بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الثانی 1440ھ- 13 دسمبر 2018 ء

حضرت امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  اور اُن کی تصانیف

 

حضرت امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ  اور اُن کی تصانیف

حضرت امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ 
اور اُن کی تصانیف

’’مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ نے امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی سوانح ، حالات اور خدمات سے متعلق مضامین پر مشتمل ’’حیاتِ انور ؒ ‘‘کے نام سے ایک کتاب ترتیب دی تھی،جو آج سے تقریباً چالیس سال قبل انڈیا میں شائع ہوئی تھی، زیرِ نظر مضمون اسی کتاب کا حصہ ہے، جس میں محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے امام العصرعلامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تصانیف کا تعارف کرایا ہے۔ افادیت کے پیشِ نظر قارئینِ بینات کی نذر کیا جارہا ہے۔ ‘‘ (ادارہ)

علمی دنیا کی تاریخ میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی شخص کے ذاتی کمالات وعلوم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ دنیا اُن کے کمالات سے واقف بھی ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم مخلوق میں اور اللہ تعالیٰ کی اس وسیع سرزمین میں کتنی ایسی ہستیاں گزری ہوںگی جن کا صحیح اندازہ کسی کو نہ ہوا ہو۔ اور یہ بھی ایک مسلَّم امر ہے کہ کوئی شخص تصانیف کی محض عددی کمیت واکثریت کی بنا پر علامۂ عصر بن جائے ایسا نہیں ہوسکتا۔ علماء اسلام کے علمی سمندرمیں کثرت سے ایسے بیش بہا موتی موجود ہیں جو کبھی کسی تاجِ مُرَصَّع کی زینت نہیں بنے۔ قدرت کی معدنی کائنات میں ایسے بے بہا جواہرات موجود ہیں کہ ’’کوہِ نور‘‘ نامی ہیرے اس کی چمک وتابانی کے سامنے ماندپڑجائیں: ’’وَإِنْ مِّنْ شَئٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُہٗ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ۔‘‘ (الحجر:۱۲)
حافظِ حدیث امام تقی الدین ابن دقیق العید رحمہ اللہ جیسے محققِ عصر جن کے متعلق حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اُمتِ محمدیہ میں ایسا دقیق النظر محدث نہیں گزرا، اگر ان کی کتاب ’’الأحکام‘‘ یا ’’کتاب الإمام شرح الإلمام‘‘ کی ناتمام نقول کتابوں میں نہ ہوتیں تو شاید موجودہ نسل کو ان کے کمالات کا کچھ علم بھی نہ ہوتا۔ کیا کوئی گمان کرسکتا ہے کہ شیخ جلال الدین سیوطی مصریؒ اپنی کثرتِ مصنفات کی وجہ سے ابن دقیق العیدؒ جیسے محققِ روزگار سے سبقت لے جائیں گے؟!
بسااوقات دفترِ تاریخ کی ورق گردانی سے بھی اس کا پورا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے، معاصرین فیض یافتہ اور چشم دید کمالات کے مشاہدہ کرنے والوں کو جن علمی حقائق کا انکشاف ہوتا ہے ان کے مؤلفات کے صفحات پڑھنے والوں کو پورا احساس بے حد مشکل ہے۔ پھر قدرت کا عجیب نظام ہے کہ علماء امت اور اربابِ ولایت کے مزاج بھی اتنے مختلف ہیں کہ عقلِ نارسا حیران رہتی ہے، کوئی دینی خدمت، تعلیم وارشاد اور افادہ وافاضہ کے پیشِ نظر تالیف وتصنیف میں مشغول نظر آتا ہے، کوئی اصلاح وتربیت کی حرص کی خاطر حلقۂ صحبت واستفادہ کو وسیع کرنے کی فکر میں مصروف ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کا بندہ خمول پسندی وتواضع وشہرت سے نفرت کی بنا پر گم نامی کو اپنا شیوۂ امتیاز بنائے ہوئے ہے، نہ نظامِ قدرت کے عجائبات کی انتہاء ہے، نہ کائنات کی نیرنگیوں کا شمار:

رُتَب تقصر الأمانی خسر ای

دُونہا ما ورائہن وراء

صاحبِ فتح القدیر کے بعد ایسا محدث وعالم اُمت میں نہیں گزرا اور پھر فرمایا کہ: یہ کوئی کم زمانہ نہیں، غالباً موصوف کے الفاظ یہ تھے:
’’لم یأت فی الأمۃ بعد الشیخ ابن الہمام مثلہٗ فی استشادۃ الأبحاث النادرۃ من الأحادیث ولیست ہذہٖ المدۃ بقصیرۃ۔ ‘‘
اور حیرت یہ ہوتی تھی کہ کسی موضوع پر جب کچھ تحریر فرمایا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید ساری زندگی اسی ایک موضوع کی نذر ہوئی ہے۔
ایک دفعہ ۱۳۴۰ھ میں مولانا حبیب الرحمن خان صاحب شیروانی مرحوم حیدر آباد سے دیوبند تشریف لائے تھے، اس وقت مرحوم اُمورِ مذہبی کے صدر الصدور کے عہدے پر فائز تھے۔ حضرتؒ کی زیارت کے لیے قیام گاہ پر تشریف لائے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے مشکلات القرآن کا کچھ تذکرہ فرمایا اور بطور مثال سورۂ مزمل کی پہلی آیت میں علماء کو جو علمی اشکال تھا، اس کا ذکر فرماکر اپنی طرف سے ایک ایسی تفسیر بیان کرکے ایسی تحقیق کی کہ وہ مشکل حل ہوجائے۔ شیروانی صاحب نے حیران ہوکر بے ساختہ فرمایا کہ: حضرت! بات بالکل صاف ہوگئی۔ ۱۳۴۸ھ کا واقعہ ہے، کشمیر سے واپسی پرحضرتؒ لاہور ایک دو روز کے لیے اُترے، آسٹریلیا بلڈنگ میں قیام تھا، میزبان نے ڈاکٹر اقبال مرحوم کو بھی دعوت دی، ڈاکٹر صاحب کے سامنے حضرت شاہ صاحبؒ نے بہت سے علمی جواہرات بیان فرمائے، ان میں ایک موضوع یہ تھا کہ اُمت میں سائنس وطبعیات میں جو حیرت انگیز ترقیاں ہوئی ہیں، انبیاء علیہم السلام کے معجزات میں ان کی نظیریں موجود ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام کے معجزات میں یہ چیزیں قدرت نے اس لیے ظاہر کرائیں کہ یہ آئندہ اُمت کی ترقیات کے لیے تمہید ہوں اور فرمایا کہ: ’’ضرب الخاتم‘‘ میں اسی کی طرف میں نے ارشاد فرمایا ہے۔ راقم الحروف نے حضرتؒ کی ایماء پر یاد سے وہ شعر سنائے جن میں ایک شعر یہ تھا:

وقد قیل إن المعجزات تقدم

لما یر تقی فیہ الخلیفۃ فی مدی

میں نے محسوس کیا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم بے حد محظوظ ہوتے رہے۔
 بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی مصنف نے بقصدِ تقریظ لکھوانے کے لیے کوئی کتاب حضرتؒ کے سامنے پیش کی اور ظاہر ہے کسی اہم موضوع پر کوئی محقق سنجیدہ اہلِ قلم یا معیاری مصنف علمی کتب خانوں کی اس فروانی میں کیا کسر باقی رکھے گا، لیکن دیکھا یہ گیا کہ حضرتؒ سرسری نظر میں اہم ترین اصلاحات فرماکر بیش قیمت اضافہ بھی فرمادیا کرتے تھے، جس سے مصنف حیرت میں پڑجاتا تھا۔ افسوس کہ میں اس مختصر مقالے میں اس کے نظائر پیش نہیں کرسکتا۔ راقم الحروف کی کتاب ’’نفحۃ العنبر‘‘ میں اس کی کچھ مثالیں ملیں گی جو امام العصرؒ کی حیات کے چند صفحے اب سے اٹھارہ بیس برس قبل راقم کے قلم سے بطور نقشِ اول نکل چکے ہیں اور اس حیرت انگیز کمال پر یہ کمال کہ جب تک کوئی شخص خود مسئلہ نہ دریافت کرے اپنی طرف سے کبھی سبقت نہ فرماتے تھے۔ درحقیقت اس حیرت ناک علمی تجربہ کے ساتھ وقار وسکون اور علم کے اس متلاطم سمندر کے ساتھ یہ خاموشی امام العصرؒ کی مستقل کرامت ہے۔
مخدوم ومحترم مولانا سید سلیمان صاحب ندوی مرحوم کا ایک بلیغ جملہ اس حقیقت کے چہرے سے پوری نقاب کشائی کرتا ہے، فرماتے ہیں:
’’مرحوم کی مثال ایک ایسے سمندر کی ہے جس کی اوپر کی سطح ساکن ہو اور اندر کی گہرائیاں گراں قدر موتیوں سے معمور ہوں۔‘‘ (معارف، غالباً جون ۱۹۳۳ء )
غرض یہ کہ حضرت امام العصر رحمہ اللہ نے باوجود اس محیر العقول جامعیت، تبحُّر، کثرتِ معلومات، وسعتِ مطالعہ، حیرت ناک استحضار وقوتِ حفظ کے شوق سے کبھی تالیف وتصنیف کا ارادہ نہیں فرمایا اور اُمت کے دل میں یہ تڑپ رہی کہ کاش! کسی اہم کتابِ حدیث پر کوئی خدمت یادگار چھوڑجاتے۔
حضرت مولانا بدر عالم صاحب نے ایک دفعہ عرض کیا کہ اگر جامع ترمذی وغیرہ پر کوئی شرح تالیف فرمادیتے تو پس ماندگان کے لیے سرمایہ ہوتا، غصہ میں آکر فرمانے لگے کہ: ’’زندگی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو پڑھا کر پیٹ پالا، کیا آپ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد میری حدیث کی خدمت بکتی رہے۔‘‘ ہاں! دینی اور کچھ علمی شدید تقاضوں کی وجہ سے چند رسائل یادگار چھوڑگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ علمی دنیا کچھ ان کی علمی تحقیقات وخصوصیات سے مستفید رہے۔ نیز ان کے تلامذہ واصحاب کی وساطت سے بھی اچھا خاصا اُن کے علمی کمالات کا ذخیرہ اُمت کے ہاتھ آیا۔ اس طرح یہ محققِ یگانۂ عصر حاضر، جامع الکمالات امام دنیا میں علم کا آفتاب وماہتاب بن کرچمکا۔ میرے ناقص علم میں غیر منقسم ہندوستان کی سرزمین میں جامعیت وتبحُّر کے اعتبار سے ایک حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی رحمہ اللہ اور ان کے بعد حضرت امام العصر کشمیری رحمہ اللہ کی نظیرنہیں ملے گی۔ ہندوستان کے غیر مقلد حضرات کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر بھی چند رسائل کی تالیف کی نوبت آئی جن میں ’’فاتحہ خلف الامام‘‘، ’’رفع یدین‘‘ ،’’مسئلہ وتر‘‘ زیرِ بحث آئے ہیں، ضمناً اور بہت سے مسائل آگئے ہیں۔ فتنۂ قادیانیت کی تردید کے سلسلہ میں چند تالیفات فرماچکے ہیں جن میں اُمتِ محمدیہ کے قطعی عقیدے’’ ختم نبوت‘‘ کی تحقیق بھی آگئی ہے جو دینِ اسلام کا مرکزی نقطہ ہے۔ اس طرح کفر وایمان کا مدار جن امور پر ہے ان کی تحقیق واضح طور سے ہوگئی۔ حیاتِ مسیح علیہ السلام کے عقیدے کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔ اس طرح علم کلام کے چند مشکل ترین مسائل کا فیصلہ بھی فرماچکے ہیں۔

حضرت امام العصر رحمہ اللہ کی تالیفی خصوصیات

’’فیض الباری‘‘ کے مقدمہ، صفحہ:۲۱ پر راقم نے لکھا تھا:
’’ومنہا أنہٗ کان عنی بحل المشکلات أکثر منہ بتقریر الأبحاث وتکریر الألفاظ۔ ومنہا أنہٗ کان یہمہٗ إکثار المادۃ فی الباب دون الإکثار فی بیانہا وإیضاحہا ۔۔۔۔۔۔ ثم إن ہذا الإیجاز فی اللفظ والغزارۃ فی المادۃ أصبح لہٗ دأبا فی تدریسہٖ وتالیفہٖ وکان کما قال علی: ما رأیت بلیغاً قط إلا ولہٗ فی القول إیجاز وفی المعانی إطالۃ ، حکاہ ابن الأثیر الأدیب (فی المثل السائر) وکأنَّ رأیہٗ ما کشف عنہ ابن الندیم فی الفہرست :’’ النفوس (أطال اللّٰہ بقاء ک) تشرئب إلی النتائج دون المقدمات وترتاح إلی الغرض المقصود دون التطویل فی العبارات‘‘ وبلغنی أن حکیم الأمۃ الشیخ التہانوی یقول: إن جملۃ واحدۃ من کلام الشیخ ربما تحتاج فی شرحہا وإیضاحہا إلٰی تالیف رسالۃ ۔‘‘
’’ من جملہ حضرت شیخ کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ زیادہ تراہتمام مشکلات کے حل کرنے کا فرماتے تھے، بحثوں کو پھیلانے اور الفاظ بار بار استعمال کرنے پر زیادہ توجہ نہیں فرماتے تھے۔ نیز یہ کوشش فرماتے تھے کہ موضوع کے متعلق مادہ زیادہ پیش کیا جائے، اس کی توضیح وتشریح کے زیادہ درپے نہیں ہوتے تھے۔ لفظوں میں اختصاراور معانی میں کثرت اُن کی طبیعت وعادت بن گئی تھی، خواہ تدریس میں ہو یا تصنیف وتالیف میں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے جب کسی بلیغ کو دیکھا تو یہ دیکھا کہ الفاظ کے اختصار کے ساتھ معانی میں تفصیل کرتا ہے۔ ابن ندیمؒ کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں: ’’طبیعتیں نتائج کی منتظر رہتی ہیں ، نہ کہ مقدمات کی اور مقاصد سے خوش ہوتی ہیں، نہ کہ صرف عبارت کی طوالت سے ۔‘‘ مجھے پہنچاہے کہ حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ فرمایا کرتے کہ:’’ بسا اوقات حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے ایک جملہ کی تشریح میں ایک رسالہ کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘
’’یتیمۃ البیان مقدمۃ مشکلات القرآن‘‘ صفحہ:۸۳ میں اور ’’نفحۃ العنبر‘‘ صفحہ:۱۰۵ پر راقم الحروف نے حضرت امام العصر رحمہ اللہ کی تالیفی خصوصیات کو وضاحت وتفصیل سے بیان کیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے:
’’جامعیت ودقتِ نظر وسرعتِ انتقالِ ذہنی وکثرتِ آمد کی بنا پر طبیعت اختصار کی عادی بن گئی تھی۔ معلومات کی فراوانی کی وجہ سے ضمنی مضامین کثرت سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ حدیث کے لطائف میں جب علمِ عربیت وبلاغت کے نکات کا بیان شروع ہوجاتاتھا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ علم عربیت کی تحقیقات ہی شاید کتاب کا اصلی موضوع ہیں۔ مفید ترین وعمدہ ترین مآخذ سے وہ نقول پیش فرمایا کرتے جن سے محققانہ شروحِ حدیث کا دامن بھی خالی ہوتا تھا، افسوس کہ اختصار کی وجہ سے میں اس کی مثالیں پیش نہیں کرسکتا۔
اس لیے عام نگاہیں ان کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتی تھیں اور بہ مشکل عام طبیعتیں لذت اندوز ہوتی تھیں۔ حضرت کے مختصر سے مختصر رسالے کے لیے بھی سارے علوم سے نہ صرف مناسبت بلکہ مہارت ضروری ہے۔ ان تصانیف کی صحیح قدر دانی وہی عالم کرسکتا ہے کہ کسی موضوع میںان کو مشکلات پیش آئی ہوں اور پورے متعلقات کی چھان بین کرچکا ہو اور تشفی نہ ہوئی ہو، پھر حضرت امام العصر رحمہ اللہ کی تالیف کی غور سے مطالعہ کی توفیق ہو‘ اس وقت قدرشناسی وقدردانی کی نوبت آئے گی اور حقائقِ مطلوبہ کے چہرے سے پردے ہٹتے چلے جائیں گے، خالی ذہن غیر مبتلا شخص جس کو کبھی کسی مشکل کی خلش ہی پیش نہ آئی ،سطحی مضامین وشگفتہ عبارت سے مانوس ہو وہ کبھی قدر نہیں کرسکتا۔‘‘
حضرت استاذِ محترم مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی مرحوم فرماتے تھے کہ:
’’ حضرت شاہ صاحبؒ کی کتاب ’’کشف الستر عن صلاۃ الوتر‘‘ کی قدر اس وقت ہوئی کہ اس مسئلے پر جتنا ذخیرہ حدیث کا مل سکا سب کا مطالعہ کیا، پھر رسالہ مذکورہ کو اول سے آخر تک باربار پڑھا، اس کی صحیح قدر ہوئی۔‘‘
اب میں اس مختصر تمہیدی مضمون کو امام مسروق بن الاجدع رحمہ اللہ المتوفی ۶۳ھ کے ایک تاریخی کلام پر ختم کرتا ہوں جس کو امامِ تاریخ ابن سعد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الطبقات‘‘ میں ذکر کیا ہے، طبقات ابن سعد (جلد: ۲، ص:۱۱۵) باسنادِ صحیح‘ مسروق سے روایت ہے، مسروق رحمہ اللہ کوفہ کے کبار تابعین میں سے ہیں، مخضرم ہیں، یعنی عہدِ نبوت کو پاچکے ہیں، فرماتے ہیں:
’’لقد جالست أصحابَ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوجدتُہم کالإِخاذ فالإخاذ یروی الرجلَ، والإخاذ یروی الرجلین والإخاذ یروی العشرۃَ والإخاذ یر وی المائۃَ والإخاذ لو نزل بہ أہلُ الارض لأصدرہم ، وجدت عبد اللّٰہ بن مسعود من ذلک الإخاذ۔‘‘
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مثال تالابوں وحوضوں جیسی ہے، یعنی چھوٹا وبڑا کوئی تالاب ایک آدمی کی سیرابی کے لیے ہوتا ہے، کوئی دو کے لیے، کوئی دس کے لیے اور بعض ایسے تالاب ہیں اگر روئے زمین والے سب پینے کے لیے آئیں تو سب سیر ہوکر جائیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مثال اسی تالاب کی ہے۔‘‘
راقم الحروف کہتا ہے کہ علماء امت کی مثال بھی یہی ہے اور حضرت امام العصر شاہ صاحب رحمہ اللہ کی مثال عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے کہ ان کا وجود بامسعود پوری اُمت کی سیرابی کے لیے کافی تھا۔
اب ان تصانیف کی فہرست پیش کرتا ہوں جو حضرت اپنے قلم حقیقت رقم سے تالیف فرما چکے ہیں:

امام العصر رحمہ اللہ کی تالیف

۱:…عقیدۃ الإسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام 

یہ کتاب ۲۲۰ صفحات پر مشتمل ہے، عقیدۂ حیاتِ مسیح علیہ السلام کے بارے میں قرآن کریم کی کیا ہدایات ہیں اس کی تفصیل ہے، اس میںاحادیث کا استقصاء واستیفاء نہیں کیاگیا ہے، بقدرِ ضرورت ضمناً احادیث کا ذکر ہے، اس لیے اس کا دوسرا نام ہے:’’ حیات المسیح بمتن القرآن والحدیث الصحیح‘‘۔ ضمنی مسائل کی تحقیقات کئی آگئی ہیں:عقیدہ حدوثِ عالم، عقیدہ ختم نبوت، کنایہ‘ حقیقت ہے یا مجاز؟! ذو القرنین ویاجوج ماجوج کی تحقیق، سدِ ذی القرنین کی تعیین وغیرہ وغیرہ۔ حضرت شیخ عثمانی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ: ’’یہ کتاب حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی سب کتابوں میں واضح ومفصل وشگفتہ ہے۔‘‘

۲:… تحیۃ الإسلام فی حیاۃِ عیسیٰ علیہ السلام 

یہ کتاب ۱۵۰ صفحات کی ہے۔ ’’عقیدۃ الإسلام‘‘ کی تعلیقات اور اس پر اضافات ہیں، ادب وبلاغت کی عجیب وغریب ضمنی تحقیقات آگئی ہیں۔

۳:… التصریح بما تواتر فی نزول المسیح علیہ السلام 

نزولِ مسیح علیہ السلام کے متعلق احادیث وآثارِ صحابہ کو اس میںبہت تفتیش ودیدہ ریزی سے جمع کیاگیا ہے، جن کی تعداد تقریباً سو تک پہنچ جاتی ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کا اس پر ایک نفیس مقدمہ بھی ہے۔

۴:…إکفار الملحدین فی ضروریات الدین

۱۲۸ صفحہ کا ایک عجیب وغریب رسالہ ہے جس میں کفر وایمان کی اصل حقیقت پر روشنی ڈالی گئی اور اُصولی طور پر بحث کی گئی ہے کہ مدارِ ایمان کیا کیا اُمور ہیں اور کن عقائد واعمال کے انکار سے کفر لازم آتا ہے، کسی قسم کے عقائد میں تاویل کرنا بھی موجبِ کفر ہے!!۔
اسی موضوع پر اُمت میں سب سے پہلے امام غزالی رحمہ اللہ نے قلم اٹھایا تھا، ’’فیصل التفرقۃ بین الاسلام والزندقۃ‘‘ ان کا رسالہ مصر وہندوستان میں عرصہ ہوا کہ شائع ہوچکا ہے، اس رسالہ کی عمدہ تحقیقات حضرت شیخ نے چند سطروں میں نقل فرمائی ہیں۔ عصرِ حاضر میں یہ ایک اہم ترین خدمت تھی، وہ حضرتؒ نے پوری فرمادی، اس پر سارے علماء دیوبند کی رائیں اس لیے لکھوادی ہیں، تاکہ اہلِ حق کی جماعت میں اس اہم ترین مسئلہ میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔

۵:…خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم 

یہ عقیدۂ ’’ختم نبوت‘‘ میں عجیب رسالہ ہے جو ۶۶ صفحات پر پھیل گیا ہے، فارسی زبان میں ہے، لیکن دقیق، حضرتؒ کا خاص اُسلوب، علمی کمالات اور وہبی علوم کے نمونے پورے طور جلوہ آراء ہیں۔ حضرت مولانا سید سلیمان صاحبؒ نے بھی ایک دفعہ ایک مکتوب میں تحریر فرمایا تھا کہ: ’’بہت دقیق ہے، عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔‘‘

۶:…فصل الخطاب فی مسئلۃ أم الکتاب

مسئلہ ’’فاتحہ خلف الامام‘‘ جو عہد صحابہ سے لے کر آج تک معرکۃ الآراء موضوع رہا ہے، اس پر ۱۰۶ صفحات کا محققانہ رسالہ ہے۔ حدیثِ عبادہ بروایت محمد بن اسحاق کی عجیب وغریب تحقیق کی گئی۔ بڑی تدقیق کے ساتھ اس اہم موضوع کا حق ادا کردیاگیاہے۔ لفظ ’’فصاعدا‘‘ کی تحقیق میں ۱۲،۱۳ صفحات پر مشتمل دقیق ترین مضمون آگیاہے۔ یہ مضمون چونکہ عام دسترس سے بالکل باہر تھا، راقم الحروف نے اپنی کتاب ’’معارف السنن‘‘ شرح ترمذی (مخطوط) میں اس کی جدید اسلوبِ عصری سے تحلیل تشریح کی ہے اور شگفتہ عربی میں اس کی تسہیل کی کوشش کی ہے۔
حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی مرحوم کو ڈابھیل میں جب یہ مضمون سنایا تو بہت محظوظ ہوئے اور بے ساختہ فرمایا کہ: 
’’حق تعالیٰ جزاء خیر عطا فرمائے کہ اس مشکل ترین، دقیق و غامض مضمون کی ایسی افصاح کی کہ شاید مقدور میں اس سے زیادہ ممکن نہیں ہے۔‘‘

۷:…خاتمۃ الخطاب فی فاتحۃ الکتاب

مسئلۂ فاتحہ خلف الامام پر فارسی زبان میں لطیف رسالہ ہے اور بلامراجعتِ کتاب دو روز میں محرم ۱۳۲۰ھ میں تالیف فرمایاہے، مسئلہ پر جدید انداز میں استدلال ہے۔ حضرت مولانا شیخ الہند رحمہ اللہ کی اس پر تقریظ بھی ہے، حضرت شیخ نے دقتِ نظر کی خوب داد دی ہے۔

۸:…نیل الفرقدین فی مسئلۃ رفع الیدین

۱۴۵؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ مسئلہ خلافیۂ نماز میں رکوع سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں کو اُٹھانے کے موضوع پر نہایت عجیب انداز میں تحقیق فرمائی ہے اور نہایت انصاف سے محققانہ انداز میں یہ ثابت فرمایا ہے کہ مسئلہ میں اختلاف عہد صحابہ سے ہے اور اس میں اولویت کا اختلاف ہے، جائز ناجائز کا اختلاف نہیں۔ ضمنی طورپر بہت نفیس مباحث آگئے ہیں۔

۹:…بسط الیدین لنیل الفرقدین

سابق الذکر موضوع پر ۶۴؍ صفحہ کا رسالہ ہے، یہ رسالہ سابق ’’نیل الفرقدین‘‘ کا تکملہ ہے، اس موضوع پر قدماء محدثین سے لے کر متأخرین اور عصر حاضر تک بہت کچھ خامہ فرسائی ہو چکی ہے، اس پائے مال موضوع پر ایسے محققانہ اسلوب میں جدید استدلالات، دقیق استنباطات پیش کرنا یہ حضرت شاہ صاحبؒ ہی کا حصہ ہے۔ الشیخ الامام محمد زاہد الکوثریؒ اپنی کتاب ’’تآنیب الخطیب فیماساقہٗ فی ترجمۃ أبی حنیفۃؒ من الأکاذیب‘‘ ص:۸۴ میں رقم طراز ہیں:
’’وہذا البحث أی رفع الیدین طویل الذیل أُلفت فیہ کتب خاصۃ من الجانبین ومن أحسن ما ألف فی ہذا الباب نیل الفرقدین وبسط الیدین کلاہما لمولانا العلامۃ الحبر البحر محمد أنور شاہ الکشمیری وہو جمع فی کتابیہ اللبابَ ، فشفی وکفی ۔‘‘
’’رفع الیدین کے موضوع پر جانبین سے مخصوص کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن اس موضوع کی بہترین کتابیں علامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی دو کتابیں ہیں: نیل الفرقدین وبسط الیدین، جن میں سارا لب لباب آگیا ہے اور یہ شافی وکافی ہے۔‘‘
درحقیقت صحیح قدردانی ایسے محققین ہی کر سکتے ہیں۔

۱۰:…کشف الستر عن صلاۃ الوتر

مسئلہ ’’وتر‘‘ کے بارے میںہے۔ اُمت میں جو اختلافات چلے آئے ہیں، کل خلافیات سولہ سترہ تک پہنچ جاتے ہیں، ان میں جو مشکل ترین وجوہ ہیں ان کی ایسی تحقیق وفیصلہ کن تدقیق فرمائی ہے کہ کسی منصف مزاج کو مجالِ انکار باقی نہیں رہتا۔ رسالہ ۹۸ صفحوں میں تمام ہوا۔ دوسرے ایڈیشن میں بمقدار ایک ثلث تعلیقات کا اضافہ فرمایا ہے۔ مسئلہ آمین بالجہر، وضع الیدین علی الصدور وغیرہ مسائل کی تشفی کن تحقیق فرمائی گئی ہے۔ شروع میں خطبہ کے بعد ایک فصیح وبلیغ عربی کا قصیدہ جو نہایت ہی مؤثر اور رقت انگیز ہے، ہرحیثیت سے قابلِ دیدہے۔

۱۱:…ضرب الخاتم علی حدوث العالم

’’حدوثِ عالم‘‘ علم کلام وفلسفہ کا معرکۃ الآراء موضوع ہے۔ متکلمین وفلاسفۂ اسلام نے سیر حاصل بحثیں کی ہیں۔ مستقل رسائل کا موضوعِ بحث رہا ہے۔ شیخ جلال الدین دوانی ؒنے بھی اس پر ایک رسالہ ’’الزورائ‘‘ کے نام سے تصنیف کیا ہے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ نے اس سنگلاخ وادی میں قدم رکھا ہے اور الٰہیات وطبعیات اور قدیم وجدید فلسفہ کی رو سے اتنی کثرت سے دلائل وبراہین قائم کیے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور ’’حدوثِ عالم‘‘ کا مسئلہ نہ صرف یقینی بلکہ بدیہی بن جاتاہے، لیکن افسوس کہ حضرتؒ نے ان برابین ودلائل وشواہد کو چار سو شعر میں منظوم پیش کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شعر کا دامن تفصیلات سے خالی رہتا ہے، لیکن اس کے ایضاح وحل کے لیے ہزاروں حوالے کتبِ متعلقہ کے دے دیئے گئے، جن میں صدر شیرازی کی ’’اسفارِ اربعہ‘‘، فرید وجدی بستانی کے ’’دائرۃ المعارف‘‘ خصوصیت رکھتے ہیں۔ راقم الحروف نے حضرتؒ کے حکم سے متعلقہ حوالہ جات تقریباً ایک سو صفحات میں بڑی عرق ریزی سے جمع کیے تھے، جس سے حضرت بے حد مسرور تھے اور میری اس ناچیز خدمت کو ایک دفعہ مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی کے سامنے بہت سراہا تھا۔ فرماتے تھے کہ: اصل موضوع تو ’’اثباتِ باری‘‘ تھا، لیکن عنوان میں ایک قسم کی شناعت تھی، اس لیے ’’حدوثِ عالم‘‘ کا عنوان تجویز کیا اور آخر میں دونوں کا مفاد ایک نکلتا ہے۔

۱۲:…مرقاۃ الطارم لحدوث العالم

سابق الذکر موضوع پر ۶۲ صفحات میں رسالہ ہے، رسالہ کیا ہے دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ اس رسالہ میں ادلہ وبراہین کے استقصاء کا ارادہ نہیں فرمایا، بلکہ یہ ’’ضرب الخاتم‘‘ کے لیے مقدمات وتشریح وتفسیر کا کام دیتاہے۔ نظائر وشواہد موضوع پر اتنے پیش کیے ہیں کہ عقلی برہان سے پہلے ذوق ووجدان فیصلہ کرلیتا ہے۔ ترکی کے سابق شیخ الاسلام مصطفی صبری جو قاہرہ میں جلاوطنی کے بعد مقیم تھے اور ردِّمادیِّین ودہریِّین میں نہایت ہی متخصص جلیل القدر عالم تھے، ترکی وعربی میں اس موضوع پر متعدد کتابیں تالیف فرما چکے تھے۔۱۳۵۷ھ مطابق ۱۹۳۰ء میں یہ رسالہ اُن کو راقم الحروف نے دیا تھا۔ مطالعہ فرمانے کے بعد اتنے متأثر ہوئے اور فرمایا کہ: ’’میں نہیں جانتا تھا کہ فلسفہ وکلام کے دقائق کا اس انداز سے سمجھنے والا اب بھی کوئی دنیا میں زندہ ہے۔‘‘ اور پھر فرمایا:
’’إنی أفضِّل ہذہ الوریقات علی جمیع المادۃ الذاخرۃ فی ہذا الموضوع وإنی أفضلہا علی ہذہ الأسفار الأربعۃ للصدرالشیرازی۔‘‘
’’ یعنی جتنا کچھ آج تک اس موضوع پر لکھا جاچکا ہے، اس رسالہ کو اس سب پر ترجیح دیتا ہوں اور اس اسفارِ اربعہ (جو آپ کے سامنے رکھی ہوئی تھی) اتنی بڑی کتاب پر اس رسالہ کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘
 وہ اس وقت ’’القول الفیصل‘‘کے نام سے ردِّہریِّین میں ایک مبسوط کتاب تالیف فرما رہے تھے۔ اس میں اس رسالہ سے بہت نقول لیے اور اس کتاب میں اس رسالہ کی بڑی تعریف کی، ایک حصہ اس کا طبع ہوچکا ہے، نہ معلوم یہ عبارت اس حصہ میں آگئی یا نہیں۔ ضمناً اس رسالہ میں کلام وتصوف، الٰہیات وطبعیات کے بہت سے حقائق کا فیصلہ فرمایاگیاہے۔

۱۳:… ازالۃالرین فی الذبِّ عن قرۃ العینین

حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کی مشہور کتاب’’ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین‘‘ کا حیدر آباد دکن میں کسی شیعی مزاج عالم نے رد لکھا تھا۔ حضرت امام العصر رحمہ اللہ نے شاہ دہلوی رحمہ اللہ کی تائید میں اس کی تردید لکھی۔ نہایت عمدہ کتاب ہے، ۱۹۶ صفحات میں پھیل گئی ہے۔ اس میں ’’قال المولی المؤلف‘‘ کہہ کر شاہ دہلویؒ کی عبارت نقل فرماتے ہیں۔’’ قال المعترض‘‘ سے تردید کرنے والے کی عبارت اور ’’أقول‘‘ سے اس کی تردید فرماتے ہیں ۔اس کتاب کا ایک نسخہ مجھے کشمیر میں ملا تھا، ابتداء سے ۸ صفحے غائب ہیں، اس لیے نام مجھے نہ معلوم ہوسکا اور سوء اتفاق سے حضرت شیخ سے پوچھنے کی نوبت نہ آئی۔ ’’إزالۃ الرین‘‘ میرا تجویز شدہ نام برائے نام ہے۔

۱۴:… ’’سہم الغیب فی کبد أہل الریب‘‘ تاریخی نام:’’قسیّ سہم الغیب‘‘

ہندوستان کی سرزمین جہاں بدقسمتی سے بہت سی بدعات اور عقائدِ شرکیہ بعض سادہ لوح مسلمانوں میں رائج ہوگئے ہیں،ایک ان میں سے ’’علم غیب‘‘ کا عقیدہ ہے اور سید احمد رضا خان صاحب بریلوی اور اُن کے اَتباع نے اس کو علمی رنگ میں پیش کیا اور ایک عرصہ تک ہندوستان میں یہ موضوعِ بحث رہا۔ ایک شخص بریلوی نے اس میں ایک رسالہ لکھا اور اہلِ حق کے مسلک کے خلاف اپنے نامۂ عمل اور نامۂ قرطاس کوسیاہ کیا، اور اپنا نام عبد الحمید دہلوی ظاہر کیا۔ حضرت شیخ کا قیام اس زمانہ میں دہلی میں تھا، آپ نے جواب ترکی بہ ترکی عبد الحمید بریلوی کے نام منسوب کرکے اس کا جواب شائع فرمایا۔ رسالہ کے آخر میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا شیخ الہند محمود الحسن دیوبندی  رحمۃ اللہ علیہما کے مناقب میں عربی میں ایک قصیدہ ہے۔ رسالہ کی زبان حضرت شیخ کے عام تصنیفی مذاق کے خلاف اُردو ہے۔ یہ چودہ تصانیف تو امام العصر شاہ صاحب رحمہ اللہ کی وہ ہیں کہ اپنے قلم سے تالیف فرماچکے ہیں۔

امام العصر حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی دوسری قسم کی مصنفات

 

دوسری قسم کی وہ تصنیفات ہیں کہ آپ کی یادداشتوں سے مرتب کی گئی ہیں، اس کا ذکر کرنا بھی میرے خیال میں ضروری ہے:

۱:…مشکلات القرآن

قرآن کریم کی جن آیاتِ کریمہ کو مشکل خیال فرمایاتھا، خواہ وہ اشکال تاریخی اعتبار سے ہو یا کلامی حیثیت سے، سائنس کی رو سے ہو یا کسی عقلی پہلو سے یا علوم عربیت وبلاغت کی جہت سے ہو اُن پر یادداشت مرتب فرمائی تھی، اگر کہیں اس پر عمدہ بحث کی گئی ہے، اس کو نقل فرمایا،یا حوالہ دیا، اور نہیں تو خود وغور وفکر کے بعد جو حل سانح ہوا تحریر میں لایا گیا۔ یہ یادداشت بشکلِ مسودات مختلف اوراق میں موجود تھی۔ مجلس علمی ڈابھیل نے مرتب کرکے اُسے شائع کیا اور راقم الحروف نے مجلسِ علمی کی خواہش پر ’’یتیمۃ البیان‘‘ کے نام سے ۴۰صفحہ کا اس کا مبسوط مقدمہ لکھا ہے۔ اصل کتاب ۲۸۷ صفحات پر ختم ہوئی۔ قرآنی علوم اور قرآنی معارف کا نہایت بیش قیمت گنجینہ ہے، اگر جدید اسلوب میں اس کو پھیلایا گیا تو ایک ہزار صفحات میں کہیں جاکر کتاب ختم ہوگی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے متعلق کچھ اور مسودات بھی نکل آئے تھے، جن کی زیورِ طبع سے آراستہ ہونے کی نوبت ابھی نہیں آئی۔

۲:…خزینۃ الأسرار

یہ ایک رسالہ ہے جس میں کچھ اَوْرَاد واَدْعِیَہ، کچھ مجربات واذکار وغیرہ جمع کیے گئے ہیں۔ یہ سب علامہ دمیری رحمہ اللہ کی کتاب ’’حیاۃ الحیوان‘‘ کے اقتباسات ہیں۔ کہیں کہیں حضرت شاہؒ کی طرف سے اضافات بھی ہیں۔ یہ رسالہ حضرت کے قدیمی مسودات جو کشمیر میں تھے ان میں دستیاب ہوا تھا۔ مجلس علمی ڈابھیل نے اس نام سے شائع کیا۔

۳:…فیض الباری بشرح صحیح البخاری

یہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے درسِ صحیح بخاری کی املائی شرح ہے، جس کو حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی مہاجر مدینہ رحمہ اللہ نے کئی سال کی محنت وعرق ریزی کے بعد فصیح وبلیغ عربی زبان میں مرتب کیا ہے۔ یہ حضرت امام العصر رحمہ اللہ کے علوم وکمالات کی سچی تصویر پیش کرتی ہے، جہاں حافظ شیخ الاسلام بدر الدین عینی اور قاضی القضاۃ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ جیسے بلندپایہ محقق شارحین عاجز آگئے ہیں، وہاں شیخ کے خصائص وکمالات جلوہ آراء نظر آئیں گے۔ زیادہ تر اعتناء انہی معارفِ حدیث کا کیاگیا، جہاں شارحین ساکت نظر آتے ہیں۔ حضرت شیخ کے آخری عمر کے مجرب علوم واذواق، خصوصی احساسات وعلمی خصوصیات دقتِ نظر وتحقیقی معیار کے نمونے‘ اہل علم ویارانِ نکتہ داں کے لیے صلائے عام دے رہے ہیں۔ یہ چار ضخیم جلد کا بحرِبے کراں مصر میں آب وتاب سے شائع ہواہے۔ قرآن وحدیث، فلسفہ وکلام ومعانی وبلاغت وغیرہ کے نہایت بیش بہا ابحاث سے مالامال ہے۔ اس پر راقم الحروف اور حضرت جامع ومرتب کے قلم سے دو مبسوط مقدمے ہیں۔ ۸۰؍ صفحات پر مشتمل ہیں ، عام عبارت نہایت شگفتہ وسلیس ہے۔ بعض بعض مقامات میں خاصی ادبی لطافت ہے۔

۴:…العرق الشذی بشرح جامع الترمذی

یہ حضرت شاہ صاحبؒ کی درسِ جامع ترمذی کی املائی شرح ہے، جس کو جناب مولانا محمد چراغ صاحبؒ ساکن ضلع گجرات نے بوقتِ درس قلم بند کیا ہے اور زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکی ہے اور اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا ہے۔ جامع ترمذی کے مشکلاتِ احادیثِ احکام پر محققانہ کلام، ہر موضوع پر عمدہ ترین کبار اُمت کے نقول اور حضرت کی خصوصی تحقیقات کا ذخیرہ ہے۔ طلبۂ حدیث اور اساتذۂ حدیث پر عموماً اور جامع ترمذی کے پڑھانے والوں پر خصوصاً اس کتاب کا بڑا احسان ہے۔

۵:…أنوار المحمود فی شرح سنن أبی داود

یہ سنن ابی داؤد کے درس کی املائی تقریر وشرح ہے، جس کو مولانا محمد صدیق صاحب نجیب آبادی ومرحوم نے جمع کرکے شائع کیا ہے۔ کل دوجلدوں میں ہے۔ مرتب جامع نے بہت سی کتابوں کی اصلی نقول کو مراجعت کرکے لفظ بلفظ درج کردیا ہے۔ کتاب کے تسمیہ میں حضرت شاہ صاحبؒ اور ان کے شیخ حضرت شیخ الہندؒ کے نام کی تلمیح کی گئی ہے۔

۶:… صحیح مسلم کی املائی شرح

سنا ہے کہ ہمارے محترم دوست فاضل گرامی جناب مولانا مناظر احسن صاحب گیلانی نے صحیح مسلم کے درس کی تقریر قلم بند فرمائی تھی، یہ اب تک نہ طبع ہوئی، نہ راقم الحروف کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔

۷:…حاشیہ سنن ابن ماجہ

جناب محترم مولانا سید محمد ادریس سکروڈوی سے سنا تھا کہ آپ نے سنن ابن ماجہ پر کتاب کے حواشی وہوامش پر تعلیقات اپنے قلم سے لکھی تھیں۔ راقم الحروف کو اس کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ یوں تو حضرت نے جن کتابوں پر تعلیقات لکھی ہیں، اگر استقصاء کیا جائے تو متعدد کتابیں نکل آئیںگی۔
’’الأشباہ والنظائر‘‘ جو ابن نجیم کی فقہ میں مشہور کتاب ہے، اس پر تعلیقات حضرتؒ کے قلم سے خود میں نے کشمیر میں دیکھی ہیں۔
یہ کل اکیس کتابیں ہوئیں، جن سے حضرت امام العصر رحمہ اللہ کے کمالات کے کچھ پہلو نمایاں ہوسکتے ہیں۔ کتاب کی پوری حقیقت اس وقت منکشف ہوتی کہ کتاب کے مضامین یا خصوصیات کا واضح تعارف کراتا اور جن مشکل ابحاث میں حضرتؒ کے کمالات نظر آرہے ہیں ان کی تفصیلات سامنے آتیں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ کسی مقالے کے لیے موزوں نہیں، تفصیلی تبصرہ اور علوم ومعارف کے نمونے پیش کرنے کے لیے ایک مستقل تالیف کی ضرورت ہے۔
راقم الحروف کی کتاب ’’نفحۃ العنبر‘‘ میں جو حضرتؒ کی حیات طیبہ کے چند صفحے ہیں، اس میں کچھ تفصیلات ناظرین کو ہاتھ آئیںگی۔ تالیفات کے متعلق جو کچھ وہاں لکھاہے اگر اس کی تشریح ہی کی جائے تو اس مقالہ سے کہیں زیادہ ہوگا۔ اس وقت بہت عجلت وارتجال میں چند سطریں لکھنے کی توفیق ہوئی۔ حضرت امام العصر رحمہ اللہ کے کمالات کا کوئی گوشہ بھی لیاجائے تو تفصیل کے لیے داستان کی ضرورت ہے اور جی چاہتا ہے کہ قلم اپنی جولانیاں دکھلاتارہے:

مدحتُک جہدی بالذی أنت أھلہ

فقصر عما صالح فیک من جہدی

میں نے چاہا کہ جس تعریف کے مستحق ہیں، اتنی تعریف کر سکوں، لیکن میری کوشش ناکام رہی۔

فماکل مافیہ من الخیر قلتُہٗ

ولا کل مافیہ یقول الذی بعدی

جوکمالات ان میں ہیں نہ میں کہہ سکا اور نہ میرے بعد آنے والا کہہ سکے گا۔