نہ ہوسکی۔ مترجم)

۴:…فیض الباری بشرح صحیح البخاری (عربی) یہ امام العصر مولانا الشیخ محمد انور شاہ کشمیریؒ کی تقاریر کا مجموعہ ہے، ان شاء اللہ! متعدد جلدوں میں عنقریب مصر سے شائع ہوگی۔

۵:… العرف الشذی علیٰ جامع الترمذی (عربی) یہ شیخ محدث گنگوہیؒ کی تقاریر کا مجموعہ ہے۔

۶:…الکوکب الدری علیٰ جامع الترمذی (عربی) یہ شیخ محدث گنگوہیؒ کی تقاریرِ درس کا مجموعہ ہے۔

۷:…النفح الشذی شرح الترمذی (اردو) یہ بھی حضرت گنگوہیؒ کی تقریرِ درس ہے۔

۸:…شرح سنن ابی داؤد (عربی) امام العصرؒ کی تقاریر کا مجموعہ، دو جلدوں میں۔

۹:…حاشیہ ابن ماجہ (عربی) از امام العصرؒ۔

۱۰:… اوجز المسالک فی شرح مؤطا امام مالک (عربی) از مولانا الشیخ محمد زکریا کاندھلوی، متعدد ضخیم جلدوں میں، دو جلدیں طبع ہوچکی ہیں۔ (کامل چھ جلدیں ہیں اور اب بیروت وغیرہ سے متعدد جلدوں میں شائع ہورہی ہے۔ مترجم)

۱۱:…التعلیق الصبیح علیٰ مشکوۃ المصابیح (عربی) از مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، اس کی چار ضخیم جلدیں دمشق سے شائع ہوچکی ہیں۔

۱۲:…اعلاء السنن متعدد اجزاء میں (عربی) اس میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ   کے مسلک کی احادیث جمع کی گئی ہیں اور مولانا اشرف علی تھانوی کے زیرِ اشراف تالیف کی گئی ہے۔

۱۳:…الآثار (عربی) از مولانا اشرف علی، اس میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ   کے دلائل ایک جزء میں جمع کیے ہیں۔

۱۴:… شرح شمائل ترمذی (عربی- اردو )از مولانا الشیخ محمد زکریا کاندھلوی۔

۱۵:… النبراس الساری فی اطراف البخاری (عربی) از مولانا عبد العزیز پنجابی، دو جلدوں میں۔ مقیاس الواری کے نام سے اس پر موصوف کا حاشیہ بھی ہے۔

۱۶:…حاشیہ نصب الرایہ للزیلعی(عربی) اس کا نام ’’بغیۃ الألمعی‘‘ رکھا جائے۔ مجلسِ علمی کے زیرِ اہتمام مصر میں ’’نصب الرأیۃ‘‘ کے ساتھ زیرِ طبع ہے۔

۱۷:…التعلیق المحمود علی سنن ابی داؤد، از مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ تلمیذ رشید شیخ محدث گنگوہیؒ کا نفیس اور ضخیم حاشیہ ہے۔

۱۸:…حاشیۂ ترمذی، جو شیخ محدث شیخ الہند دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ   کی جانب منسوب ہے۔

۱۹:… شرح تراجم بخاری، از شیخ الہند

یہ ان کے مآثر علمی کا مختصر ساجائزہ ہے، جو نسائی کے سوا صحاحِ ستہ کی شروح سے متعلق ہے، جن کتابوں کا نام تذکرے سے رہ گیا ہے، ان کی تعداد بھی معمولی نہیں ہوگی، اس پر ان علمی رسائل کا مزید اضافہ کرلیا جائے جو حدیث کے ابحاث سے مزین ہیں، مثلاً: إیضاح الأدلۃ، أوثق العری، أحسن القری، القطوف الدانیۃ، إسراء النجیح، المصابیح، فصل الخطاب، خاتمۃ الخطاب، کشف الستۃ، نیل الفرقدین۔ان کے علاوہ دیگر رسائل جو احادیث وفقہ کے مختلف موضوعات پر ان اکابر نے تالیف فرمائے ہیں اور اس مقالے میں ان سب کے تذکرے کی گنجائش نہیں۔

 

دیوبند اور علم وادب

 

علمائے دیوبند نے علم وادب پر بھی بڑی عمدہ اور نافع کتابیں تالیف کی ہیں، چند نام حسبِ ذیل ہیں:

۱:…شرح حماسہ از مولانا فیض الحسن سہارنپوری، تلمیذ حضرت گنگوہیؒ، یہ نفیس شرح ’’فیضی‘‘ کے نام سے معروف ہے۔

۲:…تسہیل الدراسہ شرح دیوانِ حماسہ (عربی- اردو) از مولانا ذوالفقار علی دیوبندیؒ والد ماجد شیخ العصر مولانا شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ۔

۳:…التبیان شرح دیوانِ متنبی، از مولانا موصوف۔

۴:…التعلیقات علی سبع المعلقات، از مولانا موصوف ایضاً۔

۵:…عطر الوردۃ فی شرح البردۃ،ایضا ، نفیس شرح ہے۔

۶:…ارشاد الی بانت سعاد ، ایضاً ، قصیدہ کعب بن زبیرؓ کی عجیب شرح۔

۷:…فتح المغلقات شرح المعلقات، از مولانا نظام الدین کیرانوی۔

۸:…شرح حماسہ ، از مولانا محمد اعزاز علی امروہی ، شیخ الادب دارالعلوم دیوبند۔

۹:…شرح دیوانِ متنبی، ایضاً۔

۱۰:…التعلیقات شرح المقامات، از مولانا نور الحق، تلمیذ مولانا محمود حسنؒ، استاذالادب کالج لاہور۔

۱۱:…درایۃ المتیقط علی کفایۃ المتحفظ لابن الاجدابی ، از بعض فضلائے دیوبند۔

۱۲:…حاشیہ نفحۃ الیمن، از مولانا محمد شفیع دیوبندی۔

پس یہ قرآن وحدیث اور ادب سے متعلق آثار ہیں اور یہ جواہر علمائے دیوبند کے قلم کے رہینِ منَّت ہیں، ان کے علاوہ اُصولِ فقہ‘ فقہ حنفی، علمِ عقائد، فرائض، تصوف، سیرتِ نبویہ اور تاریخِ اسلام وغیرہ سے متعلق اکابرِ دیوبند کی تصانیف بے شمار ہیں، جن کے تعارف کے لیے دوسرا موقع درکار ہے۔ ان تمام اُمور سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے ساری عمر درس وتقریرکے ذریعے قوم وحیاتِ علمی کی روح پھونکنے میں اپنی زندگی صرف کردی اور ان مآثرِ جلیلہ کے مقابلے میں مذکورہ بالا آثار بہت ہی معمولی ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ علمائے دیوبند ہیں اور یہ ان کے آثار ہیں جو ان کی علمی خدمت میں بلندیِ مرتبت پر شاہد ہیں۔ توقع ہے کہ ایک تجربہ کار صاحبِ بصیرت ان آثار کی قدرشناسی کرے گا، اگر ایسے قلب میں انصاف اور فکر میں بصیرت عطا کی گئی ہو۔ اور ان کی آثار کی صحیح قدر وقیمت کا اندازہ اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ ہندوستان کے جمہور مسلمانوں میں اس کی تاثیرات کو ملاحظہ فرمایا جائے:

تلک آثارنا تدل علینا

فانظروا بعدنا إلی الآثار

اگر تم چاہتے ہو کہ ایسے مردانِ راہ کی زیارت کرو جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وجاہت رکھتے ہوں، مگر انسانوں میں گمنامی کو پسند کرتے ہوں تو ان علمائے دیوبند کو جاکر دیکھو، اگر صحف ومجلات اور اخبار وجرائد میں ان کا ذکر نہیں تو نہ ہو، ان کا ذکرِ خیر مخلوق کی زبانوں پر ہے، قلوب ان کی گواہی دیتے ہیں، عالم کے بینات اور کائنات کے صحیفے ان کے شاہدِ ناطق ہیں اور اگر اس سے کچھ لوگ جاہل یا متجاہل ہیں، تو کچھ افسوس اور شکایت نہیں اور چونکہ جو چیز کہ اللہ کے پاس ہے وہ زیادہ بہتر اور پائدار ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ دیوبندی تحریک یا صحیح معنوں میں ہندوستان کی دینی وعلمی تحریک دراصل اسی دہلوی تحریک کی تجدید ہے، جس کے لیے امام شاہ ولی اللہؒ اور ان کے صاحبزادگانِ گرامی قدر اُٹھے تھے اور دوسری جہت سے دیکھئے تو یہ اس تحریک کی تکمیل اور تشیید ہے، پس اکابرِ دیوبند اس جماعت کا نام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے خدمتِ دین ، خدمتِ علم دین، خدمتِ علوم قرآن وسنت کے لیے منتخب فرمایا اور اس بیان پر تعجب کیوں کیجئے! آفتاب اپنے مطلع سے طلوع ہوچکا ہے اور چیز اپنے معدن میں اجنبی نہیں رہی، اس کی بُوئے عنبریں اقطارِ ہند میں مشامِ جاں کو معطر کررہی ہے اور اس کے چشمے اُبل اُبل کر زمین کے اطراف واکناف کو سیراب کررہے ہیں۔ اس کے انوار وبرکات آفاق وبلاد کو روشن کررہے ہیں اور یہ روشنی صفحاتِ ایام پر مسلسل پھیلتی جائے گی۔

پس یہ ہیں علمائے دیوبند اور ان کا علمی مرکز

إن فی ذٰلک لذکری لمن کان لہٗ قلب أو ألقی السمع وہو شہید